ڈاکٹر بلند اقبال کی ادبی جرات رندانہ کو داد
افسانچہ۔ نئی محبتیں
اور جب شادی کو بیس سال گزر گئے تو ایک رات عبدالجبار کو بستر پر آنکھ بند کرتے ہی خیال آیا، اف یار پھر وہی عورت؟ کیوں نہیں اس بار کوئی اور؟ آہ، کچھ تو منہ کا مزا بدلے، کم از کم ایک بار ہی سہی؟ یہ سوچتے ہی عبدالجبار کے خیالوں میں ایک کے بعد ایک دلربا خوش شکل حسیناؤں اور پرکشش جسموں کی یلغار ہونے لگیں، کیوں نہیں وہ والی حسینہ جو آفس میں کچھ مہینے پہلے ہی کلرک لگی ہے؟ یا وہ والی پیاری سی لڑکی جو روزانہ صبح بس اسٹینڈ پر کھڑی سیل فون پر ٹک ٹک کر رہی ہوتی ہے؟
یا وہ سانولی سلونی نمکین سی لڑکی جو محلے کے تیسرے گھر میں رہتی ہے؟ یا وہ سفید میدے جیسی میری بیوی کی بیسٹ فرینڈ کی چھوٹی بہن؟ یا وہ سرخ و سفید بھرے بھرے بدن کی سیل گرل جو اس رات مال میں نظر آئی تھی یا وہ یا وہ۔ سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہ چلا کب اس کے خواب میں آفس کی نئی کلرک آ گئی اور پھر بستر میں وہ تماشا مچا کہ اللہ کی پناہ۔
صبح جو آنکھ کھلی تو پاس وہی بیس سال پرانی بیوی لیٹی ہوئی ٹیڈھی ٹیڈھی نظروں سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی، عبدالجبار نے اسے حیرانی سے دیکھا اور تھوک نگل کر کہا، میں، میں ذرا نہا لیتا ہوں۔
باتھ روم میں شاور کی گرتی آواز سن کر عبدالجبار کی بیوی نے اپنی آنکھیں دھیمے سے بند کرلی اور لیٹے لیٹے ایک بھرپور سی انگڑائی لی اور مسکراتے ہوئے پھر سے اپنے خیالوں میں آفس کے اسمارٹ سے کلرک کو واپس لاکر اس کی مضبوط بانہوں میں جھول گئی۔
۔ ۔ ۔
ڈاکٹر خالد سہیل کے تاثرات
۔ ۔ ۔
آج صبح جب ڈاکٹر بلند اقبال کا افسانچہ پڑھا تو میں مسکرایا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ڈاکٹر بلند اقبال نے مشرق کی خاندانی اور ازدواجی روایات پر ایک سوالیہ نشان لگایا ہو۔ مجھے یہ خدشہ تھا کہ ان کا افسانہ مشرق کے مذہبی اور روایتی قارئین کو گراں نہ گزرے اور وہ ان سے ناراض نہ ہو جائیں۔ میرا یہ خدشہ اس وقت صحیح ثابت ہوا جب میں نے ان کی ایک پرستار کا کمنٹ پڑھا۔ آپ بھی پڑھ لیں۔
۔ ۔
ڈاکٹر بلند اقبال کی ایک پرستار کے تاثرات
۔ ۔ ۔
دیسی فیملیز میں ہسبینڈ اور وائف سے بڑھ کر کوئی دوجا شخص مخلص نہیں ہو سکتا۔ خاص کر جب بیس برس ایک دوجے کے سنگ گزارے ہوں۔ یہ کہانی عبد الجبار کی نہیں بلکہ اینتھونی یا جوزف کی ہو گی یا پھر کسی ایسے منحوس انکل کی جنہوں نے شادی کے مشرقی کانیسپٹ کو ترقی پسندی کی آڑ میں چھوڑ دیا ہو۔
یوں تو آپ بھی ترقی پسند ہیں لیکن شادی جیسے رشتے کو خوبصورتی اور ایمانداری سے نبھانا، اپنے بچوں کو (خاص کر بچیوں کو) شاہ زادے اور شاہ زادیاں بنا کر پروان چڑھانا۔ میں نے آپ سے ہی سیکھا ہے۔ اس کی وجہ آپ کے کردار کی مضبوطی اور اپنے خاندان سے ان کنڈیشنل محبت ہے۔
ایسی کہانیاں مت لکھا کیجیے بلند بھائی۔
نیور اگین
(آپ کی چھوٹی بہن ہونے کے ناتے میں آپ کے آپ کی فیملی کی جانب اخلاص بھرے رویے اور شفقت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور ہمیشہ انسپریشن لیتی ہوں )
۔ ۔
ڈاکٹر بلند اقبال کی پرستار نے بڑی اپنائیت سے بہت سے مشرقی قارئین کے جذبات و احساسات و خیالات کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایسے افسانے نہ لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ میں ایسے قارئین کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
میں ایسے قارئین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ کوئی افسانہ پڑھیں تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ ادیب کی سوانح عمری پڑھ رہے ہیں۔ ایک افسانہ نگار کے افسانے کا کردار کوئی بھی انسان ہو سکتا ہے۔ ادیب اپنی کہانی میں آپ بیتی سے زیادہ جگ بیتی لکھ رہا ہوتا ہے۔ بلند اقبال کے افسانے کا ہیرو عبدالجبار کوئی بھی مشرقی شوہر ہو سکتا ہے جو اپنی بیوی کی موجودگی میں کسی اور عورت کے بارے میں رومانوی انداز سے سوچتا ہے۔
