نوجوانوں کے ذہنوں سے کھلواڑ کرنے والے روحانی بابے اور صحافی


اسی کی دہائی کے بعد سے اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ انتہائی گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، ان کی ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، نوجوانوں کو کرشماتی پہلیوں میں الجھا کر زمانے کے حقیقی مسائل اور چیلنجز سے بیگانہ کر کے ان میں عقلی رویوں کی آبیاری کرنے کی بجائے ایک مخصوص طرز کی روحانی و صوفی پروگرامنگ کی گئی اور ایک ایسا ادب اور ادبی گروہ تشکیل دیا گیا جن کی باتوں کا حقائق کی دنیا سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔

صوفیانہ رجحانات کو فروغ دینے والوں میں اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب سر فہرست تھے جنہوں نے نوجوان نسل کو ایک ایسے پراسرار سسٹم سے روشناس کروایا جس کی چابیاں صرف چند لوگوں کے پاس ہوتی ہیں جنہیں معروف اصطلاح میں ”بابا جی“ کہا جاتا ہے، ان ہستیوں سے افادہ حاصل کرنے کے لیے ان کے سامنے اپنی عقل کو مستعار یا گروی رکھنا پڑتا ہے، ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنا پڑتا ہے تاکہ عقلی جراثیم کو عقیدت کے سائے میں ہمیشہ کے لیے سلا دیا جائے۔

عقیدت، تصور شیخ، سلوک کی منازل، پراسراری پہلیاں اور نجانے کیسی کیسی روحانی اصطلاحات متعارف کروائی گئیں، سوال کو دیس نکالا دینے کے لیے ایک معروف اصطلاح جو آج کل بھی کلین شیو قسم کے صوفیوں میں مستعمل ہے

”مجھے ایک بابا جی ملے“ کو متعارف کروایا گیا۔

اس بندوبست کا واضح مقصد یہی تھا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو سوال کرنے کی بجائے اطاعت گزار اور بزرگوں کی فرمانبردار ہو، تشکیک و جستجو کی بجائے تسلیمی رویہ و رجحان رکھنے والے ہوں اور ہر وقت بنا سوچے سمجھے جذباتیت کی رو میں بہنے کے لیے تیار ہوں۔

نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اسموک سکرین کرنے کے لیے غلط اور بے سمت تاریخ پڑھانے کا خوب بندوبست کیا گیا۔

جذباتی بیانیے گھڑے گئے، عمل و شعور کی بجائے ”نیولے اور ممولے“ ٹائپ تصوراتی گھمن گھیریوں میں الجھایا گیا اور نوجوان نسل کو ایک ایسے جذباتی میٹریل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ ہر لمحے بس یہی سوچتے رہیں کہ

کوئی نا کوئی ایسا مسیحا ضرور آئے گا جو اس قوم کو شہرت اور بلندیوں کی اوج ثریا تک پہنچا دے گا اور پھر ہم اس دنیا پر راج کریں گے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے خداوندان ریاست نے ”سلسلہ نسیم حجازی“ کی خوب سرپرستی کی، جنہوں نے ہومیو پیتھک طرز کا ادب تشکیل دے کر قوم کے ذہنوں میں بے معنویت اور نرگسیت کوٹ کوٹ کر بھر دی، اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ آج کا نوجوان علم و عمل، شعور اور عقلی رویوں سے کوسوں دور چلا گیا ہے، وہ دلیل، منطق، استدلال اور سوال کی اہمیت کو جاننے سے ہی قاصر ہے، بس تسلیم و عقیدت اور بابائیت کے سامنے اپنی ساری ذہنی صلاحیتوں کو سرنگوں کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔

آج وطن عزیز میں انسان نما روبوٹ یا زومبیز کی ایک ایسی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے جو اختلاف رائے یا کسی بھی مختلف پہلو کو برداشت کرنا تو درکنار سننا تک گوارا نہیں کرتے۔

بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح جس کے پیچھے بھی چلتے ہیں آنکھ کان اور دماغ بند کر کے چلتے ہی چلے جاتے ہیں۔

جس طرح سرکاری صوفیوں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ ٹائپ تلقین بابوں نے اس قوم کو کہانیوں میں الجھایا بالکل اسی طرح سے کچھ مخصوص ذہنیت کے حامل کئی گھوسٹ دانشوروں نے بھی جو کبھی کبھار صحافت کا بیڑا بھی اٹھائے رکھتے ہیں نے خوب اس قوم کا ذہنی استحصال کیا۔

ان صحافی نما دانش گردوں نے چند طاقتوروں کی سرپرستی میں ایک ایسے شخص کو مسیحا ثابت کرنے میں دن رات ایک کر دیے جسے سیاست تو درکنار انسانوں میں ہی دلچسپی نہیں تھی۔

یہ ایک ایسا شخص تھا جس کی نظر میں اپنی ذات کے سوا کسی اور کی کوئی اہمیت یا گنجائش ہی نہیں تھی۔

وہ اپنی ذات کا پجاری تھا، وہ ہر اس شخص سے بیگانہ ہو جاتا جو دن رات اس کی کھوکھلی شخصیت میں انا کی ہوا بھرتے تھے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے بھی اس مسیحا کو خوب بیچا اور آج بھی انہی چکروں میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں مسیحا سے زیادہ اپنے سبسکرائبر بڑھانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے چونکہ اسی گیم کے ساتھ تو ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے مذہب تک کو نہیں بخشا، جہاں کہیں بھی مذہبی ٹچ کی ضرورت پڑی بلاخوف مذہب کا استعمال کیا۔

ان صاحبان نے اس مصرعے کو خوب شان بخشی ہے
”کون کہتا ہے منہ کالا ہے جھوٹ کا“

دھندے کے چکروں میں سچ کی جگہ پر جھوٹ کو ایک اسٹینڈرڈ معیار یا کسوٹی بنا ڈالا اور پوسٹ ٹروتھ کی اس قدر ترویج کی کہ آج کا نوجوان دوسرا کوئی موقف سننا ہی نہیں چاہتا۔

آج کا نوجوان اس قدر پٹڑی سے اتر چکا ہے کہ اسے یہ لگتا ہے کہ ان چند افراد کے علاوہ کوئی اور حقیقی سچ بول ہی نہیں سکتا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “نوجوانوں کے ذہنوں سے کھلواڑ کرنے والے روحانی بابے اور صحافی

  • 20/04/2025 at 1:42 صبح
    Permalink

    قدرت اللہ شہاب پر یہ الزام انتہائی بودا اس لئے ہے کہ ان کی خود نوشت شہاب نامہ جو واحد اس قسم کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے ان کے مرنے کے بعد شائع ہوئی تھی۔
    ممتاز مفتی کھلے ڈھلے اور خاصے دین بیزار تھے۔ دوسری طرف وہ حج کے بعد لبیک جیسی شاندار کتاب کے مصنف بھی ہوگئے تھے۔ مفتی کی افسانہ نگاری اور دو کلاسیک علی پور کا ایلی یا الکھ نگری ناول ہی تھے۔ اسی طرح مفتی بذات خود نفسیات اور فلسفہ پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اور ایک زمانے میں پاک فضائیہ نے ان کی خدمات کیڈٹس کی نفسیات کا مطالعہ کرنے کے لئے بھی حاصل کی تھیں۔

    مفتی کی مذہب بیزاری ایک طرف لیکن زندگی کے پیچیدہ سوالات کے جوابات کا حصول حاصل کرنے کی لگن انہیں اشفاق احمد اور شہاب کے پاس اس لئے بھی لے آئی کہ شہاب غلام محمد، اسکندر مرزا، ایوب اور یحیی ہر دور میں مصنفین کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے اور ان کی موجودگی نے مفتی پر زندگی کے نئے در کھولے۔

    اشفاق احمد نے بابوں کا سب سے زیادہ استعمال کیا اور اگر دیکھا جائے تو کچھ برا نہیں۔ کئی دہائیوں تک ان کا ریڈیو پر پروگرام تلقین شاہ چلتا رہا۔ اس کا بنیادی کردار ہی ایک ایسا شخص تھا جو دنیا بھر کو تلقین اور تاکید کرتا رہتا تھا مگر خود وہی کام کرنے سے پرہیز کرتا تھا۔ منافقت کی ایک شاندار مثال۔ ایسے کرداروں اور تحریروں میں جب ڈرامہ نگار نے زندگی کا کوئی فلسفہ یا اچھی بات بتانی ہوتی تھی تو یہ اس کے لئے ایک آسان طریقہ ہے کہ وہ اس کو کسی بزرگ یا بابے کے منہ سے کہلوادیتا۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

    اشفاق احمد نے روزانہ کئی دہائیوں تک اپنی زندگی لاہور میں ایک کلین شیو شخص کے ساتھ گزاری جس کی کتابیں آج بھی ہمارے لئے جدید فلسفہ اور اسلام کو سمجھنے میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔ مرحوم واصف علی واصف۔

    واصف صاحب کی متعدد باتیں اشفاق صاحب نے بابے کے منہ سے کہلوائیں۔

    لاہور ویسے بھی صوفیائے اکرام کے حوالے سے ایک مردم خیز علاقہ رہا ہے۔ داتا صاحب خودپھر حضرت میاں میر یا بابا چراغ یا مادھو لال حسین یہ سب اپنی زندگیوں میں کیا شاندار بابے رہے ہونگے۔

    موجودہ دور میں بھی دیکھیں تو آپ لاکھ اختلاف کریں پروفیسر رفیق اختر ہوں یا سرفراز شاہ صاحب یہ کبھی متنازعہ معاملات میں الجھتے نہیں خود کو بہت تیس مار خان ظاہر نہیں کرتے اور بابوں کی عملی تفسیر ہیں۔
    میں آج بھی لاہور، اٹک، کراچی، پنڈی، پشاور میں متعدد ایسے بابوں کو جانتا ہوں جنہیں عام آدمی گھاس تک نہ ڈالے مگر روحانیت اور تصوف کی شان دار مثال ہیں۔ ایک ریڑھے پر پھل بیچتا ہے۔ ایک موچی ہے اور ایک بزرگ جن کا انتقال ہوگیا۔ محض مرچیں اگاکر اسے پیس کر اپنی زندگی گزارتے رہے۔
    لیکن کچھ ایسے بھی رہے جو افسری کرتے رہے اور ان بابو لوگوں ہر بھی کسی کو شک نہیں ہوتا تھا کہ یہ اللہ کے پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔

    آج کے دور میں نسیم حجازی کو ہر دوسرا شخص کوس رہا ہوتا ہے۔ 1950 کے آس پاس جب نسیم حجازی کے افسانے اور کہانیاں چھپنے لگیں تو انہیں احساس ہوا کہ اسلام اور تحریک پاکستان سے متعلق تاریخی واقعات کو ناول نگاری کی شکل دی جائے تو عوام اسے قبول کریں گے۔ یہ دور تھا جب لوگ پڑھتے تھے اور ناول یا کتابیں لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی یوں نسیم حجازی کے تاریخی واقعات پر ناول آنے لگے۔ یہ ایک مشکل اور دقیق کام تھا۔ نئی نسل کو اگر اسپین، صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، افریقہ اور ایران پر مسلم فتوحات، چنگیز خان بغداد سراج الدولہ ٹیپو سلطان پر اگر نسیم حجازی نے 50 اور 60 کے عشروں میں ناول لکھے جنہیں عوام نے پذیرائی دی تو اس میں کیا گناہ کردیا۔

    لیکن ان میں تصوف اور بابوں کی کہانیاں ایسے کہیں نہیں ملتیں جیسی اشفاق احمد کی تحریروں میں یا مفتی کی الکھ نگری یا لبیک وغیرہ میں ملتی ہے۔

    نسیم حجازی اردو میں اسلامی تاریخی ناول نگاری کے بانی ہرگز نہیں تھے بلکہ اس کا کریڈٹ عبدالحلیم شرر کو جاتا ہے جن کے اس دور میں لکھے ناول حجازی کے لئے مشعل راہ بنے۔

    موجودہ دور میں تاریخی ناول نگاری ویسے نسیم حجازی سے بھی زیادہ جس شخص نے کی وہ الیاس سیتا پوری ہیں۔ جنہیں ہم آج بھلا بیٹھے ہیں۔

    اگر آپ کو کوئی بابا یا اللہ والا نہیں ٹکرایاتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقت نہیں ہیں۔ اپنا مزار رکھنے والے سب سے پیچیدہ بابا خود آپ کے قرب و جوار میں پاک پتن میں موجود ہیں۔ بابا فرید رح۔ دو چار چکر لگائیں اور آنکھیں کھلی رکھیں بہت کچھ مل جائے گا۔

    لیکن کچھ سیکھنے کے لئے عاجزی بہت ضروری ہے آپ کا سب سے بڑا مسئلہ خود کو عقل کل سمجھنا ہے۔ آسمان پر رہیں گے تو زمین کے لوگوں کو کیسے دیکھ سکیں گے۔ اس لئے اگر زمین کے لوگوں کی بات کرنا چاہتے ہیں تو زمین پر آئیں۔

    ڈاکٹر خالد سہیل جیسے لوگوں سے کیا ملے گا۔ جو زندگی کی مشکلات اور قانون زندگی سے بھاگتے ہیں۔

    • 20/04/2025 at 2:24 صبح
      Permalink

      آپ کا کہنا ہے کہ "اسی کی دہائی کے بعد سے اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ انتہائی گھناؤنا کھیل کھیلا گیا”

      اب دلچسپ بات یہی ہے کہ شہاب نے اس دوران کچھ بھی ایسا نہیں لکھا جس میں بابوں کا ذکر ہو۔ شہاب نامہ 1987 میں جب شائع ہوا۔ شہاب وفات پاچکے تھے۔ مفتی نے لبیک اور الکھ نگری تو 2001 میں لکھی لیکن مذہب بیزار ہونے کے باوجود دو شاندار کتابیں لکھیں 1986 میں اوکھے لوگ اور اس کے بعد اگلے سال "اور اوکھے لوگ”۔
      ان میں جو لوگ یا واقعات ایسے نظر آئے جنہیں بابا کہا جاسکتا ہے ہم انہیں کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں۔ بالخصوص جب وہ عکسی مفتی کے والد ایک بظاہر پریکٹیکل ماہر نفسیات کی طرف سے لکھی گئیں ہوں۔

      یہ درست ہے کہ کہ 80 کی دہائی ضیاء الحق کی دہائی تھی اور اس زمانے میں ایسی تحریروں کی ڈیمانڈ تھی لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ بھی ہے کہ اسی دور میں طاہر القادری اورڈاکٹر غلام مرتضی ملک جیسے لوگ بھی ابھر کر سامنے آئے۔ خود پروفیسر رفیق اختر اور سرفراز شاہ کی زندگی اور گفتگو میں بابے عام ہیں۔ اور بادی النظر میں چونکہ یہ لوگ کہانی ساز نہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کے بابے حقیقی ہی ہونگے۔ اسی طرح جیسے خدا شکر کورے کو ہر جگہ شکر دے دیتا ہے۔

Comments are closed.