بلاول کا اعلان جنگ: کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے؟
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اس اعلان کو موجودہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ سمجھنا چاہیے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے عوام کینال کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت فوری طور پر یہ متنازع منصوبہ واپس لے ورنہ پیپلز پارٹی اس کے ساتھ نہیں چلے سکے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی یہ جنگ جیت سکتی ہے اور کیا ’وفاقی حکومت‘ واقعی اس کینال منصوبے کی سٹیک ہولڈر ہے؟
کینال منصوبہ پاک فوج کی کمپنی گرین پاکستان انیشیٹو کے زرعی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں مسلم لیگ (ن) اور پنجاب حکومت یا شہباز شریف کی وفاقی حکومت بھی اسی حد تک ’قصوروار‘ ہیں جتنی ذمہ داری صدر آصف زرداری کے سر ڈالی جا سکتی ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال اس منصوبہ کی منظوری دی تھی۔ روزنامہ ڈان کی 27 مارچ کی رپورٹ کے مطابق ’صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دریائے سندھ سے نکالی جانے والی متنازع اسٹریٹجک نہروں کی اصولی منظوری دیے جانے کا انکشاف ہوا تھا‘ ۔ ڈان نیوز نے بتایا تھا کہ اس نے 8 جولائی 2024 کو صدرمملکت کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے منٹس حاصل کر لیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) یہ ذمہ داری صدر آصف زرداری کے سر ڈال کر اس معاملہ میں سرخرو ہونا چاہتی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ صدر کا عہدہ آئینی ہے اور صدر مملکت کو ایسے حساس موضوع پر کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
عام حالات میں یہ دلیل شاید مستند اور قابل قبول ہو سکتی تھی لیکن پیپلز پارٹی اس وقت ملک میں پاور شیئرنگ کے جس منصوبہ کی حصہ دار ہے، اس میں وہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتی کہ آصف زرداری صدر کے طور پر ایسی کوئی منظوری نہیں دے سکتے۔ اب سندھ کے وزرا کی طرف سے صدر کو بے بس قرار دینے والے دلائل لانے کی بجائے جب گزشتہ سال صدر آصف زرداری کو نہروں کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا تو وہ اسی وقت واضح کر سکتے تھے کہ اس معاملہ میں وہ بے اختیار ہیں۔ ایک تو وہ ملک کے آئینی صدر ہیں، اس لیے کسی منصوبہ کے بارے میں پارلیمنٹ میں پارٹی کی قیادت ہی فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ دوسرے صدر کی حیثیت میں وہ پارٹی عہدیدار کے طور پر کوئی اصولی یا پالیسی پر بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال منعقد ہونے والے اجلاس میں صدر مملکت کو 6 اسٹریٹجک نہروں کی اہمیت پر بریفنگ دی گئی تھی۔ اور ان نہروں کی بیک وقت تعمیر کرنے کی ضرورت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ نہریں گرین پاکستان انیشیٹو کا اہم حصہ ہیں اور ان نہروں کی تعمیر ملکی فوڈ سیکیورٹی بڑھانے اور زرعی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ صدر نے اس وقت ایسے کسی منصوبے کی تفصیلات سننے یا ان پر کوئی اصولی اعتراض اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
تاہم اس سال فروری کے دوران پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ چولستان نہر کا افتتاح کیا۔ یہ نہر بھی ان 6 نہروں میں شامل ہے جو گرین انیشیٹو منصوبہ کے تحت تعمیر کی جائے گی۔ ان میں سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بالترتیب دو دو نہریں تعمیر ہوں گی۔ اس افتتاح کے بعد پیپلز پارٹی تو خاموش رہی کیوں کہ اسے اس کے بارے میں ’بریف‘ کیا جا چکا تھا تاہم سندھ میں مختلف حلقوں نے چولستان نہر کے بارے میں سوال اٹھانے شروع کر دیے کہ اس میں دریائے سندھ کا پانی استعمال ہو گا جو اصولی طور سے سندھ کے حصے میں آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس اس سیاسی مہم جوئی میں استعمال کی جانے والی دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا اور شاید نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ بلکہ سندھ میں اپنی سیاست بچانے کے لیے پیپلز پارٹی نے چولستان نہر کے خلاف بیان بازی کا آغاز کر دیا۔ اس کی ابتدا بھی صدر آصف زرداری نے کی۔ اس دوران ارسا میں چولستان کینال کی منظوری کے موقع پر اس ادارے میں سندھ کے رکن نے منصوبہ کی مخالفت کی اور اپنے نوٹ میں شبہ ظاہر کیا کہ اس نہر میں اغلباً سندھ منصوبے کا پانی استعمال ہو گا جس پر صوبہ سندھ کا حق فائق ہے۔ ارسا میں سندھ کے نمائندے کے اختلافی نوٹ نے چولستان نہر کے منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے دعویٰ شروع کر دیا کہ ان کے شبہات سو فیصد درست ہیں۔
چولستان نہر کی حمایت میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ دلیل دی گئی کہ اس میں سندھ منصوبے کا پانی استعمال نہیں ہو گا بلکہ طغیانی کے دنوں میں دریائے ستلج کا فالتو پانی اس نہر کی طرف موڑا جائے گا۔ اس دلیل میں البتہ یہ نقص موجود ہے کہ اتفاقاً طغیانی کی بنیاد پر دو سو ارب روپے مالیت کی نہر کیوں تعمیر کی جا رہی ہے۔ کیا اتنی لاگت کے بعد واقعی متوقع طغیانی سے حاصل ہونے والے پانی سے کاشتکاری کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے سندھ میں پانی کی تقسیم اور چولستان نہر کی تعمیر پر اٹھنے والے احتجاج کے بعد یہ واضح کرنے کا حوصلہ تو نہیں کیا کہ اس نے بنیادی طور پر کیوں اس منصوبہ سے اتفاق کیا تھا لیکن مقبول ووٹر کو ساتھ ملانے کے لیے سیاسی بیان بازی شروع کردی گئی۔ اس طرح دونوں طرف سے ملکی یا صوبائی زرعی و مالی مفادات پر دلیل دینے کی بجائے ایک دوسرے کو سیاسی طور سے نیچا دکھانے اور خود اپنا حلقہ انتخاب محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سلسلہ میں پیپلز پارٹی کی طرف سے نہروں کی مخالفت کا آغاز 10 مارچ کو صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ بطور صدر دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے یک طرفہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کر سکتا‘ ۔ صدر نے اس مختصر احتجاجی نوٹ میں البتہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر انہوں نے پہلے کوئی پوزیشن کیوں نہیں لی اور گزشتہ سال ایک اجلاس میں کیوں نہری منصوبہ کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ پاکستان تو کیا عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔ دنیا کو منایا کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے۔ نہروں کے حوالے سے حکومت کے یک طرفہ فیصلے کو پاکستان پیپلز پارٹی سپورٹ نہیں کرتی‘ ۔
تاہم گزشتہ روز حیدر آباد میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا لب و لہجہ سخت اور دو ٹوک تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایشو وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ متنازع کینال منصوبہ ایک ایسا ایشو ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کو مسئلے میں ڈال سکتا ہے۔ ماضی میں جب عمران خان نے دو کینالز بنانے کی اجازت دی تو پیپلز پارٹی کے جیالوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اس کے بعد عوام کی طاقت سے عدم اعتماد کی تحریک لے کر آئے اور دو کینالز کی اجازت دینے والے کو گھر بھیج دیا تھا‘ ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کی منصفانہ تقیسم ہماری قومی اور عالمی ذمے داری ہے۔ ہم تو متنازع کینالز کے منصوبے کے خلاف مستقل آواز اٹھا رہے ہیں۔ مگر اسلام آباد والے اندھے اور بہرے ہیں۔ وہ دیکھنے اور سننے کے لیے تیار نہیں۔ ہم متنازع کینال منصوبے کی مخالفت اصولوں کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اور اس لیے کہ میرا وفاق خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عین اس وقت جب دہشت گرد تنظیمیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حملے کر رہی ہیں اور پورے ملک میں دہشت گردی کی آگ لگی ہوئی ہے، ایک ایسا موضوع چھیڑ دیا گیا ہے جس سے بھائی کے بھائی سے لڑنے کا خطرہ ہے۔ وفاق کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیاسے مر نے کا خطرہ ہے۔
یہ تقریر شہباز شریف کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے جس میں بلاول بھٹو زرداری یہ واضح کر رہے ہیں کہ ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرا دیں گے۔ لیکن ان کی تقریر کے مطالعہ سے دیکھا جاسکتا ہے کہ بلاول بھٹو سیاسی نعرے بازی اور زور خطابت سے کام لے رہے ہیں۔ وہ بظاہر حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں لیکن ان کے مخاطب سندھ کے عوام ہیں تاکہ وہ حقیقی معنوں میں نہر مخالف تحریک چلانے والوں کو نیچا دکھا سکیں اور سندھ میں اپنی سیاسی برتری برقرار رکھیں۔ حالانکہ پیپلز پارٹی نہ صرف اقتدار میں حصہ دار ہے بلکہ اسلام آباد میں ہونے والے ہر فیصلہ کی شراکت دار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ چولستان نہر کا سوال قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کی بجائے، اسے جلسوں میں طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ پیپلز پارٹی ملک کے موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ نام نہاد ہائبرڈ۔ 2 سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک: پیپلز پارٹی طے کرچکی ہے کہ اقتدار کی سیاست میں فوج کی مخالفت سے میدان نہیں مارا جاسکتا۔ دوئم: آصف زرداری کسی اگلے مرحلے پر بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیر اعظم بنوانا چاہتے ہیں۔
ایسی واضح سیاسی حکمت عملی کی حامل جماعت اس وقت تک شہباز شریف کی حکومت گرانے کا اقدام نہیں کرے گی جب تک اسٹیبلشمنٹ ان کا کوئی متبادل تلاش کر کے پیپلز پارٹی کو ایسا کرنے کا اشارہ نہ دے۔ جیسا کہ اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے کہا گیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی مجبوری سمجھتے ہوئے اب نواز شریف نے ان کی ’اشک شوئی‘ کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) پانی سمیت تمام وسائل کی منصفانہ تقسیم پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ 1991 میں صوبوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور 1992 کے ارسا ایکٹ کی موجودگی میں کسی سے نا انصافی نہیں ہو سکتی۔
حالانکہ یہ معاملہ دو پارٹیوں یا صوبوں کے درمیان اختلاف کی بجائے ایک اصولی معاملہ ہے۔ جسے ’مشترکہ مفاد کونسل‘ کے سامنے پیش کر کے مسئلہ کا مناسب حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اس بارے میں تجویز بھی دے چکے ہیں۔ تاہم ملک کے سیاسی ’جادوگر‘ آئینی فورم سے بالا ہی بالا اس مسئلہ کو حل کر کے سب کی جیت کا اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔


