غریبان چمن پر مفتی منیب الرحمن کی شفقت
انسانی حقوق پر سینٹ کی سب کمیٹی نے سینٹر علی ظفر کی سربراہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں اقلیتو ں کو آئین میں دیے گئے حقوق کی نگرانی نیز اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کمیشن قائم کرنے کی تجویز ہے۔ گیارہ برس پہلے 19 جون 2014 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (تب) تصدق حسین جیلانی نے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے ضمن میں ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا۔ سینٹ کی سب کمیٹی نے اسی فیصلے کی روشنی میں مذکورہ مسودہ قانون منظور کیا ہے۔ اب یہ مسودہ ایوان بالا میں پیش ہو گا جہاں منظوری کی صورت میں اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ یہ منزل سر کر لی گئی تو انتظار ہو گا کہ اگر صدر مملکت اس قانون کو اپنے دستخط سے سرفراز فرمائیں تو یہ کمیشن قائم ہو جائے گا۔ اختر شیرانی یاد آگئے۔ ’مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں/ لکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آرہے ہیں‘۔ اس دوران ہمارے قدیمی مہربان محترم مفتی منیب الرحمن نے کراچی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’مسافران رہ صحرائے ظلمت شب‘ پر شفقت کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ دستور پاکستان سے اقلیت کا لفظ حذف کر دیا جائے۔ اس کی بجائے ’مسلم پاکستانی‘ اور ’غیر مسلم پاکستانی‘ کی اصطلاحات استعمال کی جائیں۔ اسے کہتے ہیں ’کھڑا کھیل فرخ آبادی ‘۔ مفتی صاحب نے پاکستان کے نوے لاکھ غیر مسلم شہریوں پر یہ احسان بھی جتایا کہ انہیں پاکستان کی پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں عطا کی گئی ہیں۔ یہ سہولت تو بھارت اور امریکا جیسے ممالک میں بھی اقلیتوں کو نصیب نہیں۔
مفتی منیب الرحمن اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری ہیں۔ تاہم آئینی اور سیاسی امور پر ان کی گرفت کمزور معلوم ہوتی ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اقلیت یا اکثریت شہریت کا درجہ نہیں بلکہ شناخت کے مختلف حوالوں سے قومی ریاست میں مختلف گروہوں کا عددی تناسب بیان کرنے کا ڈھنگ ہے۔ ہمارے ملک میں مخصوص تاریخی تناظر میں اقلیت سے صرف مذہبی شناخت مراد لی جاتی ہے ۔ بین الاقوامی قانون میں اقلیت کی اصطلاح لسانی ، ثقافتی اور نسلی گروہوں پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ ہر انسان بیک وقت شناخت کے بہت سے حوالے رکھتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ لسانی اعتبار سے اکثریتی گروہ کا کوئی فرد مذہبی اعتبار سے اقلیت میں ہو ۔ جیسے پنجاب میں مقیم کوئی مسیحی خاتون یا سکھ مرد مذہب کے اعتبار سے اقلیت اور زبان کے اعتبار سے اکثریت کا حصہ شمار ہوں گے۔ درحقیقت ہر شہری شناخت کے کسی زاویے سے اقلیت اور کسی دوسرے پہلو سے اکثریتی حیثیت رکھ سکتا ہے۔ قومی ریاست میں بنیادی اصول ہر شہری کے لیے حقوق ، رتبے اور احترام میں مساوات ہے۔ دستور پاکستان کی شق 25 کا عنوان ہی ’شہریت کی مساوات ‘ہے۔ گویا ہر شہری کو امتیازی سلوک سے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ دستور کی شق 20 نہایت صراحت سے مذہبی آزادی کو ہر شہری کا انفرادی حق قرار دیتی ہے۔ عقیدہ فرد کے ضمیر کا فیصلہ ہے اور اس پر فرد ہی کوتسلیم یا استرداد کا اختیار ہے۔ عقیدے کی آزادی اجتماعی حق نہیں۔ جان الیگزینڈر ملک یا مفتی منیب الرحمن کسی دوسرے شہری کے عقیدے کی نمائندگی نہیں کر سکتے سوائے ان شہریوں کے جو رضاکارانہ طور پر ہر دو مذہبی رہنماﺅں میں سے کسی ایک کی اطاعت کا فیصلہ کریں۔ تقسیم ہند کے ذیلی مسائل میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اپریل 1950 میں لیاقت علی خان اور جواہر لال نہرو نے پاکستان اور ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کے ضمن میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مقام افسوس ہے کہ دونوں ممالک کا موجودہ سیاسی بندوبست اس معاہدے سے مکمل انحراف ہے۔ پاکستان میں ابتدا ہی سے مطالبات شروع ہوگئے کہ فلاں گروہ کو اقلیت قرار دیا جائے۔ گویا اقلیت کا تعین کسی گروہ کے عددی حجم کی بجائے ریاستی فرمان سے طے پائے گا۔ نیز یہ کہ اقلیتی گروہ سے تعلق ہونا تادیب ، محرومی یا استخراج کا اجازت نامہ ہے۔ گزشتہ صدی کے آخری عشروں ہم یہاں تک پہنچے کہ وسیع تر تناظر میں مسلم کہلانے والے گروہوں میں باہم فرقہ وارانہ قتل و غارت نے ہزاروں جانوں کا تاوان لیا اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مفتی منیب الرحمن کو شاید استحضار نہیں ہو رہا کہ 1916ء کے میثاق لکھنو میں جداگانہ انتخاب اور مخصوص نشستوں کا سوال ہندوستان کے مذہبی گروہوں کے تناسب سے تعلق رکھتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جداگانہ یا مخلوط انتخاب کے سوال نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں اس آئینی کشمکش کو جنم دیا جو بالآخر دسمبر 1971ء پر منتج ہوئی۔ آخر کو آج اپنے لہو پہ ہوئی تمام / بازی میان خنجر و قاتل لگی ہوئی۔ دستور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا تصور ہی اس لیے شامل کیا گیا کہ مجموعی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال میں اقلیتوں کے لیے کھلے مقابلے میں نمائندگی حاصل کرنا دشوار تھا۔ جسے مفتی منیب عنایت خسروانہ سمجھتے ہیں وہ دراصل امتیازی سلوک اور تعصب کی زمینی حقیقت کا اقرار ہے۔ قائداعظم کا دستور ساز اسمبلی میں 11 اگست 1947ء کو کیا گیا خطاب کچھ نازک طبع احباب پرگراں گزرتا ہے۔ تو آج آل انڈیا مسلم لیگ کے 28 ویں سالانہ اجلاس کی طرف چلتے ہیں۔ 12 ۔15 اپریل 1941ء کو مدراس میں منعقدہ اس اجلاس میں حصول پاکستان کو مسلم لیگ کا بنیادی مطالبہ قرار دیا گیا تھا۔ اجلاس کے اختتام پر لیاقت علی خان کی پیش کردہ تین نکاتی قرارداد کا دوسرا نکتہ حاضر خدمت ہے۔
That adequate, effective and mandatory safegaurds shall be specially provided in the constitution for minoritites in the above mentioned units and regions for protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights and interests in consultation with them.
اردو ترجمے کے لیے کالم میں گنجائش نہیں ۔ شریف الدین پیرزادہ نے تین جلدوں میں مسلم لیگ کی دستاویزی تاریخ مرتب کی ہے۔ حوالے کے لئے اس کی جلد دوم کا صفحہ 372 دیکھ لیجئے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل حقوق ، مراعات اور تحفظ پر ذیل کا حرف تشکر قبول فرمائیے
چپ ہو گئے ترے رونے والے
دنیا کا خیال آگیا ہے


سچ تو یہ ہے کہ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ملک میں اکثریت اقلیت یا مسلم غیرمسلم کی بحث چھڑتی ہی کیوں ہے۔
میرے لئے پاکستان میں صرف پاکستانی بستے ہیں۔ چاہے میں انہیں آئین کی طرح سے اقلیت اکثریت میں بانٹوں تو بھی یہ تفریق ہے اور اگر انہیں مسلم غیر مسلم کہوں تو بھی۔
ملک کی خاطر جان دینے والے کا خون اور ملک کو لوٹنے والے کے گناہ یکساں ہوتے ہیں۔ کیا کسی مسلمان کا خون گاڑھا ہوتا ہے۔
ملک کی اکثریت کو ایک بات کا علم ہی نہیں کہ پاک فضائیہ میں صرف ایک پائلٹ ایسا گزرا جسے 1965 کی جنگ اور 1971 کی دونوں جنگوں میں ستارہ جرات ملا اور یہ عالم صاحب نہیں بلکہ مارون لیزلے مڈل کوٹ تھے۔
1971 کی جنگ کے وقت یہ پاکستانی ملک سے باہر تھا اور جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان واپس آگیا۔
ہندوستانی دوارکا کے شہر جام نگر پر حملے کے بعد ملک واپسی پر ان کا جہاز ہٹ ہوا اور سمندر میں نیچے اس جگہ اس بہادر پائلٹ نے پانی کو چھوا جہاں اردگرد شارک مچھلیاں منہ کھولے اس کا انتظار کررہی تھیں۔
اگر کوئی پاکستانی امریکہ یا برطانوی فوج کے لئے لڑتے ہوئے امریکہ کے لئے جان دینے پر فخرکرسکتا ہے تو پاکستان میں کسی غیر مسلم کے لئے یہ تصور کیوں نہیں کہ وہ پاکستان کے رازوں کا امین اور ملک کی حفاظت کے لئے سب کچھ کر گزرے گا۔
یہ دکھ کی بات ہے کہ کیا کوئی عیسائی یا ہندو یا پارسی پاکستان کا صدرتو کیا گورنر وزیراعظم یا وزیر اعلی بننے کا تصورنہیں کرسکتا۔ جب کہ ان ہوں نے نہ تو نماز با جماعت کی امامت کرنی ہوتی ہے اور نہ بچوں کو قرآن پڑھانا ہوتا ہے۔
عرصہ ہوا فضائی یا بحری فوج میں کوئی ٹو اسٹار غیرمسلم ترقی نہیں کرپایا۔ خاکی میں بھی شاید کوئی میجر جنرل بن پاتا ہو۔ درحقیقت پاکستان میں ترقی پانا چاہے وہ سیاسی عہدہ ہو انتطامی یا فوجی غیر مسلم یا اقلیت کی حیثیت عورتوں سے بھی کم ہے۔ آرمی میں تو عورت تھری اسٹار جنرل بھی بن سکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی اچھا غیر مسلم سرجن آرمی میں ضیا دور کے بعد ٹو اسٹار بھی بن سکا ہو۔
اچھا تو ہو پاکستان میں غیر مسلم یا اقلیت کی مخصوص نشستیں اور عورتوں کی مخصوص نشستوں کو ختم کردیا جائے اور اس کے بدلے مثلاً اگر اسمبلی میں 250 مسلمان اور 50 غیر مسلم / عورتوں کی سیٹیں ہیں تو 300 سیٹوں پر انتخابات ہوں اور قرعہ اندازی سے 50 نشستوں یا حلقوں کو غیر مسلم یا عورتوں کا حلقہ قرار دے کر وہاں پارٹیوں کو پابند کیا جائے کہ صرف غیرمسلم یا عورتیں الیکشن لڑیں گے اور ان کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہونا چاہئے۔ بالخصوص عورت کا۔ غیرمسلم کے لئے حلقے چنیں بھی ایسی جگہ جہاں ان کی معقول تعداد میں آبادی موجود ہو۔
–
کل ہی کوئی اسرائیل کے چکر میں یہودیوں پر لعن طعن کررہا تھا تو اس کو یاد دلایا کہ اسرائیل سے لڑنے کے لئے جہاں لوگ صلاح الدین ایوبی بننے کو اتاولے ہورہے ہوتے ہیں خود اس کے مشیروں میں دو یہودی بھی اہم تھے۔
میمونائیڈ (موسی بن میمون) اورہبت اللہ ابن زین الدین ابن جمعے۔
–
ایک نے قرآن کی دلیل دی کہ غیر مسلم اہل ایمان کے دوست نہیں ہوسکتے۔ تو ان کو یاد دلایا کہ اگر کسی مسلمان کی ماں اور نانا نانی یہودی ہیں تو کیا وہ ان سے محبت نا سہی دوستی بھی نہیں رکھ سکتا۔
I kiss your hand my friend
محترم سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک شرمندگی کی زندگی جی رہے ہیں۔
آپ جیسے "قدرے” اچھے صحافیوں اور دانش وروں کی توجہ چند اور باتوں کی طرف بھی مرکوز کرانا چاہوں گا جو انسانی حقوق اور مساوات وغیرہ جیسی فضول باتیں کرتے پائے جاتے ہیں مگر یہ معاملات پچھلے 52 سال سے کسی کو نظر نہیں آتے۔
میں یقین کریں ناپسندیدگی کی حد سے بڑھ کر نفرت کرتا ہوں جب ایسے جملے یا مضامین پڑھوں مثلاً پاکستان کی پہلی ہندو ایس ایس پی لڑکی یا پہلا سکھ میجر ۔ نامعقولیت کی حد ہوتی ہے۔
اگر بات ہو تھر سے پہلا تو خوشی کی بات ہے۔ گلگت بلتستان کی لڑکی تو بھی خوشی ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں تبدیلی آرہی ہے یہ کیا بات ہوئی کہ دین کی بنیاد پر فرق کیا جائے۔ ہرجاء کہ پہلی خاتون پائلٹ یا وکیل یا بنکار یا وزیراعظم بھی قابل نفرین ہیں لیکن چلتا ہے کہ یہ لوگ ملک کی آدھی آبادی ہیں اور پھر بھی اس حد کو نہیں چھوسکے ۔
