موسمیاتی تبدیلیاں اور اثرات
اسلام آباد میں شدید بارش، ژالہ باری اور اس سے قبل زلزلے کے جھٹکے ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ جب بارش، سیلاب یا طوفانی جھکڑ ناگہانی آفت کی طرح عوام پر نازل ہو جاتے ہیں تو محکمہ موسمیات بھی ان کی پیش گوئی کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اس میں ان کا بھی کوئی قصور نہیں کیونکہ جس طرح ہمارا سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے اسی طرح سے پوری دنیا میں موسم بھی تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جب گلیشیرز پگھلیں گے تو زیر زمین موجود پلیٹیں لازمی حرکت میں آئیں گی جو زلزلے کا سبب بنیں گی۔ اس کی ایک مثال سمندری طوفانوں اور سیلابوں میں اضافہ ہیں جو پوری دنیا میں تباہی مچا رہے ہیں۔
ہم صرف پاکستان کی ہی بات کر لیں تو پچھلے چند سالوں سے ہیٹ ویو (گرمی کی شدت میں بے پناہ اضافہ) نے اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال ملتان کی لے لیں تو ماہرین کے مطابق اگلے چند برسوں میں ملتان رہنے کے قابل نہیں رہے گا مگر بڑھتی ہوئی گرمی شاید یہ وقت پہلے لے آئے۔ مری میں پچھلے برس 59 فیصد جبکہ اس برس صرف 26 فیصد برف پڑی۔ جس کے نتیجے میں دریا سوکھ رہے ہیں۔ دریا سوکھنے کا مطلب کھلیانوں کا سوکھنا لازم ہے جس سے عوام الناس پر روزی روٹی تنگ ہونا شروع ہو جائے گی۔ فوڈ سیکورٹی کا پاکستان کو پہلے سے مسئلہ درپیش ہے۔ دوسری جانب زیر زمین پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے جبکہ پانی کو ذخیرہ کرنے کا ہمارے پاس خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ جاوید چوہدری کے 2019 کے ایک کالم کے مطابق پاکستان میں دو بڑے تربیلہ اور راول ڈیم۔ اور 185 چھوٹے ڈیمز ہیں جبکہ بھارت میں 5 ہزار اور چین میں 4 ہزار ڈیمز ہیں دوسرے ممالک چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر پانی کو ذخیرہ کرتے اور ہم ڈیموں پر فقط سیاست کرتے رہ گئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چند مہینوں میں گرمی کی شدت بڑھے گی جس کے نتیجے میں انسان، جانور اور دوسرے ذی روح متاثر ہوں گے۔ مختلف انواع کی بیماریاں پھوٹیں گی۔ پچھلے برس پاکستان میں قیامت خیز گرمی پڑی جس کے دوران ملک کے کچھ علاقوں میں تو درجہِ حرارت 50 ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔ جس سے سیکڑوں انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں زیادہ تر مزدور یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے جس کا اندازہ 2023 میں ہی لگا لیا گیا تھا ڈبلیو ایم او کے مطابق 2023 کے آخر میں 90 فیصد سے زائد سمندروں کو شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کے سمندری ماحولیاتی نظام پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔
جنوبی ایشیائی خطے میں شدید گرم موسم کی وجہ سے اموات میں اضافہ، فصلوں کی خرابی یا ناپیدگی اور آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے غریب اور پسماندہ طبقات زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
گزشتہ برس شدید موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اسکولوں کے تقریباً 100 دن ضائع ہوئے جبکہ پاکستان تعلیمی شعبہ میں پہلے ہی پیچھے ہے جہاں پانچ سے 16 برس کی عمر کے لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
پاکستان میں بیشتر اسکولوں کی عمارات ائرکنڈیشننگ کے نظام سے محروم ہیں دوسری جانب بے وقت کی دن رات کی لوڈ شیڈنگ ہے. اقوام متحدہ کے مطابق، پاکستان عالمی کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالنے کے باوجود ماحولیاتی بحران کے لحاظ سے دنیا کے متاثرہ ممالک میں دسویں نمبر پر ہے۔
10 اپریل کو محکمہ موسمیات نے ملک میں گرمی کی شدید لہر کو دیکھتے ہوئے ہیٹ ویو ایڈوائزری جاری کردی تھی جس کے مطابق ملک بھر کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق پاکستان کے ڈیزاسٹر ایجنسی ادارے نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وسطی پنجاب میں، جہاں درجہ حرارت پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، جون سے قبل تمام اسکولوں کو بند کر دیا جائے کیونکہ رواں برس میں گرمی کی شدت زیادہ اور طویل عرصہ کے لیے ہوگی۔ توقع ہے کہ حکومت اس پر عمل کر کے بچوں کو ہیٹ سڑوک اور اسہال جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرے گی۔
پنجاب بھر کے اسکولوں میں شدید گرمی کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے حفاظتی اقدامات فوری طور پر ناٖفذ کرنے کا حکم صادر کیا جس میں طلبہ کے لیے ٹھنڈے پانی کی فراہمی، پانی کی بوتل ساتھ لانے کی ہدایت، کلاسز کو ممکنہ حد تک سایہ دار اور ہوادار کمروں میں منتقل کرنے اور بیرونی تمام سرگرمیوں پر پابندی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اسکولوں میں فرسٹ ایڈ کٹس کی دستیابی اور عملے کی ایمرجنسی کی صورت میں نمٹنے کی تربیت دینے کا بھی حکم دیا ہے۔ امید ہے کہ تمام ہدایات پر من و عن عمل بھی ہو گا۔


