ماریو برگس یوسا کی یاد میں
(ماریو برگس یوسا کا انتقال 13 اپریل 2025 کو ہوا)
عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ فکشن نگار ماریو برگس یوسا کی موت کی خبر سب سے پہلے اس کے بیٹے الوارو برگس یوسا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر چڑھائی گئی اور پھر یہ جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ 89 برس کی عمر میں رخصت ہوئے تھے اور اپنے پیچھے ایسا ادبی سرمایہ چھوڑا کہ ہر کہیں یاد کیے جا رہے تھے۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو میری آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ گھوم گیا جب یوسا نے مجھے اور محمد عمر میمن کو بہت مصروف کر رکھا تھا۔ عمر میمن، یوسا کی کتاب ’نوجوان ناول نگار کے نام خطوط‘ کا اردو میں ترجمہ کر رہے تھے اور یہی کتاب ہم دونوں کو دلچسپ مکالمے کی طرف لے گئی تھی۔ میں اسلام آباد میں تھا اور عمر میمن یونیورسٹی آف وسکونسن، میڈیسن، امریکہ میں۔ سارا مکالمہ ای میل کے وسیلے سے ہوا جسے عمر میمن نے مدون کر دیا اور یہ کتابی صورت میں ’کہانی اور یوسا سے معاملہ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ یوسا کی یاد میں اسی کتاب کے ایک باب ’یوسا کی زقندیں اور میری الجھنیں‘ سے میرا ایک خط محمد عمر میمن کے نام ’ہم سب‘ کے پڑھنے والوں کے ذوق مطالعہ کی نذر کر رہا ہوں کہ اس میں فکشن نگار یوسا کی شخصیت اور کام پربھی بات ہو رہی ہے۔ (م ح ش)
پیارے محمد عمر میمن؛آداب۔
بھئی اس سارے عرصے میں، کہ جس میں، میں اپنی طبع کے پھیکے پڑنے کی وجہ سے پڑھنے پڑھانے میں یکسوئی حاصل نہ کر سکا، تمہاری طرف سے ای میلز کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے لیے مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا ہے، سو قبول کرو۔ ابھی تک خاطر پریشان ہے، ہمت باندھ کر ”کی بورڈ“ پر بیٹھ تو گیا ہوں مگر خیالات مجتمع نہیں ہو رہے۔ تم نے تو یوسا کے باقی خطوط بھیج کر اپنی طرف سے معاملہ بے باق کر دیا ہے اور میرا معاملہ یہ ہے کہ اس کا زمزمہ لکھنا چاہوں یا ضمیمہ ہر بار ”ذمیمہ“ سوجھتا ہے۔ لہٰذا بار بار اِرادہ معطل ہوتا رہا۔ آج اتوار ہے چھٹی کا یہ دن بھی نکل گیا تو جانے کب کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے کو ہمت بندھے، سو کوشش کر کے آج اپنے خیالات ضرور مجتمع کروں گا۔
جب سے ہمارے ہاں بجلی کی کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ چل نکلا ہے ”یوپی ایس“ نامی ایک پراڈکٹ بنانے والوں کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔ ادھر بچوں کے امتحانات چل رہے ہیں ؛ مطالبہ ہوا : یوپی ایس لاؤ۔ خیر بڑا بھائی خورشید ادھر شارجہ سے آیا ہوا تھا، جھٹ بازار گیا اور بنوا لایا۔ بجلی کے تاروں کو اس کے ساتھ ادل بدل کر جوڑا اور ایسا انتظام کر دیا کہ ادھر واپڈا والے بجلی کھینچ لیتے ادھر یہ یو پی ایس رواں ہوجاتا۔ میں ٹھہرا اَناڑی آدمی، نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ جو بیٹری لگی ہوئی ہے کچھ وقت کے بعد اس میں، اس کا اپنا پانی نہ ڈالا جائے تو یہ ری چارج نہ ہو گی۔ تو یوں ہے بھائی کہ کچھ دن تو ہر گھنٹے بعد ’جب بھی واپڈا والے بجلی لیتے، ہم خوش کہ اپنا بجلی گھر ٹھل پڑتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ اس کی روشنی مدہم پڑتی چلی گئی۔ اوہ یہ کیا ہوا؟ میرا لکھنا پڑھنا تو ویسے ہی چھوٹا ہوا تھا، بچے بے چارے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئے۔ تعطل کے اسی دورانیے میں تمہاری طرف سے ملنے والے یوسا کے خطوط دھیان میں رہے۔ انہیں بار بار پڑھا مگر یوں لگتا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ نہ کچھ گھپلا ہو گیا تھا۔ مثلاً یوسا کا وہ خط، جس کا تم نے ”اِنتقالات اور زقندیں“ عنوان جمایا ہے، اور خوب جمایا ہے، اس میں اندر کی ساری بات دھواں ہو گئی ہے۔ جتنا وقت اس مضمون کے پڑھنے کو دیا، بدلے میں اتنا اس نے دیا نہیں ؛ وہی بات ہوئی : ”لینے کو مچھلی، دینے کو کانٹا“ ۔
جان من! میرے من میں یہ کانٹا چبھا ہوا ہے کہ آخر یوسا نے تَھوک کے حساب سے اس حصے میں مثالیں کیوں ٹھونس ٹھانس دی ہیں؟ سیدھے ہاتھ اپنی بات کو آگے کیوں نہ بڑھایا؟ تو وہ بات معاملہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ یا تو اپنے ”یوپی ایس“ کا پانی ہی سوکھ گیا ہے یا پھر یوسا کے پاس اب مزید کہنے کو کچھ بچا نہیں ہے : جو کچھ اس نے کہنا تھا گزشتہ ابواب/خطوط میں کہہ چکا۔ بس، لسی میں پانی ڈالنے والا معاملہ ہے۔ خیر پانی اُدھر مرتا ہے یا اِدھر، میں نے تمہیں منصف کیا تم بہتر اندازہ کر پاؤ گے۔ ویسے ایک بات ہے بھائی: آموں کا موسم چل رہا ہے۔ کہتے ہیں بہت سے آم کھائے ہوں اور اوپر سے پانی ڈال ڈال کر پتلی کی گئی کچی لسی پی جائے تو یہی لسی آم کے کھائے کو بدن کے لیے سونا بنا دیتی ہے۔
یقیناً مجھے اپنے دھیان میں رکھنا ہو گا کہ میں خود مکالمہ ٹوٹنے اور توجہ کے مرتکز نہ رہنے کے سانحات سے گزرا ہوں۔ لہٰذا ہو سکتا ہے پچھلے ابواب میں جو پپی دی اور اگلے ابواب میں پلٹا رہا ہوں تو ممکن ہے اس بارے میں سارا گھپلا میری اپنی تفہیم ہی کا ہو۔ میں نے پھونک پھونک کر قدم بڑھانے کے لیے ایک حیلہ کیا ہے۔ چاہتا ہوں کہ اب تم بھی اس سازش میں شریک ہو جاؤ۔ اطلاعاً عرض ہے کہ میں، اس سارے عرصہ میں خود کو رفتہ رفتہ یوسا کے قریب لاتا رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں تم مجھ سے کہیں زیادہ یوسا کی بابت جانتے ہو گے ؛ مگر میں اس کی ان سب باتوں کو دہرا کر، کہ جنہیں تم جانتے ہو، اپنی اگلی بات کہنے کے لیے فضا بناؤں گا۔ تمہارا امتحان شروع۔ پہلے سے معلوم باتوں کو سننا یوں ہی تو ہے جیسے رہڑو پہ بیٹھ کے کوئی بچونگڑا ایک ہی دائرے میں گھومتا جائے۔ تو یوں ہے پیارے کہ میں نے یوسا کی زقندوں پر زیادہ غور کرنا چھوڑ دیا ہے ؛ میری مانو تو تم بھی اس کی زقندوں سے کچھ وقت کے لیے دھیان اٹھا کر ادھر آ جاؤ، میرے پاس، جہاں میں ہوں۔
تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے تمہیں ابتدائیے میں یوسا کی بابت مفصل لکھنے کو کہا تھا۔ دراصل میں اندر سے مکر مارے بیٹھا تھا کہ تم اپنا مطالعہ بہم کردو گے اور میں پھرولا پھرولی میں پڑے بغیر بہت کچھ جان لوں گا۔ یوں کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ ”ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ چوکھا“ والی اُمید باندھ بیٹھا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ تم صرف ترجمہ کی گئی کتاب تک رُکے رہے۔ خیر وہ تو جیسا تم نے ترتیب دیا اور جو ابتدائیہ لکھا ویسا ہی چھپنے کو ”نقاط“ تک پہنچ گیا مگر میں اپنی اُمید سے کم پا کر اُلجھ گیا اور اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار کر اتنا جان گیا ہوں کہ جارج ماریو پیڈریوب رگس یوسا عین اُسی مہینہ میں مجھ سے لگ بھگ بیس اکیس برس پہلے پیدا ہوا تھا جس میں، بعد ازاں میں پیدا ہوا، یعنی مارچ کا مہینہ۔ اور ہاں جس طرح کئی سالوں کا گھپلا ہو گیا ہے، تاریخ بھی بدل گئی ہے۔ یوسا، سن اُنیس سو چھتیس میں اٹھائیسویں مارچ کو دنیا میں آیا اور میرے نصیب میں پیدا ہونے کی تاریخ سن انیس سو ستاون کی تیئیس مارچ لکھی ہوئی تھی۔ سوچا بھئی عمر کا ہی کچھ لحاظ کروں، پچھلے ابواب میں یوسا کی اِتنی اچھی اور پر لطف باتیں پڑھ چکا ہوں ان ہی کے طفیل اِنہیں گوارا سمجھ کر پی جاؤں۔ بھئی پوری کوشش کروں گا: اگر ایسا نہ کر پایا ہے تو تم دکھی مت ہونا۔ [اس میں دکھی ہونے کی کیا بات ہے۔ میمن]میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے اپنے جگہ، اس باب میں خوب خوب محنت کی ہے۔ تمہاری وجہ سے میں نے یوسا کے ہاں سے گھی کے کپے لنڈھائے ہیں ؛اس لیے تم دونوں کا احسان مانتا ہوں۔ کیا اتنی وضاحت کافی نہیں ہے؟