جس اصل معاملے کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ نام نہاد کوٹہ سسٹم ہے۔ اور یہ کوٹہ معذوروں، کھلاڑیوں کے لئے تو پھر بھی قابل قبول ہے۔ عورتوں، غیر مسلم کے ساتھ ساتھ صوبائیت کے لئے اس سے زیادہ قابل نفرین ہے بالخصوص سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے حوالے سے۔
یہ ظلم میں نے 80 کی عشرے میں بھگتا جو متحدہ کے بننے کی اصل وجہ تھی۔
میرا تعلق کراچی سے ہے۔ اندازہ کریں کراچی میں سرکاری ادارے تھے۔ پی آئی اے، اسٹیل ملز، ریلوے، ٹی اینڈ ٹی، متعدد سرکاری بنک، پورٹس اور سب سے بڑھ کر سول سروس۔۔۔۔
سینکڑوں کی تعداد میں نوکریاں نکلتی کراچی میں موجود لوگوں کو ان 100 میں سے 50 پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے ارد گرد دیکھنا پڑتا۔ سو میں سے بمشکل سات یا آٹھ کراچی کے مقامی لوگوں کو امتحانات میں اچھے نتائج دینے کے باوجود نوکریاں نہ مل پاتی تھیں۔ وجہ کوٹہ سسٹم میں سندھ میں شہری اور دیہی کی تفریق تھی اور آج تک ہے۔
سندھ کے قوم پرست اور پیپلز پارٹی والے انڈس کے پانی کے لئے شور مچارہے ہیں۔
میں نے 1960 کا سندھ طاس معاہدہ۔ 1991 کا بین الصوبائی آبی معاہدہ اور 2018 کی قومی آبی پالیسی پڑھی ہے اس کے ساتھ ساتھ 1948 میں جب ہندوستان نے پنجاب کا پانی بند کردیا تھا اس وقت سندھ نے کیسا برتاؤ کیا اور مئی 1948 میں نہرو غلام محمد اور دولتانہ کا آبی معاہدہ۔
سندھ کے وڈیرے کوٹے کے نام پر کراچی کی یونیورسٹیوں اور طبی کالجوں میں داخلے اور پھر انہی ڈگریوں کی بنیاد پر کراچی میں نوکریاں تو لے لیتے ہیں کہ عین قانونی معاملہ ہے۔
لیکن کیا ایم کیو ایم جو آج پیپلزپارٹی کے ساتھ پانی کے معاملے پر کھڑی ہے اس نے کراچی کے پانی کے لئے آواز اٹھائی۔ اب پڑھیں :
1991 کے آبی معاہدے میں دو نکات بہت اہم ہیں۔ ایک پاکستان میں پانی کا جتنا قحط پڑجائے۔ بلوچستان اور کے پی کو انڈس ریور سسٹم سے ان کا پانی میں مقرر حصہ پورا ملے گا۔ باقی بے شک پیاسے مرجائیں۔
بڑے صوبے سے تعلق ہونے پر میں سمجھتا ہوں ایک اچھی بات۔
دوسری بات اس معاہدہ میں سندھ کے لئے یہ تھی کہ کچھ بھی ہوجائے سندھ کو جب بھی اور جتنا بھی پانی ملے گا (حصے کے مطابق) اس میں لازماً پہلے کراچی کی آبادی اور صنعتوں کا حصہ پورا کیا جائے گا۔ حقیقتاً اس کا مطلب یہی تھا کہ بے شک پورا سندھ پیاسا مرجائے۔ اسی طرح جیسے کے پی اور بلوچستان کی اہمیت سندھ اور پنجاب سے زیادہ تھی ۔ کراچی کی صنعتوں اور آبادی کے لئے یہ شق جام صادق نے رکھوائی تھی۔ کراچی سے نفرت دیکھیں کہ اب اس لپیٹ میں متحدہ کو ووٹ دینا والا حیدرآباد بھی آچکا ہے۔ اگر پانی کراچی والوں کو ٹینکر سے پیسے دے کر ملتا ہے تو اسی ریٹ پر پورے ملک میں سب کو ملنا چاہئے۔ مساوات تو یہی ہوگی جیسے پٹرول اور ڈیزل ہے۔ یہ کونسی مقامی پیداوار ہے۔ ہے تو انڈس ریور سسٹم کا حصہ جو پورے پاکستان پر محیط ہے۔
–
کہاں ہے اس نکتہ پر عمل کیوں متحدہ، کراچی والے اور سب لوگ اس بات پر نہیں بولتے۔ میں نے 30 صفحے پانی کے موجودہ مسئلے پر لکھے ایک ایک معاملہ پڑھا لیکن گھن آتی ہے کہ ہم کتنے مفاد پرست اور گھٹیا لوگ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سندھ کے سیادت داں گدو بیراج اور سکھر بیراج کے بعد سارا پانی پی جاتے ہیں اور کراچی والوں کو کہتے ہیں کچھ بچا ہی نہیں۔ جبکہ قانون وہ ہے جو میں نے لکھا۔ کہ سندھ کے پانی میں سب سے پہلے کراچی کا حصہ ہوگا۔ سمندر میں جانے والے پانی سے بھی زیادہ۔
–
سندھ سوکھے ستلج میں آنے والے سیلابی پانی کے لئے پاگل ہورہا ہے۔ کیا یہی شور سندھ میں دریائے گومل پر گومل زم ڈیم کے لئے بھی مچا تھا۔ دریائے گومل کا پانی بھی ستلچ اور چناب کی طرح انڈس میں اتا ہے۔