بلند اقبال کی پرستار کا خیال ہے کہ ان کے افسانے کا ہیرو کوئی مشرقی شوہر نہیں ہو سکتا۔ ان کے خیال میں مشرقی شوہر بہت باوفا ہوتے ہیں۔ اس کردار کا نام عبدالجبار کی بجائے اینتھونی یا جوزف ہونا چاہیے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مغربی شوہر بے وفا ہوتے ہیں۔ میں ایسے قارئین سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مشرقی اور مغربی شوہروں میں بہت سی خصوصیات مشترک ہیں۔
بلند اقبال کی پرستار نے شوہر پر تو اعراض کیا کہ وہ کسی اور عورت کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن بیوی پر اعراض نہیں کیا کہ وہ بھی کسی اور مرد کی بانہوں میں جھول جانے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
اس افسانے کے ازدواجی اور ثقافتی حوالوں کے ساتھ ساتھ ایک نفسیاتی حوالہ بھی ہے۔
میں آپ کو اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ جب میں کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی کا طالب علم تھا اس وقت ہمارے پروفیسر ڈاکٹر ہونگ نے ’جو ایک ماہر جنسیات تھے‘ ہمیں ایک واقعہ سنایا تھا۔ فرماتے ہیں کہ انہیں ایک ہائی سکول کے پرنسپل نے ایک ایسے ٹین ایجر کو انٹرویو کرنے کی درخواست کی وہ سکول کے واش روم میں ایک اور ٹین ایجر کے ساتھ جنسی مباشرت کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
ڈاکٹر ہونگ نے اس نوجوان کا انٹرویو لیا اور اس کے ساتھ پرنسپل سے کہا کہ یہ لڑکا گے نہیں ہے
پرنسپل نے حیرانی سے کہا
ہم نے اسے دوسرے لڑکے کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا ہے آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ گے نہیں ہے
ڈاکٹر ہونگ نے کہا کہ اس لڑکے کو اپنی کلاس کی ایک لڑکی پسند ہے لیکن اس میں ہمت نہیں کہ اس لڑکی کو ڈیٹ کی دعوت دے۔ اس لیے جب وہ دوسرے لڑکے کی ساتھ جنسی مباشرت کر رہا تھا تو وہ آنکھیں بند کر کے اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
ڈاکٹر ہونگ نے پرنسپل کو اور اپنے طلبا کو بتایا کہ نفسیاتی حوالے سے کسی انسان کے جنسی عمل سے زیادہ اس کی فینٹسی اہم ہے۔
میں ایسے کئی گے مردوں کو جانتا ہوں جو شادی شدہ ہیں لیکن اپنی فینٹسی میں دوسرے مردوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان میں اتنی ہمت اور جرات نہیں کہ وہ اپنا جنسی سچ اپنی بیوی کو یا اپنے خاندان کو بتا سکیں۔
ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ سب انسان دو دنیاؤں میں بستے ہیں جو ان کے دو سچ کا مظہر ہیں
ایک داخلی سچ اور ایک خارجی سچ
ایک جذباتی سچ اور ایک سماجی سچ
داخلی سچ ہماری شخصیت کا اور خارجی سچ ہمارے معاشرے کی روایات کی آئینہ داری کرتا ہے۔
بلند اقبال کا افسانہ داخلی اور خارجی سچ کے درمیان ایک پل تعمیر کرتا ہے۔
بلند اقبال اپنے قارئین سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کے بارے میں رومانوی طور پر سوچنا چاہتا ہے تو کیا وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے کہ اس کی بیوی بھی کسی اور مرد کے بارے میں رومانوی طور پر سوچے اور اسے پسند کرے۔
میری نگاہ میں یہ افسانچہ ایک کامیاب افسانچہ ہے۔
میں بلند اقبال کو ان کی ادبی اور رومانوی جرات رندانہ کی داد دیتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی ایسی جرات رندانہ کا تخلیقی اظہار کرتے رہیں گے۔
ایک پرستار نے کہا ہے کہ وہ ایسے افسانے بالکل نہ لکھیں
دوسرے پرستار نے کہا کہ ایسے افسانے اور بھی لکھیں
اب دیکھیں ڈاکٹر بلند اقبال کیا فیصلہ کرتے ہیں


