اب میں بولوں کہ ناں بولوں؟
نوے کی دہائی میں پشاور ٹیلی وژن سے افتخار قیصرکا لکھا ہوا ایک ہندکو پروگرام بعنوان ”دیکھ تماشا چلتا بن“ نشر ہوا کرتا تھا۔ اس ڈارمے کا ایک مکالمہ ”اب میں بولوں کہ ناں بولوں؟ نے افتخار قیصر کو مایہ ناز لکھاریوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ اُن کے لکھے ہوئے ان مکالموں میں ملک میں ہونے والی نا انصافیوں اور تعصبات کو نشانہ بنایا جاتا اور اُن پر تنقید کی جاتی تھی۔ یہ مکالمے پشاور اور گردونواح میں بولی جانے والی مقامی ہندکو زبان میں پیش کیے جاتے تھے۔
راقم کے پشاور سے تعلق کی بنا پر وہاں بولی جانے والی میٹھی مقامی بولی ہندکو ہمارے دل میں گہرا مقام رکھتی تھی اور طالب علمی کے زمانے میں پشتو، پنجابی اور اُردو کے بعد گپ شپ کا بنیادی اور مرکزی ذریعہ ہندکو ہی ہوا کرتی تھی۔
ماضی کے اس پروگرام کی یاد ایک دوست نے گزشتہ دنوں اُس وقت دلوائی، جب وہ برسوں بعد وطنِ عزیز واپس تشریف لایا۔ دوستانہ گفتگو میں مگن ہم نجانے ماضی کی گپ شپوں کی کن کن پگڈنڈیوں پر سے گزرتے رہے۔ اس دوران نوجوانی کے قصوں، کہانیوں، شرارتوں، حماقتوں، کامیابیوں، ناکامیوں، قہقہوں، اُداسیوں، اور مزاح سے بھرپور سنہری دور میں کھوئے رہے۔ وہ شام تو گویا پلک جھپکتے ہی گزر گئی۔ ہماری گفتگو کا ایک حصہ مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور اُن کی اذیتوں پر بھی مشتمل تھا اور آج کی یہ تحریر اُسی گفتگو سے ماخذ ہے۔
اکثر لکھاریوں کی تحریروں، مقررین کی تقاریر اور نجی محفلوں کی گفتگو میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاک وطن میں مذہبی اقلیتوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ اور وہ سب کچھ حاصل ہے جس کا اکثریتی آبادی خواب تک نہیں دیکھ سکتی۔ گزشتہ دنوں تو ایک تحریر ایسی بھی نظر سے گزری جس میں کسی لکھاری نے اقلیتی نمائندگان کا عوامی رائے کے بغیر پارلیمان میں پہنچنے کو بھی خصوصی عنایت کے طور پر پیش کیا کہ ایسی رعایت تو اکثریتی آبادی کو بھی حاصل نہیں، حالانکہ اُنہیں یہ خبر ہونی چاہیے کہ ایسا ہونا تو جمہوری عمل کی ناکامی ہے۔ علاوہ ازیں مضمون کے لکھاری کی نظر میں اقلیتوں کو دستیاب کوٹہ خصوصی کرم نوازی کا نتیجہ ہے اور اُنہوں نے تاریخی حوالوں سے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو کرہ ارض کی سب سے خوش قسمت ترین مخلوق بنا کر پیش کیا، جبکہ صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔
آئیے ہم آپ کو مذہبی اقلیتوں کے زمینی حقائق سے روشناس کرواتے ہیں تاکہ بہت سے دلوں کے کئی خیال کھل جائیں اور مذہبی اقلیتوں کی ایذا رسانیوں کی روک تھام کا کوئی مناسب بندوبست کیا جا سکے۔
کون سا غم ہے جو اس رد شدہ پسماندہ طبقے نے گزشتہ چند دہائیوں سے نہیں سہا؟ انہوں نے اپنے گھروں اور گھریلو ساز و سامان کو اپنی آنکھوں کے سامنے نذرِ آتش ہوتے دیکھا ہے۔ اپنی عبادت گاہوں، مقدس کتابوں اور پاک ظروف کی بے حرمتی کو برداشت کیا ہے۔ جس معاشرے میں اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کی عبادت گاہوں کو احترام حاصل نہ ہو وہاں ان کی ذاتی املاک اور اداروں کو کوئی کس نظر سے دیکھے گا یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گھروں، اجتماعی املاک اور قبرستانوں پر قبضے، توڑ پھوڑ، بے دخلیاں بلکہ جلاؤ گھیراؤ کی روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کسی چڑیا کے گھونسلے سے بڑھ کو کچھ سمجھا ہی نہیں گیا۔
بالغ ہوں یا نابالغ، جواں ہوں یا شادی شدہ، ذہنی معذور ہوں یا جسمانی طور پر محتاج لڑکیاں اور خواتین، سبھی کے اغوا، جنسی ہراسانی اور اُن کے جبراً تبدیلی مذہب کا غم بھی اسی طبقے نے پال رکھا ہے۔
”غیر“ سمجھے جانے والے اس طبقے کے افراد پر جسمانی تشدد اور ان کا قتل اتنا ہی آسان ہے جیسے پاؤں سے مَسلی جانے والی چیونٹی۔ ان کے افراد گولیوں سے بھی چھلنی ہوتے آئے ہیں، انہوں نے خنجر کے وار بھی سہے ہیں، ان کے سروں پر اینٹیں اور ڈنڈے بھی برسے ہیں، زندہ بھی جلائے گئے ہیں، اپنے ایمان کی خاطر شہ رگ تک کٹوائی ہے اور اب تو زہر آلود کھانوں کی کہانیاں ماضی کے پنوں سے مٹائی جا نہیں سکیں گی۔
برس ہا برس سے مذہبی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مذہبی آزادی و احترام کی جدوجہد کے باوجود مذہبی شناخت کی بنیاد پر نفرت، تعصب اور امتیازات میں اضافہ ہی ہوتا نظر آتا ہے۔ ملازمت کے اشتہارات میں بھی مذہبی تعصب، قومی کھیلوں میں مذہبی امتیاز کا سامنا، ذرائع ابلاغ میں مذہبی عدم رواداری، نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں نفرت اور عدم مساوات کا درس، ملکی آئین و قوانین اقلیتوں کو اپنے اندر سمونے اور قبول کرنے کو تیار نہیں۔
قومی مردم شماری میں بھی بددیانتی سے انہیں شُمار بھی کم کیا جاتا ہے اور اصل تعداد بھی نہیں بتائی جاتی۔ مسیحیوں کی بستیوں کی نشانی یہ ہے کہ وہاں گندے نالے اور جوہڑ ہوں گے، وہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور حفظانِ صحت کی سہولیات کا نام و نشان نہیں ہو گا، غرض رہائشی بستییوں میں شہری سہولیات کا فقدان رہتا ہے۔
ذاتی عناد کی بنیاد پر فقط ایک الزام اور ایک اعلان نسلیں اُجاڑنے اور اِن کی جبراً ہجرت کے لئے کافی ہے۔ رد کیے جانے کے احساس کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں یہ لوگ، اس لئے کہ قومی سیاست میں رد شدہ ہیں، نظامِ تعلیم میں رد شدہ، نظامِ عدل میں رد شدہ، روزگار کی تلاش میں رد شدہ، ذرائع ابلاغ میں رد شدہ بلکہ مجوعی سماج میں رد شدہ اور پسماندہ طبقہ ہے یہ۔ ایسے میں ان کی ترقی کے اقدامات میں کوئی کوٹہ نامی سرگرمی آ جائے تو محض سانسیں قائم رکھنے کا بہانہ ہے وہ، اُسے سنجیدہ نہ لیا جائے۔
جس طرح ان کی خدمات سے کوئی انکار نہیں، اُسی طرح اِن کی ایذا رسانیوں سے بھی آنکھیں نہ موڑی جائیں اور نہ ہی ان سے انکار کیا جائے۔ وگرنہ کوئی ان کے لئے بولے یا نہ بولے یہ خود تو بولتے ہی رہیں گے۔


