امید ِفردا: بہاول پور سیف سٹی پراجیکٹ


 

میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والی ”پنجاب پولیس کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر“ کی پر شکوہ عمارت کے سامنے کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ وہی عمارت ہے جسے ڈیڑھ سال کی بجائے چار ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ وسیع و عریض عمارت کسی دیو ہیکل مشین کی طرح اب اپنی جسامت کے مطابق ویڈیو پینل اور مشینری کے انتظار میں ہے تاکہ عوام کی خدمت کا آغاز کیا جا سکے۔ اس پراجیکٹ کے انچارج ایس پی عبدا اللہ کاشف سے جب میں نے سوال کیا کہ اٹھارہ ماہ کے پراجیکٹ کو آپ نے صرف تین ماہ میں کیسے مکمل کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا تمام تر سہرا ضلع بہاولپور کے موجودہ ریجنل پولیس افسر رائے بابر سعید اور ڈی پی او بہاول پور، اسد سرفراز کے سر ہے۔ جنہوں نے ہر مشکل اور پریشانی کے وقت ہماری نہ صرف رہنمائی کی بلکہ دامے درمے، قدمے سخنے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ ذمہ داران سے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ لینے کے ساتھ ضلعی انتظامیہ، ٹھیکیداران اور افسران بالا سے ہر وقت رابطے میں رہے اور تعمیراتی کام میں کہیں بھی رکاوٹ نہیں آنے دی۔ مجھ ناچیز کی یہ عادت ہے کہ ہر فرد اور محکمے کے تعمیری اور مثبت پہلو کو مدِ نظر رکھتا ہوں، تخریب سے بچ کر چلنے کی عادت نے مجھے ایک مثبت اور تعمیری سوچ سے بھی نوازا ہے۔ اپنی پوری زندگی میں رائے بابر سعید جیسے چند افراد ہی مجھے متاثر کر پائے ہیں جن کی تعریف میں بخل سے کام لینا سراسر نا انصافی ہو گی۔ چلچلاتی دھوپ اور سہ پہر کی گرمی میں، اس پراجیکٹ کی بریفنگ کے فوراً بعد مجھے کہا گیا کہ آپ افسران کو بمعہ تصاویر میسج کر دیں کہ بریفنگ مکمل ہو گئی ہے۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ضلعی کپتان اور ریجنل پولیس افسر اپنے شعبے کے ساتھ کتنی حد تک مخلص ہیں۔

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سابقہ صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر پنجاب سیف سٹی آرڈیننس 2015 ء کے تحت قائم کی تھی لیکن 2016 ء میں اس آرڈیننس کی جگہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ایک قانون نے لے لی۔ اس اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد صوبہ پنجاب کے تمام شہروں کو جرائم سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر کے آخری ہفتے پنجاب کے 18 شہروں میں این آر ٹی سی ( نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن) کی معاونت سے سمارٹ سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل کے معاہدے پر دستخط کیے گئے موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی موجودگی میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور این آر ٹی سی کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا۔ اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ 18 شہروں میں ائر کوالٹی انڈیکس مانیٹرنگ انوائرمنٹ سینسر بھی لگائے جائیں گے جبکہ گجرات، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور ٹیکسلا میں سیف سٹی پراجیکٹ مئی کے آخر میں فنکشنل ہوں گے لیکن بہاول پور سیف سٹی پراجیکٹ اگلے ماہ مئی کے اواخر میں تکمیل پذیر ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ بہاول پور رینج کے تینوں اضلاع میں مقامی ڈی پی اوز صاحبان کی زیر نگرانی تیزی سے کام جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ امسال جون کے آخر تک یہ مراکز بھی فنکشنل ہو جائیں گے۔

