ریاستی بیانیہ: رہنمائی یا گرفت؟


Hassan Umar Sahafi

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بیانیہ صرف رہنمائی کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ بعض اوقات اختلاف رائے کے آگے ایک دیوار بن جاتا ہے۔ نظریات، جنہیں کبھی سوچ کی آزادی اور فکری بلوغت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ ایسی صورت اختیار کر چکے ہیں کہ ان پر سوال اٹھانا دشوار ہو گیا ہے۔

دو قومی نظریہ، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ شناخت دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، آج کئی حوالوں سے محض تاریخ کا ایک باب نہیں رہا، بلکہ وہ ریاستی تشریح کے ذریعے ایک جامد حقیقت میں ڈھل گیا ہے، جس پر بات کرنا بعض اوقات حساس تصور کیا جاتا ہے۔

اس نظریے کو مضبوط بنانے کے لیے ریاست نے تعلیم، میڈیا، مذہب اور قانون جیسے اہم اداروں کو استعمال کیا۔ تعلیم کے نظام کو اس انداز سے تشکیل دیا گیا کہ ایک خاص فکری زاویہ نسل در نسل منتقل ہو۔ نصاب میں تاریخ کو کچھ اس انداز سے پیش کیا گیا کہ ایک خاص بیانیہ ابھر کر سامنے آئے، مگر یہ حقیقت نظر انداز کی گئی کہ تاریخ ایک پیچیدہ، متنوع اور متنازع عمل ہے، جسے یک طرفہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

میڈیا، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں رائے سازی کا ایک طاقتور ذریعہ ہوتا ہے، اب بسا اوقات بیانیے کی تکرار میں مصروف نظر آتا ہے۔ جہاں کبھی صحافت کا مقصد سوال اٹھانا، سچائی کو بے نقاب کرنا اور آوازوں کو نمایاں کرنا تھا، وہیں آج بعض اوقات اختلافی رائے کو غیر ضروری یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی صحافی یا تجزیہ کار معمول سے ہٹ کر بات کرے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال فکری گھٹن کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی طرح جامعات، جنہیں علم و تحقیق کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اب کبھی کبھی ایسے ماحول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں جہاں تنقیدی سوچ کو محدود کیا جاتا ہے۔ طلباء کو یہ سکھانے کے بجائے کہ ”کیسے سوچا جائے“ ، یہ بتایا جاتا ہے کہ ”کیا سوچا جائے“ ۔ تحقیق، سوال اور مکالمہ تعلیمی اداروں کی روح ہوتے ہیں، جنہیں زندہ رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ریاستی بیانیے کا بوجھ سب سے زیادہ عوام نے اٹھایا ہے۔ اگر کسی قوم کو بار بار ایک ہی زاویے سے ماضی پڑھایا جائے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی موجودہ حقیقتوں سے بھی کٹنے لگتی ہے۔ سوال کرنے، سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ ہم نے بعض تاریخی واقعات جیسے مشرقی پاکستان کا سانحہ یا بلوچستان کی حساس صورتحال کو محض بیرونی سازشوں سے تعبیر کر کے داخلی جائزے سے گریز کیا۔ مگر اس سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی خود سے سچ بولنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ مان سکتے ہیں کہ کوئی بھی بیانیہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے، اور اسی لیے وہ قابلِ مکالمہ اور قابلِ بحث ہونا چاہیے؟

کیا ہم اپنے تعلیمی اداروں، میڈیا اور قومی گفتگو میں وہ وسعت لا سکتے ہیں جہاں مختلف خیالات جگہ پا سکیں؟ کیا ہم صحافت کو اس کی اصل طاقت یعنی سچ کی تلاش اور سوال اٹھانے کا حق واپس دے سکتے ہیں؟

ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اختلافِ رائے کوئی جرم نہیں، بلکہ ترقی یافتہ معاشروں کا حسن ہے۔ ہر وہ نظریہ جو سوال سے ڈرے، وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج سچ بولنے، سچ سننے، اور سچ کو سمجھنے کی روایت بحال نہ کی، تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں صرف وہی دیکھیں اور سوچیں جو انہیں دکھایا اور بتایا جائے، بغیر یہ جانے کہ کچھ چھپا بھی لیا گیا تھا۔

یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ وقت ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو کھلے دل سے پڑھیں، اپنے حال کا تجزیہ کریں اور اپنے مستقبل کو فکری، سچائی اور تحقیق پر مبنی بنیادوں پر استوار کریں۔ نظریات، جب مکالمے کے دروازے کھولیں، تبھی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال سکتی ہے۔

Facebook Comments HS