عورت یا گالی؟
عورت کا معاشرے میں ماں، بہن، بیٹی، بیوی، گرل فرینڈ، دوست، فیلو، کولیگ بن کر رہنا کس قدر اذیت ناک ہے۔ کاش کہ پدرسری سماج یہ سمجھ سکے۔
ہر فورم پر عورت کی تضحیک کرنا ایک دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے، جہاں قہقہوں بھری آوازوں میں ایک پرنم ہنسی دب جاتی ہے۔
گلی محلوں کی لڑائیوں میں، جو نجانے کس سے منسوب ہوتی ہیں، ان جھگڑوں میں عورتوں کو دی جانے والی گالیاں ان کے اعصاب ٹھنڈے رکھنے کے لیے آئس کیوب سا کام کرتی ہیں۔
جب جب عورت دشمن معاشرے کو جنون چڑھتا ہے، وہ عورت کو ہی سرِعام ننگا کرتا ہے۔ کبھی طاقت کے نشے میں، کبھی مذاق میں، کبھی مذہب کے نام پر، تو کبھی نام نہاد آرٹ کے پردے میں۔
اور جب ان سب سے دل نہ بھرے، تو پیار محبت کے نام پر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔
بڑے بڑے انفلوئنسرز کو میں نے عورت مخالف پایا ہے۔ یوں تو وہ بہت فیمنسٹ بنے پھرتے ہیں، مگر جب ان کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے تو حیرانی ہوتی ہے۔
یہ سوسائٹی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ کہاں جائیں ہم؟ سات پردے اوڑھ کر بھی آپ کی گالیاں سہتے ہیں۔ ذرا سا ایک بال نظر آ جائے تو ہم آپ کو ”راہ سے بھٹکی ہوئی“ لگتی ہیں۔ اور اگر غلطی سے چہرہ دکھا دیا یا اپنی پسند کا لباس پہن لیا تو۔ ۔ ۔ ہاں، وہی گالی۔ جو آپ روٹین میں بے دھڑک دیتے ہیں۔
کبھی ایک دن، صرف 15 یا 20 منٹ کے لیے آپ عبایہ پہنیں، شٹل کاک نہیں اس میں کہیں آپ کی نازک جان اس جہاں سے کوچ نہ کر جائیں۔ آپ عبایہ پہن کر اس شدید گرمی میں ہراساں کرنے والی نگاہوں کی موجودگی میں ”چہل قدمی“ کر کے دکھائیں۔
تب شاید آپ کو اس گھٹن کا اندازہ ہو جو عورت اپنی بلوغت سے لے کر جوانی کے اختتام تک برداشت کرتی ہے۔
آپ کا کیا ہے؟ ذرا گرمی لگی تو شرٹ اتاری سو گئے ہلکا پھلکا مرضی کا لباس پہن لیا اور نکل لیے۔
مگر یہاں؟ ذرا دوپٹہ سرکا نہیں باپ، بھائی، شوہر، بیٹا نجانے اور کون کون غیرت کی تلواریں لیے زومبی کی طرح خون ٹپکائیں سامنے آ جاتے ہیں۔
غلطی سے بھی اگر مذہب پر بات کر لی مذہب مخالف حوالہ دے دیا تو آپ کی خیر نہیں۔ الامان و الحفیظ!
دین کی بات کریں تو سننے کو ملتا ہے ”سب سے زیادہ عورتیں جہنم میں جائیں گی!“ واہ۔ انصاف بھی کیا خوب ہے!
اور ہاں، ایک اور بات عورت ناقص العقل ہے؟ بے وقوف ہے؟ زمانے کے ساتھ نہیں چل سکتی؟ ان کی سوچ محدود ہے؟
وہ سب باتیں جو آپ کے ذہن میں ہیں۔ وہی سب!
جب میں ان باتوں پر سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے۔ کیا اعلیٰ عقل ہے آپ کی بھی! عقل کی بحث چھوڑیں، کبھی غلطی سے تاریخ کے پنًے پڑھے ہیں؟ کبھی نفسیات جاننے کی کوشش کی ہے؟
چلیے وہ بھی چھوڑیں ذرا ایک لمحے کو، اپنا موازنہ اپنی ماں، بہن، بیٹی، بیوی یا گرل فرینڈ سے کر کے دیکھیں
اپنے اور ان کے لائف سٹائل کا موازنہ کیجیے۔
کیا کر سکتے ہیں؟ یا آپ اسے بھی جسٹیفائی کریں گے؟
تب آپ کو سارے سوالوں کے جواب خود مل جائیں گے۔
نہیں سمجھے؟
تو شاید کبھی سمجھ ہی نہیں پائیں گے!
فہمیدہ ریاض صاحبہ کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ
لب بستہ ہیں تو مجرم ہیں ہم
لب کھولیں تو گستاخ کہلائیں