ہاں، تو میں کہنے لگا تھا کہ یوسا اریکیپا، پیرو میں تب پیدا ہوا کہ جب اس کی ماں کو اس کا باپ چھوڑ کر جا چکا تھا۔ سفید پوش اور ٹوٹے ہوئے گھرانے میں پیدا ہونے والے یوسا کے باپ کا معاشقہ ایک جرمن خاتون کے ساتھ چل رہا تھا، سو وہ اسے لے اڑی۔
یوسا اپنے ننہال ہی میں رہا۔ کچھ عرصہ بعد ، جب کہ اس کا نانا بولیویا میں پیرو کے لیے اعزازی کونسل ہو گیا تھا، وہ اپنی ماں اور نانا کے ساتھ کو چابامبا، بولیویا، جا بسا۔ یہیں اس کا بچپن گزرا۔ اُسے بتایا جا رہا تھا کہ اس کے باپ نے بے وفائی نہیں کی بل کہ موت نے اسے اچک لیا تھا۔ اسی اثنا میں یوسا کا نانا پروویئن کوسٹل سٹی میں ڈپلومیٹک پوسٹ حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا لہٰذا وہ بھی نانا اور ماں کے ساتھ پیرو لوٹ آیا۔ دس سال کا ہوا تو اُس کا لیما جانا ہوا؛ وہیں اس کی ملاقات ”اپنے مرے ہوئے“ باپ سے ہو گئی۔ میرا مطلب ہے، وہ جو مرا نہیں تھا مگر جس سے علیحدگی کی وجوہات چھپانے کے لیے اس کی ماں نے اسے مرا ہوا بتایا تھا۔
بھئی میمن، مجھے تو یوسا کی اپنی یہاں تک کی زندگی کے احوال کہانی کی طرح لگے ہیں۔ یہ واقعات مجھے یہ بھی سجھا گئے ہیں کہ آدمی اندر سے گہرا اور گداز کیسے ہوتا چلا جاتا ہے۔ خیر ساتھ ہی ساتھ جو نفسیاتی اُلجھنیں آدمی کے اندر کونوں کھدروں میں پناہ گزیں ہوجاتی ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کہتے ہیں اس ملاقات کا ہونا تھا کہ ٹوٹا ہوا خاندان جڑ گیا۔ وارث شاہ نے کہہ رکھا ہے : ”کچا شِیر پیتا بندہ سدا بُھلا،“ یعنی آدمی کچا دودھ پیتا ہے اس لیے ہمیشہ بھولتا رہتا ہے۔ بھولنے والا پلٹ آیا، صبح گیا تھا، شام کو لوٹ آیا تو اُسے بھولا ہوا نہ جانا گیا۔ ماں باپ ایک ہو گئے تو رہنے کے لیے لیما کے سفید پوش طبقے کے رہائشی علاقے میگڈالینا ڈل مار اُٹھ آئے۔
ہاں تو میں تمہیں اُوپر بتا آیا ہوں کہ میں انیس سو ستاون میں پیدا ہوا تھا، یعنی اپنے برصغیر میں انگریزوں سے غلامی کے خلاف اٹھارہ سو ستاون کی عملی نفرت کی اُبکائی کے سو سال بعد ۔ گویا جب تک میں پیدا ہوا تھا، تب تک ہندوستان ٹوٹ کر اگرچہ الگ الگ ملکوں کی صورت میں آزاد ہو چکا تھا مگر سچ پوچھو تو اب لگتا ہے، سب دھوکا تھا، وہ جو فیض نے کہا تھا، یہ داغ داغ اُجالا۔ اپنی وردی والوں کی بے دردی دیکھتا ہوں اور اپنے سیاست دانوں کی قلابازیوں پر نظر پڑتی ہے تو فیض کا کہا بے جا بھی نہیں لگتا۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ ذہنی غلامی کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ جتنا ہاتھ پاؤں مارتے ہیں، اتنا ہی گہرائی میں دھنسے جاتے ہیں۔ اپنے دوست ستیہ پال آنند کی ایک نظم ”کوداگراس“ کی ابتدائی سطریں یاد آتی ہیں :
وہ ہاتھ جس نے
ہزار ہا بار اپنے خنجر سے مجھ کو زخمی کیا تھا پہلے
وہ ہاتھ اب بھی اٹھا ہوا ہے
میں بے بس و بے سہارا نیچے پڑا ہوا ہوں
نہ مر رہا ہوں
نہ جی رہا ہوں۔
اوہ، میں کہیں کا کہیں نکل گیا۔ مجھے تو محض یہ کہنا تھا کہ جس سال میں پیدا ہوا تھا، اسی سال یوسا کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ اسے دیکھ کر تم آنک سکتے ہو کہ یوسا کے مقابلے میں میرے پاؤں تو ابھی پالنے میں پڑے ہیں۔ ایسا اگر تم کہو گے تو یوں سن کر بھی میری جیبھ تالو سے کہاں چپکی رہے گی؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ زبان ہر حال میں یوسا کے نام کا شیرہ چاٹتی رہے؟ لیکن بہ خدا میں دِل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو ؛مگر کیا کروں کہ ابھی تک اپنے آپ کو اس راہ پر نہیں ڈال سکا ہوں۔ رنگ رنگ کے لکھنے پڑھنے والوں کی صحبت نے مجھے عجب ڈھنگ کا بے لحاظ آدمی بنا دیا ہے۔
