دوسرا رخ
پچھلے کچھ دنوں سے وہ عالمی مسئلوں پر بے طرح بول رہا تھا۔ جب وہ ان مسائل پر گفتگو کرتا تو اس کی آنکھوں کی چمک تیز ہو جاتی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے دل کی دھڑکن ہر آن تیز ہو رہی ہے۔ وہ مجھے ہر روز بائیکاٹ کے لیے کہتا۔ میں اگرچہ غیر ملکی مصنوعات کم ہی استعمال کرتا ہوں لیکن اس کا طرز عمل مجھے قابل رشک لگتا تھا۔ وہ میرے تخیل میں ارفع درجے پر تھا اور میں اس کی دیانت اور وفا کی قسم کھانے کو تیار تھا۔
”جانتے ہو کتنے لوگوں کو مار دیا گیا ہے۔ کتنوں کی زندگیاں ویران کر دی گئی ہیں اور وہ بچے، انہیں تو ہم دیکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ کیسی دنیا ہے۔ یہ کیسے بے حس لوگ ہیں اور ہم اس ظلم پر کچھ بول بھی نہیں پاتے۔“
چائے کی چسکی لیتے ہوئے اس نے پھر سے اپنا دکھ بیان کیا۔
اگلے لمحے ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ شام کا وقت ہو چکا تھا۔ بارش نے ہر شے کو دھو دیا تھا۔ ہر منظر نکھرا ہوا تھا۔ قریب موجود درخت پر بیٹھی چڑیا اب سہمی نظر آ رہی تھی۔
تبھی اس نے موبائل نکالا۔ حالیہ حملوں کی تصویر دکھائی میرا دل غصے سے پھٹنے والا ہو گیا۔
”اس بچے کا کیا قصور تھا۔ اسے کیوں مارا گیا۔ فضا میں اڑتے اجسام، ہر دم نکلی جان اور اپنوں کے انتظار میں سلگتے نام جو اب بے نام ہو گئے ہیں۔ دیکھو تو کتنی بے وقعت زندگی ہے نا!“
اس نے درخت کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اور میں سوائے سر ہلانے کے کچھ نہ کر سکا۔
”ہم ایک کام تو کر سکتے ہیں نا!“
اس نے میری طرف تائیدی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہم ان اشیا کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ ان سے لین دین ختم کر سکتے ہیں۔ انہیں احساس دلا سکتے ہیں۔ مانتا ہوں ان جگہوں پر کام کرنے والے ہمارے اپنے لوگ ہیں مگر ان کو کیسے احساس دلایا جائے۔ وہ اشیا جن سے معصوم بچوں کے لاشوں کی کہانیاں لکھی جاتی ہیں۔ دلیلوں کی پٹاری لے کر روز کوئی سورما میدان میں نکل آتا ہے۔ ان کو وہ لاشیں نظر نہیں آتیں۔ ہم اگر کچھ عرصہ ان اشیا کا استعمال ترک کر دیں اور مقامی اشیا استعمال کر لیں تو کیا ہو گا؟“
اب کے بار وہ گرج رہا تھا۔ برستے موسم میں گرجتے انسان بادلوں جیسے ہی لگتے ہیں جیسے ان کے اندر بجلی بھری ہو کہ اگلے لمحے کسی پر گر جائے گی۔ شاید دیکھنے کو کچھ نہیں تھا۔ سننے کے لیے اب کان کسی نغمے کی تمنا نہیں کرتے تھے اور دل کو کسی شے کی آرزو نہیں رہی تھی۔ سماعتوں میں وہ چیخیں اب بھی گونجتی تھیں۔ اس مسکراتے بچے کی مسکراہٹ کہ جو نہیں جان پایا کہ اگلے لمحے کسی دیو ہیکل جہاز نے اس کے بچپنے کو روند دینا ہے۔
اس نے جیب سے بسکٹ نکالے۔ کچھ دنوں سے وہ مقامی بیکری سے بسکٹ خرید رہا تھا۔ ہر انسان کا حق تھا اور یہ اس کا بھی حق تھا کہ اگر وہ کسی شے کو درست نہیں سمجھتا تو اسے نہ خریدے۔
”کھاؤ گے۔ اس نے بسکٹوں سے بھری پلیٹ میرے سامنے سرکا دی۔“
زبان کے ذریعے دل میں اتر جانے والے ذائقے نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔
”ہم مقامی چیزوں کو ہمیشہ کوستے ہیں۔ انہیں خریدنا پسند نہیں کرتے۔ ان کو ہمیشہ معیار کے ادنیٰ درجے پر رکھتے ہیں مگر ہمیشہ ایسا ہو لازمی تو نہیں۔“
میں نے سوچا۔
جانتے ہو وہ گویا ہوا۔
”ہم ہمیشہ ان کی وکالت کرتے ہیں۔ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ مقامی دودھ سرف سے تیار ہوتا ہے۔ اینٹوں میں مرچیں ملائی جاتی ہیں۔ مگر مکھن کیسے مارجرین بنا۔ دودھ کو کس نے ٹی وائٹنر بنایا۔ سپریڈ کے نام سے زہر ہر جگہ بک رہا ہے۔ اس کی بابت ہم کیا بولیں گے۔ کیا ان اشیا کو استعمال کر کے ہم صحت مند رہے ہیں۔ ہم اپنی تمام اشیا کی برائیاں تو کرتے ہیں مگر جو زہر اشتہارات کے ذریعے ہمیں کھلایا پلایا جا رہا ہے اسے چپکے چپکے کھا بھی جاتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں۔“
وہ جذبات میں بہتے ہوئے کہتا جا رہا ہے اور میں اب بھی اس سے سوائے اتفاق کرنے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ حقیقت میں ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا تھا۔
اگلے دو دن مجھے ساغر نظر نہیں آیا۔ وہ ساغر صدیقی کی غزلوں کی طرح اداسی کا استعارہ تھا۔ اس کے پاس عالمی کہانیاں تھیں۔ عالمی دکھ کی داستانیں جہاں صرف خون، اموات، دکھ اور بے بسی بیان ہوتی تھی۔
کچھ دنوں بعد وہ مجھے ملا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔ پیشانی پر گہری شکن نمودار تھی۔
”ہونہہ! وہ ہنکارا۔ دیکھو تو ظلم کی انتہا نہیں ہو گئی۔ وہ کہتے ہیں سب کچھ ہمارا ہے۔ تم ہماری جگہ سے نکل جاؤ۔ انہوں نے آج کتنے لوگوں کو پھر مار دیا۔ وہ عورت جو کہتی تھی اب ہمیں کسی نجات دہندہ کا انتظار نہیں رہا۔ وہ بچہ جو مرتے ہوئے بھی کسی مسیحا کا منتظر رہا ہو گا اور وہ بوڑھی دادی جس کے سامنے اس کا خاندان بھون دیا ہو گا بھلا کیسی کہانیاں سناتے ہوں گے۔ انہوں نے کیا کچھ نہیں سہا ہو گا۔ ان بچ جانے والے بچوں کے پاس کیسی کہانیاں ہوں گی۔ صرف دکھ بھری کہانیاں۔“
نم پلکوں سے وہ کہتا جا رہا تھا۔ اس وقت پوری دنیا ان مظالم پر سراپا احتجاج تھی۔ کتنے ممالک نے اس دکھ کو محسوس کیا تھا۔ طلبا سب سے آگے تھے۔ طلبا سب سے آگے ہی ہوتے ہیں۔ وہی روشن چہرہ ہوتے ہیں۔ ظلم کے خلاف استعارہ بن کر ہر محاذ پر بہادری سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم سب اس دکھ کو محسوس کر رہے تھے جسے دنیا محسوس کر رہی تھی۔
اگلے کچھ دنوں تک وہ نظر نہیں آیا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ظلم کے خلاف کوئی نعرہ خاموش ہوا ہو۔ کچھ دنوں بعد ایک دلخراش خبر سنی کہ :
”ساغر نام کا کوئی شخص بائیکاٹ کے دوران ایک غیر ملکی ریسٹورنٹ پر حملے کے دوران لوگوں کو بچاتے ہوئے مارا گیا۔“


