ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچوں کے لیے کراچی میں ادارہ ’سائنوسا‘ کیا کر رہا ہے؟


میرا تقریباً ہر دو سال پہ پاکستان آنا ہوتا ہے۔ ہر بار اس کی مدت ڈھائی تین ہفتے سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی کسی شادی میں شرکت تو کبھی کوئی اور خاص موقعہ لیکن اس دفعہ میرا ہدف ساڑھے تین ماہ قیام کا تھا تاکہ کراچی میں واقع عورتوں کے مفت کوہی گوٹھ اسپتال کی مڈوائفری طالبات کے ساتھ گروپ اور انفرادی تھرپی کا سلسلہ شروع کر سکوں۔ جو ملازمت کو خیر باد کہے بناء ممکن نہ تھا۔ اس دوران میرے لیے یہ ممکن ہوسکا کہ نارتھ ناظم آباد، کراچی میں ڈاؤن سینڈروم میں مبتلا بچوں کے لیے واقع سائنوسا ڈے کئیر کی کارکردگی کا بھی مشاہدہ کر سکوں۔

سائنوسا کے غیر معمولی کام سے ہماری واقفیت ادارے کے فنڈ ریزنگ پروگرام سے ہوئی۔ جہاں ہم نے اپنی بہت عزیز اور پیاری دوست مہہ ناز رحمٰن کے ساتھ شرکت کی۔ پروگرام میں موسیقی کا تھیم ستر کی دہائی کے پاکستانی فلمی گانے تھے۔ جس کو ہم دونوں نے پورے دل و جاں سے سنا بلکہ ساتھ گایا بھی۔ تاہم پرلطف موسیقی سے قبل ادارے کے منتظمین اور اساتذہ کے علاوہ سائنوسا کے متعلق دستاویزی فلم اور ادارے کے طالب علم بچوں کی کارکردگی نے ہمیں مجبور کیا کہ مزید جاننے کے لیے ہم نے ادارے کی پرنسپل رضوانہ خانم کا انٹرویو کرنے کی ٹھانی، جو گزشتہ تئیس سال سے اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ ان سے گفتگو آپ کی نذر ہے۔

رضوانہ کچھ اپنے متعلق اس ادارے سے وابستگی کے حوالے سے بتائیں؟

میں نے عبداللہ کالج سے بی ایس سی کیا لیکن پھر کراچی یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے لیے گئی تو پتا چلا کہ یہاں ایک شعبہ اسپیشل ایجوکیشن کا بھی ہے تو بس نجانے کیوں وہاں داخلہ لے لیا۔ جبکہ اس سے پہلے کبھی میرا سابقہ اسپیشل بچوں سے نہیں ہوا تھا۔ ہماری پہلی کلاس میں ایک استاد نے کہا کہ یہاں جو بھی آتے ہیں انہیں خدا بھیجتا ہے۔ پہلے سال میں ہم نے مختلف قسم کی معذوریوں (سماعت، بصارت، جسمانی، ذہنی پسماندگی، سیکھنے کی صلاحیت وغیرہ) کے بارے میں پڑھا۔ دوسرے سال ہمیں مخصوص معذوری کا انتخاب کرنا تھا۔ میں نے ڈاؤن سنڈروم کا انتخاب کیا جو کرونموسومل یا جنیاتی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں ایک اضافی کروموسوم ہوتا ہے۔