کیا دریائے سوات پر بننے والے منڈا ڈیم اور ٹانڈہ ڈیم پر کبھی کسی نے سندھ میں آواز سنی جو دریائے کابل میں ٹھیک ٹھاک پانی لاتا تھا اور اب یہ پانی انڈس کے سسٹم میں نہیں آرہا۔
–
یقین کریں میرے پاس ایسے ایسے آسان نسخے ہیں جو دونوں طرف کے لوگوں کو قابل قبول ہوتے ہیں۔ میرے لئے کالا باغ ڈیم متفقہ قبویت سے بنوانا ہو یا یہی چھ نہریں کوئی بات ہی نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو قائل کرنا نہیں آتا۔
ویسے بھی نفرت کو پھیلانا بہت آسان ہے ۔
تو چلیں جو جس طرح چل رہا ہے چلنے دیتے ہیں۔
–
کالا باغ ہی نہیں میرے پاس سمندر کے انڈس کو کھاجانے کا حل بھی موجود ہے ۔ لیکن کیا ہم بحیثیت پاکستانی ایک ہوکر کسی معاملے کو دیکھ سکتے ہیں۔
–
کوئی بلوچستان کو رو رہا ہے کوئی سندھ کے پانی کو۔ گنڈا پور کے پی کو لے کر بین ڈال رہے ہیں کہیں احمدی اور مذہبی اقلیتیں پریشان ہیں۔ عورتوں کو اس طرح ظاہر کیا جارہا ہے جیسے وہ پاکستان کا مظلوم ترین طبقہ ہیں ؟ کیا کہیں پاکستان اور پاکستانی بھی موجود ہیں !
مذہبی تفریق کی بنیاد پر اگر کوئی ٹو سٹار جنرل نہیں بنا تو گبھرانے کی بات نہین ، جو محض اسی بنیاد و اہلیت پر تھری اور فور ستار جنرل اور فضائیہ ، بحریہ کے سربراہ بنے ہیں انھوں نے ملک و ملت کی نیک نامی میں کون سے سرخاب کے پر لگا دئیے ہیں ۔۔۔ یاد کریں وہ ایک سابق امیر البحر ہی تھا جسے امریکہ سے پکڑ کے لایا گیا اور اربوں ڈالر کی کرپشن پر مک مکا کے بعد دوبارہ چھوڑ دیا گیا تھا ۔۔۔ خاکی والوں کا قوم و ملک میں بڑا احترام ہے اور ہونا چاہیے کہ لوئر رینکس والے آئے روز قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں ۔ مملکت خداداد کے طول و عرض میں جدھر بھی نکل جائیں ہر شہری و دیہاتی قبرستان میں شہدا کی قبروں پر لہلہاتے قومی جھنڈے ان سپوتوں کی شجاعت کی گواہی دیں یتے نظر آئیں گے لیکن فور سٹار اور تھری سٹارز جنرلز کی اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد وطن میں رہنا پسند نہیں کرتی ۔۔ بہر حال ملک و ملت کو بلا تخصیص اپنے سپوتوں پر فخر ہے پھر چاہے ان کی مذہبی شناخت کچھ بھی ہو ۔۔ ذہنی مریضوں اور کم علم و کم فہم مسلک پرستوں کی بات دوسری ہے ۔۔۔ یہ نجانے اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے ؟
گیلانی صاحب بات یہ نہیں کہ جس کو ترقی دی گئی اس نے کیا تیر مارلیا۔ بات ان کی ہے جن کو محض اس لئے ایک بنیادی اور عام سی ترقی محض عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر نہیں ملی۔
جس امیرالبحر کی آپ بات کررہے ہیں۔ یہ بھی دیکھ لیں کہ ان کو ترقی دینا والا کون تھا؟ کس مالی اسکینڈل میں وہ ملوث تھے اور اصل فائدہ اٹھانے والا کون تھا۔ ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ کئی ہزار ملین ڈالر کی ڈیل میں چند ٹکا لینے والا فور اسٹار کچھ بنالے اور اس کو ترقی دینے والا کسی محل کے بغیر رہ جائے۔
ویسے ایڈمرل صاحب نے اربوں ڈالر نہیں بنائے تھے۔ پوری ڈیل ہی ایک ارب دالر سے شاید کم کی تھی تو اس میں سے کتنا کٹ بنالیا ہوگا۔ جب کہ اوپر جو سیاست داں فرانس کے نزدیک تھے ان کا حصہ تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آیا۔
ویسے یاد رہے ان کو لایا نہیں گیا تھا بلکہ وہ خود امریکی عدالت اور نظام انصاف سے فرمائش کرکے پاکستان آئے تھے۔ امریکہ میں پھڑے گئے تھے۔ اگر وہیں رہتے تو نہ مک مکا کرپاتے اور نہ پروٹوکول کے ساتھ اے کلاس کی قید ملتی۔ سو عقل مند تھے پاکستان آگئے احتساب والوں کو حصہ دیا اور باہر آگئے۔
اب تو منوں مٹی نیچے ہوتے ہیں۔ کیا کھایا اور کیا کمایا !
