پنجاب میں چاول کی کاشت پر پابندی اور چولستان میں چھ نہروں کے اعلان کا تضاد


پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جانے والا وہ بل جس کے تحت وسطی پنجاب میں نہری پانی کی قلت کے باعث اگیتی چاول کی کاشت پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، ایک طرف تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب، جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان میں بیک وقت چھ نئی نہروں کی تعمیر کا اعلان ایک ناقابل فہم تضاد کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں خبریں ایک ہی صوبے کے دو مختلف حصوں کی ایسی تصویر پیش کرتی ہیں جہاں ایک خطہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے تو دوسرے میں نہروں کی فراوانی کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔

وسطی پنجاب، جو کہ صوبے کا زرعی دل کہلاتا ہے، میں نہری پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور دریاؤں میں پانی کی آمد میں قلت کے باعث کاشتکار پہلے ہی پریشان ہیں۔ اگیتی چاول، جو کہ زیادہ پانی طلب کرنے والی فصل ہے، کی کاشت پر پابندی اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ نہ صرف کاشتکاروں کے لیے معاشی مشکلات کا باعث بنے گا بلکہ غذائی تحفظ کے حوالے سے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف، چولستان کے صحرائی علاقے میں چھ نئی نہروں کی تعمیر کا اعلان کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ یہ علاقہ برسوں سے پانی کی قلت کا شکار رہا ہے اور یہاں زندگی کی رمق برقرار رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کی جاتی رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو یقیناً اس علاقے کی زراعت اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ قابل عمل ہے؟ کیا اس کے لیے پانی کے وافر وسائل موجود ہیں؟ اور کیا اس سے وسطی پنجاب میں پانی کی قلت مزید نہیں بڑھے گی؟

یہ صورتحال حکومت کی منصوبہ بندی اور ترجیحات پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ ایک طرف پانی کی کمی کے باعث اہم فصل کی کاشت پر پابندی لگائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف ایک ایسے علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں نہریں بنانے کا اعلان کیا جا رہا ہے جہاں پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پانی کے وسائل کو بہتر انداز میں تقسیم کیا جاتا اور وسطی پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے کوئی متبادل ذریعہ آبپاشی مہیا کیا جاتا؟

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ چولستان میں نہروں کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟ کیا اس سے بڑے پیمانے پر زراعت کو فروغ دیا جائے گا یا یہ کسی اور خاص مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے؟ ان سوالات کے جوابات جاننا عوام کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں کی شفافیت اور افادیت کا اندازہ لگا سکیں۔

مجموعی طور پر، پنجاب اسمبلی میں چاول کی کاشت پر پابندی کا بل اور چولستان میں چھ نہروں کی تعمیر کا اعلان ایک ایسی متضاد صورتحال پیدا کرتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے واضح پالیسی اور جامع منصوبہ بندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ صوبے کے تمام علاقوں میں پانی کے وسائل کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا سکے اور زرعی شعبے کو کسی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ وقت ہے کہ دوراندیشی اور دانشمندی سے فیصلے کیے جائیں تاکہ پنجاب کے دونوں حصوں کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS