طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر


muhammad salim gujranwala

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ فلمی ادا کار لہری سے انتہائی متاثر تھے۔

اس کے بعد انہوں نے بہت سے ڈراموں، ٹی وی شوز اور سٹیج پر اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے دوسرے ادا کاروں اور گلو کاروں کی نقالی کرنا معین اختر کا بنیادی خاصہ تھا، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اس میدان سے آگے لے جا کر ادا کاری کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ پھر انہوں نے انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ مل کر اپنی اداکاری کی تکون بنائی اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔

معین اختر کا مشاہدہ انتہائی زیرک تھا۔ وہ ہر ادا کار اور گلوکار کی کمال کی نقالی کر سکتے تھے۔ معین اختر نے اپنی زندگی میں کئی ڈراموں، سٹیج شوز، ٹی وی شوز، استقبالیہ تقریبات اور کچھ فلموں میں ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے ڈراموں کی فہرست میں روزی، مرزا اور حمیدہ، آخری گھنٹی، ہیلو ہیلو، انتظار فرمائیے، مکان نمبر 47، ہاف پلیٹ، فیملی 93، عید ٹرین، بندر روڈ سے کیماڑی، بے بی، رفتہ، رفتہ، گم، ڈالر مین، رانگ نمبر، سچ مچ کی عید، چار سو بیس، نوکر کے آگے چاکر نمایاں ہیں۔

انہوں نے کئی سٹیج ڈراموں اور دو فلموں مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں بھی کام کیا۔

معین اختر نے بہت سے سٹیج شوز کی میزبانی بھی کی۔ انور مقصود اور معین اختر کی جوڑی نے بہت ہی کامیاب اور شہرہ آفاق قسم کے ڈرامے اور گفتگو کے کئی پروگرام پیش کیے جن کے ملکی اور غیر ملکی ناظرین کی تعداد کروڑوں میں تھی۔ معین بہت سے ٹی وی شوز میں مختلف کرداروں کے روپ میں پیش ہوتے اور سوالات کے بہت خوب جواب دیتے۔

انہوں نے سلور جوبلی، پی ٹی وی ایوارڈ، معین اختر شو، یس سر نو سر، لوز ٹاک، چار سو بیس، ایکسکیوز می، شوشا، شو ٹائم، سٹوڈیو ڈھائی اور سٹوڈیو پونے تین میں کمال درجے کی ادا کاری کی۔

انور مقصود کے لوز ٹاک شو میں معین اختر کی ادا کاری کی معراج تھی۔ اس شو میں انہوں نے معاشرے کے تقریباً سبھی کرداروں کو اپنی ادا کاری سے امر کر دیا۔ لوز ٹاک میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر کا انٹرویو ایک انوکھی مثال بن گیا تھا۔ اس شو میں انہوں نے زبان و انداز اور نشست و برخاست بالکل بنگالی جیسی بنائی ہوئی تھی لباس اور رنگ سے بھی وہ مکمل بنگالی دکھائی دیے۔ جب یہ پروگرام ہوا کے دوش پر نشر ہوا تو بنگلہ دیشی سفیر نے انہیں حقیقت میں اپنی کرکٹ ٹیم کا منیجر سمجھتے ہوئے فون کر کے ان کے متعلق دریافت کیا۔ اس سے زیادہ معین اختر کی ادا کاری کی اور کیا بلندی اور معراج ہو سکتی ہے۔

معین اختر نے اپنے گائے ہوئے نغمات کی ایک البم ’تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے کے نام‘ سے بھی جاری کی۔
ان کی اس البم کے چند نغمات

چھوڑ کر جانے والے
چوٹ جگر پہ کھائی ہے
رو رو کے دے رہا ہے
دل رو رہا ہے

بیرون ملک سے تشریف لائے گئے سربراہان مملکت اور حکومت کے اعزاز میں دی گئی کئی استقبالیہ تقریبات کی نقابت کی ذمہ داریاں بھی معین اختر کو سونپی جاتیں جو وہ انتہائی چابک دستی سے سر انجام دیتے۔

صدر ضیاء الحق، ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان، غلام اسحاق خاں، دلیپ کمار اور صدر پرویز مشرف کی تقریبات کی نقابت بھی کی۔ انہوں نے مشرف کے سامنے ان کی نقالی بھی کی۔

معین اختر نے سماجی بہبود اور فلاحی کاموں میں بہت جوش و خروش سے کام کیا۔ دبئی، امریکہ اور ہندوستان میں کئی فلاحی تنظیموں کے پروگرامز میں بغیر معاوضے کے کام کیا۔ دنیا بھر میں انہیں سٹیج اور ڈرامے کا بے تاج بادشاہ اور طنز و مزاح کا آئن سٹائن کہا گیا۔

حکومت پاکستان نے معین اختر کی فنی ثقافتی، فلاحی اور خیراتی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی 1996 اور ستارہ امتیاز 2011 میں عطا کیا۔ انہیں 2005 میں پہلا انڈس ڈرامہ اعزاز دیا گیا۔

پاکستانی ڈرامہ، سٹیج اور سٹیج شوز کا یہ بے تاج بادشاہ بندش حرکت قلب کے باعث 22 اپریل 2011 کو اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہو گیا۔ انہیں کراچی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ لواحقین میں ایک بیوہ، دو بیٹے شرجیل، منصور اور بیٹی نوشین شامل ہیں۔

Facebook Comments HS