کینال منصوبے کے خلاف ببرلو دھرنا


جب ہم کراچی سے ببرلو بائی پاس کے لیے نکلے تو ایک بدلا ہوا سندھ ملا، جہاں ایک حوصلہ تھا، ہمت تھی، غصہ تھا، مرمٹنے کا جذبہ تھا۔ پہلا اسٹاپ جس ہوٹل پر کیا، یہ ایک چین کا ہوٹل تھا جو ہر وقت کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں مگر اس دن ہوٹل کے صحن، ہالز اور پھٹے خالی تھے۔ محض اکا دکا لوگ ہی نظر آئے، کسی ہم سفر نے بتایا کہ ہوٹل چین کا مالک پیپلز پارٹی کا ایم پی اے ہے، جس نے پنجاب سرحد پر بند راستہ زبردستی کھلوایا، اس لیے لوگوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے، ہم بھی بغیر کچھ کھائے چل پڑے اور منیجر کو اس کی وجہ بھی بتا دی۔

خیرپور کی تحصیل گمبٹ میں راستہ بند ملا، ہمارے گروپ میں شامل جناب بیدل مسرور نیچے اترے، مظاہرین کو بتایا کہ ہماری منزل ببرلو دھرنا ہے۔ ان کو دیکھتے ہی راستہ کھول دیا گیا۔ ببرلو پہنچنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ کسی ٹینٹ کے نیچے قالین بچھے ہوں گے اور لوگ بیٹھے ہوں گے مگر جب ہم دھرنے میں پہنچے تو ایک نیا جہان دیکھا، ایک میلہ تھا، جو مرکزی پنڈال کے علاوہ کئی ٹینٹس تک پھیلا ہوا تھا۔ ایک دریا کی طرح لوگوں کا ریلا آتا، لوگ پہلے ایک ٹرک پر بنے اسٹیج پر جاتے، تقاریر کرتے، سنتے، نعرے لگاتے پھر مرکزی ٹینٹ سے نکل کر برابر میں لگے ٹینٹس یا کھلے میدان میں کرسیوں پر بیٹھ جاتے، ہم خیال لوگوں کے ساتھ متنازع نہروں کی تعمیر، حکمران جماعتوں کے رویے اور عوامی ردعمل پر بات کرتے۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں نیا قافلہ آتا، پہلے سے موجود لوگ آگے بڑھ جاتے، پھر ایک اور قافلہ آتا اور اسی طرح قافلوں کی آمد کا سلسلہ سارا دن چلتا نظر آتا۔ لوگ بالخصوص نوجوان کوئی جھنڈا یا بینر تھامے پنڈال میں کسی جگہ ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ کر گانے گاتے، نعرے لگاتے، ان میں آپ کو کوئی تفریق نظر نہیں آئے گی، یہاں تک کہ راستوں میں پھنسی گاڑیوں کے ڈرائیورز اور کلینر بھی موسیقی پر جھومتے نظر آئے۔

دھرنے کا مرکزی پنڈال صبح 10 سے رات 3 بجے تک گہما گہمی کا مرکز نظر آیا، جبکہ اس کے ساتھ مختلف قوم پرست، سیاسی و مذہبی جماعتوں، سماجی تنظیموں، ملازمین اور مزدوروں کی یونینز نے بھی کئی ٹینٹس لگا رکھے ہیں، سیاسی، نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک مکمل ہم آہنگی کی فضا نظر آئی، کسی کے نعرے یا جھنڈے پر کسی کو اعتراض نہیں، کچھ نعرے مشترکہ تھے کہ کینال سمورا نامظور۔ یعنی تمام کینالز نامنظور، جھیڑو آ، یعنی جھگڑا ہے، اس میں مخاطب بہت سارے تھے۔ پی پی مخالف نعرے کچھ زیادہ تھے۔ جس سے اس بات کی نشاندہی ہو رہی تھی کہ شہید بھٹو کی پیپلز پارٹی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے، یا یوں کہیے کہ عوامی غیظ و غضب کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ بلاول کی چار اپریل کی تقریر پر لوگ خفا نظر آئے، کچھ سمجھدار لوگوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح بلاول نے نہ کھپے والے کہہ کر پوری سندھی قوم کو ملک دشمن قرار دینے کا تاثر دیا، اس پر لوگوں کو شدید صدمہ بھی ہے۔

دھرنے یا میلے کی ایک اور بات کہ اس میں جو بھی شریک تھا، میزبان بھی تھا تو مہمان بھی، ہر شخص دوسرے کا خیال رکھتا نظر آیا۔ میلوں اور جلسوں کے برعکس یہاں کھانا، منرل واٹر، چائے مفت میں دی جا رہی تھی، یہاں تک کہ تربوز و دیگر پھلوں کے ٹھیلوں لگے ہوئے ہیں، جہاں پر مفت میں پھل کاٹ کے دینے والا ہر وقت منتظر تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ اخراجات کون اٹھا رہا ہے تو یقین کریں یہ سب سندھ کے لوگ اپنی طرف سے کر رہے ہیں، بلکہ اردگرد کی خواتین اپنے گھروں سے حیثیت کے مطابق کھانا، ناشتہ، چائے، ڈیزرٹس بھجوا رہی ہیں، آپ کو دھرنے کے کسی نہ کسی گوشے میں خواتین، بچے، بچیاں بلا خوف و خطر ہمہ وقت موجود نظر آئیں گے۔ کسی نے دھکا دینے کی شکایت کی نہ کسی نے جیب کٹنے کی، نہ کسی نے شکایت کی اسے کوئی چیز کم ملی، معروف اور گمنام کا کوئی فرق، نہ امیر غریب کا، سب ایک ہی جگہ، ساتھ چل پھر رہے تھے، چائے چاہیے تو اسٹال سے لے لیں، بریانی کے ڈبے اور پانی کی بوتل آپ کو بیٹھے بیٹھے مل جائے گی اور وہ بھی کئی بار۔

وکلا قیادت پنڈال سے متصل ایک آئس فیکٹری کے چند کمروں میں قیام پذیر ہے، سارا دن ملنے والے لوگوں کا تانتا بندھا نظر آئے گا، سب سے زیادہ محبتیں کراچی بار کے صدر عامر وڑائچ سمیٹ رہے ہیں، کوئی اجرک پہنا رہا ہے تو کوئی لنگی اور ٹوپی۔ کسی نے سونے کا تاج پہنا دیا۔ کئی لوگ ملینز میں رقوم کے چیکس لے کر پہنچے تو انھوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیے کہ یہ سب کچھ لوگ خود کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ہوٹل پر کھانا کھائیں تو بل بھی واپس کر دیتے ہیں، یہ رقوم رکھ کر کیا کریں گے۔ لوگوں کے اصرار پر ان کو خود ہی کھانا پانی اور دیگر اشیا لوگوں میں بانٹنے کا مشورہ بھی دیتے رہے۔

یہ تو مناظر ہیں دھرنے کے جبکہ سندھ کے چار اضلاع میں ہزاروں ٹرکس کھڑے ہیں جن کے ڈرائیورز، کؒلینرز ویرانوں میں بھی پرسکون نظر آئے کہ نہ کوئی چیز چوری ہوئی، نہ چھینا جھپٹی ہوئی، نہ کسی نے بدتمیزی کی، مقامی لوگ ان کو کھانا، پانی، چائے اور برف تک مفت فراہم کر رہے ہیں۔ صرف ببرلو ہی نہیں مورو میں بھی دھرنا جاری ہے مگر کسی ڈرائیور یا گاڑی والے کو کوئی تکلیف پہنچانے کی شکایت ملی ہے نہ کسی نے مظاہرین سے الجھنے کی کوشش کی۔ ایک مکمل پرامن ماحول ہے جو انسانی ہمدردی اور ہم آہنگی کی خوبصورت مثال پیش کر رہا ہے۔ یہ سندھ کے لوگ اپنا نیا تعارف پیش کر رہے ہیں اور نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔

ایسا لگا کہ سندھ کے لوگ اپنی دھرتی، اپنی زبان اور اپنے دریائے سندھ سے والہانہ عشق کا صوفیانہ اظہار کر رہے ہیں، میں یہ سوچتا رہا کہ جہاں ہر طرف نفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی بقا کی جدوجہد بھی اتنی محبت سے کر رہے ہیں۔ کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ جو ایسے خطے کے لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین کر اور نفرت آمیز بیانات دے کر ان کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS