ویجائنا کا علاج کیسے کرنا ہے؟
گزشتہ ہفتے ہم بے ویجائنا کی بیماری کی بات کی۔ ویجائنا کی مشکلات میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے آس پاس پیشاب اور پاخانے کے خروج کے راستے ہیں اور دونوں سے نکلنے والا فضلہ جرثوموں سے لدا ہوتا ہے۔
حوائج سے فراغت کے بعد اگر چہ دونوں جگہ کو دھویا جاتا ہے لیکن جرثوموں کی کچھ نہ کچھ تعداد ویجائنا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ یہ جرثومے کے حملے کی ایک وجہ ہے، باقی ہم پچھلی بار بیان کر چکے ہیں۔
ویجائنا میں موجود حفاظتی دستے جرثوموں کا راستہ روکتے ہیں اور انہیں مار بھگاتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے انگلیوں کے ساتھ منہ میں جراثیم داخل ہوں اور منہ کا حفاظتی دستہ اپنا کام کرے۔
لیکن اگر ویجائنا کی اپنی صحت ٹھیک نہ ہو اور دفاعی دستے کے کارکنوں کی تعداد میں کمی ہو چکی ہو تو جرثومے ویجائنا کو بیمار کر دیتے ہیں۔ وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مارچ کرتے ہوئے بچے دانی کی طرف بڑھتے ہیں۔ بچے دانی میں حمل موجود ہو یا نہ ہو، جرثوموں کا حملہ انفیکشن کا موجب بنتا ہے اور اسی انفیکشن کی وجہ سے اگر خاتون حاملہ ہو تو وقت سے پہلے درد زہ شروع ہو جاتا ہے اور پری ٹرم ڈیلیوری ہوتی ہے۔
اگر خاتون حاملہ نہ ہو تو جرثومے بچے دانی سے ہوتے ہوئے ٹیوبز میں داخل ہو کر پی آئی ڈی PID کر سکتے ہیں جو جاں لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
جرثوموں سے بچنے کے کچھ طریقے ہم نے اسباب کے ساتھ بیان کر دیے تھے کہ جسم میں خون کی کمی نہ ہونے پائے، ہیموگلوبن بارہ سے نیچے نہ ہو، فولاد کی گولیاں کھائی جائیں، ماہواری میں گندے پیڈز استعمال نہ کیے جائیں، پانی زیادہ سے زیادہ پیا جائے، اور شوگر کو کنٹرول میں رکھا جائے۔
اس کے علاوہ اگر انفیکشن ہو جائے تو ویجائنا کا معائنہ کر کے تشخیص کی جائے کہ کون سی دوا استعمال کروائی جائے؟
پاکستان میں صحت کے معاملات دگرگوں ہو چکے ہیں کہ بیشتر کو کوالیفائڈ ڈاکٹرز میسر نہیں اور اگر ہیں بھی تو جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ ان کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں اس قدر اژدہام ہے کہ ایک انار، سو بیمار والی صورت حال ہے۔
تو پھر کیا کیا جائے؟
مسئلہ چونکہ گمبھیر ہے اس لیے ہم وہ کر رہے جو آج تک ہم نے نہیں کیا۔
ہم کچھ ایسی دواؤں کا نام لکھ رہے ہیں جو حمل میں کھائی جا سکتی ہیں، اور بچے کی پری ٹرم ڈیلیوری کو موخر کیا جاسکتا ہے۔ حمل نہ ہو تب بھی یہ دوائیں خواتین کی بہترین دوست ہیں۔
پہلی دوا فلیجل flagyl ہے۔ تقریباً نوے فیصد لوگ اس سے واقف ہیں۔ یہ دوا ویجائنا کو اس کا نارمل کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسے حمل کے پہلے تین مہینوں میں نہیں کھانا چاہیے لیکن اگلے چھ مہینوں میں جب بھی ویجائنا سے بو آئے، خارش ہو، گدلا پانی خارج ہو یا درد زہ شروع ہونے کا شائبہ ہو۔ فلیجل کا ایک کورس کر لینا چاہیے۔ پانچ سو ملی گرام کی گولی صبح دوپہر شام پانچ دن کے لیے۔
دوسری دوا erythromycin ہے یہ بھی ویجائنل صحت کو لوٹانے میں اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دوا کو حمل کے پہلے تین مہینوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے یعنی پورے نو مہینے۔ بچے کو کسی بھی نقصان کا اندیشہ نہیں۔ پانچ سو ملی گرام کی ایک گولی صبح دوپہر شام پانچ دن کے لیے۔
تیسری دوا ایک کریم ہے جسے ویجائنا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے دوا ایک پلاسٹک کی سرنج میں بھریں اور ویجائنا میں سرنج داخل کر کے دوا کو وہاں انڈیل دیں۔ یہ کریم بھی حمل کے لحاظ سے محفوظ ہے۔ کریم کا نام ہے Clindamycin vaginal cream اور اسے سات راتوں کے لیے ویجائنا میں استعمال کرنا ہے۔
خواتین ان دو اؤں کے نام حفظ کر لیں۔ ویجائنا کے متعلق تمام وہ شکایات جو عام طور پہ ڈاکٹر سے کی جاتی ہیں، یہ ان کا علاج ہیں۔
یہ تینوں دوائیں بچے کے لیے محفوظ ہیں، صرف فلیجل کو حمل کے پہلے تین ماہ استعمال نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔
جب بھی دوائیں خریدیں، کوشش کریں کہ کسی اچھی کمپنی کی بنی ہوئی ہوں۔ بازار میں بے شمار دوائیں نقلی ہوتی ہیں اور اگر اصلی ہوں بھی تو سٹوریج اس قدر نکمی ہو گی کہ دوا کے اثرات کافی حد تک ضائع ہو چکے ہوں گے۔
ان تینوں دواؤں کا نام گوگل کر کے یہ دیکھ لیں کہ انہیں اصل میں کس کمپنی نے بنایا تھا یعنی کس کمپنی کی پیٹنٹ دوا ہے؟ وہ تھوڑی سی مہنگی تو ہو گی مگر اس کے ارد گرد جو رنگ برنگی، ہلکی کوالٹی کی دوائیں پڑی ہوں گی آپ ان سے بچ جائیں گے۔
فلیجل کا ایک سائیڈ افیکٹ جی متلانا ہے۔ اور کچھ لوگوں کو اس سے مسئلہ ہوتا ہے لیکن اس دوا کا کوئی متبادل نہیں سو کڑوا گھونٹ بھر کے اسے کھا لینا چاہیے۔
ارتھرومائیسن سے کچھ لوگوں کو اسہال شروع ہو جاتا ہے لیکن اس دوا کے بھی فوائد اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ ہماری پسندیدہ دواؤں میں شامل ہے۔
رہی کلنڈامائسن تو ہے ہی جان جگر!
یہ تینوں دوائیں وہ خواتین بھی استعمال کر سکتی ہیں جن کا بار بار اسقاط حمل ہو جاتا ہو۔ گرچہ اسقاط حمل کے اور بھی بہت سے اسباب ہیں لیکن بیمار ویجائنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
ہم نے کوشش کی ہے کہ آپ صحت کے معاملات کو سمجھ سکیں اور کچھ نہ کچھ حل کرنے کے قابل ہو سکیں۔

