کالج میں داخلہ


دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اب کالج میں داخلے کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس عمر میں عموماً نوجوانوں کے بہت سے خواب ہوتے ہیں اور وہ ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے محنت، کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن میرا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ نہ تو میرے کوئی خواب ہی تھے اور نہ ہی میں کسی خاص پیشے کو اپنا کر اس سے نام یا دولت کمانا چاہتا تھا۔ میری حیثیت گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک ایسے مسافر کی تھی جسے گاڑی اپنی حسب ِ منشا اپنے ساتھ لیے جا رہی ہو۔ میں بھی زندگی کی گاڑی میں سوار اس کے ساتھ رواں دواں تھا گو کہ میں اس عمر تک ہی بہت سی غیر نصابی کُتب، تاریخی، جاسوسی، معاشرتی، رومانی ناول، افسانے اور اُردو ادب کا مطالعہ کر چکا تھا۔ لیکن میری شخصیت پر نسیم حجازی کے لکھے ہوئے تاریخی ناولوں کی گہری چھاپ تھی۔ میں اپنی زندگی اس کے افسانوی ہیرو کی طرح سچائی، دیانت داری اور دیگر اسلامی اقدار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایسے صاف ستھرے انداز میں گزارنا چاہتا تھا جو کسی بھی قسم کے لالچ ہوس اور بغض و حسد سے مبرا ہو۔

مال و دولت اور مقام و مرتبہ کا حصول زندگی کے کسی حصے میں بھی میرا مطمح نظر نہیں رہا۔ کالج میں مجھے پری میڈیکل میں داخلہ نہ ملا۔ تو میں نے نان میڈیکل میں داخلہ حاصل کر لیا۔ کالج میں پروفیسروں کی شخصیت سکول ٹیچرز سے قطعی مختلف تھی۔ یہ لوگ اپنی آمدنی کا مخصوص حصہ اپنے لباس پر لگایا کرتے تھے۔ خوبصورت سوٹ، ٹائی، اور چمکتے ہوئے بوٹوں کے ساتھ ان کا طرزِ زندگی قابلِ ستائش اور قابلِ رشک ہوا کرتا تھا۔ ٹیوشن کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ اکا دکا سٹوڈنٹس ٹیوشن پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت ٹیوشن زیادہ نمبر کے حصول کی بجائے عموماً پاس ہونے کے لیے پڑھی جاتی تھی۔ اچھے اور ذہین طلباء ٹیوشن پڑھنا عار سمجھا کرتے تھے۔

کالج کے پرنسپل ڈاکٹر فضل محمود انتہائی سادہ مخلص اور بہت پڑھے لکھے انسان تھے۔ کالج کے لائبریرین نذیر صاحب سے ہماری کافی دعا سلام تھی۔ کیوں کہ یہاں پر لائبریری میں تو ہزاروں کی تعداد میں کُتب موجود تھیں۔ جن میں ہمارے لیے بہت کشش موجود تھی۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ لائبریری میں جب بھی نئی کُتب آتی ہیں وہ سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتی ہیں اور ڈاکٹر صاحب کی نظر سے گزرنے کے بعد ان کُتب پر لائبریری کا نمبر لگایا جاتا ہے۔ اس وقت یہ کالج میونسپل کمیٹی بورے والا چلایا کرتی تھی اور پرنسپل کو تنخواہ کے علاوہ رہائش فراہم کرنا بھی کمیٹی کی ہی ذمہ داری تھی۔ ڈاکٹر صاحب کالج کی دیوار کے بالکل ساتھ ڈی بلاک میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر تھے جس کا کرایہ پچاس روپے ماہوار ہوا کرتا تھا۔

کئی بار اُن کے قریبی حلقوں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ اپنی رہائش کسی بڑی کوٹھی میں منتقل کر لیں کیوں کہ کرایہ تو کمیٹی نے ہی دینا ہے لیکن ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ جب پانچ مرلے کے مکان میں میرا گزارا ہو سکتا ہے تو میں بڑے گھر میں رہائش رکھنے کو فضول خرچی سمجھتا ہوں۔ اس طرح ہر ماہ کمیٹی کو کرائے کی مد میں جو بچت ہوتی ہے وہ شہریوں کو کوئی اور سہولت فراہم کرنے کے کام آجاتی ہے۔ اس وقت ایسی اجتماعی اور قومی سوچ رکھنے والے لوگ ہر ادارے میں ہی موجود تھے۔ آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی کمی ہوتی گئی۔ پھر ہم نے انہی کے پیش رو کو ایک بڑی سی کوٹھی میں بڑے ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ بھی رہتے دیکھا۔

