خواب، محبت اور زندگی 12

میرے سامنے فرش پر بیٹھی ہوئی لڑکیوں میں سے دو میری طرف اشارے کر کے بڑی سنجیدگی سے ایک دوسرے کے کانوں میں کھسر پھسر کر رہی تھیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا اور میں نے پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا۔ درمیان میں جب بھی سر اٹھا کر دیکھا، ان لڑکیوں کو اسی طرح کھسر پھسر کرتے پایا۔ چھٹی کے وقت سے کچھ پہلے مجھے اندازہ ہوا کہ امی صبح مجھے جلدی میں جانگیہ پہنانا بھول گئی تھیں۔ اور وہی میری ہم عمر ان پانچ سالہ بچیوں کا موضوع سخن تھا۔ (شرمندگی کا عالم مت پوچھئیے )
لائلپور میں پاکستان کے بائیس بدنام خاندانوں میں سے ایک کے ساتھ خوش قسمتی سے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کو کوہ نور مل لائلپور (اب فیصل آباد) میں ملازمت مل گئی۔ وہ مشہور صنعت کار رفیق سہگل کے پرسنل اسسٹنٹ مقرر ہوئے۔ سہگل خاندان کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے صنعتکاروں میں ہوتا تھا۔ یہ خاندان پاکستان کے بائیس بدنام خاندانوں میں سے ایک تھا۔ ان میں سعید سہگل سب سے زیادہ مشہور تھے لیکن وہ لاہور میں رہتے تھے۔ اخباروں میں ان کا ذکر رہتا تھا کیونکہ وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے بھائی یوسف سہگل لائلپور میں کوہ نور مل کا انتظام سنبھالتے تھے۔ رفیق سہگل ان کے بڑے بیٹے تھے۔
اندرون لاہور کے پرانے مکان کے برعکس یہاں ہمیں یہاں ماڈرن کوہ نور کالونی میں رہائش کے لئے فرنشڈ مکان ملا۔ کچھ عرصہ ایک کواٹر میں رہنے کے بعد ہم ”سینئیر سیٹس“ کہلائے جانے والے بنگلوں میں سے ایک میں منتقل ہو گئے تھے۔ یہ 1954۔ 55 کا ذکر ہے۔ کالونی کے اندر ہی ہمارا اسکول ’کوہ نور اسکول‘ ایک نئی، کشادہ اور وسیع عمارت میں بنا ہوا تھا۔ ہماری استانیاں بھی بہت اچھی اور پیاری تھیں اور اسکول کے پاس ہی بنے ہوئے ٹیچرز ہاسٹل میں رہتی تھیں۔ مجھے پہلی جماعت میں اور بھائیوں کو ”کچی پکی“ جماعتوں میں داخل کرایا گیا۔ جو اس زمانے کا ”پری اسکول“ اور ”کنڈر گارٹن“ کا نعم البدل تھیں۔ ویسے کچھ سالوں بعد اسکول میں ایک بڑا سا نرسری روم بنا دیا گیا تھا جس میں بچوں کے کھیل کود کا سامان اور کھلونے رکھے گئے تھے۔
تعلیم مفت تھی۔ صرف ٹوکن کے طور پر ایک آنہ فیس لی جاتی تھی۔ میڈیکل سہولتیں بھی مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ ایک ڈاکٹر کو کل وقتی ملازم رکھا گیا تھا۔ وہ کالونی کے اندر ہی ایک کوٹھی میں رہتا تھا۔ کالونی کے اندر بچوں کے کھیلنے کے لئے دو بڑے پلے گراؤنڈز بھی بنے ہوئے تھے۔ عید کے موقع پر ان گراؤنڈز میں بچوں کے لئے پینگیں ڈالی جاتی تھیں۔ اور ان پر جھولنا میرا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ یہ ایک محفوظ رہائشی علاقہ تھا۔ غیر متعلقہ لوگ اندر نہیں آ سکتے تھے۔ گیٹ پر ملیشیا کا یونیفارم پہنے چوکیدار کھڑے رہتے تھے۔ اور ہم سارے بچے کالونی کے اندر مزے سے کھیلتے پھرتے تھے۔
جیسا کہ میں نے بتایا، ہمارا اسکول بہت شاندار تھا۔ ایک کرسچن خاتون مسز ڈینئیل ہماری ہیڈ مسٹریس تھیں۔ انہیں بھی رہائش کے لئے کالونی کے اندر ایک بڑی کوٹھی ملی ہوئی تھی۔ وہ بچوں کو اخلاق و آداب سکھانے پر بہت زور دیتی تھیں۔ ہر طالب علم کے لئے ضروری تھا کہ وہ ٹیچر کو دیکھتے ہی وقت کے مطابق ”گڈ مارننگ“ یا ”گڈ آفٹر نون“ کہے۔ گو ذریعۂ تعلیم اردو تھا لیکن انگریزی شروع سے ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی تھی۔ ہمیں انگریزی کا وہی قاعدہ پڑھایا جاتا تھا جو لائلپور کے کانونٹ اسکول ’سیکرڈ ہارٹ‘ کی بچیاں پڑھتی تھیں۔ اسکول کے اندر ایک پلے گراؤنڈ اور تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کے لئے ایک بڑا سا ہال بھی موجود تھا۔
طلبہ کے لئے ہر ہفتے ’بزم ادب‘ سجائی جاتی تھی جس میں ہر جماعت کو کوئی نہ کوئی آئٹم پیش کرنا ہوتا تھا۔ کالونی میں افسروں اور ان کے اہل خانہ کے لئے ایک کلب بھی موجود تھا۔ ہم وہاں امی کے ساتھ اکثر جاتے تھے۔ کبھی فلم دیکھنے، کبھی کوئی پروگرام دیکھنے، کبھی امی کو کلب کی لائبریری سے کوئی کتاب لینی ہوتی تھی۔ اسکول میں ہمارے نصاب میں خانہ داری اور سلائی کڑھائی بھی شامل تھی، سو وہ بھی کی لیکن صرف بچپن میں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ کوہ نور میں میرا اتنا خوبصورت بچپن گزرا۔ کچھ تکلیف دہ واقعات بھی پیش آئے جن کا ذکر آگے چل کے ہو گا۔
بنگلہ دیش اس وقت تک مشرقی پاکستان تھا۔ مجھے یاد ہے وہاں سے آنے والے ایک ثقافتی طائفے نے ہمارے اسکول میں بھی اپنا پروگرام پیش کیا تھا۔ مور رقص کے علاوہ ایک گانے کے بول مجھے آج تک یاد ہیں : اللہ میگھ دے۔ پانی دے، چھایا دے تو ہی ”۔ ایک مرتبہ ایم سی سی کی مشہور کرکٹ ٹیم بھی ہماری کالونی میں آ کے ٹھہری تھی۔ ہماری نانی“ آپا ”کرکٹ کی شیدائی تھیں اور ہم چاروں بچے روز ان کے ساتھ میچ دیکھنے جاتے تھے۔ لائلپور کی میلہ رام کاٹن مل کا سالانہ میلہ بہت مشہور تھا، اس میں مشاعرہ بھی ہوتا تھا۔ اور امی ہمیں ہر سال یہ میلہ دکھانے لے جاتی تھیں۔ جگر مراد آبادی اور زہرہ نگاہ اور دیگر مشہور شعرا بھی ان مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔
شاید ان ساری سرگرمیوں نے لا شعوری طور پر بچپن میں ہی مجھے سرمایہ کی طاقت اور طبقاتی تفریق کا احساس دلا دیا ہو۔ فنون لطیفہ، ثقافت، اسپورٹس سب کو سرمایہ داروں کی سرپرستی درکار ہے۔ کوہ نور مل میں شفٹوں میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں مزدور کام کرتے تھے مگر فرنشڈ رہائش کی سہولت صرف افسروں اور ان کے اسٹاف کو فراہم کی جاتی تھی۔ (جاری ہے )