–
باقی وائٹ کالر جرائم میں احتساب کے اس پاکستانی قانون سے میں متفق تھا کہ ہزار کی کرپشن کرکے چند سو دے کر مقدمہ سیٹل کرلو۔ وجہ آپ کئی سال لگادیں سفید پوشوں کے جرائم کو ثابت نہیں کرسکیں گے۔ تو بہتر یہی ہے کہ بھاگتے چور کی لنگوٹ پر گزارا کیا جائے۔
–
چند گندی مچھلیوں کا مطلب یہ نہیں کہ تالاب میں سبھی مچھلیاں خراب ہیں اور یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سبھی دودھ سے دھلی ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ہم میں سے ہی نکل کر اوپر آتے ہیں۔ جیسی قوم ویسے اس کے فرشتے۔ لیکن ان کا اندرونی نظام اتنا مضبوط ہے کہ جہاں کہیں آپ نے آمدنی سے زائد اثاثے بنائے اور وہ نظر آگئے۔ آپ سسٹم کی نظر میں آجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسا دوسرا اداروں میں نہیں ہوتا۔
–
تمام تھری اور فور اسٹار ملک سے باہر نہیں جاتے۔
مثلاً فضائیہ کو لے لیں۔ ایئر چیف مجاہد، سہیل امان، طاہر رفیق بٹ، راؤ قمر، تنویر احمد، کلیم سادات ان میں سے کوئی بھی ملک سے باہر نہیں گیا۔ اسی طرح اگر آپ خاکی کو دیکھیں تو جوائنٹ چیف میرے علم میں نہیں لیکن جنرل باجوہ ہوں یا راحیل شریف یا کیانی یا مشرف اور یا پھر جنرل پاشا۔ ان کو پاکستان میں رکھنا اور سیکیوریٹی دینا زیادہ عذاب ہے بہ نسبت ان کو ملک سے باہر رہنے کو کہا جائے۔ باقی کہانیاں زیادہ ہوتی ہیں کہ فلاں نے فلاں ملک میں جائیداد بنالی جب کہ حقیقت میں چونی بھی نہیں ہوتی۔
–
یہ بھی یاد رکھیں کہ آج جو 3 یا 4 اسٹار بنتا ہے وہ بھی ان تمام دہشت گردی یا سرحدوں پر لرائیاں لڑکر اور ان سے بچتا بچاتا اس جگہ پہنچا ہوتا ہے۔ یکدم کوئی اوپر نہیں آتا۔ شاید 100 میں کوئی ایک ہو۔
خاکی میں بالخصوص ترقی کے لئے آپ تو آپ ۔۔۔ ماتحت کی غلطی کی بھی آُ پ کے پاس گنجائش نہیں ہوتی۔
–
The foundation of state laid on the name of religion none other than Mr. Jeena and his AIML share holders.
محترم میں تصور کرتا ہوں کہ آپ کو اردو پڑھنی آتی ہے ممکن ہے لکھنے میں دشواری ہو۔ اور آپ کے تبصرے کی وجہ شاید میرا تبصرہ ہے۔
–
مجھے اچھی طرح سے کمپیوٹر استعمال کرتے کوئی 42 سال ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے لئے میرے 2007 میں کئے گئے تبصرے اور پیش گوئیاں امریکی اداروں کے پاس ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انٹرنیت، سائبر فراڈ میں نے بنتے بگڑتے 1996 سے دیکھنا شروع کیا۔ ہرجا کہ ای میل میں 1994 سے استعمال کررہا ہوں (جب پاکستان میں انٹرنیٹ شاید ہی موجود تھا)۔
–
یہ تمہید اس لئے باندھی کیوں کہ آپ محترم وجاہت مسعود کو یقیناً جانتے ہوں گے مگر مجھے نہیں جانتے۔
میں یہاں مخصوص لکھاریوں کی تحاریر پر ہی تبصرہ کرتا ہوں۔ کچھ کو تو میں اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ ان پر وقت ضائع کیا جائے (کیوں کہ میں ان کی تحریریرں بھی خال خال ہی پڑھتا ہوں)۔
–
بھائی وجاہت ان شاندار لکھاریوں میں سے ایک ہیں جن سے میں بہ آسانی سینگ پھنسالیتا ہوں لیکن ادبی اور اخلاقی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے۔
–
مجھے شک ہے کہ آپ پاکستان میں رہتے ہیں۔ پاکستانی یا مسلمان ہیں یا نہیں یہ میں نہیں کہہ سکتا۔
ایسی حالت میں جب کہ نہ آپ مجھے جانتے ہیں نا میں آپ کو تو آگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔
–
اس کی وجہ بھی بتادوں۔ آپ کی انگریزی ٹھیک ہے جب کہ پاکستان بنانے والی جناح کی مسلم لیگ کو AIML پاکستان میں بہت کم لوگ لکھتے ہیں۔ اسی طرح محمد علی جناح کو شاید ہی کوئی پاکستانی Jeena لکھے گا۔
–
نظیر اکبر آبادی نے کیا شان دار شعر کہا تھا جو آج کے سوشل میڈیا پر "نام” اور کام کی عملی تفسیر ہے۔
ہشیار یار جانی یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یاں ُٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
