عالمی یومِ ورثہ
ہر سال 18 اپریل کو دنیا بھر میں ”عالمی یومِ ورثہ“ منایا جاتا ہے تاکہ قوموں کو اپنے تاریخی، ثقافتی، اور تہذیبی ورثے کی حفاظت اور اہمیت کا شعور دلایا جا سکے۔ اس دن کی مناسبت سے حیاتین ہسٹوریکل سوسائٹی کے زیر اہتمام، کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد کاشف علی کی سربراہی میں شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے طلباء و طالبات نے ایک تعلیمی دورے کے ذریعے وزیر آباد کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد طلباء کو پاکستان کے متنوع تاریخی ورثے سے روشناس کروانا اور اُن میں اس کے تحفظ کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔
یہ علمی سفر نہایت پُرجوش اور معلوماتی ثابت ہوا۔ طلباء نے شیر شاہ سوری کے دور کی تعمیرات، سکھ سلطنت کے آثار اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے کی باقیات کا مشاہدہ کیا۔ ان تاریخی آثار نے طلباء کے ذہنوں میں ماضی کی جھلکیاں اجاگر کیں اور ان کے فکری اُفق کو وسعت دی۔ یہ ورثہ نہ صرف ماضی کی شان و شوکت کا آئینہ دار ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ بھی ہے۔
ہم شکر گزار ہیں ضلعی انتظامیہ کے جنہوں نے ہماری بھرپور مہمان نوازی کی۔ خاص طور پر کوآرڈینیٹر برائے ورثہ و سیاحت مبین الرحمٰن کی معاونت نے اس دورے کو یادگار بنایا۔ ایسے علمی و مطالعاتی دورے نہ صرف طالبعلموں کی علمی پیاس بجھاتے ہیں بلکہ ان میں قومی شناخت اور ورثے سے محبت کا شعور بھی بیدار کرتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے سبب مختلف تہذیبوں کا گڑھ رہا ہے۔ یہاں قدیم مہرگڑھ تہذیب، قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب، گندھارا تہذیب، مغلیہ فنِ تعمیر، سکھ سلطنت، برطانوی نو آبادیاتی دور اور اسلامی روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ہر دور کے نقوش آج بھی ہمارے شہروں، قلعوں، مقبروں، مساجد، مندروں، گردواروں اور دیگر یادگاروں میں محفوظ ہیں۔
مثلاً مہرگڑھ، موہنجوڈارو اور ہڑپہ جیسے آثار قدیمہ ہمیں ہزاروں سال پرانی انسانی تہذیب کا پتہ دیتے ہیں۔ لاہور کا قلعہ، شالامار باغ، بادشاہی مسجد، مکلی کا قبرستان، روہتاس قلعہ، رانی کوٹ اور بہت سے دیگر مقامات نہ صرف فنِ تعمیر کا شاہکار ہیں بلکہ ہماری تاریخ کے گواہ بھی ہیں۔
ثقافتی ورثہ کسی قوم کی پہچان اور تشخص کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ماضی سے جوڑتا ہے، ہماری جڑوں کو مضبوط کرتا ہے، اور ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد رکھتا ہے۔ تاریخی ورثے کے ذریعے ہم اپنے اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھ سکتے ہیں اور ان سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ورثے کی حفاظت کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو دی جانی چاہیے۔ بہت سے قیمتی مقامات وقت کی گرد میں دب چکے ہیں یا جدید تعمیرات کی نذر ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس روش کو بدلنا ہو گا اور اپنے ورثے کی حفاظت کو قومی فریضہ سمجھنا ہو گا۔
تاریخی ورثہ نہ صرف تعلیمی و تحقیقی اہمیت رکھتا ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر میں سیاح قدیم تہذیبوں اور تاریخی مقامات کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پاکستان میں موجود ورثے کو مناسب انداز میں محفوظ کیا جائے، ان کی تزئین و آرائش کی جائے، اور سیاحوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تو یہ نہ صرف ملک کی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر بھی اجاگر کر سکتا ہے۔
حکومت، مقامی انتظامیہ، تعلیمی ادارے اور عوام کو مل کر ایک مثبت حکمت عملی بنانی چاہیے جس کے تحت ورثے کی حفاظت، بحالی اور فروغ کو یقینی بنایا جائے۔ جدید ذرائع جیسے ورچوئل میوزیم، ڈیجیٹل آرکائیوز، اور معلوماتی بورڈز کے ذریعے عوام میں ورثے کے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔
ورثہ ماضی کا آئینہ اور مستقبل کی رہنمائی ہے۔ عالمی یومِ ورثہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر اپنے ماضی پر نظر ڈالیں، اس کی قدر کریں اور اس کے تحفظ کا عزم کریں۔ حیاتین ہسٹوریکل سوسائٹی کے اس دورے نے ایک مثبت قدم کی صورت میں یہ پیغام دیا کہ نوجوان نسل میں ورثے سے محبت پیدا ہو رہی ہے، اور اگر یہی جذبہ قائم رہا تو پاکستان کا تاریخی سرمایہ نہ صرف محفوظ رہے گا بلکہ ترقی کا ضامن بھی بنے گا۔



