"گودی میڈیا” کے "بودی اینکرز” کی چیخ و پکار سے گھبرائے مودی


ابھی تک نامعلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل کی سہ پہر 26 کے قریب سیاحوں کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی بھارتی میڈیا کے پھیپھڑوں کا زور لگا کر ریٹنگز جمع کرنے والے اینکرخواتین و حضرات نے مذکورہ واقعہ کا ذمہ دار حسب ر وایت پاکستان کو ٹھہرا دیا ہے۔ اس کے علاوہ بارہا یہ خبر بھی اچھالی گئی کہ دہشت گرد سیاحوں میں سے ’’ہندو‘‘ مرد تلاش کر کے انہیں گولیوں سے بھونتے رہے۔ شہریوں کو گھیرے میں لے کر ان کی ’’شناخت‘‘ ڈھونڈنے کی روایت بلوچ انتہا پسندوں سے منسوب رہی ہے۔ پہلگام میں مذہبی شناخت کے تقاضہ کا پہلو اجاگر کرتے ہوئے بھارت کا میڈیا جسے ناظرین کی کثیر تعداد مودی کی غلامی کی وجہ سے ’’گودی میڈیا‘‘ پکارنا شروع ہو گئی ہے، درحقیقت پیغام یہ دینا چاہ رہا تھا کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ ہمارے ریاستی اداروں نے انہیں حال ہی میں جعفر ایکسپریس پر ہوئے حملے کا بدلہ لینے کے لئے استعمال کیا ہو گا۔ احمقانہ کہانی گھڑتے ہوئے تاہم گودی میڈیا کے ’’بودی اینکر‘‘ یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ بھارت کا ہر چھٹا شہری مسلمان ہے۔ ناظرین کو مذہبی منافرت پر مبنی کہانی سناتے ہوئے وہ بھارت کے ہندوئوں کو اس امر پر اْکسا رہے تھے کہ وہ اپنے مسلمان شہریوں سے پہلگام میں ہوئے واقعہ کا ’’بدلہ‘‘ لینا شروع کر دیں۔ ایسی غیر ذمہ دار صحافت میں نے زندگی میں شاذ ہی دیکھی۔ محض فیس بک وغیرہ ہی ایسی کہانیوں کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک میں مذہبی فسادات بھڑکاتے رہے ہیں۔ بھارت میں بھی مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنانے کے لئے ہندو انتہا پسند سوشل میڈیا کا واٹس ایپ پلیٹ فارم بھی اکثر استعمال کرتے رہے ہیں۔ نام نہاد مین سٹریم میڈیا میں طیش سے مغلوب غیر ذمہ داری کم از کم مجھے تو پہلی بار دیکھنے کو ملی۔

مودی کے ’’بودی میڈیا‘‘ نے جو فضا بنائی اس نے نریندر مودی جیسے مہا تجربہ کار سیاستدان کو بھی حواس باختہ بنا ڈالا۔ میری دانست میں بھارت کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم – نریندرمودی- کئی حوالوں سے اپنے ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے بھی کہیں زیادہ تجربہ کار ہیں۔ نہرو کے برعکس موصوف نے گجرات جیسے اہم صوبے کی دس سال تک وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد وزارت عظمیٰ کا منصب حاصل کیا تھا۔ مسلسل غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں اور خود کو عالمی پیمانے کا مدبرسیاستدان دکھانا چاہ رہے ہیں۔

پہلگام پر ہوئے حملے کے وقت وہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ ان کے وہاں قیام کے دوران مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کے نگہبان ملک کی قیادت کے ساتھ انہوں نے بھارت میں سعودی سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کرنا تھے۔ دستخط  ہو جانے کے بعد انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کھڑے ہو کر صحافیوں سے گفتگو بھی کرنا تھی۔ سرکاری ملاقاتوں اور مجلسوں کے بعد بدھ کے روز انہیں محمد بن سلمان کے نجی نوعیت کے کھانے کی دعوت میں شریک ہونا تھا۔ موصو ف نے گودی میڈیا کی چیخ و پکار سے گھبرا کر فوراََ بھارت لوٹنے کا فیصلہ کر لیا۔ سعودی عرب میں پہلے سے طے شدہ ملاقاتیں اور پروگرام منسوخ کر دئے۔

جس انداز میں نریندر مودی نے سعودی عرب میں اپنی مصروفیات منسوخ کر کے بھارت لوٹنے کا فیصلہ کیا وہ یہ پیغام دے رہا تھا کہ شاید اپنے وطن لوٹتے ہی وہ پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیں گے۔ اس تاثر کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے دلی واپس لوٹتے ہی اپنے دفتر جانے کے بجائے انہوں نے وہاں کے ایئرپورٹ پر موجود معاونین سے پہلگام کے بارے میں ایک کمرے میں بیٹھ کر طویل بریفنگ لی۔ بھارت کے وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے مشیر دہلی میں موجود نہیں تھے۔ وہ ’’جائے وقوعہ‘‘ کا جائزہ لینے مقبوضہ کشمیر جا چکے تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نے مزید اقدامات لینے سے قبل ان کے لوٹنے کا انتظار کیا۔ وہ بدھ کی شام لوٹ آئے تو بھارتی کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس شروع ہوا۔ مذکورہ اجلاس کے شروع  ہونے تک بھارتی وزیر اعظم سعودی عرب ہی میں ٹھہر سکتے تھے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ان کی وہاں موجودگی یہ پیغام دیتی کہ بھارت ’’مسلم دشمن‘‘ نہیں۔ ’’مسلم دشمن‘‘ ہوتا تو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کے خادمین کی جانب سے ان کی گرم جوش آ بھگت نہ ہوتی۔ ’’بودی میڈیا‘‘ سے گھبرائے نریندر مودی نے مگر اس پہلو کی جانب توجہ ہی نہ دی۔

بھارتی کمیٹی کی خصوصی کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس سے قبل ’’بودی میڈیا‘‘ میں مسلسل قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ بھارت پہلگام میں ہوئے حملے کا ’’جواب‘‘ کس طرح دے گا۔ 2019ء میں پلوامہ پر حملے کے بعد بالاکوٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد جو فضائی جھڑپیں ہوئیں اس کے نتیجے میں بھارت کا ایک جہاز ہماری زمین پر گرا لیا گیا۔ اس کے پائلٹ کو چائے پلاکر وطن روانہ کر دیا گیا۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے اس کے بعد بھارت کوئی ’’تگڑا‘‘ قدم اٹھا نہیں پایا۔ بالا کوٹ دہرانے کی گنجائش اب موجود نہیں۔ اس کے باوجود ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے سورما اپنی حکومت سے پاکستان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ بالآخر سمجھوتہ اس امر پر ہوتا نظر آیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر قائم لائن آف کنٹرول کو ’’گرما‘‘ دیا جائے۔ یاد رہے کہ خفیہ مذاکرات کے ذریعے ہوئے ایک معاہدے کے تحت لائن آف کنٹرول پر 2019ء سے سیز فائر ہو چکی ہے۔ ہم سب کو دنیا کے ہر پہلو پر اٹھائے سوال کا ’’منہ زبانی‘‘ جواب دینے کو ہمہ وقت تیار عقل کل قمر جاوید باجوہ کی زیر نگرانی ہوئے یہ مذاکرات اس وقت ہوئے جب نریندر مودی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے یکطرفہ خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی وسیع ترین جیل میں تبدیل کر چکا تھا۔

بالآخر بدھ کی شام بھارتی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہو گیا۔ اس کے اختتام پر جو اعلان ہوئے ہیں میری دانست میں کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف ہیں۔ سفارت کاروں کی واپسی اور ویزوں کی منسوخی پاکستان اور بھارت کے مابین انہونی نہیں۔ ہمارے ہاں ضرورت سے زیادہ دہائی اس امر کی بابت مچائی جا رہی ہے کہ بھارت نے سندھ  طاس پر 1960ء میں ہوئے معاہدے کو یک طرفہ طورپر غیر معینہ مدت کیلئے ’’معطل‘‘ کر دیا ہے۔ دریائی پانی کی تقسیم کا یہ معاہدہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے باوجود قائم رہا۔ بنیادی وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ جنوبی ایشیا کے ازلی دشمنوں کے مابین ہوا معاہدہ نہیں تھا۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف اس کے گارنٹر ہیں۔ انہوں نے ہی مذکورہ معاہدہ کی خلاف ورزی کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے طریقہ کار بھی طے کر رکھے ہیں۔ جغرافیائی حقائق سے لاعلم افراد سمجھ نہیں پا رہے کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد روکنے کے اعلان کے بعد بھارت ہمارے حصے میں آئے دریائوں- چناب اور جہلم- کا پانی کہاں رکھے گا؟۔ ان دریائوں کے پانی کو پاکستان پہنچنے سے روکنے کے لئے کثیر سرمایے سے نئے ڈیم بنانا ہوں گے جن کی تعمیر کے لئے کم از کم ایک دہائی درکار ہو گی۔

(نوائے وقت)

Facebook Comments HS