جان پہچان، عذاب یا سہولت
ایک مرتبہ بس میں سفر کرنے کے دوران مجھے بڑی مشکل در پیش ہوئی کہ موبائل کی ہینڈز فری کہیں گما بیٹھا۔ مجھ سے سفر کے دوران بات چیت نہیں ہو پاتی۔ کوشش کرتا ہوں کہ سوتا رہوں لیکن مجھے اکثر باتونی ہم سفروں سے پالا پڑتا ہے۔ وہ انکل بھی ایسے ہی تھے۔ بس ڈرائیور کے پہلا گیئر لگاتے ہی انھوں نے سوال داغ دیا کہ بیٹا آپ کیا کرتے ہیں؟ اس وقت میں فضائی میزبانی کے پیشے سے منسلک تھا چناں چہ میں نے انھیں یہ نہیں بتایا کیوں کہ پھر ان کو اس نوکری کے متعلق سمجھانے کے لیے مزید بولنا پڑتا۔ میں نے کہا کہ لاہور ائرپورٹ پر کام کرتا ہوں۔
ائرپورٹ کا نام سنتے ہی ان کی آنکھیں کسی شادی والے گھر کی چھت سے ڈیوڑھی تک آتی برقی قمقموں کی لڑی کی طرح جگمگانے لگیں۔ بھنووں کے ساتھ کانوں میں جنبش ہوئی اور ذرا سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے پھر یہ نہیں پوچھا کہ میں کیا کام کرتا ہوں ائرپورٹ پر بلکہ کہنے لگے ”آپ حامد خان کو تو جانتے ہوں گے، وہ بھی لاہور ائرپورٹ پر ہوتے ہیں“ ۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حامد خان کون ہے۔
ائرپورٹ پر بیسیوں ائرلائنز کا عملہ کام کرتا ہے۔ سول ایوی ایشن کے ملازمین ہوتے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کا عملہ ہوتا ہے۔ اب ان میں کتنے حامد خان ہوں گے مجھے کیا معلوم لیکن وہ بضد تھے کہ بیٹا آپ جانتے ہوں گے حامد خان کو۔ پھر کہنے لگے ”وہ سرگودھے کے ہیں اور ان کا بھائی اعجاز خان بھی پہلے وہیں ہوتا تھا۔ جب بھی ہمارا کوئی مہمان ائرپورٹ پر آتا ہے تو وہ بڑا پروٹوکول دیتے ہیں“ ۔ بس مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ مجھ سے بھی اسی لیے دوستی بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ میں نے معذرت کی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
لوگوں سے جان پہچان نکالنا اور پھر کسی کام کے لیے اگلے کے ذمے لگ جانا ہمارے زیادہ تر عوام کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ نائی کی دکان سے لے کر شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں ایسے بہت سے لوگ آپ کو ملیں گے جو بات ہی اس لیے شروع کرتے ہیں کہ آپ کو کرید کرید کر پوچھا جائے کہ میاں کیا کرتے ہو، کہاں ہوتے ہو اور کس کس کو جانتے ہو۔ اگر آپ کسی اچھے ادارے میں کام کرتے ہیں تو خواہ کسی اچھی پوسٹ پر کام کرتے ہیں یا نہیں، ایسے لوگ اتنی قربت اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کو لگے گا شاید وہ اس دوستی کو رشتہ داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔
اس ”جان پہچان“ قبیلے کے لوگ آپ کو دفتروں میں بھی نظر آتے ہیں۔ وہ خود کوئی کام نہیں کرتے بلکہ انھوں نے اپنے ہی کام کے لیے ”بندے رکھے ہوتے ہیں“ ۔ ان کے فون میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا نمبر ہوتا ہے جو بوقت ضرورت کام آتا ہے۔ لیکن بدلے میں ان کو بھی کسی نہ کسی کے کام آنا پڑتا ہے کیوں کہ ”جان پہچان“ والی لسٹ میں یہ لوگ خود بھی شامل ہوتے ہیں۔
مسئلہ اکثر وہاں پیدا ہوتا ہے جب آپ کو بدلے میں کسی ”جان پہچان“ والے کا کام کرنا پڑ جاتا ہے۔ پس یا تو آپ بھی ایک مضبوط جان پہچان رکھنے والے انسان ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ اس جھمیلے میں نہ پڑنا بہتر ہوتا ہے۔ کوئی آپ کا ایک کام کر دیتا ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ آپ کو بدلے میں ایک کام ہی کرنے کا کہے گا۔ ایسے لوگ آپ سے پھر اسپیشل گوند کی مانند چسپاں ہو جاتے ہیں کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا حساب ہو جاتا ہے۔ ایک کے بدلے دس کام آپ کے ذمے لگ جائیں گے اور معذرت کرنے پر بھگو بھگو کر طعنے آپ کی عزت نفس کی پیٹھ لال کرتے رہیں گے۔
اگر یہ جان پہچان کسی مفید اور مثبت کام کے لیے استعمال کی جائے تو بہتر ہے لیکن ہمارے یہاں ایسا کم ہوتا ہے۔ کسی ضرورت مند کا پھنسا ہوا کام یا میرٹ پر درخواست گزار کو بھرتی کروانے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہیے لیکن اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں ”جان پہچان“ کسی کا حق مارنے کے لیے سب سے پہلے استعمال کی جاتی ہے۔
خواتین کی ”جان پہچان“ بنانے کی مشقیں زیادہ بیوٹی پارلر میں جاری رہتی ہیں۔ وہاں یہ کام نسبتاً آسان ہو جاتا ہے کیوں کہ سب کا ”اصلی چہرہ“ ایک دوسرے کے سامنے عیاں ہوتا ہے۔ اس بات کی سہولت رہتی ہے کہ کس سے جان پہچان بنائی جائے اور کس سے نہیں۔ زیادہ تر یہ جان پہچان رشتے کروانے والی خواتین بناتی پائی جاتی ہیں تا کہ ان کا کام بھی بطریق احسن چلتا رہے۔
اگر آپ کی جان پہچان ہے تو آپ کو اپنے رکے ہوئے کام کے لیے درخواست کی نہیں بلکہ اپنے دوست کے کزن کے چچا کے تعلقات کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی میرٹ سے افضل ہمارے یہاں وہ فون ہے جو عین وقت پر بجتا ہے اور کایا پلٹ جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے حیرت انگیز معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ آگے بڑھنے کے لیے دوڑتے نہیں بلکہ جان پہچان کا استعمال کر کے سکندر بن جاتے ہیں۔
ویسے بھی ”جگاڑ“ ہمارا پسندیدہ ٹائم پاس ہے اور کچھ حالات بھی ایسے ہی ہیں۔ اگر آپ کے پاس ڈگری اور مہارت جیسی غیر ضروری چیزیں نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر ہیں تو اچھی بات ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں کام ضرور آ جاتی ہیں۔ بس اب میں اجازت چاہوں گا کہ ائرپورٹ پر ایک ضروری کام کے سلسلے میں مجھے کسی کا فون آ رہا ہے۔


