تعلیم کا گرتا ہوا معیار
پاکستان میں تعلیم کا معیار فیسوں میں اضافے کے ساتھ بڑھنے کے بجائے ہر روز زوال پذیر ہو رہا ہے اور یہ ایک ایسی رائے ہے جس پر تمام طبقہ فکر متفق ہیں، اس رائے کی تصدیق کوئی مشکل امر نہیں ہے اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات پتہ چل جاتی ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیم کا معیار گزشتہ برسوں کی بہ نسبت کئی گنا گر چکا ہے جب کہ فیسوں کا معیار ماضی کی بہ نسبت کئی سو گنا بڑھ چکا ہے سرکاری اسکول اپنی ذمہ داری سرکاری انداز میں پوری کر رہے ہیں جبکہ پرائیویٹ اسکول اپنی ذمہ داریاں بھرپور کاروباری انداز میں پوری کر رہے ہیں اپنے اسکول کے لیے اساتذہ کا انتخاب کرنے کے لیے بہتر سے بہترین کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اساتذہ کو جب تنخواہ دینے کی باری آتی ہے تو پرائیویٹ اسکول سرکاری اسکول کی بہ نسبت کہیں پیچھے چلا جاتا ہے اور بیچارے پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ کم ترین تنخواہوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ اعلی ڈگریاں اور وسیع تجربہ رکھتے ہوئے بھی ان پرائیویٹ اسکول مالکان کی نظر میں ان کی تعلیم و تجربے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اگر خدانخواستہ کوئی ضرورت مند اسکول کی نوکری کرے تو اس کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس اسکول کی نوکری سے کہیں بہتر اس طبقے کی آمدنی ہے جو وہ کسی اور کام سے یا کسی کم حیثیت کام سے جس میں صفائی کا کام، گھروں میں ہیلپرز کا کام یا اور کوئی دیگر ایسا کام جس میں تعلیم کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا محض جسمانی مشقت ہوتی ہے حاصل کر سکتے ہیں اور یہ ایک پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ کی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے۔
پرائیویٹ اسکول کا ٹیچر شدید ذہنی اور جسمانی محنت کرنے کے بعد جو تنخواہ پاتا ہے وہ اس قدر قلیل ہوتی ہے کہ اس میں مہینہ تو کیا ایک ہفتہ گزارنا بھی ناممکنات میں سے ہے۔ اس کے علاوہ اس تنخواہ کو پانے کے لیے وہ جس شدید محنت کے عمل سے گزرتا ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کے کوئی اوقات کار متعین نہیں ہوتے یہ اسکول شروع ہونے سے ایک گھنٹے قبل اسکول پہنچ جاتے ہیں اور اسکول ختم ہونے کے بعد ایک گھنٹہ دو گھنٹہ یا شاید کام ختم ہونے تک ان کے لیے چھٹی کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ اکثر اسکولوں میں ہفتے کا دن بھی کوئی نہ کوئی مصروفیت نکالی جاتی ہے اور ٹیچرز کو ہفتے کے دن بھی اسکول آنا پڑتا ہے مسئلہ کام کا نہیں۔ اساتذہ کا کام ویسے بھی آ نے والی نسلوں کو سنوارنے کے اعتبار سے اپنے اندر بہت قدر و قیمت رکھتا ہے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں اور انہی پر ہمارے آنے والے کل کا مکمل دار و مدار ہے لیکن ان کی کم ترین تنخواہیں اس قدر قلیل ہوتی ہیں کہ ان کو بیان کرتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سکول مالکان اپنے ٹیچرز کو انتہائی کم بلکہ دوسرے الفاظ میں شرمناک حد تک کم تنخواہیں دیتے ہیں اور اس کے عوض ان سے شدید ذہنی اور جسمانی مشقت لیتے ہیں اس پر پہلے بھی بہت دفعہ بات ہوئی ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا کہ جس سے اس صورتحال پہ کنٹرول کر کے اساتذہ کی تنخواہیں کم از کم بہتر ضرور کی جا سکیں۔
یہاں یہ پہلو بھی قابل دید ہے کہ پرائیویٹ اسکول مالکان بچوں سے فیس لیتے وقت کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے لیکن اپنے اسٹاف کو تنخواہ دیتے وقت ہر ممکنہ کٹوتی کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں ان کی چھٹی پر تنخواہ بھی کاٹ لی جاتی ہے اور اکثر گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے ان کی نوکریاں ختم کر دی جاتی ہیں تاکہ چھٹیوں کی تنخواہ نہ دینی پڑے نیز ان ملازمین سے اسکول کے اوقات کا رکے علاوہ بھی اتنا کام لیا جاتا ہے کہ ان کو گھر جا کر بھی اسکول کا کام کرنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ سکول انتظامیہ اپنے اساتذہ کو کسی قسم کی سہولیات دینے کے لیے قطعاً کوشش نہیں کرتی اور ذرا سی غلطی پر ان کو جاب سے بے دخل بھی کر دیا جاتا ہے جس کے بعد ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسے ہی دوسرے سکول میں نوکری تلاش کریں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں جہاں ملک کا ہر طبقہ مشکل وقت سے گزر رہا ہے اساتذہ کا بلکہ پرائیویٹ اساتذہ کا یہ طبقہ شدید ترین مشکل وقت کا سامنا کر رہا ہے انتہائی محنت کے باوجود ان کو ان کی خدمات کا مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا اور حسب منشا نتائج نہ ہونے پر ان کو نوکری سے برخاست بھی کر دیا جاتا ہے۔
لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہ پرائیویٹ سکول اساتذہ جو انتہائی کم سیلری پر بچوں کو تعلیم جیسی دولت دے رہے ہیں کیا ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ان کو بھی مناسب معاوضہ ادا کیا جائے تاکہ یہ ذہنی سکون کے ساتھ آنے والی نئی نسل کو سنوارنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں بجائے کہ وہ اپنی مالی پریشانیاں ذہن میں رکھتے ہوئے بچوں کو تعلیم دینے پر مجبور ہوں اور اس انزائٹی اور اسٹریس کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہ کر سکیں اور ہماری قوم ہمارا مستقبل ہمارے بچے بھاری فیسیں ادا کرنے کے باوجود اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔ بہت سے والدین اس امر سے واقف ہوں گے کہ یہ کم تنخواہوں والے اساتذہ اکثر اوقات اپنے اسٹوڈنٹس کو گہرے طنز کا نشانہ بنانے کے علاوہ جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنا لیتے ہیں اور جانے انجانے اپنی ساتھ کی جانے والی نا انصافیوں کا بدلہ ان معصوموں سے لے لیتے ہیں جو اس معاملے میں بالکل بے قصوروار ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پرائیویٹ اسکول مالکان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ ان اساتذہ کو ان کی خدمات کا مناسب معاوضہ ادا کیا جائے ان کی ملازمت کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ یہ اپنی ذمہ داریاں جو کہ وہ پہلے ہی اچھی طرح انجام دے رہے ہیں اور بھی زیادہ بہتر طور پر ذہنی سکون کے ساتھ انجام دے سکیں اور ہمارا آ نے والا کل روشن ہو سکے۔


