ریاست کے طاقتور ادارے کا تشکیل کردہ ”حکومتی بندوبست“


محض سوشل میڈیا ہی نہیں روزمرہّ زندگی کے تجربات اور مشکلات نے بھی ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت کو اعلیٰ متوسط طبقے کے انتہائی پڑھے لکھے افراد سے کہیں زیادہ باشعور اور دور اندیش بنا دیا ہے۔ ان کے دلوں میں ابلتے غصے کو تھوڑا برداشت کرنے کے بعد قومی مسائل کے بارے میں ان کے خیالات غور سے سنیں تو اپنے موجودہ سیاستدانوں کے رویے پر حیرت ہوتی ہے۔ 1970 ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی ایوب آمریت کے خلاف متحرک طلباء تحریک کا حصہ ہوتے ہوئے سیاسی معاملات پر توجہ دینے کی عادت اپنائی تھی۔ صحافت کو پیشہ بنانے کے بعد یہ عادت سیاسی موضوعات کے بارے میں خبریں جمع کرنے اور تبصرہ آرائی کے بہت کام آئی۔ میں نے عوامی سوچ اور سیاستدانوں کے عمومی رویے کے درمیان اتنا فاصلہ کبھی محسوس نہیں کیا جو ان دنوں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت ایک حوالے سے جائز اور ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر یہ طے کرچکی ہے کہ وطن عزیز میں حکومتی بندوبست ریاست کے طاقتور ادارے ہی تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں انہیں پیش قدمی یا بازاری زبان میں یوں کہہ لیجیے کہ ازخود ”پنگا“ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ سیاست میں زندہ رہنے کے لئے ”مقتدرہ“ کی ترجیح تصور ہوتے گروہ میں شامل رہا جائے۔ اپنی بقاء کے لئے دنیا بھر کے سیاستدان ایسی لچک دکھانے کو ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں۔ وقت شناسی اور موقع پرستی مگر دو مختلف رویوں کے نام ہے۔ ”عوامی نمائندگی“ کے دعوے دار افراد کے لئے مناسب وقت پر خلق خدا کے جذبات کے ساتھ کھڑا ہونا لازمی ہے۔ وہ ان کے ساتھ کھڑے دکھائی نہ دیں تو ظالم وقت معاف نہیں کرتا۔

بطور صحافی میاں ممتاز دولتانہ سے میری صرف تین ملاقاتیں ہوئیں۔ مقصد ان کا ”تاریخ کے لئے“ انٹرویو ریکارڈ کرنا تھا جو ان کا دنیا سے رخصتی کے بعد منظر عام پر لانے کا وعدہ ہوا۔ جس اخبار کے لئے مگر یہ پراجیکٹ تیار ہوا تھا غلط معاشی فیصلوں کے سبب اپنا وجودبرقرار نہ رکھ پایا۔ دولتانہ صاحب سے قربت کے دعوے دار سیاستدانوں سے تاہم جب بھی تاریخی تناظر میں گفتگو ہوتی وہ انہیں ”انتہائی ذہین“ قراردیتے۔ ان کی ”ذہانت“ نے مگر قیامِ پاکستان کے فوری بعد پنجاب کو ”دولتانہ۔ ممدوٹ کش مکش“ سے روشناس کروایا۔ ”نوائے وقت“ کو اس کش مکش کے دوران انہوں نے عتاب کا نشانہ بنایا۔ اخبار تو اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ پنجاب کے سیاستدانوں کی ”ذہانت“ اور ”محلاتی سازشوں“ نے مگر 1953 ء میں فوج کو امن وامان یقینی بنانے کا حتمی ادارہ ثابت کیا اور 1953 ء کے جزوی مارشل لاء کے دوران کمائی ”نیک نامی“ فیلڈ مارشل ایوب خان کے ہاتھوں اکتوبر 1958 ء کا ”انقلاب“ لانے کے بہت کام آئی۔ وہ دس سال برسراقتدار رہے۔ عوامی جذبات سے آگاہ نہ رہنے کے سبب مگر 1969 ء میں استعفیٰ دے کر جنرل یحییٰ کو ایک اور مارشل لاء لگانے کی دعوت دینے کو مجبور ہوئے۔ جنرل ضیاء نے بھی ملک کو ”خانہ جنگی“ سے بچانے کے لئے 4 جنوری 1977 ء کی رات مارشل لاء لگادیا تھا۔ اس کے بعد 11 برس تک بادشاہوں کی طرح برسراقتدار رہے۔ ان کے انجام کے ذکر سے البتہ خوف آتا ہے۔

تاریخ کا ذکر میرے نوجوان قارئین کو اس کالم میں اچھا نہیں لگتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ تناظر کو واضح کیے بغیر ”مکدی گل“ بتا دی جائے۔ دنیا کے جدید ترین موٹرویز پربھی برق رفتار سفر کے لئے گاڑی میں لگے اس شیشے پر نگاہ رکھنا لازمی ہے جو آپ کو پیچھے آنے والی ٹریفک کے بارے میں باخبر رکھتا ہے۔ ”مکدی گل“ البتہ یہ ہے کہ ہر اعتبار سے میں ایک ”شہری“ بندہ ہوں۔ زراعت کے بارے میں قطعاً جاہل رہا۔ جنرل ضیاء کے اقتدار کو ”جمہوریت“ کا لبادہ فراہم کرنے کے لئے 1985 ء میں جو ”غیر جماعتی انتخاب“ ہوئے ان کے لئے جاری انتخابی مہم کے دوران پنجاب اور اْن دنوں سرحد کہلاتے صوبے کے کئی دیہات کا دورہ کیا۔ خلق خدا کی ترجیحات کا اس کی بدولت حقیقی معنوں میں اندازہ ہوا۔ مذکورہ انتخاب کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی معرضِ وجود میں آئی تو اس کے بیشتر اجلاس کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف بحث کی نذر ہو جاتے۔ میں نے نہایت دیانتداری سے اس تنازعہ کی وجہ سمجھنے کی کوشش کی۔ دلائل کے بجائے مگر غیر پنجابیوں سے فقط یہ سننے کو ملاکہ ”ہمارا پانی“ چرانے کے لئے مذکورہ ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بالآخر قضیہ اتنا جذباتی ہو گیا کہ افغانستان کو ایک سپرطاقت۔ کمیونسٹ روس۔ سے ”آزاد“ کروانے والے جنرل ضیاء تمام تر اختیارات کے باوجود اسے تعمیر نہ کرپائے۔ ان کے بعد تشریف لائے جنرل مشرف بھی امریکہ کی سرپرستی کی بدولت بہت طاقتور ہونے کے باوجود اسے تعمیر کرنے کی جرات نہ دکھاپائے۔

کالا باغ ڈیم کی تاریخ نگاہ میں رکھتے ہوئے میں چولستان کو نئی نہروں کی تعمیر سے آباد کرنے کا منصوبہ سنتے ہی پریشان ہو گیا تھا۔ چند دوستوں کو جو خود کو دورِ حاضر کے لئے درکار ”ابلاغی حکمت عملی“ کے حتمی ماہر شمار کرتے ہیں نہایت عاجزی سے عرض کرتا رہا کہ زرعی امور سے قطعی نابلد ہونے کے باوجود مجھے اپنی بیوی کو وراثت میں ملی زمین کے انتہائی چھوٹے رقبے کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دریافت یہ ہوا کہ اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں بارش آج سے چند ہی برس قبل تک معمول تصور ہوتی تھی وہاں پانی نایاب ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ماحولیات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین 1990 ء کی دہائی سے مسلسل چیخ رہے تھے کہ ہمارے گلیشیر بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کی بدولت یہ خطہ قحط سالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 2025 ء کو اس حوالے سے وہ سال بتایا گیا تھا جب بارش ”معمول“ کے بجائے ”کبھی کبھار“ نصیب ہوگی۔ آبادی میں بے شمار اضافے نے پینے کے لئے صاف پانی پہلے ہی نایاب بنا دیا ہے۔ اب زراعت اس سے محروم ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

دورِ حاضر میں ابلاغ کے جدید ترین ذرائع کو بروئے کار لاکر لوگوں کی ”ذہن سازی“ کے ماہر بنے ذہین وفطین افراد کے لئے لازمی تھا کہ وہ قوم کو 2025 ء کے لئے تیار کرتے۔ اس کی جانب مگر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ ”پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ“ لڑتے ہوئے ہم نے عمران خان صاحب کو خلق خدا کے لئے دورِ حاضر کا مسیحا ثابت کیا۔ ان کی ”مسیحائی“ سے دل بھر گیا تو سمجھ نہ آئی کہ اپنے ہاتھوں سے تراشے صنم کو اب لوگوں کے دلوں سے کیسے نکالیں۔ پانی جیسے حساس موضوع پر لیکن ”تجربات“ سے گریز لازمی ہے۔ ٹھوس اعداد و شمار کی مدد سے لوگوں کو بآسانی سمجھایا جاسکتا ہے کہ ہمارے دریائوں میں پانی کی مقدار بتدریج بڑھ رہی ہے یا اس میں کمی آ رہی ہے۔ اگر یہ پانی کم ہو رہا ہے تو اسے بچانے اور ذمہ داری سے استعمال کرنے کے لئے زندگی میں نئے چلن اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔

جس موضوع پر کامل توجہ درکار تھی اسے نظرانداز کرتے ہوئے مگر چولستان آباد کرنے کا ذکر شروع ہو گیا۔ چولستان کی ممکنہ ”آبادی“ نے سندھ کے عام کسان کو اپنی ”بربادی“ کے بار ے میں متفکر بنا دیا ہے۔ ان کی فکر کا ذکر میں نے حکمران مسلم لیگ کے چند دوستوں سے کیا تو انہوں نے رعونت سے کندھے اْچکاتے ہوئے مجھ جاہل کو بتایا کہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومتی بندوبست سے ”پنگا“ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ حکمران جماعت کی ”اتحادی“ یہ جماعت مگر سندھ میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ”پنگا“ لینے کو بالآخر مجبور ہو گئی اور اس کی وجہ سے پیر کی شام قومی اسمبلی کا اجلاس ”اچانک“ غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ اجلاس رواں ہفتے کے جمعہ کے دن تک جاری رہے گا۔ کل رات سے سرپکڑے سوچ رہا ہوں کہ قومی اسمبلی کا ا جلاس جاری رکھنے کی قوت سے محروم ہوا حکومتی بندوبست چولستان آباد کیسے کرے گا۔

Facebook Comments HS