پاکستان اور بھارت کے لیڈروں میں بیان بازی کا مقابلہ
لگتا ہے کہ پہلگام سانحہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے لیڈروں کے درمیان بیان بازی کا مقابلہ ہو رہا ہے اور وہ اشتعال انگیز بیانات سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ موقف متناسب اور معقول ہے کہ اگر ہمسایہ ملک کو پاکستان پر شبہ ہے تو کسی غیر جانبدار فورم سے اس واقعہ کی تحقیقات کرا لی جائیں۔ پاکستان اس میں تعاون کرے گا۔
شہباز شریف نے یہ بات کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی پڑوسی نے بغیر تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ پہلگام سانحہ کے بعد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ذمہ دار ملک کی حیثیت سے پاکستان غیر جانبدار، شفاف اور معتبر تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے کسی غلط فہمی میں نہ رہا جائے۔ اگر انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ پانی ہماری لائف لائن ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کوششوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاکستانی وزیر اعظم کا یہ بیان حکومت اور فوج کی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ یوں تو اس کا دو ٹوک اعلان قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے اور بعد میں سینیٹ کی قرار داد میں بھی ہو گیا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے یک طرف اقدامات کا جواب دینے کے علاوہ دہشت گردی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اب شہباز شریف نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے پہلگام سانحہ کی تحقیقات میں تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو للکارنے اور الزامات عائد کرنے اور نفرت بڑھانے کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے حالات کا جائزہ لے کر باہمی تعاون کے فروغ کے لیے کام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس وقت سیاسی مقاصد کے لیے ایک المناک سانحہ کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے لیکن جلد یا بدیر دونوں ملکوں کو احساس ہو جائے گا کہ یہ حکمت عملی اچھے ہمسایوں اور جوہری صلاحیت کے حامل ملکوں کے درمیان مناسب نہیں ہے۔
تحقیقات کے بارے میں وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی نیوٹرل لوگ اس واقعے کی انکوائری کرتے ہیں تو پاکستان اس میں بھرپور تعاون کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ڈرامے کو بے نقاب کریں اور اصل حقائق سامنے آئیں۔ پہلگام واقعے میں پاکستان کا براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی قسم کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ پاکستان پُرامن ملک ہے۔ اگر ہمارے کسی حق کو دبانے کی کوشش کی گئی تو 24 کروڑ لوگ آخری دم تک لڑیں گے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’بھارت میں واقعے کی انکوائری کے ساتھ ہم جعفر ایکسپریس حملے کی بھی غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ اس میں کون ملوث تھا‘ ۔ ہم تمام ثبوت اس انکوائری کمیٹی کو دیں گے اور وہ دنیا دیکھے کہ کس طریقے سے ہدایت آ رہی تھیں کہ لوگوں کو مارو۔ کس طریقے سے کہا جا رہا تھا کہ تصویریں بھیجو۔ یہ سارے شواہد ہمارے پاس ہیں۔
ایک مثبت تجویز کے ساتھ بھارت کی طرح پاکستانی لیڈر بھی للکارنے اور جذباتی باتوں سے اپنے لوگوں کے دلوں کو گرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان میں بھی اس کی علامات موجود ہیں۔ دونوں طرف سے متعدد لیڈروں نے ایسے اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں جن کا حقیقی صورت حال اور واقعات کی ترتیب سے تعلق قائم کرنا مشکل ہے۔ لیکن عوام میں تائید حاصل کرنے کی خواہش دونوں طرف غالب دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر بھارت کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر پہلگام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر رہا ہے تو پاکستان کے پاس بھی اپنے اس الزام کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا۔ یعنی بھارتی حکام کی ملی بھگت سے یہ وقوعہ ہوا تاکہ پاکستان پر الزام لگا کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں امن کا فائدہ ہے۔ وہ خود اس امن کو ختم کرنے، اس خطے کی ترقی پذیر معیشت کو تباہ کرنے اور سکیورٹی کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ البتہ ایک سانحہ رونما ہونے کے بعد پاکستان کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر الزام تراشی شروع کردی گئی تاکہ بھارتی عوام اور ماہرین کو سکیورٹی کی صریحاً ناکامی پر سوال اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ پاکستان پر الزام لگا کر درحقیقت بھارتی حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور بدحواسی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان نے جوابی وار کے طور پر فالس فلیگ آپریشن کا ہتھکنڈا اختیار کیا ہے لیکن یہ طریقہ ایک ایسے ملک کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو ایک اندوہناک سانحہ سے دوچار ہوئے ہیں اور اس خوف سے باہر نکلنے اور سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کو درحقیقت بھارتی حکومت پر ایسا سانحہ اسٹیج کرنے کا الزام لگانے کی بجائے یہ واضح کرنا چاہیے تھا کہ بھارتی حکومت پاکستان پر الزام کے ذریعے خود اپنی ناکامی پر پردہ ڈال رہی ہے۔ ایسا طرز عمل زیادہ قابل فہم ہوتا اور بھارتی عوام کی اکثریت بھی اس پر غور کرتی۔ اگست 2019 مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد گزشتہ سال انتخابات کرائے گئے تھے اور ملکی و بین الاقوامی کمپنیاں مقبوضہ کشمیر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی تھیں۔ ایسے میں نریندر مودی کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ اگر ان کی ایجنسیاں حملہ کے چند منٹ کے اندر اس حملہ میں پاکستانی ’ہاتھوں‘ کا سراغ لگانے میں ’کامیاب‘ ہو گئیں تو لاکھوں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات فوجی اور سکیورٹی ادارے حملہ سے پہلے حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں کیوں کامیاب نہیں ہوئے؟ یہی نہیں بلکہ پہلگام فائرنگ میں ملوث تین افراد ہتھیار لے کر ایک ایسے مقام تک پہنچے جہاں کوئی سواری نہیں جاتی۔ صرف پیدل یا گھوڑوں و خچر کے ذریعے ہی اس مقام تک پہنچا جاسکتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز ان مسلح لوگوں کو کسی بھی مقام پر روکنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ بھارتی حکومت اس وقت پاکستان کے خلاف سیاسی ماحول گرم کر کے ان سوالوں سے بچنا چاہ رہی ہے لیکن جلد یا بدیر اسے اپنی ان ناکامیوں پر غور کرنا ہو گا۔ اور سمجھنا ہو گا کہ یہ پاکستان کی کارروائی نہیں بلکہ بھارتی سکیورٹی کی مکمل ناکامی ہے۔
نریندر مودی کو اپنی حکومت کی کمزوریوں کا خوب اچھی طرح احساس ہو گا۔ اسی لیے انہیں نے سعودی عرب کا دورہ عجلت میں مختصر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے پاکستان نے بھارت پر حملہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے حکومت نواز میڈیا کو جسے اس کی انتہا پسندی اور نامعقولیت کی وجہ سے ’گودی میڈیا‘ کا نام دیا جاتا ہے، پاکستان کے خلاف محاذ گرم کرنے اور خوب زور شور سے چیخنے چلانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ خود نریندر مودی نے جمعرات کو ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انڈیا ہر دہشت گرد اور ان کے سرپرستوں کی شناخت کرے گا۔ ان کا پیچھا کرے گا اور انہیں سزا دے کر انجام تک پہنچائے گا‘ ۔ یہ بیان بجائے خود اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی افسوسناک کوشش تھی۔ پاکستان نے اس کمزوری کو نمایاں کرنے اور بھارتی عوام کو ان کی حکومت کی نالائقی سے مطلع کرنے کی بجائے، پرجوش بیانات کا مقابلہ جیتنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
تحریک انصاف کے لیڈر بوجوہ اس موقع پر کسی بھی طرح حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا ’خطرہ‘ مول نہیں لینا چاہتے۔ اس پارٹی کے اہم لیڈروں نے اس معاملہ پر خاموشی اختیار کی ہے لیکن سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف فقرے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسی ہی سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو ملک میں قومی اتحاد پیدا نہیں ہو سکتا ۔ یہ پہلو قابل افسوس ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس قسم کے تاثرات کو مسترد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ تاہم باقی جماعتوں کے لیڈر اپنے اپنے طور پر بھارت کو للکارنے اور جنگ کی دعوت دینے میں مصروف دکھائی دیے۔
ایسے ماحول میں بھارت کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے دعویٰ کیا کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔ وزیر اعظم مودی کی ہدایات کے مطابق مختصر، درمیانی اور طویل مدت کے تین مرحلے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے انڈیا سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ جا سکے‘ ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود ایسے انتظامات نہیں ہیں کہ وہ پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک سکے۔ بھارت ہی کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان جانے والے دریاؤں کا رخ موڑنا چاہے تو اسے اربوں ڈالر کے کثیر سرمائے کی ضرورت ہوگی اور پانی کا ذخیرہ کرنے والے ڈیم بنانے کے لیے ایک سے دو دہائی کی مدت درکار ہوگی۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کرے گا۔
ان حالات میں بھارتی حکومت کی بدحواسی کو نظر انداز کرنے کی بجائے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نہروں کے سوال پر سندھ میں پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی اشتعال انگیز اور بے مقصد بیان داغنا ضروری سمجھا۔ سکھر میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’دریائے سندھ پر ایک اور حملہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے۔ میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا۔ اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔ مودی نے اپنی کمزوریاں چھپانے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے، جس کے بعد بھارت نے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا‘ ۔
ایسے ہی بیانات کی دو مثالیں وفاقی وزیر حنیف عباسی اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی قائم کی ہیں۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی پریس کانفرنس کا کہنا ہے کہ بھارت کو بتانا چاہتا ہوں کہ ’ہم نے شاہین اور غوری چوک پر سجانے کے لیے نہیں بنائے۔ تم پانی بند کرو گے، ہم تمہاری سانس بند کریں گے‘ ۔ دوسری طرف انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ’تمام وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کردی گئی ہے کہ کوئی پاکستانی طے شدہ ڈیڈ لائن کے بعد انڈیا میں نہ رہے‘ ۔ حالانکہ جب حکومت پاکستانیوں کو نکالنے کا فیصلہ کرچکی تو اسے بار بار دہرانا درحقیقت اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہی ہے جو امیت شاہ کے اس بیان سے عیاں ہے۔
جیسے پاکستان کے لیے پانی کا ایک ایک قطرہ روکنے کا بیان لغو اور بے بنیاد ہے، اسی طرح سندھ میں پانی کی جگہ بھارتیوں کا خون بہانے کا بیان بھی غیر معمولی طور سے اشتعال انگیز ہے۔ ان دونوں بیانات کا مقصد لوگوں میں اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہے۔ موجودہ حالات میں دونوں طرف سے ایسی بیان بازی سے گریز کر کے، بحران سے نکلنے کی تعمیر کوشش کرنی چاہیے۔



آپ کا جملہ
پاکستان نے جوابی وار کے طور پر فالس فلیگ آپریشن کا ہتھکنڈا اختیار کیا ہے
یہاں ہتھکنڈا جیسی منفی اصطلاح استعمال کرکے خدا جانے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
آپ تو آپ مدیر اور مدیر اعلی بھی لگتا ہے نوٹ نہیں کرسکے۔
–
سندھ طاس معاہدے میں محض پانی روکنے کی ممانعت ہی نہیں بلکہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ستلج اور راوی پر پاکستان کی طرف آنے والے پانی کی لمحہ بل لمحہ صورتحال سے انڈیا ہمیں اگاہ رکھے گی بالخصوص سیلاب سے۔
اسی طرح ہندوستان کی طرف نصب ٹیلی میٹری سسٹم سے چناب جہلم اور سندھ میں پانی کی صورت حال سے بھی آگاہ رکھے گا۔ اب معاہدے کی بناء انڈیا اگر پاکستان کی طرف سہلابی پانی چھوڑتا ہے تو وہ پاکستان کو بتانے کا پابند نہیں ہوگا۔
اس کا واحد حل یہی ہے کہ پاکستان انڈیا میں موجود اپنے ہم درد لوگوں اور سیٹلائٹ سسٹمز (دوست ممالک کی مدد سے) اور لائیو واٹر کی ولاسٹی اور مقدار کا تعین کرسکتا ہے۔ اس سے پیشگی سیلاب کا بہتر علم ہوسکے گا۔