خاموش استحصال


انسان اپنی فطرت میں سماجی مخلوق ہے۔ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ وہ رشتے بناتا ہے، دوستیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے، جذبات بانٹتا ہے، باتیں کرتا ہے، اعتماد کرتا ہے، اور اس امید پر تعلقات نبھاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی خلوص سے لوٹایا جائے گا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوش فہمی ایک تلخ حقیقت میں بدلنے لگی ہے۔ آج کے انسان نے تعلق کو ایک ’وسیلہ‘ بنا دیا ہے۔ اب وہ شخص عزیز نہیں ہوتا جس کی سوچ خالص ہو، بلکہ وہ شخص قریب آتا ہے جو کسی کام کا ہو۔ جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں، وہ اکثر صرف ہم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے قریب ہوتے ہیں۔ اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے، تو وہ پیچھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

یہ رویہ زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتا ہے۔ دفاتر میں، رشتہ داریوں میں، حتیٰ کہ ان دوستوں میں بھی جنہیں ہم دل کی باتیں بتاتے ہیں۔ ایک ایسا وقت آتا ہے جب ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ جس انسان کو ہم نے اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھا، وہی ہمیں دھوکہ دے گیا۔ یہ دھوکہ صرف کسی چیز کے چھن جانے کا نہیں ہوتا، بلکہ ایک نظریے کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے۔ یہ اندر سے خالی کر دیتا ہے۔ جب آپ کو یہ ادراک ہو کہ جس شخص کو آپ اپنا سب سے مخلص ساتھی سمجھتے تھے، اس نے آپ کے بھروسے کو سیڑھی بنایا، اور جیسے ہی اس کی منزل آئی، وہ آپ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گیا، تو تکلیف صرف اس کی بے وفائی کی نہیں ہوتی، بلکہ اپنے جذبات کی نادانی پر ہوتی ہے۔

اس طرح کے تجربات صرف ذاتی نہیں ہوتے، بلکہ ایک اجتماعی سچائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تعلقات، جذبات اور وعدے سب کچھ مشروط ہو چکے ہیں۔ مشروط اس لیے کہ ان کا وجود صرف تب تک ہوتا ہے جب تک ان سے فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ جیسے ہی وہ فائدہ ختم ہوتا ہے، رشتہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انسانوں نے اب محبت کو بھی استعمال کے قابل چیزوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اب دل دینا نہیں پڑتا، چالاکی دینا پڑتی ہے۔ اب قربت میں سچائی نہیں، بلکہ حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ ہم نے جذبات کو بھی کسی کاروباری سودے کی طرح ناپنا سیکھ لیا ہے۔

فلسفہ یہ کہتا ہے کہ انسان اپنی ذات میں آزاد ہے، مگر اس کی آزادی صرف اُس وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ دوسروں کی آزادی کا احترام کرے۔ اگر کوئی شخص اپنی ترقی کے لیے دوسرے کو پیچھے دھکیلتا ہے، یا اس کی کوششوں کو پامال کرتا ہے، تو وہ بظاہر کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ وہ شخص جو کسی کا اعتماد توڑ کر آگے بڑھتا ہے، اس نے محض ایک مقام حاصل کیا ہے، منزل نہیں۔ کیونکہ منزل وہ ہوتی ہے جہاں آپ خود سے نظریں ملا سکیں، اور دل مطمئن ہو۔ اور یہ سکون صرف تب آتا ہے جب راستہ سچائی کا ہو۔

زندگی میں کچھ تجربے بہت تلخ ہوتے ہیں، مگر وہی ہماری بصیرت کو گہرا کرتے ہیں۔ وہی ہمیں سکھاتے ہیں کہ کن ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہے اور کن باتوں پر خاموش رہنا ہے۔ اگر کوئی ہمیں دھوکہ دیتا ہے، تو یہ اس کی کم ظرفی ہے، ہماری سادگی نہیں۔ یہ سیکھنا ضروری ہے کہ ہر رشتہ دل سے نہیں نبھایا جاتا، اور ہر چہرہ خلوص کا ترجمان نہیں ہوتا۔ اصل فہم تو یہ ہے کہ ہم خود کو اتنا مضبوط بنا لیں کہ کسی کے عمل سے ہماری شخصیت مجروح نہ ہو۔

ہمیں سیکھنا ہو گا کہ اپنی ذات کی قدر ہم خود کریں۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ سب تعلقات مستقل نہیں ہوتے، اور ہر انسان ویسا نہیں ہوتا جیسا وہ ظاہر کرتا ہے۔ زندگی ایک مسلسل مشاہدے اور انتخاب کا نام ہے۔ اور سب سے اہم انتخاب یہ ہے کہ ہم خود کو کتنا باوقار رکھتے ہیں۔ ہم چاہیں تو دوسروں کے رویوں سے ٹوٹ جائیں، یا چاہیں تو وہ زخم ہمیں کندن بنا دیں۔

انسانی تعلقات میں خود غرضی کی آمیزش نئی نہیں، مگر اس کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب ہم جان لیتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر چمک سونا نہیں، ہر مسکراہٹ سچائی نہیں، اور ہر قریبی دوست مخلص نہیں، تو ہم خوابوں کی دنیا سے حقیقت کی زمین پر آتے ہیں۔ تب ہی ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو ہمیں آگے بڑھاتے ہیں، بنا کسی کے سہارے کے۔

اگر دنیا خود غرض ہو گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی ویسے بن جائیں۔ اصل طاقت یہ ہے کہ ہم اپنے اصول، اپنے اخلاق اور اپنی انسانیت کو بچائے رکھیں۔ جو لوگ وقتی کامیابی کے لیے دوسروں کا حق دباتے ہیں، وہ شاید بظاہر کامیاب نظر آئیں، مگر اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پر تو مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر ضمیر کی خاموش چیخیں انہیں چین نہیں لینے دیتیں۔

انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کہاں پہنچا، بلکہ یہ ہے کہ کس طرح پہنچا۔ اگر راستہ عزت، خلوص اور دیانت سے بھرا ہوا تھا، تو وہی راستہ منزل ہے۔ لیکن اگر راستہ مکاری، حسد اور خود غرضی سے بھرا تھا، تو وہ منزل نہیں، صرف ایک وقتی پڑاؤ ہے، جو جلد ختم ہو جائے گا۔

زندگی ہمیں بار بار سکھاتی ہے کہ اصل طاقت یہ نہیں کہ ہم کتنا آگے بڑھ گئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر کے انسان کو کتنا محفوظ رکھا۔ اور یہی شعور، یہی فہم، ہمیں ان تعلقات کی تہہ میں دیکھنے کا ہنر دیتا ہے، جو صرف نام کے رہ گئے ہیں۔

وقار وہ روشنی ہے جو طوفان میں بھی بجھتی نہیں، اور خسارے وہی ہوتے ہیں جو انسانیت کو روند کر حاصل کیے جائیں۔ ”

Facebook Comments HS