ہمارے کالج کے ساتھ ہی ایک ہوسٹل بھی واقع تھا۔ دور دراز کے علاقوں سے آنے والے طلباء یہاں پر مقیم ہوتے۔ گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان اور گورنمنٹ کالج ساہیوال کے بعد ایم سی کالج بورے والا کا نمبر آتا تھا۔ فزکس کا مضمون ہمیں زاہد خان صاحب پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی خوبصورت، خوش لباس، دراز قامت اور سرخ و سفید رنگت کے ساتھ ایک دل کش شخصیت کے مالک تھے لیکن آواز بہت دھیمی تھی۔ جو صرف اگلی دو چار لائنوں میں بیٹھنے والے طلباء کو ہی بمشکل سنائی دیا کرتی تھی۔

زاہد خان صاحب کی طرح ہمارے انگریزی کے پروفیسر ریاض صاحب بھی جاذب شخصیت کے مالک تھے۔ انگریزی تراش خراش کے پہناوے کے ساتھ اُن کے بوٹ اتنے چمکدار ہوتے کہ اُن میں منہ دکھائی دیتا تھا۔ پورے پیریڈ میں انگلش ہی بولتے۔ جو ہمارے سر کے اُوپر سے گزر جایا کرتی تھی۔ یعقوب صاحب ریاضی کے اُستاد تھے اور انہوں نے کلام پاک دوران سروس حفظ کیا ہوا تھا۔

ایک بار ہمیں ریاضی میں اضافی مدد کی ضرورت پڑی تو ہم کلاس کے کچھ لڑکے اکٹھے ہو کر اُن کے پاس گئے اور اُن سے درخواست کی کہ شام کو ہمیں ٹیوشن پڑھانے کے لیے کچھ وقت عنایت فرما دیں۔ اس وقت تو انہوں نے ٹال دیا۔ لیکن اگلے دن کلاس میں اپنے پیریڈ کے دوران انہوں نے اس درخواست کا تفصیلی جواب دیا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی تنخواہ بتائی پھر اپنے خاندان کے بجٹ کے متعلق بتایا جو میاں بیوی اور دو بچوں پر مشتمل تھا اور بجٹ کا یہ عالم تھا کہ کھینچ تان کر ہی تنخواہ سے مہینہ پورا ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد فرمانے لگے کہ یہ حقیقت ہے کہ اضافی آمدن کی مجھے اشد ضرورت ہے لیکن اس معمولی رقم کے عوض میں اپنی آزادی نہیں فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ حالاں کہ وہ رقم اُن کہ تنخواہ سے زیادہ بنتی تھی۔ کالج میں میرے چار پیریڈز خالی ہوتے ہیں۔ آپ اُن خالی پیریڈز میں سے کسی ایک میں اکٹھے ہو کر آ جایا کریں میں آپ کو پڑھا دیا کروں گا۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو چھٹی کے بعد عصر اور مغرب کے درمیان میرے گھر میں آ جایا کریں۔ جس دن میں فارغ ہوا آپ کو پڑھا دیا کروں گا۔ بصورت دیگر آپ کو چھٹی کرنا پڑے گی لیکن آپ سے ٹیوشن وصول نہیں کروں گا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہاں پر وہ کچھ خاندانوں کے روحانی مرشد بھی تھے۔

اُردو ہمیں ایم ڈی اسلم صاحب پڑھایا کرتے تھے جو پہلے سکول ٹیچر رہے تھے۔ وہ اکثر ہمارے کلاس روم میں جانے سے پہلے ہی وہاں پر موجود ہوتے اور وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پورا پیریڈ ہمیں نہایت توجہ، محنت اور دل چسپی کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے۔ کچھ طلباء اُن کی اس عادت سے سخت بے زار تھے اور اُن کی اس عادت کو سکول ٹیچر کے ساتھ منسلک کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیا کرتے تھے۔

کالج کے طلباء کو دس مختلف ٹیوٹوریل گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر ایک گروپ میں فرسٹ ائر سے لے کر فورتھ ائر تک تم م کلاس کے طلباء شامل ہوا کرتے تھے۔ یہ گروپ تشکیل دینے کا طریق کار یہ تھا کہ رول نمبر 1 کا گروپ A اور رول نمبر 10 کا گروپ J رکھا گیا تھا اور باقی رول نمبر 2 سے لے کر 9 رول نمبر تک طلباء کو اسی ترتیب سے B سے لے کر تک I تکگروپ الاٹ کیے گئے تھے اور اسی طرح گیارہ سے بیس، اکیس سے تیئس اور آخر تک اسی حساب سے ٹیوٹوریل گروپ الاٹ کیے جاتے تھے۔ ہمارا گروپ F تھا اور ہمارے ٹیوٹوریل گروپ کے انچارج منشا سلیمی صاحب تھے جو اُردو کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ اُردو اور پنجابی زبان کے خوبصورت لہجے کے شاعر اور مرنجان مریخ طبیعت کے مالک تھے۔ گروپ کے پہلے اجلاس میں ہی اس ٹیوٹوریل گروپ کے عہدیداروں کا انتخاب کیا گیا۔

