سانحہِ جلیانوالہ باغ، ایک خونی واقعے کی داستان
جلیانوالہ باغ کے اندوہناک سانحے کو پیش آئے 106 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ خونی واقعہ 13 اپریل 1919 میں بھارت کے شہر امرتسر پنجاب میں اس وقت پیش آیا جب برطانوی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف بہت سے مظاہرین جلیانوالہ باغ میں اکٹھے ہو کر ایک پر امن احتجاج کے ارادے سے شرکت کے لئے جمع تھے۔ ہندوستان اس وقت برطانوی سامراجی قوتوں کے قبضے میں تھا جو ہندوستانی عوام کو محکوم اور غلام سمجھتے ہوئے ان کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھی تھیں۔
اس سیاہ ترین دن کا پس منظر جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے جھروکوں سے جلیانوالہ باغ میں ایک سو چھ سال قبل کے 13 اپریل سال 1919 کے ایک معمول کے دن پرایک تفصیلی نگاہ ڈالنا ہو گی جسے اس خونی واقعہ اور بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع نے ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل دن بنا دیا اور تاریخ نے ان مارے گئے بے گناہوں اور مارنے والے قاتلوں کے ناموں کو خود اپنے ہاتھوں سے درج کر کے آنے والی نسلوں کو آگاہ کر دیا کہ مرنے والوں کی مزاحمتی سوچ اس وقت بھی فاتح تھی اور ہمیشہ فاتح ہی رہے گی جبکہ آزاد سوچ کے خلاف نہتے اور ہر امن لوگوں کو نشانہ بنانے والے اور ان کا قتلِ عام کرنے والے جنرل ریجنالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر المعروف جنرل ڈائر اور اس کے حامیوں کی سوچ اور نظریہ کو شکست ہوئی اور وہ اپنے نام کو تاریخ کے بدنام زمانہ قاتل کے طور پر سیاہ حروف میں درج کرا بیٹھا۔
اس روز جلیانوالہ باغ میں بیساکھی کے دن پر امن لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع نے ایک جلوس کا انعقاد کر رکھا تھا جو دراصل اس وقت برطانوی ہندوستان میں نافذ العمل ایک غیر انسانی قانون کے خلاف ایک پر زور احتجاج تھا۔ ہندوستان میں اس وقت برطانوی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور سیاسی سرگرمیوں اور انقلابی تحریکوں کو روکنے کے لئے ایک رولٹ ایکٹ نامی قانون جو کے سر سید فریڈ رک رولٹ کی سر براہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارش پر بنایا گیا، جس کے تحت حکومت کی جانب سے کسی بھی شخص کو بغیر مقدمے کے گرفتار اور قید کیا جا سکتا تھا اس ایکٹ کے خلاف مختلف جگہوں پر عوامی مظاہرے کیے جا رہے تھے اور صاف ظاہر ہے کہ برطانوی سامراج اپنے خلاف ہونے والے ان بڑے عوامی مظاہروں سے سخت نالاں تھا اس لئے اس نے برطانوی سرکار کے وفادار جنرل ریجنالڈ ڈائر کے ذریعے ان مظاہرین کی آوازیں بند کرنے کا فیصلہ کیا جس نے اپنے فوجی دستوں کو مظاہروں میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد پر سیدھا فائر کھولنے کا حکم صادر کیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد ناحق مارے گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس خونی واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 379 اور زخمیوں کی تعداد 1200 تھی مگر غیر سرکاری اعداد و شمار اور عینی شاہدین کے مطابق مارے جانے والے افراد کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو تک تھی اس قتل عام کے نتیجے میں جلیانوالہ باغ بے گناہ مظاہرین کے بہنے والے خون ناحق سے سرخ ہو گیا اور تاریخ نے اپنی کھلی آنکھوں سے اس پر امن مقام کو قتل گاہ میں بدلتے ہوئے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے تحریر کیا۔
ہندوستان میں اس خوفناک واقعہ کے خلاف بہت شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا عوام میں اس قتلِ عام کے خلاف شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا۔ ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنما گاندھی جی نے برطانوی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا اور پہلی بار ہندوستان کی مکمل آزادی کی ضرورت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس ضمن میں اپنی سنجیدہ کاوشوں کا آغاز بھی کر دیا۔
بھگت سنگھ کی جد و جہد اور انقلابی تحریکوں نے بھی برطانوی سامراجی قوتوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ان کی تقریروں نے نوجوانوں میں انقلابی روح پھونک دی ان کی پالیسی گاندھی جی کی پر امن اور عدم تشدد کے برعکس کافی جارحانہ اور انقلابی تھی۔
برطانوی حکومت پر اس واقعے کے خلاف شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے ایک ہنٹر کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے جنرل ڈائر کے ان خونی اقدامات کو بلا جواز قرار دے کراس کو عہدے سے بر طرف کرتے ہوئے برطانیہ میں واپس بلا لیا اور اسے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی گئی۔ تاہم اس کے خلاف کسی بھی مجرمانہ کارروائی کا آغاز کرنے سے گریز کیا گیا۔
جنرل ڈائر کے ان بہیمانہ اقدامات کے حوالے سے برطانوی شہریوں کی طرف سے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا گیا کسی نے اس کے اس قتلِ عام کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ہندوستان کا نجات دہندہ اور ہیرو قرار دیا جب کہ بہت سے لوگوں اور سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جنرل ڈائر کی اس جنونیت کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیا۔
جلیانوالہ باغ حادثے نے ہندوستان کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ساری عوام میں اجتماعی بیداری اور آزادی کا شعور بیدار ہوا اس سلسلے میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں نے بھی آگے بڑھ کر انقلابی تحریکوں میں اپنا حصہ ڈالا ادیبوں شاعروں اور فلسفیوں نے بھی اپنی اپنی تحریروں کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی رابندرناتھ ٹیگور ایک عظیم شاعر ادیب اور قوم پرست شاعر تھے جن کو امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا ان پر جلیانوالہ باغ حادثے کا شدید اثر ہوا اور انہوں نے برطانوی سرکار سے ملنے والے ”سر“ کے خطاب کو احتجاجاً واپس کر دیا انہوں نے وائسرائے کو خط لکھتے ہوئے کہا
جلیانوالہ باغ میں جو کچھ ہوا اس کے بعد میں اس حکومت سے کسی قسم کا اعزاز رکھنے کا اخلاقی جواز نہیں سمجھتا اس لئے میں ”سر“ کا خطاب واپس کر رہا ہوں۔
ہندوستان نے اس قتلِ عام پر برطانوی حکومت سے بارہا معافی کا مطالبہ کیا مگر برطانیہ نے اس پر کبھی معافی نہیں مانگی البتہ ملکہ برطانیہ کی جانب سے 1997 میں جلیانوالہ باغ کا دورہ کیا گیا جس میں انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا اس موقع پر انہوں نے تعزیت کے طور پر کچھ دیر کی خاموشی بھی اختیار کی جسے افسوس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جلیانوالہ باغ ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی تاہم انہوں نے اس واقعے پر کسی قسم کی معافی نہیں مانگی تھی۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریکوں میں اس واقعے نے جان ڈال دی اور ایک طویل جد و جہد کے بعد ہندوستان کو برطانوی سامراجی نظام سے آزادی نصیب ہوئی جس کے نتیجے میں برطانیہ کو اپنا بوریا بستر وہاں سے ہمیشہ کے لیے سمیٹنا پڑا آزادی کی اس داستان میں کیا کیا قربانیاں جد و جہد اور کاوشوں نے رنگ بھرا یہ ایک الگ داستان ہے اور اس کو ایک مضمون میں سمونا ایک نا ممکن سی بات ہے البتہ جلیانوالہ باغ کے حادثے کے بعد شروع ہونے والی تحریکوں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں جو رنگ بھرا وہ تاریخ کی کتاب میں سنہری حروف سے لکھے جانے لائق ہے۔


