ہندوستان میں رفتار کی نئی داستان اور پاکستان


دنیا بھر میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کا جال بچھانے کی دوڑ جاری ہے۔ جبکہ ہم ہنوز ان ممالک میں شامل ہیں جو دنیا بھر میں اس معاملے میں کافی پسماندہ ہیں۔

جاپان نے 1964 میں پہلی بلٹ ٹرین چلا کر انقلاب برپا کیا تھا، اور آج چین اپنے 40,000 کلومیٹر سے زائد ہائی اسپیڈ نیٹ ورک کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ فرانس کا TGV، جرمنی کا ICE، اور سپین کا AVE نظام بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ لیکن یہ کہانی صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں۔ تھائی لینڈ، ویت نام، سعودی عرب اور مراکش جیسے ممالک بھی اپنی زمین پر بلٹ ٹرینوں کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ امریکہ میں لاس اینجلس سے لاس ویگاس تک ہائی اسپیڈ ریلوے لائن کی تعمیر جاری ہے، جبکہ برطانیہ HS 2 پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے جو ملک کے شمال اور جنوب کو تیز رفتار ریل سے جوڑے گا۔

بھارت نے اس دوڑ میں شامل ہوتے ہوئے ممبئی۔ احمد آباد بلٹ ٹرین کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ جس پر کام تیزی سے جاری ہے یہ منصوبہ جاپانی شنگن سن ٹیکنالوجی سے لیس ہو گا، جس میں 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین 508 کلومیٹر کا فاصلہ محض دو گھنٹے میں طے کرے گی۔ اس کے راستے میں پڑنے والے 12 اسٹیشنوں پر جدید ترین سہولیات میسر ہوں گی، جن میں سے تھانے سے ویرار تک 21 کلومیٹر طویل زیر سمندر سرنگ اس کی سب سے منفرد خصوصیت ہوگی۔ تاہم زمین کی خریداری کے مسائل اور ماحولیاتی تحفظ کے خدشات نے اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا عنصر پیدا کر دیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ منصوبہ کئی لحاظ سے سبق آموز ہے۔ اگر پاکستان اپنی سرزمین پر بلٹ ٹرین چلانے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات انتہائی دور رس ہوں گے۔ سب سے پہلے تو نقل و حمل کے شعبے میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ کراچی سے لاہور کا سفر جو اب اٹھارہ بیس گھنٹے میں طے ہوتا ہے، وہ محض چار گھنٹے میں ممکن ہو سکے گا۔ اسی طرح ملک کے دیگر دوردراز حصوں کے مابین سفر کا دورانیہ قابل ذکر حد تک گھٹ جائے گا۔ اس سے نہ صرف مسافروں کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔ دوسرا بڑا فائدہ روزگار کے نئے مواقع کا پیدا ہونا ہے۔ تعمیراتی مرحلے میں ہزاروں مزدوروں کو روزگار ملے گا، جبکہ آپریشنل مرحلے میں بھی ہزاروں نئی ملازمتیں تخلیق ہوں گی۔

تیسرا اہم پہلو سیاحت میں اضافہ ہے۔ تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے شمالی علاقہ جات، تاریخی شہر اور ساحلی مقامات سیاحوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہو جائیں گے۔ چوتھا فائدہ صنعتکاروں کو ملے گا، جو تیزی سے اپنے تیار شدہ مال کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر سکیں گے۔ پانچواں اور سب سے اہم فائدہ یہ ہو گا کہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوگی، جس سے انجینئرنگ اور تکنیکی شعبوں میں ملکی افرادی قوت کی صلاحیتیں بڑھیں گی۔

لیکن یہ سب فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ کا ہے۔ اس کے لیے پاکستان چین کے ساتھ CPEC کے تحت تعاون بڑھا سکتا ہے، یا جاپان اور جنوبی کوریا سے کم سود پر قرضے حاصل کر سکتا ہے۔ عوامی۔ نجی شراکت داری کا ماڈل بھی ایک بہتر حل ہو سکتا ہے یا پھر تعمیر ملکیت اور منتقلی کا راستہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ ایک بڑا چیلنج ٹیکنالوجی کا حصول ہے، جس کے لیے کسی ترقی یافتہ ملک کے ساتھ طویل مدتی معاونت درکار ہوگی۔ ایک اور اہم نکتہ زمین کی دستیابی ہے، خاص طور پر گنجان آبادی والے علاقوں میں راستہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ممبئی۔ احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبہ جنوبی ایشیا میں جدید نقل و حمل کے نئے دور کا آغاز ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت کا تقاضا ہے کہ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہو۔ اگر مناسب حکمت عملی، مستقل مزاجی اور درست منصوبہ بندی سے کام لیا جائے تو پاکستان بھی اگلے پانچ سے دس سالوں میں ہائی اسپیڈ ریل کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی نقل و حمل کا معیار بلند ہو گا، بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی جہتیں ملیں گی۔ جس طرح ایک زمانے میں ریلوے نے برصغیر کی معاشی تقدیر بدل دی تھی، اسی طرح بلٹ ٹرین بھی پاکستان کی ترقی کی کہانی کا اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

رفتار کی یہ دوڑ درحقیقت ترقی کی دوڑ ہے۔ جو قومیں اس میں شامل ہو جائیں گی، وہ معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیں گی۔

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ دوست ملک چین سے اس منصوبے پر بات چیت کرے اور اپنی تقدیر بدلنے کا سنہری موقع ضائع نہ کرے سب سے اہم ضرورت تو عزم و ہمت کی ہے۔

Facebook Comments HS