یادوں کی پٹاری سے ایک پچاس سالہ پرانا خط
ہاجرہ اور میں دونوں ہم جماعت، ہم ذوق، ہم مذاق دوست تھے اور ہیں۔ فرنٹیئرکالج کے نیو ہاسٹل میں ہمارے کمرے آمنے سامنے تھے لیکن سارا وقت ہم ایک دوسرے کے کمروں میں رہتے، صبح اکٹھے نکلتے، اکٹھے واپس آتے۔ ہاجرہ چیف پراکٹر تھی اور میں مجلس اردو کی صدر۔
اردو کی اولین افسانہ نگار اور تحریک پاکستان کی مجاہدہ فہمیدہ اختر اردو اختیاری کی جماعت میں ہماری پسندیدہ استانی تھیں، اور دوسری طرف وہ مجھے اور ہاجرہ کو یکساں توجہ اور پیار کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ یہ خط جو برسوں بعد مجھے ملا اسے پڑھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ پچھتاوا ہونے لگا کہ میں کیوں جلدی گھر چلی گئی تھی اور یہ کہ ہم اس زمانے میں کتنے شرمیلے تھے کبھی ان سے براہِ راست سوال نہ کر سکے، آج کل کے طلبہ سے جب میں اپنا موازنہ کرتی ہوں تو حیران ہو جاتی ہوں کہ آج کل کے بچے کتنی بہادری اور بے باکی سے سوال اور اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں جبکہ میں اور ہاجرہ کبھی ایسا نہیں کر سکے۔ اب بہت سارے موقعوں پر ان کی محبت اور ان کا انداز یاد آتا ہے۔ کراچی کے دورے میں ان کا بار بار میری خیریت پوچھنا، اجازت دلوانے کے لئے میرے گھر خط لکھنا، ریڈیو پاکستان میں بچوں کی محفل کی باجی بننے کا مجھے اور ہاجرہ کو کہنا،
یہ خط جو جون 1974 کو لکھا گیا اس میں ہاجرہ لکھتی ہیں
” میں ہاسٹل کی سیڑھیوں کے قریب پہنچی تو مِس صفیہ چوہان اترتی نظر آئیں دور سے ہی آواز لگائی اور کہنے لگی مس رؤف تمہارا بہت زیادہ پوچھ رہی تھیں ان سے ضرور ملو، انہوں نے ہی مجھے فون کر کے دیا، باجی گل گھر پر تھی مس چوہان نے پوچھا تو کہنے لگیں کہ مس فہمیدہ کل شام ہی شہر جا چکی ہیں۔ شہر میں ٹیلی فون بھی نہ تھا ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ مجھے لوٹنا بھی تھا میں نے مس چوہان سے بات کی کہ آپ کو خط لکھ کر دیتی ہوں مِس تک پہنچا دیجئے گا۔ مس چوہان اپنی عادت کے مطابق خوب ہنسیں اور پھر کہنے لگیں کہ نہیں یہ نامناسب ہے انہوں نے تمہارا اتنا زیادہ پوچھا ہے، ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ، ٹیلی فون پر بھی اور یوں بھی۔ انہیں یقین نہیں آ رہا کہ تم لوگ چلے گئے ہو انہوں نے تمہارے لیے خط دے کر لڑکے کو بھی بھیجا تھا لیکن تم لوگ روانہ ہو چکے تھے لہذا جس طرح بھی ہو فوراً جاؤ، شہر میں ہیں، جا کر ملو۔ چنانچہ میں، بہن اور کالج کے چوکیدار کے ساتھ مس کے گھر گئی مس اتنی خوش ہوئیں کہ بیان سے باہر مِس کے بھائی، بھتیجے بھی کوئٹہ سے آئے ہوئے تھے اس لیے وہ شہر آئی ہوئی تھیں۔ مس کہنے لگیں کہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ تم لوگوں سے نہ مل سکی۔ دراصل پنڈی ضروری کام سے جانا پڑ گیا تھا۔ کہنے لگیں کہ میں محض تم لوگوں کی خاطر اپنے چچا کو خفا کر کے واپس پشاور آئی لیکن تم لوگ جا چکے تھے۔ کہنے لگیں کہ میں نے مس چوہان کو فون کیا کہ ہاجرہ اور نصرت چلی گئیں؟ اور یہ بھی کہہ دیا کہ پتہ نہیں مجھے کیوں یہ جھوٹ لگا۔ ایک دن مسز جعفر، مسز قریشی، مس چوہان تینوں آئیں۔ میں نے پھر پوچھا تو سب ہنسنے لگیں اور میں کچھ شرمندہ سی بھی ہو گئی۔ یہ تو تھیں مس کی باتیں میں نے تمہارا سلام وغیرہ دیا۔ اچانک چلے جانے کی وجہ بتائی میں نے بھی مس کو بتایا کہ صدر مجلس اردو تو مری کے لیے پر تول رہی ہیں مس کہنے لگیں کہ ٹھنڈی جگہ ہے اچھا ہے، خوب پڑھے گی۔ میں زیادہ ٹھہر نہیں سکتی تھی مس نے اصرار کیا کہ دن گزاروں میں نے عذر پیش کیا تو کہنے لگیں کل میرے پاس آ جاؤ غرض وہ بھی بہت خوش تھیں، اور میں بھی، بس ایک کمی کا احساس بار بار اور بری طرح ہو رہا تھا اور وہ تمہارا وجود تھا۔
ہاں یاد آیا مِس کے ابو کی تصویریں دیکھیں، اتنے ہینڈسم اور سمارٹ کہ کیا بتاؤں، مس کی بچپن کی چند ایک تصویریں دیکھیں۔ پھولوں میں گھری کھڑی ہیں اور اتنی حسین اتنی پیاری لگ رہی ہیں کہ کیا بتاؤں، خاص کر ان کی آنکھیں۔ ان تصویروں میں مِس کا وہ فزیکل فالٹ ہی نہیں لیکن تم نہ تھیں اور مجھے اتنی ہمت نہ تھی کہ پوچھتی، پھر وقت بھی کم تھا زیادہ باتیں نہ ہو سکیں لیکن جو تصویریں خوبصورت تھیں وہ بیان سے باہر۔ بس تم نہیں تھیں اور مجھے زیادہ مزہ نہیں آ رہا تھا۔ ”
یہ خط پڑھ کر آپ خود سوچیں کہ کیسا پچھتاوا، افسوس اور پشیمانی نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ ماضی کے حسین جزیروں میں یادوں کے کئی گلزار کھلے نظر آئے کتنے مواقع، کتنی محبت یاد آئی اپنی بے وقوفی اپنی نادانی پر رہ رہ کر افسوس ہوا کہ مس رؤف کی بے پایاں محبت کو اس طرح محسوس نہیں کر سکے جیسا کرنا چاہیے تھا۔ جو جذبات ہمارے دل میں تھے وہ دل ہی میں رہے اور کبھی اپنی محبت عقیدت کا اظہار نہیں کر سکے۔ کالج سے نکل کر پھر کالج جانے کا موقع نہیں مل سکا یہ وہ دور تھا کہ نہ تو موبائل تھے اور نہ اتنی آزادی کہ پشاور اپنی مرضی سے چلے جاتے۔ بی اے کا رزلٹ آیا تو شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں شادی کے فوراً بعد پھر ایک اور مرحلہ ماں بننے کا پیش آیا، میری نندوں نے فرنٹیئر کالج میں داخلہ لیا، میں چاہنے کے باوجود کالج نہ جا سکی کہ اس حالت میں مجھے شرم آتی تھی کہ میں مس سے ملوں۔ آج کل کی لڑکیوں کو میں دیکھتی ہوں کہ وہ کس طرح فوٹو سیشن کرتی ہیں اور کھلم کھلا ایسی چیزوں کا اظہار، جن کا ہمارے زمانے میں ذکر کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ میری نند جب کالج گئی تو میں نے اسے کہا کہ وہ مس سے ملے وہ جب مس سے ملی تو مس نے بار بار ان سے سوال کیا کہ اتنی اچھی بھابی آپ کو کیسے مل گئی ان کی تعریف اور یہ تعریفی جملے میری نند نے ہنستے ہوئے مجھے سنائے کہ ہم نے انہیں بتایا، ہمیں ڈھونڈنی نہیں پڑی ہمارے تو ماموں کی بیٹی ہے۔ ان کے سامنے بہت زیادہ تعریف کی۔ ان کی تعریف ان کی ستائش کے کئی مواقع یاد آئے۔ سال سوم میں، مجلس اردو کی نائب صدر کی حیثیت سے حلف برداری کی تقریب طے پائی۔ مگر عین موقع پر میں بیمار ہو کر گھر چلی گئی تقریب سے دو دن پہلے کالج واپس آئی تو مجھے دیکھ کر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا، کہ شکر ہے تم آ گئی ہو۔ مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ میری اتنی پیاری نائب صدر کہاں چلی گئی۔ جو لوگ مس رؤف کو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کس قدر سنجیدہ مزاج تھیں ان کے سامنے ایک لفظ بولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ان کا کئی مواقع پر شفقت بھرا انداز یاد آیا اور افسوس میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے اور ہاجرہ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی میں اور ہاجرہ شامی روڈ پہ ان کی بہن مسز بریگیڈیر واحد قاضی کے گھر گئے۔ ان کی بہن شمائمہ بہت خوبصورت، بہت پیاری لگیں۔ گھر بھی بہت شاندار تھا۔ میں اور ہاجرہ حسبِ معمول حسبِ عادت شرمائے لجائے بیٹھے رہے آتے ہوئے انہوں نے ہمیں تحائف دیے۔ ان کے دیے ہوئے گلدان آج بھی 50 برس گزرنے کے بعد بھی میرے ڈرائنگ روم کی زینت ہیں۔ ان کے خط ان کی باتیں ان کا وہ آٹوگراف جسے دیکھ کر سب نے رشک کیا۔ یہ آٹوگراف دیکھ کے جونیئر سٹاف کی ایک دو لیکچرار نے کہا کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم بھی مس سے آٹوگراف لیں ان کے لکھے لفظ ان کے خطوط کی طرح ان کی محبت کی طرح میرے دل پر نقش رہے انہوں نے لکھا تھا کہ
وہ 1972 کا ایک لازوال لمحہ تھا۔
میری نظریں ایسی نظروں سے ٹکرائیں جو خلوص کی بارش کر رہی تھیں!
میں نے قدم بڑھایا!
اسے دوست کہا۔ اسے ساتھی کہا!
ہم قدم بہ قدم چلے!
میں خوش تھی
” نصرت“ کا علم میرے ہاتھ میں تھا۔
یہ علم اب اونچا اٹھنے والا ہے!
میری نگاہیں اس کے تعاقب میں رہیں گی!
اور کبھی نہیں تھکیں گی!
اس کی رفعتیں اس کی عظمتیں میری روح میں آفاقی گیت بھرتی رہیں گی!
فہمیدہ اختر
4,6,1974
ان کا یہ آٹو گراف، یہ الفاظ ہمیشہ مجھے مہمیز کرتے رہے۔
کونسلر شپ، سکول، بوتیک مختلف میدانوں میں سرگرم عمل رہی۔ لیکن ہمیشہ مجھے یہ خیال دامن گیر رہا کہ وہ جیسا مجھے دیکھنا چاہتی تھیں شاید میں ابھی اس مقام تک نہیں پہنچ پائی۔ ان کے الفاظ میرا اعتماد، میری طاقت اور مجھے مہمیز کرتے رہے مگر افسوس کہ وہ آنکھیں، بہت خوبصورت آنکھیں، ذکاوت و ذہانت سے بھرپور آنکھیں وہ تھک کر بند ہو گئیں اور میں دوبارہ ان سے نہیں مل پائی (کاش وہ ہوتیں تو میری سات کتابوں کو دیکھ کر کتنی خوشی و مسرت کا اظہار کرتیں ) لیکن ان کی یادیں ان کا ذکر میری تحریروں میں میری کتابوں میں موجود ہے اور رہے گا وہ میری دعاؤں میں ہیں۔