سیف سٹی بہاولپور ایک جدید سیکیورٹی اور سرویلنس پراجیکٹ ہے جو شہر میں قانون و انصاف کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی روک تھام اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ پنجاب سیفٹی ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے اور لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں میں موجود سیف سٹی پراجیکٹس کی طرز پر ہے۔ شہر کے اہم مقامات پر ہائی ٹیک، جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جو 24 / 7 نگرانی کرتے ہیں۔ ان کیمروں کو شہر کی حدود کے اندر انسٹال کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع کی اختتامی حدود پر چار مختلف جگہوں پر لگایا گیا ہے۔ ان جدید ترین کیمروں کی تعداد 250 سے 300 کے درمیان ہے۔ کیمروں کو کارکردگی اور تخصیص کی بنیاد پر خودکار نمبر پلیٹ شناخت (ANPR) یعنی گاڑیوں کے نمبر پلیٹس کی شناخت کے ذریعے چوری شدہ گاڑیوں کو تلاش کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی بھی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی آسانی سے ٹریس ہو جائے گی۔ ان میں سے کچھ کیمرے ایسے بھی ہوں گے جو چہرہ شناسی (Facial Recognition) یعنی مجرموں یا لاپتہ افراد کو جدید مصنوعی ذہانت پروگرامز کی مدد سے تلاش کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ دورانِ بریفنگ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ایک ہی چھت کے نیچے قائم کیے جانے والے اس ”کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر“ پر 50 کے قریب انتہائی تربیت یافتہ ماہرین کام کریں گے جو کیمروں پر ہونے والی ہر حرکت کو شک کی نظر سے دیکھیں گے اور مقامی پولیس کی اطلاع کے بغیر فوری ریسپانس دیں گے اور متعلقہ محکموں کو فوری اطلاع دینے کے ذمہ دار ہوں گے۔ 362 ملین کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قانون نافذ کرنے والے تمام خفیہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور معلومات کا اشتراک رکھنے کے ساتھ ساتھ، نادرا، محکمہ داخلہ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، واسا، پلاننگ اینڈ مینجمنٹ، ایس پی یو، اور رینجرز جیسے اہم محکموں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے گا اور تمام تر معلومات کا اشتراک کرنے کا بھی مجاز ہو گا۔ یاد رہے کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے زیادہ تر جرائم کی ویڈیو ثبوت کے طور پر محفوظ کی جائے گی اور بطور عدالتی ثبوت بھی مستند سمجھی جائے گی۔

جرائم کے سدباب کے لئے سیف سٹی کرائم اسٹاپر ایپ کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے، ایپ سے دہشتگردی، زیادتی و دیگر جرائم رپورٹ کیے جا سکیں گے جبکہ ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور اسلحے کی نمائش روکنے کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کیمروں کے ذریعے تجاوزات کی نشاندہی بھی ممکن ہوگی۔ ان کیمروں کی مدد سے اسپتال، بس اسٹینڈ، ائرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن کی مانیٹرنگ ہو سکے گی۔ ملزمان کے بارے میں تیز ترین اطلاعات صرف جدید ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہیں۔ اس پراجیکٹ کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ ضلع بہاولپور کی حدود میں موجود تمام تھانہ انچارج حضرات کو تیز ترین اور جدید ایم ڈی ٹی سیٹ دیے جائیں گے۔ ان جدید ترین وائرلیس سیٹ کی اہم خصوصیت ویڈیو اور فون کال ہے۔ یہ سیٹ وہاں بھی کام کریں گے جہاں کسی بھی کمپنی کا نیٹ ورک کام نہ کر رہا ہو۔ اس کی سب سے بہترین مثال کچے کے علاقے میں ہونے و الے آپریشن ہیں جہاں کوئی بھی نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور پولیس افسران بے بس ہو کر رہ جاتے تھے۔ یہ وائرلیس سیٹ ڈی ایس پی اور ڈی پی او صاحبان کو بھی دیے جائیں گے۔ سیف سٹی پراجیکٹ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے تمام اداروں کو جرائم کی بیخ کنی کے لئے مکمل او ر بھرپور تعاون مہیا ہو جائے گا۔ ماضی قریب میں اگر کسی علاقے میں کوئی جرم ہوتا تھا تو فرانزک، کرائم سین اور آرگنائزڈ کرائم کے افسران الگ الگ کام کرتے تھے اور متعلقہ نتائج آنے تک ملزمان، بآسانی روپوش ہو جاتے تھے لیکن اس کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی بدولت کم از کم کسی بھی تفتیشی افسر کو کسی محکمے کی رپورٹ کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور اس کی مطلوبہ تمام تر معلومات، چند لمحوں میں اس کے پاس پہنچ جائیں گی اور فوری طور پر ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے گا۔ مجھے خوشی اس امر کی ہے کہ موجودہ ریجنل پولیس افسر رائے بابر سعید اور ڈی پی او بہاول پور اسد سرفراز کی شبانہ روز، ان تھک محنت کی بدولت بہاول پور جیسی پرامن سرزمین پر، سماج دشمن عناصر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

Facebook Comments HS