آپ کا ادارہ کب قائم ہوا؟

یہ پہلا ادارہ ہے جو ڈاؤن سنڈروم کے لیے 1960 ء میں قائم ہوا۔

اس کے قیام کی بنیادی وجہ؟

اس ادارے کے بانی عبدالستار مسلم ہیں جن کا 1950 ء کی دہائی میں سب سے بڑا بچہ ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوا۔ دونوں والدین پریشان تھے کہ آخر اس بچے کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ ڈاکٹرز نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا مسلم صاحب نے اخبار ڈان میں ایک تفصیلی خط لکھ دیا۔ جس میں انہوں نے ذکر کیا کہ میرے پاس ایک ایسا بچّہ ہے جو کہ عام بچّوں سے مختلف ہے اور اس کی تفصیل بتائی اور پوچھا کیا آپ کے پاس بھی کوئی ایسا بچّہ ہے تب کئی پریشان حال اور دل گرفتہ والدین نے خط کا جواب دیا اور اکٹھا ہوئے اُس وقت مسلم صاحب کو اندازہ ہوا کہ نیاز اپنے جیسا ایک واحد بچّہ نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے بچّے اس جیسے ہیں۔ اور تب انہوں نے پکا ارادہ کیا کہ میں اس معمہ کو حل کر کے رہوں گا۔ اس مقصد کے لئے وہ باہر ممالک گئے اور یوں ایک جدوجہد کا لمبا سفر طے کرنے کے بعد آپ پاکستان لوٹے اور ناروے کے اسپیشل بچّوں کے اسکول کی طرح ایک ماڈل سیٹ اپ کا قیام کیا۔ جس کا نام ”سائنوسا“ رکھا گیا۔ جو کہ دو کمروں کے ایک اسکول سے شروع ہوا اور یوں اس میں ابتدائی دو بچّے نیاز مُسلم اور رشید تھاریہ شامل تھے۔ اس وقت رشید تھاریہ کے والد محترم سر جے ڈی تھاریہ بھی سر مسلم کے قدم بہ قدم چلتے رہے۔ آج دو ایکڑ زمین پر محیط سائنوسا ناظم آباد بلاک یو میں ایک ادارے کی حیثیت سے ان بچّوں کو مثالی تعلیم و تربیت، تھراپی اور ہنر سکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ جو کامیابی سے جاری ہے۔

اس ادارے کے کچھ بڑے مقاصد؟

اسکول کا بنیادی مقصد ایسے بچّے جو کہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار اور ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔ ان کے لئے ایسے مواقع فراہم کرنا ہے۔ جن سے گزر کر ان میں خود اعتمادی، بنا ماں باپ کے جینے کا ڈھنگ اور معاشرے میں اپنا ایک مقام حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو با مقصد گزارنے میں کامیاب ہو سکیں۔

ادارے میں داخلہ کی کیا شرائط ہیں؟

ہم بارہ سال سے کم عمر صرف انٹولیکچول ڈسایبلٹی اور ڈاؤن سنڈروم کے بچے ہی لیتے ہیں۔ کچھ بارہ سال سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں لیکن وہ پہلے کسی اسپیشل ادارے میں جا چکے ہوتے ہیں اور کسی وجہ سے ہمارے اسکول میں آتے ہیں۔ وہ ہمارے کسی بھی ووکیشنل سیٹ اپ میں ایڈجسٹ ہو سکیں تو ہم انہیں داخلہ دے دیتے ہیں۔

کم حیثیت گھرانے کے بچوں کی کیسے معاونت کی جاتی ہے؟

ہم کسی کے داخلے کو بھی مسترد نہیں کرتے۔ ہمارے علاقے میں زیادہ تر معمولی مالی حیثیت کے لوگ آتے ہیں۔ اکثر بہت کم فیس ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن کسی کو کسی کا نہیں پتہ ہوتا کہ کون کتنی فیس دے رہا ہے۔ ہر کسی کو بلا تفریق ایک جیسی خدمات دی جاتی ہیں۔ اسکول میں بچّوں کو بنیادی تعلیم، اسپیچ تھراپی، فزیوتھراپی، ہائیڈروتھراپی، آکوپیشنل تھراپی جبکہ پندرہ سال سے بڑے بچّوں کے لئے ووکیشنل ٹریننگ جس میں وڈ ورک، سلائی کڑھائی، فائن آرٹ، بلاک پرنٹنگ، کپڑا بننا، جیولری ارینجمنٹ، کمپیوٹر، گرومنگ فار بوائز اینڈ گرلز اور کوکنگ کلاس شامل ہے۔

اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جس میں اسکاؤٹ اور بینڈ، کراٹے، میوزک اور اسپورٹس شامل ہیں۔ سائنوسا ذہنی پسماندہ بچّوں کا پہلا ادارہ ہے جس نے اسکاؤٹ، بینڈ اور کراٹے کو ان بچّوں میں سب سے پہلے متعارف کروایا۔

آپ کا طریقہ تدریس کیا ہے؟

جب بچہ آتا ہے تو ہم اس کا آئی کیو ٹیسٹ کر کے اس کی ذہنی سطح کا تعین کرتے ہیں۔ پھر ہم بچہ کا ہفتہ سے ایک ماہ تک مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس دوران ہم بچے کی ماؤں کو ساتھ رکھتے ہیں۔ تاکہ ان ماؤں کو اندازہ ہو کہ ہم کس طرح بچے کو ہینڈل کرتے ہیں۔ اسیسمنٹ کے بعد جسمانی اور ذہنی عمر کے حساب سے ان کی کلاس کا تعین ہوتا ہے اور ان کا تعلیمی پلان بنایا جاتا ہے جو ہر بچے کی ضروریات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کو آئی ای پی کہا جاتا ہے۔ جو ایک سال کے لیے بنایا جاتا ہے۔ پھر ہر تین ماہ پہ بچے کا اسیسمنٹ بھی ہوتا ہے۔

آپ نے بتایا کہ آپ کا اسٹاف پروفیشنل ہوتا ہے لیکن کیا ان کی تربیتی ورکشاپ بھی ہوتی ہے؟

بالکل باقاعدگی سے نئی ٹیکنالوجی اور تربیتی کو رسسز جاری رہتے ہیں۔

آپ کو کیا مشکلات ہیں اور اس سے نپٹنے کے لیے کیا تجاویز ہیں؟

ہمیں بہت سے کرمفرماؤں سے عطیہ ملتا ہے۔ لیکن مسئلہ ٹرانسپورٹیشن کا ہے کہ مختلف علاقوں سے بچے کو کیسے لیا جائے۔ وین میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسرا مسئلہ طلبا اور اساتذہ کے تناسب کا ہے۔ جو ہم چاہتے ہیں کم بچوں اور استاد کا ہو۔

خوش قسمتی سے سائنوسا والنٹیرز میں خاصا خود کفیل ہے اور جب نئے اسٹاف کی ضرورت ہوتی ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ٹرینڈ والنٹیر کو نوکری دیں۔ تاہم ہمیں مزید تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہے۔

معذوری کے حوالے سے معاشرتی رویہ وقت کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے یا بد تر۔ اس کی وجوہات؟

وقت کے ساتھ بہتری آ رہی ہے۔ مختلف این جی اوز اور تعلیمی ادارے ہیں جو ان بچوں پہ کام کر رہے ہیں۔ ڈس ایبل سرٹیفیکٹ، اسپیشل شناختی کارڈ کے علاوہ بینظیر انکم پروگرام کے تحت بچوں کی سپورٹ کا کام بھی ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسپیشل اولمپک پاکستان ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جو کہ پورے پاکستان میں ذہنی پسماندہ بچوں میں کھیل کی آگہی، مقابلہ اور ایک Inclusive معاشرہ بنانے میں ایک اہم رول ادا کر رہا ہے۔ ہمارے بچے اسپیشل اولمپکس میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ مختلف ممالک جاتے ہیں اور انعامات حاصل کرتے ہیں۔

آپ سماج سے کس قسم کے تعاون کی توقع رکھتی ہیں؟

ان بچوں کی مالی ضروریات کے ساتھ ان کی عزت نفس اور وقار کا بھی خیال رکھیں۔ اکثر بچے کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن ہمیں ان کی کہی ان کہی باتوں کو سمجھنا اور احساس کرنا ہو گا۔ یہ بچے پھول کے مانند ہیں جو جلد مرجھا جاتے ہیں۔ اپنی توجہ سے ان کو خوشیوں بھری زندگی دیں۔ ہمارا منصوبہ ان ڈور اسپورٹس کمپلیکس اور شیلٹر ورک پلان کا ہے۔ اس کے لیے ہمیں مالی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان بچوں کو زندگی کی خوشیاں دے سکیں۔

Facebook Comments HS