احساس زیاں جاتا رہا


لاہور میں ایک علاقہ بیگم پورہ ہے جہاں تاریخی عمارتیں اور بادشاہوں کی خستہ حال قبریں آج بھی موجود ہیں۔ وہاں سے گزرتے ہوئے پرانی حویلیاں اور صدیوں پرانے مکانات دیکھے جا سکتے ہیں جو اپنے وقت کی شاندار تعمیرات رہی ہوں گی مگر امتداد زمانہ کے ہاتھوں آج یہ تعمیرات اپنے وارثان پر نوحہ گری کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور میں تین مملکتیں قائم تھیں۔ ایک اندرون شہر، دوسری چوبرجی اور مزنگ کی طرف اور تیسری شمالی لاہور پر مشتمل تھی جس کا صدر مقام بیگم پورہ تھا۔

یہاں گورنمنٹ پرائمری سکول مغلیہ دور کے اصطبل میں قائم کیا گیا تھا جو کہ بچوں میں ’کھوتی سکول‘ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ مجھے اس لیے یاد ہے کہ میں وہاں ’کچی‘ میں داخل ہوا تھا صرف چند دنوں کے لئے۔ دیواروں پر گھوڑے باندھنے والے بڑے بڑے لوہے کے کنڈے لگے ہوئے تھے اور فرش اس قدر خستہ حالت میں تھے کہ نیچے سے سفید کلر ابھر ابھر کر باہر آ رہا ہوتا تھا۔ سکول کے عقوبت خانے نما کمروں کی دیواروں میں صدیوں کی مکروہ قسم کی بساند رَچی ہوئی تھی جو گبھراہٹ پیدا کرتی تھی۔ میں تھوڑا سا ’نازک مزاج‘ تھا۔ کچھ ہی دنوں بعد مجھے بخار ہو گیا۔ پھر سالہاسال گھر میں پڑے رہنے کے بعد مجھے ہائی سکول میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس اصطبل کے آس پاس موٹی موٹی دیواروں والے چھوٹے چھوٹے کمرے بنائے گئے تھے۔ خیال یہی ہے کہ یہ ڈربے نما کمرے اصطبل کے ملازمین کے لئے تعمیر کیے گئے ہوں گے۔ قیام پاکستان کے بعد غربت و افلاس کے مارے لوگوں کو یہاں سر ڈھانپنے کا ٹھکانہ مل گیا۔ آج یہ مکانات اپنی شکل تبدیل کر چکے ہیں۔

باہر جی ٹی روڈ پر اپنے زمانے کی ایک پر شکوہ عمارت گلابی چوکی یا گلابی باغ کے نام سے شاہ جہاں کے دور میں تعمیر کی گئی تھی جو غالباً دائی انگہ سے منسوب کی جاتی ہے۔ یہ عمارت آج بھی کھڑی ہے اور تاریخ کے ہزاروں دکھ اور درد سمیٹتے ہوئے اندر ہی اندر اس قوم کی طرح انحطاط پذیر ہے۔ اس عمارت کے صدر دروازے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے۔ اور کچھ فارسی اشعار درج ہیں۔

اس شہر کی کئی عمارتیں میرے سامنے کھنڈرات میں تبدیل ہوئیں۔ کچھ عمارتوں کو قبضہ گروپوں نے جان بوجھ کر لاہور کے چہرے سے مٹا کر اس کی تاریخ مسخ کر دی۔ جب یہ عمارات تعمیر ہوئی ہوں گی تو باقاعدہ ان کی تزئین و آرائش، صفائی ستھرائی اور حفاظت کے لئے عملہ بھرتی کیا گیا ہو گا۔ ہر مقبرے کے ساتھ ایک خوبصورت باغ تعمیر کروایا گیا تھا۔ پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ مقبرے کے وارثان رہے، عملہ رہا اور نہ اس کی حفاظت پر مامور سپاہی۔ کروڑوں روپوں کے شاہی خزانے سے بنائی گئیں عمارتیں لاوارث ہو گئیں۔ حکمران بدل گئے، لوگ بدل گئے، زمانے بدل گئے۔ صدیوں تک نئی نسلیں پروان چڑھتی رہیں۔ گلابی باغ کی عمارت بھی حکومت کے متعلقہ محکموں کی غفلت کی وجہ سے آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔

اس علاقے کی ایک اور قبر کا ذکر بھی ضروری ہے جو زمین سے 30۔ 20 فٹ بلند چبوترے پر بنائی گئی تھی۔ کسی زمانے میں یہ اکیلی قبر دور سے نظر آجاتی تھی۔ کیونکہ اس کے آس پاس کھلی زمین پڑی ہوئی تھی۔ جس چبوترے پر یہ قبر بنائی گئی تھی اس پر بھی مختلف رنگوں سے مزین نقاشی اور پچی کاری کی گئی تھی۔ آج یہ قبر گنجان ترین علاقے میں گم ہو چکی ہے۔

