یارلنگ تسانگپو ڈیم اور برہم پترا کا مستقبل


چین نے تبت کے پہاڑی سلسلوں میں یارلنگ تسانگپو دریا پر دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو مستقبل میں دنیا کا سب سے بڑا بجلی پیدا کرنے والا ڈیم ہو گا۔ یہ منصوبہ جہاں چین کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف لے جائے گا، وہیں اس کے ماحولیاتی اور جغرافیائی اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ دریا کے زیریں سمت واقع ممالک بھارت اور بنگلہ دیش، جہاں یہی دریا برہم پترا کے نام سے جانا جاتا ہے، کے لیے یہ منصوبہ ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ برہم پترا جنوبی ایشیا کی سماجی اور معاشی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، جو تبت کے گلیشیئرز سے نکل کر بھارت کے شمال مشرقی علاقوں اور بنگلہ دیش کے وسیع میدانوں کو سیراب کرتا ہوا خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔ یہ دریا نہ صرف کروڑوں لوگوں کو پانی فراہم کرتا ہے بلکہ زراعت، ماہی پروری اور نقل و حمل کے لیے بھی اسی پر انحصار کیا جاتا ہے۔

چین کے اس ڈیم منصوبے کے بھارت اور بنگلہ دیش پر دوہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف اگر چین ڈیم سے پانی کے بہاؤ کو منظم طریقے سے قابو کرے تو یہ سیلابوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر بھارت کے آسام اور بنگلہ دیش کے بعض حصوں میں جو ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر چین ڈیم میں پانی روک لے یا پھر ہندوستان کی مانند اچانک پانی چھوڑ دے تو اس سے نیچے کی طرف پانی کی قلت یا تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ڈیم کی تعمیر سے دریا کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، جس سے مٹی کے رسوب میں کمی آئے گی اور زرخیز زمینیں بننے کا عمل متاثر ہو گا اور بنجر پن بڑھتا جائے گا۔ بنگلہ دیش کا مشہور سندر بن، جو دنیا کا سب سے بڑا تمر کا جنگل ہے، اس کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ رسوب کی کمی سے ساحلی کٹاؤ بڑھ سکتا ہے اور سمندر کی سطح میں اضافے کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔

بھارت اور بنگلہ دیش نے چین کے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے سرکاری طور پر چین سے دریا کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں شفاف معلومات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے اس معاملے پر بین الاقوامی فورمز پر بات چیت کی تجویز پیش کی ہے۔ دونوں ممالک کا موقف ہے کہ دریا کے پانی کے استعمال کے معاملات پر تینوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک مشترکہ قدرتی وسیلہ ہے۔ تاہم، چین نے اب تک کسی بھی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرنے سے گریز کیا ہے جو اسے دریا کے پانی کے استعمال پر پابند بنائے۔ اس صورتحال نے خطے میں تناؤ کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے پاس چین کے یک طرفہ اقدامات کو روکنے کا کوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر چین نے ڈیم کی تعمیر کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات پر توجہ نہ دی تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ دریا کا قدرتی بہاؤ نہ صرف زراعت بلکہ آبی حیات کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اور اس میں خلل پورے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں زلزلے کے خطرات کو دیکھتے ہوئے کسی بھی بڑے ڈیم کی تعمیر ایک خطرناک قدم ہو سکتا ہے۔ اگرچہ چین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کرے گا، لیکن بھارت اور بنگلہ دیش کے لیے یہ سب تسلی بخش نہیں ہے۔

اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ تینوں ممالک مل کر ایک ایسے معاہدے پر کام کریں جو دریا کے پانی کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنائے اور ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ دنیا کے دیگر بین الاقوامی دریاؤں، جیسے دریائے ڈینوب، کے معاہدے اس سلسلے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ اگرچہ چین، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ موجود ہے، لیکن اس مشترکہ مسئلے پر تعاون ہی وہ واحد راستہ ہے جو خطے کے تمام باشندوں کے مفاد میں ہو گا۔ ورنہ، یارلنگ تسانگپو پر بننے والا یہ ڈیم نہ صرف چین کے لیے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن کر رہ جائے گا۔ ہندوستان نے جو نا انصافیاں پاکستان کے ساتھ روا رکھی ہوئی ہیں شاید وہی کچھ اب اس کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بگلیہار ڈیم اور دیگر منصوبے مکمل کر کے پاکستان کو بنجر بنانے والی بدمعاش ریاست کو اب اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے۔ دوسری طرف ہندوستان نے افغانستان کو بھی دریائے کابل پر ڈیم تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے تاکہ پاکستان کے علاقے خیبر پختونخوا کی زمینوں کو بھی بنجر کیا جا سکے۔ قدرتی وسائل خصوصاً آبی وسائل پر ان تمام ممالک کا حق ہوتا ہے جہاں سے وہ۔ گزرتے ہیں انھیں کسی بھی صورت مکمل طور پر بند یا رخ تبدیل کرنے کی پالیسی درست نہیں جو راوی ستلج اور بیاس کے ساتھ کیا گیا کیا وہی کچھ اب ہندوستان کے برہم پترا کے ساتھ ہونے جا رہا ہے دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS