سپریم کونسل کا قیام


آپ کو یاد ہو گا جنرل مشرف مکے لہرایا کرتے تھے، بڑھکیں مارا کرتے تھے پھر انہوں نے اکبر بگٹی کو شہید کروا دیا، جس سے بلوچستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے، طاقت اندھی ہوتی ہے، طاقت کے پاس عقل نہیں ہوتی ورنہ یہ سوچا جا سکتا تھا کہ مکے لہرانے یا بڑھکیں مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ الجھاؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ مسائل بندوق سے نہیں، بصیرت سے حل ہوتے ہیں۔ مشرف نے جمہوریت پر شب خون مار کر کنٹرولڈ ڈیموکریسی چلانے کی کوشش کی پھر عدلیہ پر شب خون مارا، جو بالآخر ان I کے اقتدار کو لے ڈوبا۔ آج ملک پھر انہی حالات کا شکار ہے، ملک میں شورش ہے، کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے، لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے بلکہ الجھتے جا رہے ہیں۔ ہر طرف لا قانونیت بکھری پڑی ہے، ہر طرف مسائل کا انبوہ کثیر ہے، ہر طرف مہنگائی، بیروزگاری اور غربت بکھری پڑی ہے، عدلیہ سر نگوں ہو چکی ہے، لوگوں کو انصاف کا میسر آنا محال ہو چکا ہے۔ پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، 16 کروڑ نوجوانوں کی خواہشیں، حسرتوں میں بدلتی جا رہی ہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی حالات ہمارے لئے سازگار نہیں، ہمسایوں سے تعلقات بھی مثالی نہیں ہیں۔ جھوٹ پر مبنی جتنے مرضی دعوے کر لیے جائیں، ہماری معاشی حالت دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین سال سے سن رہے ہیں کہ بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے لیکن حقیقت کے آئینے میں روشنی کی کوئی کرن نہیں، ویسے بھی ایسے ملک میں بیرونی لوگ سرمایہ کاری کیا کریں گے، جس ملک کے اپنے حکمران چوری کا سرمایہ بھی اپنے ملک میں نہ رکھتے ہوں، جہاں کے طاقتور لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی دھرتی پر رہنا نہ چاہتے ہوں، جہاں امن و امان کا مسئلہ ہو، وہاں سرمایہ کاری کون کرتا ہے؟ پچھلے دنوں کس طرح چینیوں سے سندھ پولیس رشوت طلب کرتی رہی، یہ مظاہرہ ہمارے ہر صوبے میں ہو رہا ہے۔ لوگ یہاں ائر پورٹس پر اترتے ہوئے ڈرتے ہیں کیونکہ ہوائی اڈوں پر سرکاری اہلکار لوگوں کی توہین کرتے ہیں، یہاں کا کاروباری طبقہ تنگ ہے کہ مختلف سرکاری محکموں کے اہلکار ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نوکریوں کا چکر نوجوانوں میں مایوسی پھیلا رہا ہے، یہاں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ اب آپ کو صوبوں کے حالات سے آگاہ کرتا ہوں۔

بلوچستان شورش زدہ ہے، وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے، دہشت گردی ہے، مسنگ پرسنز کا سوال ہے، لوگ غربت کا شکار ہیں، پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے روزگار کے دروازے بند ہیں، بلوچستان میں بڑی صنعتیں تو دور کی بات، چھوٹی صنعتیں بھی قائم نہیں ہو سکیں، ناکوں پر تلاشی کے بہانے تضحیک کی جاتی ہے، جو بلوچ رسم و رواج کے خلاف ہے۔ سندھ کے شہر کراچی میں بے شمار مسائل ہیں۔ زمینوں، جائیدادوں پر قبضے، ڈمپروں کی صورت میں سڑکوں پر پھرتی ہوئی موت، سٹریٹ کرائم، پانی کے مسائل، ہر شعبے میں مافیاز کا سامنا، اب کراچی میں آلودگی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، لوگوں میں چھاتی اور پھیپھڑوں کا کینسر بڑھتا جا رہا ہے۔ اندرون سندھ کے حالات بھی ناقابلِ بیان ہیں، وہاں غربت اور بھوک کے ڈیرے ہیں، لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، پورے سندھ میں نہروں پر احتجاج ہو رہا ہے۔ پنجاب میں لوگوں کو لا قانونیت کا سامنا ہے، پنجاب کا کسان رل گیا ہے، مزدور فیکٹریاں بند ہونے سے بیروزگار ہو گیا ہے، پنجاب میں کبھی کسان مظاہرے کرتے ہیں تو کبھی ڈاکٹرز اور نرسیں۔ پنجاب میں سٹریٹ کرائم بڑھ گیا ہے، رشوت عام ہے۔ خیبرپختونخوا کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دہشت گردی نے لوگوں کے کاروبار تباہ کر دیے ہیں۔ اب آ جائیے کشمیر کی طرف! لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے متعدد مرتبہ سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں لوگوں کے مسائل انہیں سڑکوں پر لے آئے ہیں۔

مذکورہ بالا تمام مسائل کے حل کے لئے ایک 20 رکنی سپریم کونسل قائم کی جائے، جس میں چاروں صوبوں سے تین تین نمائندے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق سے ایک ایک نمائندہ شامل کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ نمائندے عوام کے حقیقی اور دیانتدار نمائندے ہونے چاہئیں۔ پانچ مختلف شعبوں سے ایک ایک نمائندہ ہونا چاہیے۔ ایک نمائندہ بین الاقوامی امور کا ماہر، ایک دفاعی امور کا ماہر، ایک معاشی امور کا ماہر، ایک قانونی امور کا ماہر ہو اور ایک ایسا دانشور بھی شامل ہو جو سماجیات کے امور پر دسترس رکھتا ہو۔ یہ بیس رکنی سپریم کونسل ملکی مسائل کو سامنے رکھ کر ایک نیا سوشل کنٹریکٹ تیار کرے، اس میں ہر ایک کی حدود کا تعین کر دیا جائے، اس میں قائد اعظم کے فرمان کے مطابق یہ درج ہو کہ ہماری سول بیوروکریسی بغیر کسی سیاسی یا غیر سیاسی پریشر کے کام کرے، عدلیہ بھی ہر طرح کے پریشر سے آزاد ہو، اسی طرح باقی اداروں کی بھی حدود متعین کر دی جائیں تاکہ پاکستان خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو کر ترقی کی منازل طے کر سکے۔ بقول احمد فراز کہ

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل، شوق سفر بھی نہیں جاتا

Facebook Comments HS