شادی کاروبار سے دھندے تک


ابھی چند دن قبل ہی کی تو بات ہے ایک پوسٹ فیس بک پہ شیئر کی، جس میں ایک خفگی سی تھی کہ بھئی شادی شدہ عورت جب دوبارہ شادی کرتی ہے تو اس کے نخرے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے ڈر ہوتا ہے یہ بندا بھی ہاتھ سے نکل نہ جائے حالانکہ پنجابی کہاوت ہے، واقعہ پنجاب کا ہے تو یہاں یہ کہاوت جچتی ہے ”مرد سرانے دا سپ اے“ (مرد سرہانے کا سانپ ہوتا ہے ) گویا مرد کسی وقت بھی وار کر سکتا ہے خصوصی اس وقت جب عورت شانت ہو چکی ہوتی ہے وہ اب میرے ہیں۔

یہ سانپ کسی بھی رشتے کو کبھی بھی ڈس سکتا ہے۔ بہن کو غیرت کے نام پہ قتل کر کے، ماں کو جذباتی کنٹرول کر کے، بیٹی کو ڈرا دھمکا کے ایک خوف زدہ بچی میں بدل کے، بیوی تو خیر ان کے کیسی حسابی کتابی کھاتے میں آتی ہی نہیں۔ ان گنت گرل فرینڈ بنا کے، ان کی ”لا پا“ کے۔

”مطلب مرد سانپ ہی ہوتا ہے“ ۔ شانت کر کے وار کرتا ہے جیسے ابھی یوکے سے ایک والد نے اپنی بیٹی کو شادی سے انکار کرنے پہ پاکستان لا کر ڈھیر ساری شاپنگ، سیر کروائی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ ابو قابل اعتبار ہیں۔ ان نے کئی ٹک ٹاک ابا کی شان میں لگا دیں تو ماموں اور باپ نے مل کر اس کا قتل کر دیا۔

کچھ دن قبل ہی یمنی زیدی نے ایک پوسٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں وہ مرد کو ترغیب دے رہیں تھیں کہ غریب خواتین سے شادی کریں۔ یہ گھر کو گھر بنا دیتی ہے۔

اب یہ دو واقعات سے ہو گئے تھے

کہ اچانک ایک عدد شادی پہ مجبوراً جانا پر گیا جہاں ایک عدد شادی شدہ خاتون کی شادی ایک مڈل کلاس کے ادھیڑ عمر مرد سے ہو رہی تھی۔

وہی مردانہ جوہر اپنی اصل کمائی بلکہ نکمی کمائی چھپا کر چند دیدار و چند افکار و اقوال و اداؤں پہ دل اور قرضہ اٹھا کر شادی فرما لیتے ہیں کہ ان کے گریس لگے دماغوں میں یہ ڈال دیا گیا ہے کہ
”دولت تو جناب عورت کے مقدر سے آتی ہے“
ابھی چاہے آئی ایم ایف سے قرضہ لے لیں۔ شادی کے بعد لکشمی دیوی تو میرے گھر میں ہی اترے گی۔ آئی ایم ایف کی کیا مجال دیوی جی کی گستاخی کر سکے۔

شادی پہ شادی کم اور فوتگی کا منظر زیادہ تھا۔ یہ بے چارے وہی رشتہ دار ہوں گے جنہوں نے قرض دیا ہو گا۔ سٹیٹ بنک نے تو معذرت کر لی ہو گی۔

بندا جتنا غریب ہوتا ہے اس نے اتنی ہی نمود نمائش کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔

خیر یمنی زیدی جیسی خواتین کی بات کا ایک ہی جواب ہے کہ وہ خود کسی غریب انسان سے شادی کر کے مثال قائم کریں۔ کردار بنیں، ثواب کمائیں، صرف ترغیب نہ دیں ورنہ شادی تو ویسے ہی ثواب کا کام ہے امیر سے ہو یا غریب سے ثواب ہی ثواب ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے نکتہ پہ جس پہ لوگوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہم پہ پتھراؤ شروع کر دیں۔ کر دیں بھیا، سماج اسی نہج پہ چلا گیا ہے مگر ایک دن یہ پتھر آپ پہ ہی، آپ کے گھر آ کر گریں گے۔

اب واقعہ سنیئے

جن خاتون کی شادی پہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ پہلے شوہر سے جوانی کے جوش میں خلع فرما چکی ہیں۔ ان کے دوسرے شوہر کا خیال ہے کہ وہ بہت ”ڈھاڈی“ خاتون ہیں حق سچ پہ ڈٹ کر بولتیں ہیں۔ ہمیں ان کی یہی ادا پسند آئی۔

یہ ظاہری سی بات ہے، ادا تو وہ جانیں، رب جانے کیا پسند آئی ہو گی۔ حق اور سچ کی سمجھ دار وہ کتنی ہیں یہ اب بیان کرتے ہیں۔

ان کی جوان بیٹی ہے جو میٹرک میں پڑھ رہی ہے۔ لڑکا کنوارہ غریب ہے۔ لڑکی کے مطابق بس تنہائی کے غم میں، ساتھی کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کا وزن فقط ایک سو تیس کلو ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ چل بھی بہت آہستہ سکتی ہے۔ کام اس سے بالکل نہیں ہوتا۔

خاتون نے تین چار تولے سونے کا زیور اور لاکھوں کا حق مہر لکھوایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے پہلے شوہر کی بیٹی لکھوائی ہے۔ جس کی شادی کا خرچ بھی اس کا دوسرا غریب شوہر کرے گا۔

اس نے یہ سوچا ہی نہیں تھکا ہوا مرد بھی ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکتا اور حسن کوئی بہت بری دلیل نہیں۔ زندگی کے حقائق بہت سفاک ہیں۔

جہیز وراثت ان کے حصے میں نہیں ہے۔ شادی کے بعد الگ گھر کا مطالبہ بھی کیا ہے جو لڑکے نے کرائے پہ لے لیا ہے۔

گھریلو سامان بھی مرد کی ذمہ داری ہے وہ بھی اقساط پہ آ کر سج چکا ہے۔
خاتون محترم کی تعلیم اپنے زمانے کی میٹرک ہے اور خود ایک نارمل سے گھرانے میں پرورش پائی ہے۔

آن لائن جوڑوں، جوتوں کے لنک ہونے والے شوہر کو پہلے ہی بھیج دیے گئے تھے کہ دیکھو شوفر میں ان برانڈ سے نیچے جوڑے نہیں پہنتی لہذا یہ سب خرید لئے جائیں۔ زیادہ ڈیمانڈ نہیں ہے، برداشت میں کسی کی بھی کوئی بات نہیں کرتی۔ لاڈ سے پلی ہوں لہذا اگر آپ کی فیملی نے کبھی کوئی اونچی نیچی بات کی تو ان کو میں برداشت نہیں کروں گی۔

سچ زبان رکھتا ہے۔
یہاں خامشی عبادت و وقار ہے والا فلسفہ بھی بھاڑ میں گیا۔

سادہ نکاح بھی نہیں ہو گا۔ آپ مکمل برات لے کر آئیں گے اور ہم پورا خاندان بلائیں گے یونہی ولیمہ ایسا ہونا چاہیے تو ”شریکاں نوں آگ لگ جائے“

لیں گی برات ولیمہ بھی ہو گیا۔ مائک پہ نکاح شرائط سمیت پڑھا اور رجسٹرڈ بھی ہو گیا ہے۔ اب دونوں زندگی کا آغاز طوفانی طریقے سے کرنے چلے ہیں۔ رشتہ داری نبھانے جیسی فضول رسم بھی سلامیاں و تحائف لینے کے بعد قائم نہیں رکھی جائے گی لہذا ہمیں کوئی شادی کی دعوت نہ دے۔

اس کے بعد کون ہو گا جو حالت غیر میں شادی ہال سے رخصت نہ ہوا ہو گا۔ ہمارا تو لکھ کر کیتھارسس ہو گیا ہو گا مگر یہ واقعہ سینہ با سینہ کچھ نسلوں میں تو سنایا جائے گا۔ کچھ لڑکے جو ایسی خواتین کی ذمہ داری اٹھا بھی سکیں گے۔ شادی سے بھاگ جائیں گے کہ بھئی نا تجربہ کنیا ہی اچھی، عذاب سے کم ثواب بہتر ہے۔

اگر دوسری شادی میں محبت اور اخلاص کا یہ عالم ہے تو ہم بس یہی سوچتے رہے پہلی شادی پہ جلال کا کیا عالم ہو گا؟

تم کو تو عاجز ہو کر آنا چاہیے تھا خاتون محترم کہ تمہاری پہلے شوہر کی اولاد ساتھ آ رہی ہے۔ ہنی مون سے پہلے تمہاری بیٹی کے سکول کے خرچے شروع ہو جائیں گے۔ سہاگ رات کو تم کو یہ فکر ہو گی میری بیٹی ساتھ والے کمرے میں سو پا رہی ہے یا نہیں؟

جب اس بچی کے دوسرے باپ کو علم ہو گا تو تھانے کورٹ کچہری تک بات جائے گی کیونکہ جوان بیٹی سوتیلے باپ کے پاس نہیں رہ سکتی۔ قانون پہلے باپ کا ساتھ دیتا ہے۔

ایسے میں یہ دوسرا شوہر رسک لے کر اس خاتون سے محبت نام کی بے نام چڑیا کے پروں سے گھر والوں کے ساتھ جھگڑ کر اس سے شادی کر چکا ہے۔ ایسے رشتوں میں مشکل وقت میں نہ اس لڑکی کے گھر سے کوئی ساتھ کھڑا ہوتا ہے دوسری شادی والی تو ویسے ہی سر سے اتاری ہوتی ہے۔ نہ ہی لڑکے کے گھر سے کوئی ساتھ آئے گا۔

فی زمانہ حقیقت یہی ہے۔
تب دونوں طرف کے گھر والے برے بن جائیں گے۔ یہاں کوئی قانون اور کوئی سوشل سیکیورٹی سسٹم بھی نہیں ہے۔

اس پوسٹ کا مطلب فقط یہی تھا کہ دوسری بار شادی کرنے والی عورت اتنی سفاک کیوں ہو چکی ہوتی ہے کہ اسے اپنے سوا کسی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس کی ڈیمانڈ پہلی بار شادی کرنے والی عورت سے بہت زیادہ ہوتیں ہیں۔ اس کے خواب ادھورے کے ادھورے رہ گئے ہوتے ہیں۔ جن کو پورا کرنے کی لئے وہ ایک شکارن کی طرح ہر طرف بھاگ دوڑ میں لگی ہوتی ہے۔ کچھ کامیاب ہو جاتی ہیں کچھ ناکام رہ جاتیں ہیں۔

جو کامیاب ہو جاتیں وہ زیادہ اچھل کود کر رہیں ہوتیں ہیں کہ ”آہا کہ دولہا مل گیا، آہا کہ دلہن بن گئی“

مطلب ایک بار دلہن بن کے بھی دلہن بننے کا خواب عورت میں بھی ویسے ہی پایا جاتا ہے جیسے مرد کی فطرت میں ہے یہ تو سماج کی جکڑ بندی ہے ورنہ ”ذرا نم ہو تو“ فطرت ایک جیسی ہے۔ ذرا نئے قوانین بنا کر ایک نسل پہ تجربہ کر لیں خواتین کے بھی کئی کئی شوہر ہوں گے اور وہی بیانیہ ہو گا ”عورت کی فطرت میں ہی ٹھہرنا نہیں ہے جواز یہ ہے کہ وہ بار بار بچے پیدا کرتی ہے۔ ٹھہراؤ نہیں ہے تو کرتی ہے“
اور سچی محبت نہیں مل سکی۔

اب ایک خاتون نے فرمایا کہ مرد بھی تو دوسری شادی کرتا ہے۔

سماجی پہلو سے دیکھئے ڈئیر مادام مرد دوسری شادی کرتے وقت نبض اور سوراخ ہی دیکھتا ہے عورت پہ اکثر بوجھ نہیں ڈالتا، بوجھ اٹھاتا ہے۔ وہ تیسری چوتھی شادی کرتے وقت بھی یہی خزانے تلاش کرتا مر جاتا ہے اور بیواؤں کا یک جتھا، درجن بھر بچے چھوڑ کے مر جاتا ہے، عورت پہلی شادی میں جو نہیں دیکھ سکی ہوتی، اب وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے۔ ممکن ہے اب وہ سائز اور نمائش بھی پوچھ لیتی ہو۔

سماج ایک نئے موڑ کی طرف تیزی سے گام زن ہے۔ پرانے بابے اور بابیاں بھی نئے تجربے کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا خیال بھی بدل رہا ہے۔ اس لئے ہمیں نئی نسل سے کوئی گلہ نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے بیٹے بچانا چاہتے ہیں تو اپنی بیٹیوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا بوجھ عزت سے اٹھا سکیں۔ ان پہ کوئی مشکل وقت آ جائے تو کما تو سکیں۔ وہ مرد کو کتے، گدھے، گھوڑے کی طرح استعمال نہ کریں۔ ساتھی سکون کی بہار ان پہ کھل سکے۔

ابھی اس نظام میں پہلی شادی کاروبار ہے تو دوسری دھندا بن گئی ہے۔
بہت سوں کی دل آزاری ہو گی پیشگی معذرت۔

Facebook Comments HS