سلطانہ وقاصی: گھر کی چہار دیواری سے دفتر تک
انسانی معاشرہ جتنا قدیم ہے، انسان کی کہانی بھی اُتنی ہی پرانی ہے، اور اس کہانی کے کرداروں کی رنگا رنگی مرد و زن کے گرد گھومتی ہے۔ چاہے وہ اساطیر ہوں یا تاریخ، داستان ہو یا ناول، فلم ہو یا اسٹیج۔ عورت کا کردار ہر صورت میں ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ کبھی رانی، شہزادی، پری، دیوی، کنیز، جادوگرنی یا نائکہ کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، تو کبھی منفی کرداروں میں بھی اپنی ہیبت رکھتی ہے۔ وہ نوری کی طرح حسین اور باوقار ہے، جام تماچی اس کے عشق میں ماہی گیر بننے پر آتا ہے۔ کبھی وہ وفا کی مورت ہے، کبھی مکاری کی تصویر۔
خطۂ سندھ میں عورت ہمیشہ ایک شاہانہ، عاشقانہ، اور زمیندارانہ کردار کی حامل رہی ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں عورت بہادری کی علامت ہے، اور یہ بہادری قیادت کی خوبیوں کو اجاگر کرتی ہے۔
کیونکہ ہنر چھپائے نہیں چھپتا۔ یہی ہنر انسان کو خود شناسی، سماجی ذمہ داری، اور اپنی شناخت منوانے کی جرات عطا کرتا ہے۔ جس نے اپنا کردار ادا کیا، اپنی ہستی منوائی، وہی اصل میں کامیاب انسان کہلاتا ہے۔
آج ہم جس عورت کا ذکر کرنے جا رہے ہیں، وہ ایک متحرک اور ذمے دار مزاج رکھنے والی خاتون ہے۔ سلطانہ وقاصی۔ وہ ایک لکھاری بھی ہے اور شاعرہ بھی۔ اُس نے اپنی علمی اور تخلیقی توانائی کو قرطاس پر منتقل کر کے قارئین تک پہنچایا، اور یوں اپنی کامیابی کا اعلان کیا۔
سلطانہ وقاصی ایک کالم نگار ہیں۔ اور کالم نگار وہ ہوتا ہے جو زندگی سے جڑے کسی بھی مسئلے پر حالات کے سیاق و سباق میں رائے دینے کا اہل ہو۔ وہ دلیل سے تائید کرے یا دلائل سے انکار۔
سلطانہ وقاصی سندھ کے سیاسی و سماجی مسائل پر گہری بصیرت کے ساتھ رائے دینے کی اہلیت رکھتی ہیں، جس کے نتیجے میں اُن کے شخصی تعلقات بھی بعض اوقات متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے لکھاری کو اکثر اس کے قلم کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کسی کو جیل جانا پڑتا ہے، کسی کو مچھروں سے بھری راتوں میں نیند قربان کرنی پڑتی ہے، اور دوستوں کی ملامتیں، طنز کے تیر محض زبان تک محدود نہیں رہتے بلکہ چہروں کی شکنوں اور رویوں کے بدلاؤ میں بھی جھلکتے ہیں۔
1990 کی دہائی میں، انور پیرزادو کی ادارت میں شائع ہونے والے اخبار کے ادبی صفحے کی ترتیب سلطانہ وقاصی کے سپرد تھی۔ اُن دنوں لکھنے اور چھپنے کے سلسلے میں اُن سے تعارف ہوا۔
مگر ملاقات 2000 کے بعد ہوئی، جب اُنہوں نے صنعتی ملازمت کو خیر باد کہہ کر صحافت اور ادب سے ایک روحانی رشتہ استوار کیا۔
کالم نگار کی پہچان عمومی طور پر ادبی انداز میں سیاسی ہوا کرتی ہے، مگر شاعری خالصتاً ایک ادبی اظہار ہے۔ میں سلطانہ وقاصی کی شاعری کا معترف ہوں، کیوں کہ انہوں نے نثری نظم کی فضا میں ایک نیا تجربہ کیا ہے۔
نثری نظم کا کوئی طے شدہ سانچہ نہیں ہوتا، اسی لیے یہ ایک نئی صنف ہے، جس میں تخیل کو اُس وقت بلند کرنا پڑتا ہے جب کوئی انکشاف ابھرنے لگے۔
سلطانہ کی شاعری میں سادہ اسلوب کے اندر ایک عمیق غم، ایک سچّا احساس اور اظہار کی جرات ملتی ہے۔ یہ وہ شعری اظہار ہے جو فنی بُنت اور دروں کی گہرائیوں سے جنم لینے والے جذبات کی صوتی صورت گری ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب دل بانسری کی مانند ہو، جس سے درد کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ اس زخمی دل کی صدائیں اُن کی نثری نظموں کے مجموعے ”دونہاٹیلَ درشن“ میں محفوظ ہیں، اور ایک اور مجموعہ اشاعت کے مرحلے میں ہے، جب کہ اُن کی کئی نظمیں سوشل میڈیا پر بھی دستیاب ہیں۔
نئی نسل کے قارئین شاید یہ نہ جانتے ہوں کہ سلطانہ وقاصی کون ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ حسین لکھتی ہیں :
” 1970 کی دہائی میں سندھ میں عورت کے فعال کردار کے لیے ایک بیداری کی تحریک اٹھی، جس میں جن لکھاری خواتین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، اُن میں سلطانہ وقاصی بھی شامل تھیں۔ اُن سے پہلا تعارف اُن کی تحریروں کے ذریعے ہوا۔ جو ’ملیر ڈائجسٹ‘ ، ’سھڻی‘ رسالہ، اور ’ہلالِ پاکستان‘ کے ’سُگھڑینِ ستھ‘ کے صفحے پر شائع ہوا کرتی تھیں۔“
”گالہیوں پیٹ ورن میں“ دو جلدوں پر مشتمل ہے : پہلی جلد۔ 368 صفحات، دوسری جلد۔ 386 صفحات۔
یہ کتاب سلطانہ وقاصی کے سیاسی، تاریخی، اور تنقیدی کالموں کا مجموعہ ہے۔ پہلا ایڈیشن 2015 میں شائع ہوا۔ کتاب میں وہ اپنے اور اپنے خاندان کا تعارف کچھ یوں کراتی ہیں :
”میں اکرم سلطانہ وقاصی ہوں۔ میرے دو بچے ہیں رُماسہ (ڈاکٹر، ریڈیولوجی اسپیشلسٹ) اور امر مخدوم (ایم بی اے، آئی بی اے) ۔ میں نے انہیں اچھا ماحول اور تعلیم دی ہے۔ میں سرکاری ملازمت کر چکی ہوں، مجھے پیسے کی قدر ہے۔ چاہے وہ دس ہزار ہوں یا دس روپے، فضول خرچی نہیں کرتی۔ لکھنا میری ضرورت ہے، نہ لکھوں تو مر جاؤں گی۔ دنیا کے کانٹوں بھرے راستے پر، دہکتے سورج کے نیچے، اپنی ذات کی غمگسار اور رفیق بس خود میں ہوں۔ میرے والد، خان صاحب عبدالحق وکو، مہیر کے رہائشی تھے مگر بعد میں ٹنڈو آدم آ گئے۔ میرا خاندان زمیندار یا وڈیرانہ نہیں ہے۔
میری والدہ، جنہیں ہم ”اماں جیجی“ کہتے تھے، علامہ علی خان ابڑو کی بیٹی تھیں، جو ایک بڑے عالم اور ماہرِ تعلیم تھے۔
میرا چھوٹا بھائی نادر وکو، جوانی میں ہی دنیا سے رخصت ہو گیا، جو ہمارے خاندان کے لیے ایک گہرا صدمہ تھا۔ وہ انتہائی ذہین اور نرمخو انسان تھا۔ اُس کی بیوی عظمیٰ بروہی (گل جان بروہی کی بیٹی) بعد ازاں کینسر میں مبتلا ہو کر دنیا سے چل بسی۔ نادر کے چار بیٹیاں ہیں۔ مرنے سے پہلے ایک ماں اپنی بیٹیوں کو کچھ نصیحتیں دیتی ہے۔ میری بھابھی عظمیٰ نے اپنی بیٹیوں سے کہا: اپنی نانی اماں جیجی کی طرح بہادر اور باہمت بنو، کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ بس، ایسی ہی تھیں ہماری اماں جیجی۔ میرے والدین اور بھائیوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔
میرا بڑا بھائی، لالا سکندر حیات وکو (جسے ہم لالہ سائیں کہتے ہیں ) ، میری ادبی ترقی اور شخصیت کی تعمیر میں مرکزی کردار رہا ہے۔
میرا ایک اور رشتہ، میرے پھوپھی زاد بھائی، ڈاکٹر مِٺل وقاصی، جو برسوں سے امریکہ میں مقیم ہے، مگر اُس کا دل ہمیشہ سندھ کی گلیوں میں بھٹکتا ہے۔ امریکہ میں اُس نے ’سندھ‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے، جہاں بہت سے سندھی مہمان بنتے ہیں۔
سلطانہ و قاصی کے یہ الفاظ روح کو چھو جاتے ہیں : لگتا ہے، بلکہ یقین ہے کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے یہ اشعار میرے لیے ہی لکھے تھے :
کیا بتاؤں، بہنو!
کیا کیا سہنا پڑا ہے جینے کو
وہ سسی جانتی ہے
اور وہ خوں چکاں اذیتیں
جو اسے سہنی پڑی ہیں۔
(اردو ترجمہ)