کرسی صدارت فورتھ ائر کے طالب علم منیر ثاقب کے حصے میں آئی۔ جس کے ساتھ کالج کے بعد بھی مدتوں رابطہ رہا اور ہم دونوں شیخ ایوب، ڈاکٹر عبدالحفیظ میاں اور ایک مستری بھائی عبدالحق کے ساتھ مل کر مدتوں تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم پر اکٹھے کام کرتے رہے اور بعد میں وہ اپنے اہل خانہ سمیت امریکہ میں منتقل ہو گیا۔ اسی طرح گروپ کا نائب صدر تھرڈ ائر سے سیکرٹری سیکنڈ ائر سے اور جائنٹ سیکرٹری فرسٹ ائر سے مجھے منتخب کر لیا گیا۔ اس گروپ کو فرسٹ ائر کے دوران میں ہی چلاتا رہا۔ کیوں کہ گروپ سیکرٹری اپنی عدم دل چسپی کی بدولت عموماً لاتعلق سا ہی رہتا اور سیکنڈ ائر کلاس میں تو میں باقاعدہ طور پر اس گروپ کا سیکرٹری بن گیا اور اس پروگرام کو چلانا باقاعدہ میری ذمہ داری میں شامل ہو گیا۔ آئندہ زندگی میں اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے کسی بھی فورم پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں کبھی بھی کوئی جھجک یا دقت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کا تذکرہ کسی الگ کالم میں کرنے کی کوشش کروں گا۔

سلیمی صاحب مجھے ہمیشہ ہمارا سیکرٹری کی بجائے ہماری سیکرٹری کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ میری جسمانی ساخت کی بناء پر وہ ایسے کہتے ہوں مگر مجھے اپنی ذات میں کوئی ایسی بات کبھی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے اُن کے اس طرز تخاطب کو کبھی بُرا محسوس کیا تھا۔ کالج میں ہر سال یونین کے انتخابات بڑی دھوم دھام سے ہوا کرتے تھے۔ پہلے سال حسب الدرشا جھرڑ نے ان انتخابات میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔ تو مجھے جھرڑ کے لاحقے پر بڑا تعجب ہوا تھا کیوں کہ ایسا نام میں نے زندگی میں پہلی بار سنا تھا۔ الیکشن کے بعد کالج میں باقاعدہ ادبی پروگرام ہوا کرتے تھے۔

تقریری مقابلہ جات، اُردو، انگریزی اور پنجابی میں مباحثے اور مشاعرے بڑی باقاعدگی کے ساتھ کریسنٹ ہال میں منعقد کروائے جاتے۔ شیخ اکرم ان مقابلہ جات میں بڑی باقاعدگی سے حصہ لیا کرتا تھا۔ اس کے اندازِ بیان میں ایک انوکھی چمک ہوا کرتی۔ ایک بار پنجابی مباحثہ ہو رہا تھا جس کا عنوان تھا مچھ نہیں تے کچھ نہیں، وہ سٹیج پر آیا اور اپنی تقریر کا آغاز کچھ اس انداز میں کیا، یہ کہتے ہیں، کہ مچھ نہیں تے کچھ نہیں۔ مجھے ذرا غور سے دیکھو، میری مچھ نہیں ہے۔ اب آپ ایمانداری سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے بتائیں کہ کیا واقعی میں کچھ نہیں ہوں۔

چھ فٹ قد کا سرخ و سفید چہرے تیکھے نین نقش اور پرکشش شخصیت رکھنے والا یہ نوجوان سٹیج پر کھڑا ناظرین سے جواب طلب کر رہا تھا۔ پورا ہال پرجوش تالیوں سے گونج اُٹھا اور شیخ اکرم اس مباحثے کا فاتح قرار پایا۔ یہی شیخ اکرم بعد میں پاکستان کے مشہور و معروف و کلا میں سے ایک رہا۔ حقیقت ہے کہ کالج کی سطح پر دی گئی تربیت طلباء کی شخصیتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

ٹیوٹوریل گروپ کی طرز پر ہی کالج کے تمام طلباء کے مختلف ہاؤس بنائے جاتے اور ہر ہاؤس میں فرسٹ ائر سے لے کر فورتھ ائر کے طلباء شامل ہوا کرتے تھے۔ پھر ان ہاؤسز کے درمیان مختلف کھیلوں ہاکی، فٹ بال، والی بال اور کبڈی وغیرہ کے مقابلہ جات کروائے جاتے اور پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ہاؤسز کو باقاعدہ انعامات سے نوازا جاتا۔ اس قدر بھرپور ہم نصابی سرگرمیوں کے باوجود ہر مضمون کا سلیبس نہ صرف کلاس میں ختم کروایا جاتا بلکہ اس سلیبس کے باقاعدہ ٹیسٹ لے کر طلباء کو اُن کی کارکردگی سے آگاہ بھی کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایف ایس سی کے سالانہ امتحان میں پورے نان میڈیکل گروپ میں میری تیسری یا چوتھی پوزیشن تھی۔ اب تک کے ہونے والے بلکہ مستقل میں بھی ہونے والے تمام امتحانات میں میری بہترین کارکردگی کا حامل اس امتحان کا یہی نتیجہ تھا۔

Facebook Comments HS