پوپ فرانسس: پوپائت کا ایک منفرد باب
پوپائت (Papacy) کیتھولک کلیسیا کا سب سے اہم عہدہ ہے، جو روم کے بشپ یعنی پوپ کے پاس ہوتا ہے۔ کیتھولک روایت کے مطابق، یہ عہدہ سیدنا مسیح کے حواری مقدس پطرس (Saint Peter) سے شروع ہوا، جنہیں سیدنا مسیح نے بشارت دی تھی کہ وہ ان پر کلیسیا تعمیر کریں گے۔ ویٹیکن سٹی کا نام بھی مقدس پطرس کی وجہ سے پڑا، جنہیں 64 ء یا 67 ء میں روم میں شہید کیا گیا اور ویٹیکن ہل پر دفن کیا گیا۔ اسی مقام پر مقدس پطرس کی باسیلیکا (St۔ Peter ’s Basilica) تعمیر ہوئی، جو کیتھولک کلیسیا کا ایک عظیم روحانی اور تاریخی مرکز ہے۔
صدیوں سے پوپ نہ صرف روحانی رہنما رہا بلکہ یورپ کی سیاست اور ثقافت پر بھی اس کا گہرا اثر رہا۔ مثال کے طور پر، قرون وسطیٰ میں پوپ لیو سوم (Pope Leo III) نے شارلمین (Charlemagne) کو ”مقدس رومی شہنشاہ“ کا تاج پہنایا، اس تاجپوشی نے کیتھولک کلیسیا اور یورپی بادشاہت کے درمیان گہرے تعلقات کو مضبوط کیا اور ”مقدس رومی سلطنت“ کا آغاز ہوا جو صدیوں تک یورپ کی سیاست پر چھائی رہی۔ جبکہ جدید دور میں پوپ جان پال دوم نے کمیونزم کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج دنیا بھر کے 1.4 بلین کیتھولک پوپ کو اپنا روحانی رہنما مانتے ہیں، اور ویٹیکن اس عظیم روایت کا مرکز ہے۔
عام خیال ہے کہ پوپ کے انتقال پر صرف جنازہ ہوتا ہے، سوگ منایا جاتا ہے، اور نیا پوپ منتخب ہو جاتا ہے۔ لیکن ویٹیکن میں یہ عمل صدیوں پرانی خفیہ رسومات کا حصہ ہے۔ پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد یہ روایات ایک بار پھر شروع ہو چکی ہیں۔
پوپ فرانسس سے قبل پوپ بینیڈکٹ سولہویں (Pope Benedict XVI) 2005 سے 2013 تک پوپ رہے۔ انہوں نے عمر رسیدگی اور خراب صحت کی وجہ سے استعفیٰ دیا، جو کئی صدیوں میں کسی پوپ کا پہلا استعفیٰ تھا۔ پوپ فرانسس، جن کا پیدائشی نام جارج ماریو برگوگلیو (Jorge Mario Bergoglio) تھا، ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے پہلے جنوبی امریکی پوپ تھے۔ وہ 13 مارچ 2013 کو پوپ بنے اور 21 اپریل 2025 کو ایسٹر کے اگلے دن ان کا انتقال ہوا۔
پوپ فرانسس کے انتقال کے ساتھ ویٹیکن 20 سال بعد دوبارہ ”پوپل انٹریگنم“ (Papal Interregnum) یعنی دو پوپ کے درمیان کے خالی دور میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران ویٹیکن کی سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں۔ پوپ کا رہائشی کمرہ بند کر دیا جاتا ہے، اگرچہ پوپ فرانسس پوپ کے لئے مخصوص رہائش گاہ کی بجائے سادہ رہائش گاہ میں رہتے تھے، لیکن یہ روایت ان کے دور کے اختتام کی علامت ہے۔
اس عبوری دور میں کارڈینل کیون فیریل، جنہیں ”کیمرلینگو“ (Camerlengo) کہا جاتا ہے، ویٹیکن کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ 21 اپریل 2025 سے کلیسیا کی اہم ذمہ داریوں کو سنبھال رہے ہیں، اور ان کی منظوری کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
پوری دنیا سے لوگ، نہ صرف کیتھولک بلکہ ہر مذہب کے پیروکار، پوپ فرانسس کا آخری دیدار کرنے اور خراج عقیدت پیش کرنے ویٹیکن آئیں گے۔ ان کا جنازہ 9 دن کے سوگ کے بعد ، جسے ”نووینڈیئلز“ (Novendiales) کہتے ہیں، ادا ہو گا۔ پوپ فرانسس نے وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین سادہ ہو، بغیر سونے یا دھوم دھام کے، اور ان کا نام ”فرانسِکس“ پتھر پر کندہ کیا جائے۔
جنازے کے بعد نئے پوپ کے انتخاب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ انتخاب ووٹوں کے ذریعے ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے 80 سال سے کم عمر کے 136 کارڈینلز حصہ لیں گے۔ ان میں پاکستانی کارڈینل جوزف کاوٹس، کراچی کے آرچ بشپ ایمرٹس، بھی شامل ہیں، جن کی عمر 21 اپریل 2025 کو 79 سال 9 ماہ تھی۔ ایشیا سے کل 23 کارڈینلز، یعنی 17 فیصد، اس کونکلیو (Conclave) میں ووٹ دیں گے۔
یہ کارڈینلز سسٹین چیپل میں ”کونکلیو“ کے لیے جمع ہوں گے، جہاں وہ دعائیں مانگیں گے اور ووٹنگ کریں گے۔ اس دوران وہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر الگ ہوتے ہیں، بغیر فون یا میڈیا کے۔ ہر کارڈینل اپنا ووٹ لکھتا ہے : ”ایلیگو ان سمم پونٹیفیسیم“ (Eligo in Summum Pontificem) یعنی ”میں اسے سپریم پونٹف (Supreme Pontiff) منتخب کرتا ہوں“ ، اور ووٹ ایک پیالے میں ڈالا جاتا ہے۔
اگر دو تہائی ووٹ کسی ایک کو نہ ملیں، تو ووٹوں کو خاص کیمیکل کے ساتھ جلا کر چمنی سے سیاہ دھواں نکالا جاتا ہے، جو ناکامی کی علامت ہے۔ جب نیا پوپ منتخب ہو جاتا ہے، تو سفید دھواں نکلتا ہے، جو کامیابی کی نشانی ہے۔ یہ عمل کئی دن یا ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جب تک کہ دو تہائی اکثریت نہ مل جائے۔
منتخب ہونے پر ایک کارڈینل بالکونی سے لاطینی زبان میں اعلان کرتا ہے : ”ہیبیمس پاپام“ (Habemus Papam) یعنی ”ہمارا نیا پوپ ہے“ ۔ اس کے ساتھ ہی کلیسیا کو نیا رہنما مل جاتا ہے۔ یہ سارا عمل ویٹیکن کی صدیوں پرانی روایات کا حصہ ہے۔
نئے پوپ کا انتخاب، یعنی کونکلیو، کلیسیا کے قانون کے مطابق 6 سے 11 مئی 2025 کے درمیان شروع ہو گا۔ دنیا بھر کی نظریں اس چمنی پر ہیں، جہاں سے نکلنے والا دھواں کلیسیا کے نئے رہنما کا اعلان کرے گا۔
پوپ فرانسس نے اپنے دورِ پاپوئت میں سادگی، ہمدردی، اور عالمی ہم آہنگی کا پیغام اجاگر کیا، جو کیتھولک کلیسیا کی تاریخ میں ایک منفرد نشان ہے۔ ایک ارجنٹائنی جیسوئٹ کے طور پر، انہوں نے غریبوں کے لیے آواز اٹھائی، اپنی دستاویز ”Laudato Si“ میں ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا، اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیا۔ ان کی سادہ رہائش، پرتعیش روایات سے دوری، اور وصیت میں سادہ تدفین کا مطالبہ ان کے عاجزانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ پوپ فرانسس نے ویٹیکن کو روایت اور جدت کے امتزاج کی راہ دکھائی، جو آنے والے پوپ کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ دنیا ان کے انسان دوست اور روحانی کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔



ویسے تو میرا اعتراض آپ کی مذہبی اصلاحات میں بنتا نہیں لیکن یہاں ممنون ہونگا اگر آپ اردو زبان کے حوالے سے اصلاح کرسکیں کہ صحیح لفظ "پاپائیت” ہے یا "پوپائت”۔
میرے علم کے مطابق پاپائیت یعنی "نظام پاپائی” ؛ پوپ کی سر براہی میں رومن کیتھولک چرچ کی حکومت کو کہا جاتا ہے۔