–
فیک نام عام ہیں۔ مرد عورت اور عورت مرد بنے ہوتے ہیں۔ اس لئے واجد دراصل کون ہے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ احمدی ہے یا سنی – عورت ہے یا مرد۔ پاکستانی ہے یا اردو پڑھنے والا کوئی غیرملکی۔
–
پاکستان کے حصول کی سب سے بڑی وجہ (واحد نہیں) اسلامی اکثریت علاقوں کو خود مختاری دلوانا تھا تاکہ وہاں رہنے والے لوگ آرام سے اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ ظاہر ہے اسلامی عقائد ان میں سرفہرست ہوگا۔
بالفرض اگر آپ پاکستانی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا نظام ۔۔۔۔اسلامی ہوگا تو اس سے کس کافر کو انکار ہے۔
لیکن کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ اسلام کے کون سے مذہب کی یہاں اجارہ داری ہونی تھی۔ سنی یا شیعہ۔
جناح تو خود، اسماعیلی اثناء عشری شیعہ تھے ۔ نماز بمشکل پڑھنی آتی تھی۔ خنزیر شاید ہی کھاتے ہوں مگر شراب کھل کر پیتے تھے۔
تو کیا ایسا شخص کسی اسلامی ریاست کا سربراہ بن سکتا ہے یعنی وہ جو موجودہ آئین کی بدنام زمانہ 62 ایف شق تھی اس کی رو سے جناح کبھی پاکستان میں کونسلر بھی نہیں بن سکتے تھے۔
دوسری طرف پاکستان بننے کے بعد ایسے ملا عام تھے جو ان ہی وجوہات پر پاکستان بنانے والے شخص کو کافر اعظم کہتے تھے۔
–
تو سوال وہی ہے کہ یہاں کونسا اسلام نافذ ہونا تھا۔ جناح کا اسماعیلی والا جن ہیں متعدد علمائے دین اس وقت اور آج بھی مسلمان نہیں مانتے تھے بس برداشت کرتے تھے۔ آج تو سادہ سادہ شیعہ بھی کھل کر کافر قرار دیئے جاتے ہیں۔ شیعہ بے نظیر ہو یا بھٹو میں ان کے فیصلوں سے لاکھ اختلاف کروں اور اس بنیاد پر ان کو ناپسند بھی کرسکتا ہوں۔ ان کے مذہب اور عقیدے سے میں نے کیا لینا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں شاندار سیاسی بصیرت رکھتے تھے۔
–
تو سوال پھر وہی کہ یہاں کونسا اسلام نافذ ہونا تھا۔ شیعہ حضرات کا جو تین وقت باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ جن کی اذان بھی مختلف اور روزہ کھولنے اور رکھنے کے اوقات بھی مختلف ہیں۔ جو کھلم کھلا ریاست کو زکات دینے سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں سے ریاست کے چلنے یا نہ چلنے سے کیا تعلق ہے۔ اگر ایک شیعہ، عیسائی، سنی، ہندو یا پارسی ۔۔۔ محاذ جنگ پر پاکستان کے لئے جان دے سکتا اور لے سکتا ہے تو اس کی نماز، زکات، صوم و صلات سے ریاست کو کیا لینا دینا۔
–
بہت سارے لوگ جناح صاحب کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انہوں نے پاکستان بننے سے 4 دن پہلے کہا تھا کہ آپ کا جو بھی مذہب ہو ریااست سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ آپ اپنی مسجدوں، مندروں اور گرجا میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔
–
میں آپ کو اور دوسرے لوگوں کی توجہ 28 سال پیچھے لے جانا چاہتا ہوں جب نہ تو اقبال نے 1930 میں تصور پاکستان پیش کیا تھا اور نہ 1940 کی لاہور میں قرارداد لاہور پیش ہوئی تھی۔ میں بات کررہا ہوں 1929 کی کہ ان دنوں محمد علی جناح جب کہ پاکستان دور دور تک نظر نہیں آتا تھا جناح کا ریاست کا تصور کیا تھا۔
–
1929 میں محمد علی جناح نے اپنے مشہور 14 نکات پیش کئے تھے۔ عام طور پر پاکستانیوں کو اس میں سے ایک ہی بات زیادہ یاد رہتی ہے کہ "سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے علیحدہ صوبہ بنایا جائے”۔ یہ بات آج کے کھڑپینچ سندھی بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے تک بمبئی کا حصہ تھے خود صوبہ نہیں تھے۔
–
نکتہ سات :
"تمام گروہوں کواپنے ایمان۔ عبادت، ادائیگی عقائد، تبلیغ، مذہبی تعلیم، اور مذہب سے وابستگی کی مکمل آزادی ہونی چاہئے”۔
Full religious liberty, including belief, worship, observance, propaganda, association, and education, should be guaranteed to all communities.
