کچھ نثری نظم کے بارے میں
نثری نظم شاعرانہ نثر سے اس لیے ذرا مختلف ہے کہ اس میں زبان و بیان شاعرانہ ہو نہ ہو، خیال شاعرانہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نثر سے اٹھی ہوئی اور شعر کے قریب پہنچی ہوئی شے ہے جبکہ شاعرانہ نثر میں کسی بھی موضوع کو شاعرانہ زبان و بیان میں ادا کر دیا جاتا ہے اس لیے وہ شاعری ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔
رہا معاملہ جذبات کا تو جذبات خالص شعری شے ہیں جن کا شاعرانہ زبان میں اظہار ہو تو اسے نثری نظم کہیں گے۔
ہم اسے نثری نظم کہتے تو ہیں لیکن نظم نہیں مانتے دو ہی صورتوں میں اسے شاعری میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ نے جو خیال، کیفیت یا جذبہ بیان کیا ہے وہ کسی بھی صورت منظوم ہو کر اپنی اصل حالت میں بیان نہیں ہو سکتا تو بھئی سبحان اللہ لیکن یوں نہ ہو کہ وزن قربان کر کے سائنسی خیالات کو شاعرانہ زبان میں بیان کر دیا جائے اسے ہم شاعرانہ نثر کہتے ہیں گویا خیال شاعرانہ ہو، جذبے اور کیفیت کے باب میں وزن منہا کر کے بقیہ زبان و بیان شاعرانہ ہو کہ شاعرانہ لوازمات کو ترک کر کے محض جذبات کا اظہار کسی بھی صنفِ نثر میں ہو سکتا ہے۔
دوسری صورت نثری نظم کو شاعری ماننے کی یہ ہے کہ اس قدر جمالیاتی اظہار ہو کہ منظوم شاعری سے اگر آگے نہ نکلے تو کم از کم اس کی برابری ضرور کرے گویا کسی شاعرانہ خیال کا اظہار اس درجہ شاعرانہ ہو کہ اثر آفرینی میں اور لطف اندوز ہونے میں منظوم کلام کے برابر یا اس سے بڑھ کر ہو تو بھئی سبحان اللہ
کہا جاتا ہے کہ نثری نظم میں خیال اور جذبے کا اظہار زیادہ خالص شکل میں ہوتا ہے کیونکہ وزن اور قوافی خیال کے خالص اظہار میں رکاوٹ ہیں۔ بالکل بجا کہ یہ بندشیں کچھ حد تک خیال اور جذبے کے اظہار پہ سمجھوتہ کرواتی ہیں لیکن جو کچھ آپ نے نثری نظم کے نام پہ لکھا ہے اسے اس سے بہتر شکل میں منظوم کر کے اس کی اثر آفرینی اور لطافت بڑھائی جا سکتی ہے تو پھر نثری نظم کا کیا جواز ہے؟
اگر خیال اور جذبے کو خالص شکل ہی میں محفوظ کرنا ہے تو یہ کام نثری نظم سے زیادہ دیگر نثری اصناف میں بہتر طریقے سے ہو جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس صنف میں اظہار کرتے ہوئے کچھ داخلی آہنگ سا پیدا ہو جاتا ہے اور کچھ تاثر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن اس میں کیا کہ ایسا تو کئی نثری اصناف میں ہو جاتا ہے۔
یہ صنف ہر کس و ناکس کے لیے نہیں ہے یہ تو مشاق شاعروں کے لیے ہے جو اپنی تہ دار کیفیت، عمیق جذبے یا اچھوتے خیال کا شعری اظہار کرنا چاہتے ہوں لیکن اوزان کی بندشیں ایسا کرنے سے روکتی ہوں تو وہ حق رکھتے ہیں کہ اوزان کی حدود سے تجاوز کریں۔
اگر یہ صنف دیگر شعری اصناف سے ہٹ کر شعری ذوق کی آب یاری کرنے لائق ہو، اس میں بقیہ اصنافِ شعر سے الگ لطف ہو، جمالیاتی تسکین کا سامان ہو، زبان و بیان کے نئے سانچے اور ان کی نئی لطافتیں ہوں یا کسی بھی قسم کا مختلف شعری ذائقہ رکھتی ہو تو بھی مخالفین کچھ دریا دلی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
ہم مانتے ہیں کہ نثری نظم نثر سے اٹھی ہوئی اور شاعری کے قریب کی شے ہے لیکن یہ خالصتاً شعری صنف نہیں ہے۔ یہ شاعری سے زیادہ شاعرانہ نثر کے قریب ہے لہٰذا جب تک اس میں وہ خصائص پیدا نہیں کیے جاتے جو منظوم کلام سے بڑھ کر ہوں یا کوئی بڑا شاعر اس صنف میں کچھ غیر معمولی پن پیدا نہیں کر دیتا تب تک اسے شاعرانہ نثرپارے کہیے عروضی لطافتوں سے محظوظ ہونے والوں کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔


