بڈاوا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں یہ خبر اڑی کہ بڑے چودھری صاحب کے کھیت میں جو بڈاوا کھڑا ہے وہ رات کو چہل قدمی کرتا ہے۔ اس اطلاع سے جاگیردار بہت پریشان ہوا اور اس نے حکم دیا کہ اس بڈاوے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ نیا کھڑا کر دیا جائے۔ حکم ملنے کی دیر تھی کہ وہاں ایک نیا بڈاوا کھڑا کر دیا گیا۔ گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا اور چودھری صاحب کی دانشمندی کی داد دی۔ کچھ دن ہنسی خوشی گزرے کہ ایک دن پھر کسی نے ڈرتے ڈرتے چودھری کو اطلاع دی کہ مالک آج پھر بڈاوا کھیتوں میں چل پھر رہا تھا۔ جاگیر دار سخت پریشان ہوا۔
اس بار اس نے گاؤں کی پنچایت بلائی اور کہا کہ صاحبو، پنچو، اس بڈاوا کا کوئی علاج ہو تو بتاؤ؟
بزرگوں میں سے کسی نے کہا کہ بڈاوا کی نگرانی پر ایک آدمی مقرر کر دیا جائے جو اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے۔
جاگیردار نے کہا کہ اگر آدمی ہی رکھنا ہے تو بڈاوے کی کیا ضرورت۔ تمہارے خیال میں پہلے کے لوگ بیوقوف تھے جنہوں نے آدمی کے بدلے فصل کی نگرانی پر بڈاوا رکھا تھا۔ پنچایت کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ زمین دار نے قدرے سنجیدگی سے کہا، یہ بڈاوا ہماری ضرورت ہے اسے کھیتوں میں اس مقصد سے کھڑا کیا جاتا ہے کہ فصل کی دشمن ننگی بھوکی مخلوق کو ڈرایا جائے۔ اور یہ ہم سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتا۔ آدمی رکھنا مہنگا سودا ہے۔ کوئی اور تجویز؟
ایک اور بوڑھے نے زبان کھولی اور بولا صاحب ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ بڈاوے کی لکڑی ضرور بدلی گئی لیکن کپڑے وہی پرانے ہیں۔ اس طرح ہمارا موجودہ بڈاوا نہ تو پوری طرح نیا ہے اور نہ ہی پوری طرح پرانا۔ ہمیں اسے یقین دلانا ہو گا کہ تبدیلی آ چکی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ۔۔۔ سمجھ گیا سمجھ گیا! زمیندار نے ہاتھ کے اشارے سے بوڑھے کی تائید کرتے ہوئے اسے مہربان نظروں سے دیکھا اور مسکرایا۔
دوسرے دن کھیت میں نیا بڈاوا بالکل نئی سج دھج کے ساتھ کھڑا تھا۔ پھر گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ کسی نے اطلاع دی کہ بڈاوا پھر حرکت میں آ گیا ہے۔ اس بار صورت حال پہلے سے زیادہ خراب تھی یعنی یہ کہ بڈاوا دوسرے کھیتوں میں بھی آنے جانے لگا تھا۔ اس مرتبہ کی پنچایت میں آس پاس کے گاؤں بھی شامل ہو گئے۔ کچھ زمینداروں نے بڈاوے کے دوسرے کھیتوں میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اس کی نئی سج دھج پر محمول کیا۔ کچھ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس کا بڈاوا دوسرے بڈاووں کو اپنے راستے پر چلانے کی کوشش کر سکتا ہے یعنی ان کے اندر بغاوت پیدا کر سکتا ہے۔ اس بات پر پنچایت میں بیٹھے سبھی لوگوں نے تائید میں سر ہلائے لیکن چھوٹے چودھری کے نمائندے نے کہا کہ جناب بڈاوا تو بڈاوا ہے۔ فقط بانس کے دو لٹھے، آپ اسے کپڑے پہنا دیں تو آدمی نظر آتا ہے ِ، خواہ اسے کھیت میں کھڑا کر دیں خواہ کرسی پہ بٹھا دیں۔ بڑے چودھری نے بے سے چینی سے پہلو بدلا۔ جب کہ چھوٹے چودھری کے نمائندے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، میرا مطلب ہے کہ پرانی طرز کے ڈھیلے ڈھالے کسانوں والے لباس کے بجائے اگر آپ اسے کوئی وردی پہنا دیں تو اس کے اندر حب الوطنی اور فرض شناسی کا جذبہ جاگ اٹھے گا۔ اس تجویز پر بڑا چودھری خوش ہو گیا۔ اس نے کہا کہ تم واقعی عقلمند آدمی ہو۔
دوسرے دن بڈاوا کو عمدہ ہیٹ اور نئی یونیفارم مل گئی۔ اب وہ بالکل نئی سج دھج کے ساتھ کھیتوں کے بیچ سینہ تان کر یوں کھڑا ہو گیا کہ راہگیر دور سے دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتے۔ اور آس پاس کے گاؤں میں چرچا ہونے لگا کہ چودھری صاحب نے ہماری صدیوں کی ریت بدل دی، بڈاوا کی جگہ کھیت میں سپاہی کھڑا کیا ہے۔ یہ بات کسانوں نے مالک کو بتائی تو اس نے کہا یہ بتاؤ کہ بڈاوا تو آرام سے اپنی جگہ کھڑا ہے نا۔ انہوں نے کہا جی حضور۔ اب تو بڈاوا جنبش بھی نہیں کرتا۔ چودھری خوش ہو گیا۔ گاؤں والوں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ وقت گزرتا رہا۔ یہاں تک کہ فصل تیار ہو گئی۔ اب جو کٹائی کا وقت آیا تو ہاریوں اور مزارعوں نے سر پیٹ لیا۔ کہا صاحب ہمیں دھوکہ ہوا، فصل برباد ہو گئی۔ جانور اور پرندے جس بڈاوے سے ڈرتے تھے وہ تو اس کا پرانا کسانوں والا لباس تھا جب وہ لہراتا تھا تو وہ اسے زندہ انسان سمجھتے تھے۔ یوں وہ ہماری فصلوں سے دور رہتے تھے۔
جاگیر دار نے پھر پنچایت بلائی اور مشورہ طلب کیا۔ ایک بوڑھے نے کہا جناب اس میں کیا نقصان تھا۔ بڈاوا بے چارہ رات ہی کو تو گھومتا پھرتا تھا۔ دن میں تو اپنی ڈیوٹی ٹھیک طرح سے انجام دیتا تھا۔ بہتری اسی میں ہے کہ اسے اس کا روایتی لباس دوبارہ پہنا دیا جائے۔ تاکہ اس کا تشخص بحال ہو۔ ہماری فلاح اسی میں ہے۔ گاؤں کے چودھری نے کہا اور کوئی تجویز؟ لیکن سب خاموش رہے۔ آخر کار فیصلہ ہوا کہ بڈاوا کی وردی اتار دی جائے اور اس کی جگہ واپس اس کا اپنا لباس پہنا دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد کچھ عرصہ تک حالات معمول کے مطابق ہی رہے۔ کچھ لوگ بڈاوے کی چہل قدمی کے عادی ہو گئے تھے اور کچھ اب بھی خوفزدہ تھے لہذا لوگوں نے رات کے وقت گھر سے نکلنا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ بڈاوا کی آمد و رفت دوسرے کھیتوں میں دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔ آس پاس کے گاؤں والے سخت پریشان تھے۔ چودھری کو یہ بھی اطلاع ملی تھی کہ اب نہ صرف یہ کہ ان کا بڈاوا دوسرے کھیتوں میں آتا جاتا ہے بلکہ وہ اپنے یہاں دوسرے بڈاووں کو بھی مدعو کرتا ہے۔ اس کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تحت دوسرے گاؤں والوں نے اس بار اپنے یہاں پنچایت بلائی اور اس معاملے کی مکمل بیخ کنی کا ارادہ کیا۔ یہ اجلاس کئی دن چلتا رہا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ کھیتوں میں مستقل الاؤ روشن کر دیا جائے اور کسی نے کہا کہ بڈاوا کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی جائے۔ لیکن کئی دن کی پنچائتوں کے باوجود مسئلے کا کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکل سکا۔ آخر میں بڑے چودھری نے کہا کہ جب تک بڈاوا لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے اور اپنی برادری تک محدود ہیں اس وقت تک ہمیں کوئی سخت کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بعد عرصے تک کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ بھولے بھٹکے دیہاتی اگر ان زمینوں کی طرف رات کو نکل آتے تو کھیتوں میں بڈاووں کی پراسرار نقل و حرکت دیکھ کر یا تو بھاگ کھڑے ہوتے یا بیہوش ہو جاتے۔ بڑے اور چھوٹے چودھری کی زمینوں کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے تھے۔ لیکن تمام چودھریوں کی متفقہ رائے تھی کہ یہ بڈاوے ہمارے لئے بے ضرر ہی نہیں بلکہ دوسروں کے بڈاووں سے زیادہ کار آمد ثابت ہو رہے ہیں یعنی یہ کہ دن میں وہ بڈاوا ہوتے ہیں اور رات کو ہماری چوکیداری کرتے ہیں۔
وقت گزر رہا تھا کہ ایک دن پھر ایک ایسا عجیب واقعہ ہوا جس نے گاؤں بھر میں سنسنی پھیلا دی۔ ہوا یہ کہ گاؤں کا نمبردار کسی کام سے شہر گیا ہوا تھا کہ اس کے گھر میں ڈاکا پڑ گیا۔ گھر والوں نے غل مچایا تو چور بھاگ کھڑے ہوئے لیکن چشم دید گواہوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے بڈاوا کو نمبر دار کے گھر سے اکیلے بھاگتے دیکھا تھا۔ کچھ لوگوں نے بڈاوا کے نمبر دارنی کے ساتھ تعلقات کا شبہ بھی ظاہر کیا۔ بڑے چودھری نے اس بار گاؤں کی پنچایت بلانے کے بجائے گاؤں میں ایک پولیس چوکی قائم کرنے کی درخواست حاکم کو بھیج دی۔ بڑے چودھری کی درخواست فوراً منظور ہو گئی اور گاؤں میں ایک پولیس چوکی قائم ہو گئی۔ لوگ پھر چین کی نیند سونے لگے اور بڑے اور چھوٹے تمام چودھریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مزارعے کی بیٹی اغوا ہو گئی۔ کئی روز کی تلاش کے بعد لڑکی کی لاش پولیس چوکی کے نزدیک کنویں سے ملی۔ گاؤں میں ایک بار پھر سنسنی پھیل گئی۔ اب آس پاس کے دیہات میں ایسی اکا دکا وارداتیں ہونے لگیں جن کا اس سے پہلے اس علاقے میں کوئی تصور نہیں تھا۔ ان حالات نے لوگوں کا بھروسا پولیس والوں پر سے اٹھا دیا۔ اور لٹے پٹے دیہاتی فریاد لے کر آنے لگے کہ حضور ہم پہلے ہی بھلے تھے۔ پولیس ہماری حفاظت میں ناکام رہی ہے۔ ہمیں پولیس چوکی نہیں چاہیے۔ لہذا اس چھوٹی سی چوکی پر جو سپاہی تعینات تھا اسے فارغ کر دیا گیا۔ اور پولیس چوکی کو تالا لگا دیا گیا۔
چوکیدار کے چلے جانے کے بعد کسی نے اطلاع دی کہ بڈاوا دن میں بھی کھیت سے غائب ہے۔ بڑے چودھری نے پھر پنچایت بلائی اور نئی افتاد سے سب کو آگاہ کیا اور مشورہ مانگا۔ ان میں سے ایک بوڑھا کھڑا ہوا اور بولا حضور اگر میری مانیں تو بڈاوا کی تلاش میں ایک آدمی وہاں بھیجیں جہاں سے پولیس والے آئے تھے۔ کیونکہ اگر میری خطا معاف ہو تو میں وہ راز بتاؤں جو میں نے کچھ دن پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بڑے چودھری نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اجازت دی تو بوڑھا بولا صاحب میں نے اپنی آنکھوں سے بڈاوا کو پولیس والے کی کرسی پر بیٹھے دیکھا ہے۔ اس خبر سے بڑا چودھری اور بھی پریشان ہو گیا اور اس نے اپنے خاص ملازم کو شہر بھیجا کہ جا کر اس پولیس والے کا پتہ لگائے۔ ملازم کئی دنوں تک اس شہر میں مارا مارا پھرتا رہا جہاں سے وہ پولیس والا آیا تھا۔ اس نے چوکی چوکی جھانکا۔ خدا کا کرنا ایسا کہ ایک دن اس نے حجام کی تلاش میں بازار کا رخ کیا تو وہاں اسے وہ سپاہی مل گیا۔ سپاہی چودھری کے آدمی کو دیکھ کر خوش ہو گیا اور اس کی بڑی آؤ بھگت کی۔ چودھری کے آدمی نے کہا کہ میں تمہاری ہی تلاش میں آیا تھا یہ سن کر سپاہی کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے کہا وہ میری زندگی کے سب سے یادگار دن تھے۔ جیسی میری تمہارے گاؤں میں آؤ بھگت ہوئی، کہیں نہیں ہوئی۔
چودھری کے آدمی نے کہا اگر تم گاؤں والوں کی مدد کرو تو تم دوبارہ اپنے منصب پر بحال ہو سکتے ہو۔ سپاہی نے کہا ہم تو چودھری صاحب کے غلام ہیں وہ حکم کر کے تو دیکھیں۔ چودھری کے آدمی نے کہا اچھا اب تو میں جا رہا ہوں حجامت بنوانے کل اسی جگہ ملنا تو باقی باتیں ہوں گی۔ سپاہی نے کہا تمہیں پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں میرے ساتھ چلو میرا حجام تمہاری حجامت مفت میں بنائے گا۔ دیہاتی بڑا حیران ہوا بولا کیا کوئی چیز اس دنیا میں مفت بھی ہے؟ سپاہی نے کہا کہ یہ اس وردی کا کمال ہے کہ مجھے دیکھ کر کوئی چیز کے دام نہیں بتاتا۔ یہ باتیں کرتا ہوا سپاہی حجام کی دکان پر پہنچ گیا۔ حجام نے دونوں کو بڑے ادب سے بٹھایا۔ ان کی خاطر تواضع کی اور پھر سپاہی تو رخصت ہو گیا اور دیہاتی کو حجام نے کرسی پر بٹھا دیا۔ ابھی حجام نے استرا ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ دیہاتی کی نظر آئینے پر پڑی اور وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑا کہ شیشے میں اسے نظر آنے والا آدمی، آدمی نہیں بڈاوا ہے۔
سپاہی کی تلاش میں نکلا ہوا دیہاتی گرتا پڑتا گاؤں پہنچا اور اپنے مالک سے کل روداد بیان کی تو چودھری بہت برہم ہوا اس نے کہا تم ہاتھ آئے سپاہی کو چھوڑ کر چلے آئے۔ تمہیں سو دفعہ بتایا جا چکا ہے کہ بڈاوا فقط بڈاوا ہے وہ جو لباس پہن لیتا ہے وہی بن جاتا ہے۔ اس سے ڈرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
چودھری کے خاص آدمی نے کہا کہ مالک ایک بات تو طے ہوئی کہ اب آدمی کی جگہ کچھ دنوں میں بڈاوا ہی بڈاوا ہوں گے۔ مجھے تو یہ ڈر ہے کہ سپاہی بھی بڈاوا ہی ہے بس مجھے نظر نہیں آ رہا ہے۔
چودھری نے کہا تم اس سے دوبارہ ملو تاکہ تمہارا خوف پوری طرح نکل جائے۔
چودھری کے خاص آدمی نے کہا کہ حضور مجھے معافی دے دیں اس بار کسی اور کو بھیج دیں۔
چودھری نے کہا نمک تم نے ہمارا کھایا ہے خاص آدمی ہمارے تم ہو اور میں بھیج کسی اور کو دوں۔
چودھری کے خاص آدمی نے کہا کہ حضور مجھے ڈر ہے کہ میں بھی نہ بڈاوا بن جاؤں۔
چودھری نے شفقت سے اس کی طرف دیکھا اور بولا۔ تم بڈاوا نہیں بن سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ تمہیں انسان اور بڈاوے میں تمیز ہے۔ جاؤ شاباش اپنا کام پورا کرو۔
وہ پھر مہم پر روانہ ہو گیا۔ اس بار وہ کئی دن تک ادھر ادھر مارا مارا پھرتا رہا۔ دن کو تندور سے نان لے کر کھا لیتا اور رات کو کسی سرائے میں رک جاتا۔ اک دن بھٹیارن نے اس کے آنے اور سرائے میں ٹھہرنے کا سبب پوچھا تو اس نے سارا قصہ بیان کیا۔ بھٹیارن نے کہا کہ میں اس شہر کے قاضی کو جانتی ہوں۔ وہ تمہاری ضرور مدد کر سکتا ہے۔
دوسرے دن وہ قاضی کے پاس پہنچا۔ عدالت لگی ہوئی تھی اور قاضی اپنی کرسی پر بیٹھا فیصلے سنا رہا تھا۔ اب جو دیہاتی کی نظر اس پر پڑی تو الٹے پاؤں بھاگا۔ اور گرتا پڑتا مالک کے پاس پہنچا اور اس کے پاؤں پکڑ کر رونے لگا کہ مالک جان سے مار دو مگر شہر نہ بھیجو وہاں کا تو قاضی بھی بڈاوا نکلا۔