یہ تمام صرف مسلمانوں کی لئے ہی نہیں ۔ بلکہ سکھ عیسائی پارسی بدھ اور خود ہندوؤں کی بھی نمائندگی کرتا تھا۔ کیا آپ کے خیال میں جناح اتنے منافق تھے کہ جب خود انگریزوں کی جگہ پاکستان کے حاکم بنے تو بھول گئے کہ وہ کیا خیالات رکھتے تھے۔ اور آپ کے خیال میں کیا دوسرے لوگ ان کے ان خیالات سے واقف نہیں تھے۔
–
اسی 14 نکات میں نواں نکتہ بھی لاجواب تھا۔
ٗکوئی ایسا بل، قراردار یا تجویز (یا اس کا کوئی حصہ) اسمبلی میں منظور نہیں کی جائے گی۔ اگر اس گروہ (یہاں لفظ کمیونٹی ہے جو مذہبی بھی ہوسکتی ہے اور علاقائی بھی) اگر اس کے 75 فی صد ارکان اس کی اس وجہ سے مخالفت کریں کہ وہ اس گروہ کے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تب بھی اس کے لئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔
No bill, resolution, or part thereof should be passed in any legislature or elected if three-fourths of members of any community oppose it on the grounds of being injurious to that community . Alternative methods should be derived to address such cases.
–
میرے جناح کا تصور پاکستان وہی تھا جو انہوں نے 28 سال پہلے بتا رکھا تھا۔
–
مجھے کوئی شک نہیں کہ عبدالمطللب کے پوتے محمد بن عبداللہ ﷺ۔۔۔ میرے خدا یعنی اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والے آخری رسول، آخری پیغمبر، آخری نبی تھے۔ اور حضرت مہدی اور حضرت عیسی کا نزول ثانی اب تک نہیں ہوا اور ان حالات میں اگر کوئی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، پیغمبر یا مہدی یا عیسی ثانی کچھ بھی قرار دیتا ہے اور مانتا ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
–
لیکن کیا میں ایسے لوگوں کو قتل کردوں۔ کیا محمد علی جناح کے نویں نکتے کی رو سے انہیں اپنے عقیدے کی تبلیغ کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ کیا وہ اپنی عبادت کرنے سے محروم رہیں گے ؟
کیا پاکستان میں بڑے بڑے مفتیان سے کسی نے آج تک پوچھا ہے کہ وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر اور اللہ کی قسم کھاکر بتائیں کہ زہری، اسماعیلی یا بوہری عقائد کے لوگوں کو وہ مسلمان سمجھتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ان کو عبادت کرنے کی، تبلیغ کرنے کی اذان یا نماز کی کیوں اجازت ہے۔
–
کیا میرا اسلام اتنا کمزور ہے کہ چند لاکھ لوگوں کی جھوٹی تبلیغ میں بہہ جائے گا۔ یقیناً نہیں۔
–
سور ہ کافرون کی شان دار آیت ہے۔۔۔۔
لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ:
–
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔
–
اسلامی ریاست میں یقین جانیں مسلمانوں کے لئے مشکلات زیادہ ہوجاتی ہیں کیوں کہ اللہ تعالی نے کمزور اقلیت کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا ذمہ مسلمانوں پر ڈال دیا ہوتا ہے۔ اسی لئے انہیں اس زمانے میں ایک ٹیکس ذمی ادا کرنا ہوتا تھا۔ آج بے شک ہم اقلیتوں سے ذمی یا جزیہ نہیں لیتے لیکن ٹیکس تو احمدی ۔ ہندو اور سکھ عیسائی بھی اتنا ہی دیتے ہیں جتنا ایک مسلمان تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان کو ریاست زیادہ سہولتیں دے اور غیر مسلم کو کم۔
یا جب چاہے کوئی جتھا کہیں نمودار ہو اور غیرمسلموں کی عباد گاہوں، ان کی قبروں اور ان کے لوگوں کو نقصان پہنچائے۔ یقین جانیں ۔۔۔ دکھ ہوتا ہے اور شرم آتی ہے۔
–
اور اس پر آپ جیسے لوگ ایک جملہ کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا تھا۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ سکھ ماسٹر تارا سنگھ کو جناح نے سکھ ریاست بناکر ساتھ رہنے کے لئے کیا آفر کی تھی۔
دلت ہندو جوگندر ناتھ منڈل کی پارٹی کے اجلاسوں میں جناح کیا کہتے تھے۔
پنجاب اسمبلی کے عیسائی ارکان نے پاکستان کی حمایت میں کیوں ووٹ ڈالا تھا۔
–
اقراء للمزید ۔۔۔ یعنی "اور پڑھ” میرے بھائی۔