سچی بات مجھے کہنے دو کہ اس زقندیں والے پورے باب میں یوسا کی ایک ناول سے دوسرے ناول کے بیچ زقندیں خوب ہیں۔ یہ لگ بھگ ویسی ہی زقندیں، قلانچیں یا پھر کدکڑے ہیں جو بکروٹے یا ہرنی کے بچے ( مجھے نہیں معلوم ہرنی کے سال بھر کے بچے کو کیا کہا جائے، میں اسے پُنگڑا کہنے جا رہا ہوں ) کھلے چھوڑ دیے جائیں تو سارے صحن میں مارتے پھرتے ہیں۔ لو پُنگڑے سے دھیان اس تصویر کی طرف چلا گیا ہے جو کہ تم نے مجھے منہ میں گھنگنیاں بھرے پا کر گدگدی کرنے کو ای میل کے ذریعے بھیج دی تھی۔ تصویر میں جودھ پور کے نواح کی یہ عورت کچی کندھوڑی والے گھر کے مٹی سے لپے ہوئے صحن کے وسط میں ٹاٹ کے ٹکڑے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ممتا کے جذبے کا ایسا مظہر بن گئی ہے کہ عورت ذات کی عظمت پر رشک آنے لگا ہے۔ بھئی بہ ظاہر عورت ننگی ہو رہی ہے۔ ایک طرف کی ساری چھاتی قمیض سے باہر ہے ؛مگر دیکھو اور سمجھو تو یہی ننگ اس عورت کے حوالے سے اس کی ممتا کا کتنا عظیم اور سنہری لباس ہو گیا ہے جس میں اس کی اپنی بچی اور پُنگڑا دونوں سما گئے ہیں۔ میں نہیں جانتا یہ بات درست ہے بھی یا نہیں لیکن بچپن میں سنی تھی کہ ہرنی کے بچے کو کم از کم ایک سال کی عمر تک بہت توجہ چاہیے ہوتی ہے۔ وہ خود سے چرنا چگنا بعد میں شروع کرتا ہے۔ یوں دیکھو تو اس عورت کی اپنی بچی اور پُنگڑا، جسے یتیم بتایا گیا ہے، دونوں اب اس ایک عورت کی توجہ کے محتاج ہیں۔ تم نے اس عورت کا چہرہ دیکھا ہے، خدا گواہ مجھے تو اس کی چھاتی سے دودھ کھینچتے پُنگڑے کی طرف اس بے پناہ محبت سے دیکھنا اتنا سرشار کر گیا ہے کہ میرے اندر سے سارا اضمحلال اور اکتاہٹ ہوا ہو گئی ہے۔ اب میرا ”واپڈا“ مجھ پر مہربان ہے میرا ”یوپی ایس“ پہلے کی طرح مجھے اندر باہر سے روشن کر رہا ہے۔
بھئی تم ہو مزے کے آدمی۔ سچ پوچھو تو آدمی کی نفسیات سمجھتے ہو۔ ہم بچپن میں کھلے آنگن میں کھیلنے کے عادی رہے ہیں۔ دیہی زندگی میں یہ عام سی بات ہے۔ مجبوری اسلام آباد لے آئی ہے تو کھلے آنگن اور ستاروں بھرا آسمان دونوں چھن گئے ہیں۔ تم نے ایک ہی تصویر میں کھلا آنگن دکھا دیا، کچی مٹی کی مہک سے آشنا کیا اور سچے، کھرے اور بے ریا جذبے سے ملاقات کرا دی۔ یقیناً میں اب یوسا پر بات کر سکتا ہوں۔ ہاں تو طے یہ ہوا تھا کہ ہم یوسا کو جتنا جتنا جانتے ہیں ’پہلے اتنا اتنا دہرا کر اپنا طیش، تلون جھٹک کر اپنی طبیعت رواں کریں گے۔
میمن جی، اوپر میں نے کہیں فیض کے ایک مصرعہ کو کاٹ کر آدھا کیا اور فوراً بعد بے دردوں کی بے دردی کا ذکر چھیڑ دیا تھا، تو پیارے یوں ہے کہ یوسا کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اسے بھی وردی پہنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جب وہ چودہ برس کا ہوا تو اس کے ابا نے اُسے لیونکایو پراڈو ملٹری اکادمی میں بھیج دیا تھا مگر اس نے جلد اس سے چھٹکارا پا لیا اور اپنی تعلیم پیورا سے مکمل کی۔ گریجوئیشن سے سال بھر پہلے ہی اس نے مقامی اخبارات کے لیے صحافت شروع کردی تھی۔ بعد ازاں وہ لیما کی سان مارکوس نیشنل یونیورسٹی میں قانون اور ادب پڑھنے لگا۔ اپنی عمر سے تیرہ سال بڑی عورت سے شادی کی جو چند سال ہی چل پائی۔ تاہم لطف کی بات یہ ہے کہ اسی عرصے میں وہ ادیب بن چکا تھا اس کی پہلی کتاب افسانوں کی تھی اور یہ اس سال چھپی تھی جس سال میں پیدا ہوا تھا گویا یوسا کی کتاب ”رہنماؤں کا ٹولا“ اور میں ہم عمر ہیں۔ پہلی بیوی چھوٹ گئی مگر ادب نہ چھوٹا۔ علیحدگی کے سال بھر بعد اس نے اپنے ہی خاندان میں ایک اور شادی کی اور بچے پیدا کیے۔
دیکھو جان من! میں نے یوسا کی بابت کتنی پرلطف باتیں ڈھونڈھ نکالی ہیں۔ لو، لگے ہاتھوں مل جل کر ایک نظر اس کے ادبی کام پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ اس کے افسانوں کے پہلے مجموعے کا حوالہ اوپر آ چکا۔ اس کا پہلا ناول (دی ٹائم آف دی ہیرو) ’ہیرو کا وقت‘ تھا، جو 1963 ء میں چھپا۔ اس کے دوسرے فکشن کے کام میں (کنورسیشن ان کیتھڈرل) ’کیتھڈرل میں مکالمہ‘ اور ’گرین ہاؤس‘ بہت اہم جانے جاتے ہیں۔ یوسا نے کئی اور ناول بھی لکھے اور اس کا شمار ان لوگوں میں کیا جانے لگا جنہیں ادب سے جنون کی حد تک پیار ہوتا ہے۔ وہ جو یوسا نے گزشتہ ایک باب میں اسلوب حیات اور لگن والی بات کی تھی تو وہ لگن یوسا کو ودیعت ہوئی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ اسے سیاست اور صحافت کا چسکا اور لپکا بھی رہا۔ لہٰذا وہ سارے پسندیدہ اکھاڑوں میں پوری توجہ سے اترتا رہا۔
پیارے عمر میمن! دیکھ لو، میں نے اپنے تئیں خود کو یوسا کے بہت قریب کر لیا ہے۔ حتی کہ میں یہاں تک جان گیا ہوں کہ وہ اپنی فکشن میں تاریخی مواد کو اپنی زندگی کے واقعات سے جوڑ کر نیا متن تعمیر کرنے میں بہت سہولت محسوس کرتا ہے۔ ہیرو کا وقت والے ناول میں اس نے ملٹری کالج والے زمانے کے تجربے کو بہت سفاکی اور مشاقی سے برتا تھا یہاں تک کہ بدکرداری اور بے اصولی کو فروغ دینے والے اداروں سے اس کی شدید نفرت متن سے اُبلی پڑتی ہے۔ اس نے اپنی فکشن کو سیاسی اور سماجی نظام کی کجیوں کا ناقد بنالیا۔ ”کیتھڈرل میں مکالمہ“ والا ناول تو سیدھا ڈکٹیٹرشپ پر زد لگاتا ہے اور ان نارسائیوں کا قصہ سناتا ہے جو ایسے عہد ناپرساں میں عوام کا مقدر ہو جایا کرتی ہیں۔ ”گرین ہاؤس“ کی کہانی ملٹری کے ناہنجار افسروں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والیوں اور جسم فروشی کو دھندا بنا لینے والیوں کے حوالے سے بنائے گئے ادارے کے گرد گھومتی ہے۔ فکشن کی کئی دوسری کتابوں میں وہ حقیقی کردار اور اصل واقعات بھی بے دھڑک لے آتا رہا ہے جس پر ناقدین ناک بھوں چڑھاتے رہے۔ اسے اس پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ وہ خم ٹھوک کر کہتا ہے کہ ہاں وہ اصل واقعات کا احترام کرتا ہے اور یہ کہ وہ ان کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرتا تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے ناقد لوگو! جب یہ کہانی کا حصہ ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں فکشن بنالیا کرتا ہے۔ یوں کہ وہ سچے تاریخی واقعات وہاں پہنچ کر محض تاریخ کا باب نہیں رہتے۔
یوسا کے بارے میں میری جانکاری یہیں پر تمام نہیں ہوجاتی کہ اس کی کچھ اور زقندیں بھی میری نظر میں ہیں مثلاً مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ جو اس کے بارے میں کیتھ بوکر نے کہہ رکھا ہے کہ اس کا اوّل اوّل کام ادب کے سنجیدہ قاری کو زیادہ متوجہ کرتا ہے، تو وہ بجا کہا تھا۔ وہ اس عرصے میں تخلیقی عمل سے پوری توجہ اور توانائی کے ساتھ جڑا ہوا لگتا ہے۔ تم نے چوں کہ یوسا کو ڈھنگ سے پڑھ رکھا ہے لہٰذا بتا سکو گے کہ کیا میرا یوں کہنا ”قاضی جی کا پیادہ گھوڑے سوار“ والا معاملہ تو نہیں بن گیا ہے؟ تاہم سوال یہ ہے کہ، یہ جو بعد میں اس نے ناول لکھے تھے، ’کپٹن پانٹوجا اینڈ سپیشل سروس‘ اور ’آنٹ جو لیا اینڈ دی سکرپٹ رائیٹر‘ اور اس طرح کے دوسرے، تو ان میں اس کے بیانیے کی وہ دبازت کہاں گئی جو پہلے اس کے ہاں خاص وصف ہو گئی تھی۔ وہ زندگی کے اندر اترنے سے کہیں زیادہ اس طرف کیوں متوجہ ہو گیا کہ اپنے قاری کی گدگدی لے ؛بیانیے کو سیدھا اور سطح سے چٹیل رکھے، ایسا کہ متن کے اندر اترنے کا تردد کرنا ہی نہ پڑے۔
لاطینی امریکا کے اس فکشن نگار کی کچھ اور بھی قلانچیں ہیں، جن کی طرف میرا دھیان جاتا ہے۔ مثلاً اًس نے کامیو، ہیمنگ وے اور سارتر کے ساتھ ساتھ فکشن نگار گبریل گارسیا مارکیز پر تنقیدی کام کیا اور خوب جم کر کیا، لگ بھگ کتاب بھر کا تنقیدی کام مارکیز کے حوالے سے سامنے آیا ( غالباً یہ اس کی ڈاکٹریٹ کا مقالہ تھا) ؛ مگر دوسری طرف اسی مارکیز ہی سے وہ اُلجھتا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں پہلے دوست تھے پھر ایک تقریب میں یوسا نے مارکیز کے منھ پر گھونسا دے مارا تھا۔ دونوں میں تیس سال تک بول چال بند رہی۔ بھئی کیا یہ قلابازی نہ ہوئی۔ تاہم یوسا کی اگلی قلابازی مجھے اچھی لگی کہ مارکیز کو اس کے ناول ”تنہائی کے سو سال“ کی چالیسویں اشاعت کے موقع پر یوسا نے اپنا تنقیدی مطالعہ بطور ابتدائیہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ شروع شروع میں یوسا سیاسی طور پر دائیں جانب تھا مجھے لکھنے والوں کا سیاسی حوالے سے ایک نقطہ نظر رکھنا اچھا لگتا ہے مگر مجھے ایسے لوگ مشتعل کر دیا کرتے ہیں جو اپنا قبلہ بدلنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ [قبلہ تو ہم لوگ بھی بدل چکے ہیں، لیکن شروع ہی میں۔ میمن] یوسا نے اگرچہ ایکا ایکی ایسا نہیں کیا لیکن رفتہ رفتہ وہ دائیں بازو سے کٹ کر پکا پکا بائیں جانب ہو گیا۔ کہو کیا یہ بھی ایک قسم کی قلابازی نہیں ہے۔
میں جانتا ہوں اب تک تم میری باتوں سے خوب خوب اُکتا چکے ہو گے اور کہو گے بھئی تمہیں تو ”اِنتقالات اور کیفی زقندیں“ پر بات کرنی تھی اور تم یوسا کی اپنی زندگی کی زقندیں لے بیٹھے۔ جی تمہارا کہا درست۔ تمہارا اعتراض سر آنکھوں پر ۔ مگر دیکھو اب جو میں اس باب میں دیکھتا ہوں اور ان مثالوں کی بابت سوچتا ہوں جنہیں پڑھ پڑھ کر میں چڑ گیا تھا تو ان ہی کے حوالے بہت ساری کام کی باتیں نکل آئی ہیں۔ لو میں نے اس کا ایک خاکہ سا بنا دیا ہے :
1۔ فوکنر: ”اَیزآئی لَے ڈائنگ“ ( اس ناول میں مختلف راوی۔ کردار ہیں۔ )
2۔ جوائس: ”یولیسس“ ( ”یولیسس“ میں ایک ہمہ دان قاری اور ایک یا ایک سے زائد راوی۔ کردار ہیں۔ اس میں مکانی انتقال بھی واقع ہوتا ہے۔ )
3۔ ڈی ایم تھامس: ”دی و ہائیٹ ہوٹیل“ (پیچیدہ سلسلے وار زمانی انتقالات کے نظام کی تعمیر۔ حقیقت پسند کہانی آخر میں فینطاسی میں بدل جاتی ہے۔ )
4۔ ہرمن ہیسے : ”اشٹیپن وولف“ (جب ماضی کے عظیم خالقوں کی جاوداں روحیں راوی۔ کردار کے سامنے آتی ہیں تو زمانی زقند لگتی ہے۔ )
5۔ ژواؤں گی مارائینس روسا: ”دی ڈیول ٹو پے ان دی بلیک لینڈس“ (خاص کردار کی مرد سے عورت میں تبدیلی ؛ یہ کیفی انتقال کی ایک مثال ہے۔ )
6۔ و رجینا وولف: ” اور لینڈو“ (خاص کر دا ر کی مرد سے عورت میں تبدیلی ؛ کیفی انتقال کی ایک اور مثال۔ )
7۔ کافکا: ”میٹا مورفوسس“ (آہستہ آہستہ قلب ماہیئت۔ ایسی زقند جو طبعی قوانین کی پابند نہیں ہے۔ )
8۔ کافکا: ”دی کے سل“ (معروضی حقیقت سے رہائی: سست رفتار پیچیدہ اور خفیہ عملیت۔ )
9۔ کافکا: ”دی ٹرائیل“ (معروض سے علامت، مابعدالطبیعیات اور غیر مرئی صورت حال کی طرف جست۔ )
10۔ میل ول: ”موبی ڈک“ (سفید وہیل مچھلی جب اسطوری روپ دھارتی ہے تو کہانی کیفی زقند لگاتی ہے۔ )
11۔ خوان رولفو: ”پیدرو پارامو“ (ناول کیفی زقند کی ایک اور مثال ہے۔ قاری پر اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ مرے ہوئے لوگ غائب نہیں ہوتے بل کہ مستقل زندہ رہتے ہیں۔ یہ ایسا انکشاف ہے جو رفتہ رفتہ اور ٹکڑوں میں ہوتا ہے۔ )
12۔ ہولیو کرتازار: ”لیٹر ٹو اے ینگ لیڈی ان پیرس“ (ہلکی پھلکی کہانی کے بیچ بڑی گمبھیر کیفی زقند۔ )
13۔ ہولیو کر تازار: ”دی می ناڈس“ (بیان ہونے والی دنیا کی نفسیاتی تبدیلی اور ایک مہمل واقعہ کی طرف زقند۔ )
14۔ سیلین: ”ڈیتھ آن دی انسٹالمینٹ پلان“ (امتلائے بحری کا شکار ہونے والوں کی حقیقت کی ایک اور سطح پر زقند۔ )
15۔ سیلین: ”جرنی ٹو دی اینڈآف دی نائٹ“ (اس کا محض قوسین میں ایک اہم ناول کے طور پر حوالہ آیا ہے۔ اس میں بھی کوئی نہ کوئی زقند ضرور ہوگی مگر یوسا نے اسے بیان کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ )
اِن پندرہ مثالوں کو یوسا کے متن سے الگ کرنے تک میں بہت الجھا ہوا تھا۔ اسے جاننے کے لیے خود کو ہلکان کرنے، اور پھر سے ہر ناول سے اخذ کیا گیا ہر نکتہ الگ کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ میں اندر سے ساؤنٹھا ہو گیا ہوں۔ اب مجھے کچھ کچھ سمجھ آنے لگا ہے کہ یوسا ان ”انتقالات“ اور ”زقندوں“ سے کیا معنی اخذ کرتا رہا ہے۔ یہیں مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بھی اس موضوع پر بات کر رکھی ہے ( گویا یوسا نے اگر جھل مارا ہے تو میں بھی اس باب میں پیچھے نہیں ہوں ) ۔ خیر جس طرح اس نے اپنے کام کے نکات کو ڈھیر ساری مثالوں کے بیچ دبا رکھا ہے ایسے حیلے کی طرف میرا دھیان نہ گیا تھا۔ میں نے تو ، جسے سو بسوے جانا، سیدھے سبھاؤ کہہ دیا۔ وہ کیا تھا، جو میں نے کہہ رکھا ہے؟ اس پر تو بعد میں آتا ہوں، پہلے یوسا کے دوچار جملے جو مجھے لطف دے گئے، وہ الگ کر کے نقل کر رہا ہوں :
اگر اِنتقالات کارگر نہ ہوں تو نتیجہ اِنتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔
تناظر کی یک بارگی اور من مانی قلانچوں سے قاری سمت کا اِحساس کھو بیٹھتا ہے۔
مکانی انتقالات کے مقابلے میں زمانی انتقالات ذرا کم ہی واقع ہوتے ہیں۔
ہر زمانے کے فکشن نگاروں نے سطح حقیقت کے اِنتقالات کے ہمہ گیر وسیلے کو تصرف میں لانا سیکھ لیا ہے۔
انتقالات اور زقندیں کہانی کی اساس کو مکمل طور پر نہیں بدلتیں۔
ایسی زقندیں جو معروض کو فینطاسی میں بدل دیں کیفی زقندیں ہوتی ہیں۔
اور اپنی اس بات کو یہاں دہرانے کا موقع آ گیا ہے جو میں نے ”اَفسانے میں کہانی کا پلٹا“ کے ذیلی عنوان سے اپنے ایک مضمون ”اُردو اَفسانہ : بنیادی مباحث“ میں لکھ دی تھی۔ دیکھو تو جو یوسا کہہ رہا ہے اور جو میں اپنے تئیں اندازے قائم کرتا رہا ہوں ان میں کچھ باتیں کتنی مشترک ہو گئی ہیں :
’یاد رہے وہ زمانہ بیت گیا جب اَفسانے کا بیانیہ صرف ایک کہانی کو سہار سکتا تھا اب تو مَتن کے خارج اور داخل میں ایک سے زائد کہانیاں ایک خاص آہنگ میں رَواں رہتی ہیں اور وہ بھی یوں کہ ہر نوع کے قاری کے ذوق ِجمال اور اس کے حسی اور فکری علاقوں کو بقدرِ ظرف سیراب کرتی جاتی ہیں۔ یوں تو اَفسانے میں کہانی /کہانیوں کی موجودگی اُن سات متعین سُروں جیسی ہوتی ہے جن کے اُوپر والا سا، نی کے بعد لگا دینے سے آٹھویں سُر کے اسرار جاگ اُٹھتے ہیں، کچھ اس طرح کہ کہانی/کہانیوں کے یہی آٹھ سُر پلٹے میں آ کر زندگی کا ایک دَائرہ مکمل کر لیتے ہیں۔
لیجیے صاحب! جس دائرے کی میں بات کر رہا ہوں وہ یقین کامل، دیکھی بھالی حقیقت اور محض مشاہدے کی رنگا رنگ مگر پختہ روشنائیوں سے نہیں بنتا اور اگر بن بھی جائے تو واقعے کی ٹھوس سطح سے اُوپر اُٹھ نہیں پاتا کہ اس میں تھوڑی سی اُلجھن، تھوڑی سی حیرانی، بے پناہ تشویش، گہرا تجسس اور مادے کو تباہ کرنے کے عزم کی ضرورت لا محالہ پڑتی ہے۔ مانی ہوئی بات ہے کہ اِنسانی تجسس ثبوت سے نہیں، سوال سے زیادہ توانائی پاتا ہے، اور یہی توانائی مَتن کے اَندر سے پھوٹ کر قاری کے اندر اُتھل پتھل پیدا کرتی ہے۔ تشویش آگاہی کی دیوار پر ضربیں لگاتی ہے اور آگہی تشویش پر قابو پانے کے لیے نئی راہوں کے تجسس کو تراشتی ہے۔ نئے امکانات انہی کچے رنگوں سے پھوٹتے ہیں۔ جب تک کہانی قاری کے اندر زیریں سطحوں پر ایک روحانی اُبال پیدا نہ کرے اور نفسیاتی تاروں میں جھنجھناہٹ پیدا نہ کرے کہانی کے سُروں میں فکشن کا پلٹا نہیں لگتا۔
کہانی کو افسانے میں پلٹا دینے کے لیے ہر افسانہ نگار اپنے اپنے وسائل بروئے کار لاتا ہے اور سچ پوچھیں تو اِس کا اِنحصار ہر تخلیق کار کی ذاتی اُپج اور اُس کے اپنے تخلیقی عمل کی دَھج پر ہوتا ہے۔ لکھنے والا داخلی زندگی کو لکھتے لکھتے خارجی زندگی کا پلٹا لگائے یا خارجی زندگی کو لکھتے ہوئے داخل کی سمت مڑ کر معنی اور جمال کو ہم آمیز کر لے اس کا انحصار اُس رویے پر ہے جو اس نے خود زندگی برتنے کے لیے چُن رکھا ہوتا ہے۔
ممتاز شیریں نے کہانیوں کے الگ الگ تیور دیکھے تو انہیں تیکنیک کا تنوع کہا۔ عسکری کی کہانی ”حرامجادی“ اسی تنوع میں داخلی ہوئی اور احمد علی کی ”ہماری گلی“ خارجی، منشی پریم چند کا افسانہ ”شکوہ شکایت“ سادہ بیانیہ ٹھہرا اور غلام عباس کا ”آنندی“ ایک شہر کو کردار بنانے والا افسانہ بن گیا۔ مانتا ہوں کہ ممتاز شیریں نے اسے تیکنیک کا تنوع کہا ہے تو اتنا غلط بھی نہیں کہا کہ یہ ایسا تنوع ہے جو دور ہی سے نظر آ جاتا ہے۔ میں کہہ آیا ہوں کہ ہر تخلیق کار اپنی ذاتی اُپج کے ہاتھوں مجبور ہے وہ ایک خاص زاویے سے منظر دِیکھتا اور دِکھاتا ہے۔ موضوع، منظرنامہ اور تخلیق کار بدلنے سے بیانیہ میں اس طرح کی در آنے والی تبدیلیوں سے کہیں زیادہ اہم یہ بات ہے کہ ایک ہی موضوع اور مواد کو برتنے والے دو مختلف تخلیق کاروں کے تنوع کو پرکھا جائے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ ہوا، میں جس تنوع کی بات کر رہا ہوں وہ ایک ہی تخلیق کار کے دو فن پاروں کو مختلف بنا دینے سے ظہور پاتا ہے، اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایک حقیقی فن کار کی تخلیقات میں اس کے بے پناہ امکانات پائے جاتے ہیں، تاہم تیکنیک کے اس تنوع کو ایک ہی تخلیق کار کے مجموعی تخلیقی مزاج کے اندر رکھ کر دیکھا اور پرکھا جانا چاہیے۔
ممتاز شیریں نے جسے تیکنیک کے تنوع کے طور پر شناخت کیا ہے وہ دراصل ایک فکشن نگار کا دوسرے فکشن نگار سے فاصلہ ہے۔ وہی فاصلہ جو افتاد طبع کے باعث خود بہ خود قائم ہو جاتا ہے۔ جو فکرو احساس کی تبدیلی سے در آتا ہے یا پھر جسے زمانی اور مکانی بُعد کے سبب خود بہ خود بیچ میں آجانا ہوتا ہے۔ رہ گئی تیکنیک تو صاحب خدا لگتی کہوں تو بات وہی بیدی والی درست لگتی ہے کہ ”مختصر اَفسانے کا کوئی کلیہ قائم نہیں کیا جاسکتا“ ۔ بیدی نے افسانے کا کوئی کلیہ نہ قائم کرنے کا جو کلیہ قائم کیا ہے اس سے مجھے اتفاق ہے، جی بالکل اتفاق۔ ماننا پڑے گا کہ ہر حقیقی تخلیق کار کے ہاں ہر افسانہ اپنی نئی تیکنیک کے ساتھ کاغذ پر اُترتا ہے اس کے باوصف کہ یہ تیکنیک اسے ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے مقبول بناتی ہے یا ناکام تجربہ قرار دے کر طاق نسیاں پر رکھ دیتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہر ماں کے گربھ استھان سے ہر بچہ الگ شناخت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کچھ مقدر کے سکندر نکلتے ہیں اور کچھ کو زمانہ روند کر گزر جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے، صاحب، کہ بات افسانے میں کہانی کے پلٹے کی ہو رہی تھی۔ افسانے میں تیکنیک کے تنوع تک ہم گمراہ ہو کر نہیں آئے، قصداً آئے ہیں، کہ یہی وہ حیلہ تھا جس کے وسیلے سے میں یہ کہنے کے قابل ہو پایا ہوں کہ ہر لکھنے والا اپنے تمام افسانوں میں کہانیوں کو ایک طرح سے نہیں پلٹتا، بل کہ ہر کہانی میں اسے ایک الگ قرینے کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرے تو ایک نئی کہانی کی تخلیق کا جواز ہی مشکوک ٹھہرتا ہے۔ ’
یہ جسے میں کہانی کا پلٹا کہہ رہا ہوں کہیں یہی تو یوسا کے انتقالات اور کیفی زقندیں نہیں ہیں؟ تم کو پہلے ہی منصف کر چکا ہوں لہٰذا چاہو تو اس باب میں بھی فیصلہ سنا سکتے ہو۔
تم نے انگریزی لفظ ’کرکس‘ کے لیے مناسب اردو لفظ نہ ملنے پر جس پریشانی کا اظہار کیا ہے اسے میں سمجھ سکتا ہوں۔ پنجابی کا ایک لفظ ہے ”مِکّھ“ ؛ اس کے وہی معنی ہے جو ”مُخ“ کے ہیں یعنی: ”مغز، گودا“ ۔ مجھے اس ”مُخ“ پر کوئی اِعتراض نہ ہوتا اگر اِس پر پیش نہ ڈالنا پڑتی۔ میری ہٹ دھرمی دیکھو کہ میں جان بوجھ کر اسے ”مِخ“ ہی لکھتا پڑھتا رہا ہوں۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اِس پیش کے ساتھ یہ عربی کا لفظ بن جاتا ہے۔ خیر مجھے تو ، تمہیں اُلجھانے والا یہ ’کرکس‘ مِکھ/مُخ ہی لگتا ہے۔
میمن جی، یہ جو تم نے ایک دو جگہ ”مکملاً“ لکھا ہے۔ کیا اِس میں بھی کوئی نکتہ چھپا ہوا ہے ؛ورنہ مجھے لگتا ہے کہ ان مقامات پر ”کاملاً“ سے کام نکالا جا سکتا تھا۔ ”مکملاً“ کے مقابلے میں ”کاملاً“ کا لفظ ذرا سہولت سے ادا ہو جاتا ہے۔
لو پیارے! پھر سر اور کمر دونوں دُکھنے لگے ہیں۔ یوسا پر بات کرنے کے لیے اس بار بہت مشقت کرنا پڑی۔
محبت کے ساتھ،
محمد حمید شاہد






