پہلگام حملہ اور ہندوستان کے استعماری ہتھکنڈے
پہلگام، جو مقبوضہ کشمیر کا ایک دلکش اور سرسبز علاقہ ہے، اپنی فطری خوبصورتی کے باوجود سیاسی اور نسلی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ یہ خطہ، جو کبھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا، آج ہندوستان کے غیرقانونی قبضے اور آبادیاتی تبدیلی کے منصوبوں کی وجہ سے ایک اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے ہی یہاں مسلم اکثریت کو کم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جس کے تحت ہزاروں غیرمسلموں کو منظم طریقے سے آباد کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی مسلم آبادی کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پہلگام کی آبادی کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن حالیہ سالوں میں ہندو آبادی میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ایک واضح سیاسی ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔
5 اگست 2019 کو جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یک طرفہ طور پر ختم کیا گیا، تو اس کے بعد سے جموں اور پہلگام جیسے علاقوں میں منظم طریقے سے مسلم اکثریت کو ختم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔ جموں میں تو یہ کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جہاں مسلمان اب اقلیت بن چکے ہیں، اور اب ہندوستان کی نظر پہلگام پر ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پہلگام میں 87 ہزار سے زائد غیر مقامی ہندووں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں، جو نہ صرف زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں بلکہ سرکاری ملازمتوں کے حق دار بن کر مسلمانوں کو معاشی پس ماندگی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ تاکہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا جائے اور فلسطین کی طرح وہاں کے مسلمان اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بن کر رہ جائیں۔
حالیہ دنوں میں، پہلگام میں ایک مشتبہ حملہ ہوا، جس میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی نائب صدر اپنی ہندوستان نژاد بیوی کے ہمراہ ہندوستان کے دورے پر تھے۔
جس نے بین الاقوامی سطح پر متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ حملہ محض ایک اتفاق تھا، یا پھر اس کا مقصد کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنانا، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنا اور ان کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کا جواز فراہم کرنا تھا؟ کشمیریوں کی کثیر تعداد کا ماننا ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنا اور ہندووں کی آبادکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
مقبوضہ وادی میں لاکھوں ہندوستانی فوجیوں کے باوجود ایسے واقعات کا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو فوجی ادارے ناکام ہیں، یا پھر یہ واقعات خود انہی کے مفادات کے تحت رونما ہو رہے ہیں۔
امریکی صدر کلنٹن کے دورہ ہندوستان پر اسی طرح مقبوضہ وادی میں چالیس سکھوں کی بلی چڑھائی گئی تھی یہ بھی کچھ اسی طرح کا فالس فلیگ آپریشن لگتا ہے۔
حملے کے بعد ہندوستان کا ردعمل بھی مشکوک رہا۔ بجائے اس کے کہ ایک آزادانہ تحقیقات کی جاتی، فوری طور پر کشمیری مسلمانوں اور پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا اور مسلمانوں کے خلاف منظم کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی پرانا طریقہ کار ہے جو ہندوستان نے کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف اپنایا ہوا ہے، ظلم کو معمول بنا دینا، انصاف کو مسخ کر دینا، اور حقائق کو دبانا۔ امریکی عہدیدار کی موجودگی میں ایسے واقعات سے بین الاقوامی توجہ کشمیر کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہو گی، یا پھر یہ ایک اشارہ تھا کہ ہندوستان کشمیر میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملتے ہیں، تو پاکستان نے ہندوستان کے خلاف اتنا سخت ردعمل کیوں نہیں دکھایا؟ ہندوستان نے جب پاکستان پر مبینہ طور پر دہشت گردی کی ذمہ داری عائد کی تو اُس نے پاکستانی ہائی کمیش کے افراد کو ملک بدر کر دیا، لیکن پاکستان نے ہندوستان کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کیوں نہیں کی؟ کیا یہ بین الاقوامی دباؤ ہے، یا پھر حکمت عملی کی مجبوری؟ پاکستان کے پاس ثبوت ہونے کے باوجود اس طرح کے فیصلے نہ لینا، ہندوستان کو مزید شہ دینے کے مترادف ہے۔ جس طرح ہندوستان کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں ایک بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ جارحانہ موقف اختیار نہیں کرنا چاہیے؟
کشمیر کی دھرتی نوحہ کناں ہے، اور اس کے باشندے ایک نئے دورِ کے استحصال کا شکار ہیں۔ ہندوستان کے نو آبادیاتی ہتھکنڈے، فوجی جبر، اور پراپیگنڈے کی جنگ نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ اب بھی اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کے لیے سسک رہے ہیں۔ کشمیری مسلمان اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنتے جا رہے ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کیا یہی وہ مستقبل ہے جس کا انتظار تھا؟ یا پھر کشمیریوں کی آہیں کبھی تو سنی جائیں گی؟
اور کیا ہندوستان کی چالوں کا جواب شدت سے دیا جائے گا۔