مالک نے کہا بھلے آدمی تم اگر یونہی بھاگتے رہو گے تو بڈاوا کو واپس کون لائے گا۔ فصلیں تباہ ہوئی جا رہی ہیں۔ بھوکے تم ہی مرو گے۔ بال بچوں کی فکر ہے تو واپس شہر جاؤ اور بڈاوا کا کھوج لگاؤ۔
دیہاتی مرتا کیا نہ کرتا۔ پھر شہر کو روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک عورت ملی جس کی گود میں بچہ تھا۔ وہ چلتے چلتے تھک گئی تھی اور بچہ رو رہا تھا۔ دیہاتی نے اسے اپنی سواری پر جگہ دے دی۔ وہ بہت احسان مند ہوئی۔ دیہاتی نے پوچھا اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ تم اکیلی کہاں جا رہی ہو۔ عورت بولی میرا بچہ بیمار ہے کوئی دوا کام نہیں کرتی سنا ہے شہر اور دیہات کے بیچ راستے پر ایک پہنچا ہوا پیر ہے جو ہر جادو ٹونے کا علاج جانتا ہے۔ دیہاتی خوش ہو گیا بولا مجھے بھی لے چلو۔ جب وہ دونوں فقیر کی کٹیا پر پہنچے تو فقیر نے پہلے عورت کو کٹیا میں بلایا اور اس کے نکلنے کے بعد دیہاتی ڈرا ڈرا اندر داخل ہوا لیکن بوڑھے فقیر پر جونہی اس کی نظر پڑی وہ سرپٹ بھاگا۔ سڑک پر بھاگتے ہوئے اس کی ٹکر ایک شخص سے ہوتے ہوتے بچی۔ مگر وہ آدمی وہی سپاہی تھا جس کی تلاش میں دیہاتی اب تک مارا مارا پھر رہا تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہو گئے۔ سپاہی نے کہا بولو میں شہر میں تمہاری کیا خاطر کروں۔ دیہاتی نے مدعا بیان کیا اور اس سے مدد کی درخواست کی۔ سپاہی نے پوچھا مجھے انعام میں کیا ملے گا۔ دیہاتی نے کہا تمہارا کھویا ہوا عہدہ اور بہت کچھ۔ سپاہی راضی ہو گیا۔ اس نے کہا، لیکن بڈاوا کو راضی رکھنے کا گر صرف میں جانتا ہوں اس لئے میں خود گاؤں کی پنچایت میں جا کر تجویز پیش کروں گا۔
ایک بار پھر پنچایت بلائی گئی۔ سپاہی کی آمد سے گاؤں والے خوش تو نہ تھے لیکن چودھری کے حکم پر خاموش ہو رہے۔
سپاہی نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور بولا کہ جناب میرا مشورہ ہے کہ اس کی وردی نہ اتاری جائے۔ بلکہ اسی وردی کے اوپر بڈاوا کا وہ روایتی لباس پہنا دیا جائے جو عام کسانوں کا لباس ہے اور صدیوں سے بڈاوے پہنتے چلے آرہے ہیں اس طرح بظاہر وہ روایتی بڈاوا ہی رہے گا لیکن اندر سے وہ کوئی اور ہو گا۔ صاحب ہمیں اس طرح کی تبدیلی لانی ہوگی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ویسے بھی اب یہ تو سب مانتے ہیں جناب کہ بڈاوا تو بڈاوا ہے۔ فقط بانس کے دو لٹھے، آپ اسے کپڑے پہنا دیں تو آدمی نظر آتا ہے۔ خواہ اسے کھیت میں کھڑا کر دیں خواہ کرسی پہ بٹھا دیں۔ زمیندار کے دوسرے نمائندوں نے کہا سبحان اللہ یہ تو ایک پنتھ دو کاج والی بات ہوئی۔ زمیندار نے کہا تم واقعی عقلمند آدمی ہو۔ تم جیسے دانشمند آدمی کی گاؤں کو سخت ضرورت ہے۔
اس دن مجلس برخاست ہو گئی اور دوسرے دن لوگوں نے دیکھا کہ بڈاوا اپنی شاندار وردی پر اپنا وہی پرانا لباس پہنے کھڑا تھا جو ہوا میں لہرا رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس دن سے اس دیس کے کھیتوں میں یہ رواج ہو گیا کہ جب بھی کوئی نیا بڈاوا کھڑا کیا جاتا ہے تو اسے اندر وردی ضرور پہنائی جاتی ہے۔ وہاں کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اسی میں ان کی فلاح ہے۔


