ہندوستان کی لوک داستانیں
لوک داستانیں کسی بھی زبان، معاشرے اور تہذیب کا نہایت اہم اور خوبصورت عکس ہوتی ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف ماضی کے حالات و واقعات کا پتہ چلتا ہے بلکہ ان میں معاشرتی اقدار، اخلاقی اسباق، تاریخی واقعات اور جذباتی کیفیات کا عکس بھی جھلکتا ہے۔ زمانہ قدیم میں جب لکھنے کا رواج عام نہ تھا، لوگ عموماً حجرے یا کسی کھلے مقام پر محفلیں سجاتے، جہاں بزرگ یا کوئی ماہر داستان گو قدیم کہانیاں، روایات یا اپنے ذاتی مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر سنائی جانے والی دلچسپ کہانیاں پیش کیا کرتے تھے۔ کہانی سنانا بذاتِ خود ایک فن ہے، جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ کچھ افراد کہانی کو سن کر فوری بھلا دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے عمر بھر یاد رکھتے ہیں اور نسل در نسل منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔
سماجی اور الیکٹرانک میڈیا کے وجود میں آنے سے آج یہ کہانیاں، روایات اور داستانیں نہ صرف محفوظ ہو گئی ہیں بلکہ کثیر تعداد میں سامعین و قارئین تک باآسانی پہنچ رہی ہیں۔ ان میں اخلاقی، اصلاحی، سماجی، معاشرتی اور عشقیہ موضوعات پر مبنی داستانیں آج بھی سننے اور پڑھنے والوں کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ دنیا کی ہر زبان، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، قدیم ہو یا جدید، اور ہر تہذیب و ثقافت میں لوک داستانوں کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور موجود ہے۔ ان میں سے کچھ داستانیں تحریری صورت میں محفوظ ہو چکی ہیں جبکہ بعض اب بھی زبانی روایات کی شکل میں نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں میں لوک داستانیں موجود ہیں۔ ہندکو زبان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزارہ کے خطے میں اس زبان کی کئی اہم لوک داستانیں موجود ہیں۔ سلطان سکونؔ نے ان ہندکو داستانوں کو تحریری صورت میں محفوظ کر کے نہ صرف ایک قیمتی تاریخی سرمایہ جمع کیا ہے بلکہ اس تحقیقی کام سے ہندکو زبان، خصوصاً ہزارہ کے لہجے کے رسم الخط سے متعلق مسائل بھی کسی حد تک حل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تحریر و اشاعت کے میدان میں ترقی کے ساتھ ساتھ مختلف مصنفین نے بھی پاکستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں نسل در نسل چلنے والی ان داستانوں کو جمع کر کے شائع کیا، تاکہ ادب کے شائقین ان سے لطف اندوز ہو سکیں اور ہمارا ثقافتی ورثہ محفوظ رہ سکے۔
اس سلسلے میں چند کتابیں ایسی ہیں جن کو پڑھ کر ان تہذیبوں کے بارے میں اچھی خاصی آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی زبانوں کا لوک ادب (ڈاکٹر کمال جامڑو) ، سندھی لوک داستانیں، پنجابی لوک داستانیں (شفیع عقیل) ، سرائیکی لوک داستانیں ( عصمت اللہ شاہ) ، بلوچی لوک داستانیں، پاکستان کی لوک داستانیں از پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی، عرب دیسوں کی عوامی کہانیاں (انور خاں ) ، بُلبل خوش نوا، چینی لوک کہانیاں (شمع عقیل) ، چترال کی لوک کہانیاں، دیس دیس کی لوک کہانیاں، جرمن لوک کہانیاں، ہماری لوک کہانیاں، موگھیا لوک کہانیاں (ڈاکٹر پی۔ آر۔ شکلا۔ ترجمہ :وقار صدیقی ) اور گلگت بلتستان کی لوک کہانیاں (سید عالم استوری) وغیرہ شامل ہیں جن کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر بھی ادب صدیوں سے ارتقائی مراحل طے کرتا چلا آ رہا ہے۔
اس ضمن میں اے کے رامانجن نے ہندوستانی زبانوں کی سینہ بہ سینہ چلی آنے والی کہانیوں کو جمع کر کے انگریزی زبان میں ”Folk Tales of India“ کے نام سے شائع کروایا ہے۔ اے کے رامانجن علمی و ادبی دنیا کی ایک معتبر اور جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ میسور ان کی جنم بھومی ہے اور انھوں نے ہندوستانی لسانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تدوین و ترتیب اور ترجمہ کے میدان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں اور ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی سرکاری و غیرسرکاری ایوارڈز سے بھی اُن کو نوازا گیا۔ طاہرہ حسن نے اِن لوک داستانوں کو اُردو زبان کے قالب میں ڈھال کر اُردو دان طبقے کو اس سرمائے سے مستفید کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ ان کی تحریر میں ایک تخلیقی حسن کا عنصر نمایاں ہے اور انھوں نے جس کمال مہارت سے ان داستانوں کو اُردو زبان کے قالب میں ڈھالا، وہ لائق تحسین ہے۔ یہ کتاب ہندوستان کی بائیس زبانوں کی لوک داستانوں کا مجموعہ ہے۔ مصنف نے پورے ہندوستان کی زبانی روایات اور کہانیوں کو علامتی صورت میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ زبان و بیان کی ندرت، سلاست اور اسلوب کی سادگی ان داستانوں کی اہم خوبی ہے اور قارئین کی دلچسپی کو حتی الوسع مدنظر رکھا گیا ہے۔
اس کتاب کے لیے کہانیاں کا انتخاب اور انہیں ترتیب دیتے ہوئے اہم زبانوں، پچھلی صدی کے دوران انگریزی میں موجود مجموعوں اور بین الاقوامی اشاریوں کی فہرست کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان میں وہ کہانیاں (جن کا مرکز مرد ہیں ) ، کہانیاں (عورتیں جن کا مرکز ہیں ) ، کہانیاں (خاندانوں کے بارے میں ) ، تقدیر، دیوتاؤں، راکھشسوں اور ایسی ہی چیزوں کے بارے میں کہانیاں، مزاحیہ کہانیاں، جانوروں کی کہانیاں، کشمیری، مراٹھی، بنگلہ، تامل، گونڈی، کنٹر، تامل، سنتھالی، پنجابی، اڑیہ، تیلگو اور گجراتی زبانوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ نسل در نسل چلنے والی ہندوستانی کہانیوں کے اس مجموعے میں بائیس زبانوں سے کہانیوں کا انتخاب کر کے ترجمہ کیا گیا ہے اور ہندوستان کے تقریباَ سبھی علاقوں کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ کتاب کے دیباچے میں مصنف لکھتے ہیں کہ لوک کہانی ایک ایسا شاعرانہ متن ہے جو اپنے اندر اپنا کچھ تہذیبی سلسلہ بیان رکھتا ہے۔ یہ سفر کرنے والا ایسا استعارہ ہے جو ہر بار سناتے وقت ایک نئے معنی حاصل کر لیتا ہے۔ میں نے کہانیوں کو جیسے کہ میں نظموں کی کسی کتاب کو مرتب کرتا، سلسلے وار ترتیب دیا ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے کی صورت اختیار کریں اور سب مل کر سوال و جواب کے ذریعے اپنی ایک دنیا تشکیل کریں۔ اُمید ہے کہ داستانوں کی جمع آوری کا یہ سلسلہ یوں ہی قائم و دائم رہے گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سرمایہ محفوظ کیا جا سکے۔


