ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ نویسی

18 اپریل ڈاکٹر جمیل جالبی کی چھٹی برسی ہے
ڈاکٹر جمیل جالبی اردو دنیا کے نامور محقق، مورخ، مترجم، نقاد اور نباض ہیں۔ انہوں نے تن تنہا اداروں کا کام سر انجام دیا ہے۔ اردو زبان، ادب اور ثقافت سے محبت اور جڑت انہیں گھٹی میں ملی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ کسی بھی قلمکار کے لئے اس سے زیادہ اعزاز کی بات کیا ہو گی، کہ جس زبان کا وہ لکھاری ہو، اس زبان کی شناخت، بڑھوتری اور رچاؤ بساؤ میں اس لکھاری کا کردار نمایاں ترین حیثیت کا حامل ہو۔ بلاشبہ ڈاکٹر جمیل جالبی بالا معیار کے پلڑے میں تن تنہا نظر آتے ہیں۔ تخلیقی ادب کی بجائے تحقیقی، تنقیدی اور تاریخی ادب پر لکھنا اور اس قدر ضخیم اور معیاری لکھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جس زبان میں قارئین شعر و کہانی پڑھنے میں ہچکچاتا ہو وہاں پر غیر تخلیقی ادب کے میدان کا انتخاب سوائے جنون اور محبت کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی شخصی، علمی اور ادبی وقار کی حامل ایسی شخصیت کے طور پر نمایاں ہیں، جنہوں نے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ عمل کر کے خود کو تشنہ محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے تک پڑھنے لکھنے سے وابستہ رہے۔ زندگی کے کسی معاملے کو کبھی بھی اپنے پڑھنے لکھنے کے سفر میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ہزاروں صفحات پر ان کا علمی سفر ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عام انسانوں کی طرح بسر کرنے کی بجائے خواص کی طرح بہت مرتب اور منظم ہو کر گزارہ۔ ممکنہ طور پر ترتیب و تنظیم کے لحاظ سے وہ اپنے تمام معاصرین اور پیش روؤں سے بہت منفرد تھے۔ یہ انفرادیت مستقبل میں بھی انہیں کا خاصہ رہے گی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کا علمی و ادبی سفر بہت متنوع ہے۔ ان کی مرکزی شناخت مورخ کی ہے۔ اردو میں ادبی تاریخ نویسی کا جو رنگ ڈھنگ ان کے ہاں ملتا ہے وہ دو حوالوں سے بہت اہم ہے۔ اول انہوں نے تاریخ کو اس روایتی تاریخی جھول، تعصب، اور طاقت کے بیانیے سے حتی الوسع بچائے رکھا تو ثانیا انہوں نے ادبی تاریخ کو بڑی سطح پر سماجی تاریخ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ یوں ادب اور سماج کے روایتی یا نظریہ بند تصورات سے ہٹ کر نئے امکانات اے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں ادب مرکز میں موجود ہے مگر اس مرکز کے گردا گرد سماج کی عمومی چار دیواری ہے، جس میں سماج ادب کے ذریعے مکالمہ بھی کرتا ہے اور اپنا اظہار بھی۔ ادبی تاریخ نویسی کا یہ رنگ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تخصیص ہے۔ ان سے پہلے یہ رنگ نہ اتنا گہرا ہے اور نہ ہی اتنا واضح، البتہ بعد کے ادبی مورخین نے اگر اس رنگ کو آگے بڑھایا ہے تو یقیناً اس بڑھاوے میں ڈاکٹر جمیل جالبی ایک بنیادی ماخذ اور رہنما کے روپ میں موجود ہیں۔ ادبی مورخ اگر تخلیقی و تجزیاتی ادب کے ساتھ گہری وابستگی اور جڑت نہ بنا پائے تو اس کی تاریخ محض کھتونی بن کر رہ جاتی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی سب سے پہلے کلاسیکی و جدید ادب کے بہت عمدہ قاری کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خود کو اردو یا ہندوستانی ادب کے ساتھ جوڑا بلکہ دنیا کی دیگر ادبی روایتوں سے بھی خود کو مستفید کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تاریخ نویسی محض کھتونی یا اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں ہے۔ ان کی تاریخ ادب کا وہ روپ ہے جو ضمنی پیداوار ہونے کے باوجود بعض اوقات اصل پیداوار سے فزوں تر محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تاریخ نویسی ماخذات، مباحث اور تحقیقی جہات کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے اپنی تاریخ کے مختلف حصوں میں بیشتر ادبی مسائل، روایات اور قضیوں کو نہ صرف موضوع بنایا ہے بلکہ ان میں سے بیشتر کو منطقی سطح پر نتیجہ خیز بنایا ہے۔ اسی دوران انہوں نے نئے سوالات کو اٹھایا اور نئے ذہنوں کو اس طرف متوجہ کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ اردو زبان و ادب کے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی تاریخ نویسی حقائق، تجزیے اور تاریخی تسلسل کا شاہکار ہے۔ ان کی تاریخ نویسی کا بڑا دائرہ کلاسیکی ادب خصوصاً شاعری کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے کدم رو پدم رو جیسے شعری کارنامے کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ کلاسیکی شاعری کی تفہیم و تجزیے اور تاریخی ارتقا کو خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی تخلیقی اور شعری ادب کی روایت کو کنگھالتے ہوئے اپنے پیش روؤں کے اٹھائے گئے کئی سوالوں کا جواب مہیا کیا ہے۔ مشرقی ادب اور فنون لطیفہ میں مرکزی حیثیت اختیار کر جانے والے تصور روایت ”کہ جس کو اردو میں حسن عسکری جیسے بڑے نقاد نے بہت شان دار طریقے سے ادب عالیہ اور عمومی ادب کی درجہ بندی کی بنیاد قرار دیا“ کو بنیاد بناتے ہوئے کلاسیکی شاعری کی تفہیم و تجزیے کے لئے رہنما اصول کے طور پر برتا۔ 1857 کے کایا کلپ کے بعد ، خصوصاً محمد حسین آزاد اور مولانا حالی کے مقدمہ شعر و شاعری میں کلاسیکی شاعری پر اٹھائے گئے اعتراضات یا سوالات کا خاطر خواہ جواب اگرچہ مختلف اوقات میں دیا جاتا رہا مگر نئے تنقیدی معیارات نے کلاسیکی ادب خصوصاً شاعری کو مرجھا دیا تھا۔ یہ مرجھاؤ وقت کے ساتھ بڑھتا رہا تا وقت یہ کہ ڈاکٹر جمیل جالبی جیسے محقق، نقاد، مورخ اور سوا اس پہ قدیم ادب و ثقافت کی محبت میں اسیر قلمکار نے اپنی تحریروں میں مدلل اور جزئیات کے ساتھ ان سوالات کے جوابات دیے۔ ان جوابات کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ جو تخلیقی روایت مابعد الطبعیات پر کھڑی ہو اس کا تجزیہ طبعیات کی بنیاد پر بنائے گئے معیارات کیسے کر سکتے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو ڈاکٹر جمیل جالبی کو نہ صرف ایک عالم کے طور پر اردو دنیا میں سامنے لاتا ہے بلکہ مشرقی، اردو اور مقامی روایات و تہذیب کے محافظ کے طور پر بھی سامنے لاتا ہے۔ اس ضمن میں اگرچہ پوری کلاسیکی شاعری کی روایت کا تجزیہ ان کی تاریخ نویسی کا حاوی پہلو ہے، لیکن اس سفر میں میر تقی میر پر اٹھائی گئی بحث اپنی مثال آپ ہے۔ یہ حصہ مولوی عبد الحق یادگاری دو لیکچرز کا مجموعہ ہے جو بعد ازاں الگ تصنیف کے طور پر بھی سامنے آیا۔ بالا لیکچرز میں سے پہلے میں میر تقی میر کی سوانح کو ایک مورخ نے نہایت عرق ریزی سے تیار کیا ہے تو دوسرے لیکچر میں ڈاکٹر جمیل جالبی ایک مورخ سے اوپر اٹھ کر خود کو تاریخی، جمالیاتی، عمرانی، اسلوبیاتی و لسانی نقاد کے طور پر منواتے نظر آتے ہیں۔
بہ طور مورخ انہوں نے اردو میں ادبی تاریخ نویسی کو ماخذ کے دائرے سے نکال کر ادبی تحریر کی چاشنی میں رنگ دیا۔ یہی وجہ کہ ان کی ادبی تاریخ کے سینکڑوں صفحات علم اور ادب کے دائرے میں در آئے اور انہیں ویسے ہی قاری میسر رہے جیسے کسی بڑے شعری یا افسانوی شاہکار کو میسر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ادبی تاریخ مرتب کرتے ہوئے جہاں تاریخ نویسی کی تکنیک کو تازہ ترین رجحانات کے تحت ترتیب دیا وہاں ادب کے قاری کی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اہم ادبی شخصیات سے لے کر اہم ادبی رجحانات کو خاص طور پر اہمیت دی۔ تاریخ نویسی کے ضمن میں جہاں انہوں نے ادبی مآخذ کو بنیاد بنایا وہیں پر دیگر اہم تاریخی مآخذ اور دیگر سرکاری، نیم سرکاری اور مقامی متون کو بھی بنیاد بنایا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی سے قبل ادبی تاریخ نویسی میں اس پہلو کا فقدان نظر آتا ہے۔ ادب کے ارتقا میں سماجی پس منظر، لسانی، ادبی اور ثقافتی کشمکش، مجموعی طرز زندگی، پیشہ ورانہ مہارتیں، نظام اخلاق، اور فنون لطیفہ کی سرگرمیوں کے اثرات کو بھی خاطر خواہ بحث کا موضوع بنایا ہے۔ اسی بنا پر ان کی تاریخ نویسی اپنا منفرد تشخص بنا چکی ہے۔
بہ طور ادبی مورخ بنیادی فریضہ ادب کی علاقائی روایتوں اور دھاروں کو الگ الگ شناخت دے کر کسی خاص موڑ یا سنگم پر مشترکہ شناخت کے حوالے کرنا ہے۔ ہر خطہ، ہر زبان اور ہر ثقافت اپنے ادبی اظہار میں متنوع جہات کی حامل ہوتی ہے۔ بڑا مورخ ان اکائیوں اور متنوع شناخت کے حامل ادبی دھاروں اور کار گزاریوں کو ایک ایسی لڑی میں پروتا ہے جہاں تکمیل کے احساس کے ساتھ ساتھ رنگا رنگی معدوم نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی بہ طور مورخ اس اصول کو اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لہذا اس بات کو لکھنے میں چنداں حرج نہیں ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی اس وقت اردو ادب کے سب سے نمایاں اور اہم مورخ ہیں۔

