محنت کشوں کی تذلیل، نکموں کا غرور
ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ یہ سوال ہمیں روز خود سے پوچھنا چاہیے۔ ہم نے بحیثیت قوم، محنت کو عزت دینا چھوڑ دیا ہے، اور کام چوری کو دانائی کا درجہ دے دیا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ چند افراد غلط راہ پر ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ وہی لوگ ہمارے اداروں پر قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ جن کا ایمان صرف اپنی کرسی، اپنی سہولت اور اپنے نام کی شہرت ہے، ان کے لیے ادارے، ملک، قوم سب کچھ ثانوی ہو گیا ہے۔
دفاتر میں روزانہ ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کوئی شخص پورے اخلاص سے ادارے کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن وہی لوگ جو سارا دن ”صبر“ اور ”سکون“ سے اپنی میز کے گرد گھومتے رہتے ہیں، اس محنتی شخص پر اعتراضات، الزام تراشی اور تمسخر کی بارش کر دیتے ہیں۔ ان کے جملے کچھ یوں ہوتے ہیں : ”بہت آگے بننے کی کوشش کر رہا ہے“ ، ”سب کے سامنے نمبر لے رہا ہے“ ، ”چاپلوس ہے“ ، ”پرنسپل کا چہیتا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا دیانتداری اور محنت واقعی چاپلوسی بن چکی ہے؟ کیا ہم نے سچائی کا صلہ مذاق بنا دیا ہے؟
یہ سوچ دراصل احساسِ کمتری کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ جو خود کام نہیں کر سکتا، جو اپنے آپ سے مطمئن نہیں، جو اپنی قابلیت پر شک کرتا ہے، وہ دوسروں کی کارکردگی سے خائف رہتا ہے۔ وہ اپنے دل کو یہ جھوٹ بول کر تسلی دیتا ہے کہ ”دوسرا اگر کامیاب ہے، تو ضرور اس نے کوئی خوشامد کی ہے، یا چالاکی سے بازی ماری ہے۔“ یہ نفس کی وہ دراڑ ہے جو نہ صرف انسان کو تباہ کرتی ہے بلکہ ادارے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔
یہی لوگ جب کسی وجہ سے خود عہدے پر آ جاتے ہیں۔ چاہے کسی خالی پوسٹ کی مجبوری سے، یا ذاتی تعلقات کے بل پر تو ان کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے۔ کل تک جو ”کام کرنے والوں“ کو ناپسند کرتے تھے، آج خود ”باس“ بن کر اسی کرسی سے نظریں نہیں ہٹاتے۔ ان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ اب جو میں ہوں، ادارہ اسی سے چل رہا ہے، باقی سب نالائق ہیں، اور میری مرضی ہی قانون ہے۔ اس خود پرستی کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ وہ نہ کسی اختلاف کو برداشت کرتے ہیں، نہ کسی اچھے مشورے کو۔
یہ رویہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری قومی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ ہم نے بطور قوم ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں ایماندار شخص کو ”بے وقوف“ کہا جاتا ہے، اور چالاک، وقت گزار شخص کو ”سمجھدار“ ۔ ہم نے دوسروں کی ٹانگ کھینچنا، الزامات لگانا، محنت کشوں کو نیچا دکھانا اپنا قومی مزاج بنا لیا ہے۔ ایسی ذہنیت کے ساتھ ہم کس ترقی کی امید رکھتے ہیں؟
ادارے ایسے افراد سے نہیں چلتے جو صرف اپنی تعریف سننے کے خواہش مند ہوں، ادارے ان ہاتھوں سے پھلتے ہیں جو خاموشی سے کام کرتے ہیں، بغیر داد و تحسین کے، بغیر کسی لالچ کے۔ لیکن ہم نے ان ہاتھوں پر چھریاں چلائیں، اور پھر روتے ہیں کہ ”ادارے کیوں نہیں چلتے؟“
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج ہر دوسرا شخص چھوٹا سا اختیار ملنے پر خود کو ”خدا“ سمجھنے لگتا ہے۔ ماتحتوں کو ذلیل کرنا، ساتھیوں کو نیچا دکھانا، اور ماتھے پر تکبر کی سیاہی سجائے رکھنا گویا لیڈرشپ کی نئی تعریف بن چکی ہے۔ جب یہ چھوٹا سا اختیار ان کے ہاتھ سے نکلتا ہے، تو یہی لوگ پھر دوبارہ ”معصوم“ بن کر نئے ہیڈز کے سامنے جا کر کہتے ہیں : ”سر، ہمیں بھی کوئی عہدہ دے دیں، ہم بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔“
ان لوگوں کا ضمیر کب جاگتا ہے؟ جب اپنی ذات پر کام آتا ہے۔ ورنہ دوسروں کی محنت کا تو ان کے نزدیک کوئی وزن نہیں۔ یہی دوغلا پن ہے، یہی منافقت ہے، جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہا ہے۔
منافقت صرف جھوٹ بولنا نہیں، بلکہ دل میں کچھ اور رکھنا اور زبان سے کچھ اور کہنا بھی اس کی بدترین شکل ہے۔ ہم دفاتر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہیڈز کو برا بھلا کہتے ہیں، ان کی پالیسیاں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن جیسے ہی ہیڈ سامنے آتا ہے تو ”سر، آپ کی بصیرت، آپ کی لیڈر شپ کمال ہے“ جیسے جملے سنائے جاتے ہیں۔ کیا یہی اخلاقیات ہیں؟ کیا یہی وہ دین ہے جس کا ہم نام لیتے ہیں؟
محبتِ وطن صرف پرچم لہرا کر یا ترانہ گا کر ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل مظہر یہ ہے کہ ہم اپنے ادارے کو اپنی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ قومی امانت سمجھیں۔ جو دفتر میں اپنی کرسی کے لیے سچ کو چھپاتا ہے، جو دوسرے کی محنت کو دباتا ہے، وہ ملک کے ساتھ بھی ایماندار نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگ جب بڑی سطح پر جاتے ہیں، تو یہی رویے ملک کی پالیسیوں میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ کیونکہ جو انسان دیانت داری سے کام نہیں کرے گا، وہ چاہے جتنا بڑا عہدہ سنبھال لے، وہ ترقی کا دروازہ بند ہی کرے گا۔
ہمیں اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ محنت کرنے والا شخص چاپلوس نہیں، محسن ہوتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ جو ادارے ترقی کر رہے ہیں، وہاں سچ بولنے والوں، محنت کرنے والوں اور اصول پر قائم رہنے والوں کی قدر کی جاتی ہے۔ اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے، ہمارے ادارے خود کفیل ہوں، تو ہمیں ”ادارے کے لیے کام کرنے والوں“ کو سینے سے لگانا ہو گا، نہ کہ ان پر انگلیاں اٹھانا۔
قومی ترقی، حب الوطنی، اور معاشرتی بہتری کا راستہ صرف ایک ہے : سچ، خلوص، محنت اور اصول پرستی۔ جو لوگ اداروں کو اپنی ذاتی میراث سمجھتے ہیں، وہ ملک دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے نظام کو برباد کرتا ہے، وہ دراصل پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم چراغ جلانے والوں کی حفاظت کریں، نہ کہ انہیں مایوسی، تنقید اور مذاق کی آگ میں جلا دیں۔ ادارے محنت سے چلتے ہیں، چاپلوسی سے نہیں۔ اور قومیں دیانت سے بنتی ہیں، منافقت سے نہیں۔


