سارہ وزڈم گارڈن


کئی برس بیت گئے جب میری عزیز دوست، حنا صدیقی نے ایک ڈے کیئر سنٹر کا انتظام سنبھالا اور مجھے کہا کہ آ کر دیکھو۔ مگر دن کیا، سال بیتتے گئے اور میں جا نہ سکی۔ بہرحال، کل 14 اپریل بروز پیر وہ دن آ ہی گیا جب میں نے ”وزڈم گارڈن“ نامی ڈے کیئر سنٹر جانے کا ارادہ کر لیا۔

حنا صدیقی کو میں ایک طویل عرصے سے جانتی ہوں۔ ان کا پورا خاندان سماجی خدمت کا علمبردار ہے، نہایت ہمدرد اور محبت کرنے والے لوگ۔ ان کے والد، عین الدین صدیقی صاحب، سول سرونٹ تھے اور ہمیشہ خدمتِ خلق میں پیش پیش رہتے۔ مجھے یاد ہے وہ فاسٹ یونیورسٹی کے کئی مستحق طلبہ کی فیس ادا کیا کرتے تھے۔ ان کی والدہ مسز عین الدین صدیقی ”الخدمت“ فاؤنڈیشن کے ساتھ سرگرمی سے کام کرتی رہیں۔ شاید اسی لئے ان کی بیٹی حنا کے لہو میں بھی خدمت کا جذبہ فطری طور پر شامل ہو گیا۔

حنا نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف۔ 10 / 2 میں وزڈم گارڈن کے نام سے ایک ڈے کیئر سنٹر قائم کیا، جہاں دو ماہ سے لے کر تقریباً تین سال کی عمر کے بچے ہوتے ہیں۔ حنا نے بتایا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ ادارہ بمشکل اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔ یہاں ستر کے قریب ننھے منے بچے ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے پینتالیس افراد پر مشتمل عملہ ہے۔ بچوں اور عملے کے کھانے کا اہتمام حنا اپنے گھر سے کرتی ہیں۔ اشیائے خور و نوش وہ خود خریدتی ہیں، صفائی ستھرائی کا انتظام مثالی ہے۔ میری ڈیڑھ گھنٹے کی حاضری میں کوئی بچہ روتا ہوا نظر نہ آیا۔

حنا نے بتایا کہ ہر دو بچوں کی نگہداشت پر ایک تربیت یافتہ کیئر ٹیکر مامور ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ اکثر بیرونِ ملک بھی ایک کیئر ٹیکر چار بچوں کو سنبھالتی ہے، تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:

”میں نہیں چاہتی کہ خدمت پر مامور بچیاں کام سے تھک جائیں“

دو تین ماہ کے نوزائیدہ بچوں کے لیے نسبتاً زیادہ عمر کی خواتین مامور ہیں، جب کہ بڑے بچوں کے لیے نوجوان، صحت مند، خوش اخلاق، اور چاق و چوبند لڑکیاں۔ حنا نے مزید بتایا کہ اس ادارے کو قائم کیے ہوئے نو سال ہونے کو ہیں، اور سارا عملہ بھی نو برس سے ان کے ساتھ ہے۔

”اب یہی میرا خاندان ہے“

انہوں نے سٹاف کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کیا ہے جس سے ضرورت مند سٹاف بوقتِ ضرورت قرض لے سکتا ہے، اور بعد میں واپس کر دیتا ہے۔ حنا نے بتایا کہ ”میں نے عملے میں مانگنے کی نہیں، بلکہ قرض لینے کی عادت ڈالی ہے۔“

سنٹر کے ایک جانب جوتوں کا ریک رکھا تھا جہاں سب بچے اپنے جوتے اتار کر قالینوں پر ننگے پاؤں چلتے اور کھیلتے ہیں۔ سارا سنٹر رنگ برنگے کھلونوں سے بھرا ہوا تھا۔

حنا اپنے عملے کی تفریح کا بھی خاص خیال رکھتی ہیں۔ سال میں ایک بار انہیں ادارے کے خرچ پر سیر و تفریح کے لیے لے کر جاتی ہیں۔

عملے سے بات ہوئی تو سب نے ایک جیسا جملہ کہا:

”یہاں ہمیں گھر جیسا ماحول ملتا ہے، ضرورت ہو تو قرض بھی، اور کام کرنے کی جگہ بھی محفوظ ہے۔“ اور ہم میڈم سے اپنا دُکھ سُکھ بھی بانٹ لیتے ہیں۔

میں نے عملے کی خواتین سے انفرادی طور پر بات کی، تو ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی چھپی تھی۔

ایک خاتون کا شوہر نشے کی لت میں مبتلا تھا، اسے مارتا اور اس کی کمائی چھین لیتا۔ وہ شوہر کو گاؤں چھوڑ کر تین بچوں کے ساتھ یہاں آ گئی۔ ایک بیٹے کا حادثے میں انتقال ہو گیا، جبکہ دوسرا بیٹا ذہنی معذور ہے۔ بیٹی کی شادی حنا نے ایک اچھے گھر میں کروا دی ہے اور وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔

ایک اور کہانی بھی دل چیر دینے والی تھی۔ مصباح کا شوہر پولیس میں ملازم تھا، مگر ایک سال تک تنخواہ نہ ملی۔ گھر میں فاقے ہونے لگے تو مصباح نے یہاں نوکری کر لی۔ ادارے سے قرض لے کر اس نے شوہر کو ایک چھوٹی سی ریڑھی لگوا دی، زندگی تھوڑی بہتر ہوئی ہی تھی کہ انیس سالہ بیٹی بخار میں مبتلا ہوئی، غلط دوا دی گئی اور وہ فوت ہو گئی۔ اگر اس ادارے کا سہارا نہ ملتا تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتی۔

دو لڑکیاں ایسی تھیں جن کے والد کا انتقال ہوا تو تنگ دستی نے آن گھیرا۔ اب دونوں بہنیں یہاں کام کر کے گھر چلا رہی ہیں۔ ضرورت پڑے تو قرضِ حسنہ لے کر، تنخواہ سے قسط وار واپس کر دیتی ہیں۔

ایک اور خاتون کی جوان بیٹی نے خود کشی کر لی۔
حنا نے کہا:
”ایسی کئی کہانیاں اور بھی ہیں، اگر ملنا چاہو تو ملواؤں؟“
میں نے ایک طویل سانس لی، پلکوں پر جھلملاتے آنسوؤں کو ٹشو سے سنبھالا، اور دھیرے سے کہا:
”نہیں حنا، آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔“
گاڑی میں بیٹھ کر پر نم انکھوں کے ساتھ میں نے خود سے سوال کیا:
کیا ہمیں سرخاب کے پر لگے ہیں؟ جو اللہ نے ہمیں اتنا کچھ دے رکھا ہے؟
کیا ہم اس کے مستحق ہیں؟ یا یہ سب نعمتیں دراصل ہمارے لیے ایک آزمائش ہیں؟
آزمائش ہی تو ہیں۔
دل سے آواز آئی اور یہ سوچتے ہوئے میرے وجود میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔
میں نے خدا کے حضور ہاتھ باندھے اور دعا کی:
”یا خدا! مجھے اس امتحان میں سرخرو فرما!“

Facebook Comments HS