یہاں لاہور کا سب سے بڑا دربار حضرت ایشان رحمت اللہ علیہ کا ہے۔ اس کے گنبد کی اونچائی اور قطر اتنے بڑے ہیں کہ وہاں سے اس وقت کا پورا لاہور دیکھا جا سکتا تھا۔ اس دربار کے اندر تین قبریں ہیں جن کے ارد گرد لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ کہتے ہیں حضرت ایشان بہت بڑے ولی اللہ تھے اور ایشیائے کوچک سے آئے تھے۔ اس مزار کے اندر داخل ہونے والوں پر عجیب سی ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ دیواروں پر کاشی کاری، نقاشی اور پچی کاری کی گئی ہے۔ اتنی بڑی عمارت بنانا اور اس پر بہت بڑا گنبد بنانا آج کے اس ماڈرن دور میں بھی خاصا مشکل ہے جبکہ ہر طرح کی مشینری بھی دستیاب ہے۔ متعلقہ سرکاری محکمے چاہتے تو لاہور کا تاریخی حسن محفوظ کیا جا سکتا تھا۔ مگر ہم روزانہ اپنا ایمان فروخت کرتے ہیں اور اپنی ذمے داریوں کو حرص و ہوس کی قربان گاہ پر چڑھا دیتے ہیں۔ دربار حضرت ایشان کی شاندار عمارت تاج محل سے کم اہمیت کی حامل نہیں۔ مگر اس کی تاریخی خوبصورتی ٹھیکیداروں کو چند ٹکوں کا فائدہ پہنچانے کے لئے کھرچ دی گئی۔ اس کے بعد سالہاسال اسی طرح گزرے۔ اب جو فریسکو اور کاشی کاری تھی وہ تو بحال نہ ہو سکی، سادہ سمنٹ کا پلاستر کروا کر معاملہ دبا دیا گیا۔ حضرت ایشان رحمت اللہ علیہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کے مزار پر ڈھول دھمالیں اور بھنگڑے سختی سے منع ہیں۔ یہاں چرسی، نشئی اور حواس باختہ نام نہاد ملنگوں کو بھی آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اب کئی سال ہونے کو ہیں میں اس دربار کے اندر نہیں گیا۔

بیگم پورہ میں ایک چیز مشہور تھی اور وہ تھی وہاں کی پہاڑی۔ یہ ایک بہت بڑی پہاڑی تھی جو میلوں دور سے نظر آجاتی تھی۔ میں نے دوبارہ پڑھائی شروع کی تو یہ پہاڑی میرے سکول کے راستے میں تھی۔ روزانہ پاس سے گزرتا تو سوچا کرتا کسی دن اس پہاڑی کو سر کر کے رہوں گا۔ پہاڑی کے عین دامن میں صدیوں پرانا کنواں تھا جو چھوٹی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ لیکن اب ویران تھا۔ بچے بتاتے تھے کہ وہ شرط لگا کر پہاڑی سے نیچے کنویں کی طرف دوڑ لگاتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنے آپ کو کنویں میں گرنے سے بچانا ہوتا ہے۔ اس خطرناک کھیل کا سن کر ہی مجھے تو جھرجھری آنے لگتی تھی۔ پہاڑی کے ایک طرف سے کمہاروں نے مٹی کھودنا شروع کر دی۔ اور پہاڑی ایک طرف سے اوپر سے نیچے تک اس صفائی کے ساتھ سیدھی کاٹ کے رکھ دی تھی جیسے چھری سے کیک کاٹا جاتا ہے۔ اس سیدھی کٹی ہوئی پہاڑی میں ہزاروں پرندوں نے گھونسلے بنا لیے تھے۔

ایک روز میں پروگرام بنا کر آیا کہ پہاڑی کی چوٹی سر کر کے رہوں گا۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام محسوس نہ ہوا۔ ایک چھوٹی سی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی اوپر کی طرف جاتی تھی۔ میں اپنے آپ کو سنبھالتا ہوا آہستہ آہستہ اوپر پہنچ گیا۔ اوپر پہاڑی چٹیل میدان کی طرح نظر آئی جس پر چھوٹی چھوٹی گھاس اگی ہوئی تھی۔ شاہی مسجد اور اس کے مینار، جہانگیر کے مقبرے کے مینار، اور لاہور کے پاس سے گزرتی ہوئی بند روڈ صاف نظر آ رہی تھی۔ دور دریائے راوی بہتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ بند روڈ تو اب ختم ہو گئی ہے اور اس کی جگہ رنگ روڈ نے لے لی ہے۔ اگر آپ اونچائی پر ہیں تو انسان چھوٹے نظر آتے ہیں اور چیزیں بھی۔ کچھ دیر تو میں خوف اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ادھر ادھر کے نظارے دیکھتا رہا، اس ماحول سے لطف اندوز بھی ہوا، جب واپسی کا ارادہ کیا تو پسینے چھوٹ گئے۔ وہ پگڈنڈی جس پر چل کر آسانی سے اوپر آ گیا تھا واپسی پر وہ اتنی ہی مشکل ثابت ہوئی۔ اترتے ہوئے قدم قدم پر ایسے لگا کہ اب لڑھک جاؤں گا۔ بڑی مشکل سے نیچے اترا۔ اس مہم جوئی کے بعد عرصے تک میرا ادھر جانا نہ ہوا۔ ایک دن وہاں سے گزرا تو وہاں پہاڑی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کی جگہ ایک چٹیل میدان تھا جس پر بھینسیں گھاس پھونس چَر رہیں تھیں۔

یہ پہاڑی لاہور کے ماتھے کا جھومر تھی۔ افسوس کہ اس کے مٹ جانے کا کسی کو احساس زیاں بھی نہیں۔

Facebook Comments HS