جو زندگی اپنی ہو وہ دوسروں کو کیوں کھٹکتی ہے؟


ہمارا معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر فرد کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور انفرادی سوچ رکھنے والے افراد کو اکثر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی مرد یا عورت عام روئیے اور روایات سے ہٹ کر اپنی پسند کی زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو اسے تنقید، طعنوں اور مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے بات لباس کی ہو، کھانے پینے کی ہو، میل جول کی ہو یا کسی کی ترجیحات کی اگر وہ اکثریت سے مختلف ہوں تو فوراً سوال اٹھا دیے جاتے ہیں۔

ایک خاتون اگر سادہ اور غیر برانڈڈ کپڑے پہنے تو لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں ”یہ تو کنجوس لگتی ہے“ ، یا ”لگتا ہے اس کے حالات ٹھیک نہیں“ ۔ دوسری طرف اگر وہی خاتون مہنگے کپڑے نہ پہننے کی وجہ اپنی مخصوص سوچ، کفایت شعاری یا سادگی بتائے تو اسے دقیانوسی یا بے ذوق کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک مرد اگر اپنی مرضی سے عام سے کپڑے پہن کر ملازمت کی جگہ آئے تو ساتھی فوراً چٹکلے چھوڑنے لگتے ہیں ”یہ تو پرانا فیشن ہے“ ، ”ابھی تک 90 کی دہائی میں جی رہے ہو؟“ ، ”تمہیں ڈریس سینس نہیں ہے؟“

کھانے پینے کے معاملے میں بھی یہی حال ہے۔ اگر کسی خاتون یا مرد کو فاسٹ فوڈ یا مہنگے ریستورانوں کا کھانا پسند نہ ہو اور وہ سادہ دیسی کھانے کو ترجیح دے یا اس کا اس وقت کھانے پینے کا موڈ ہی نہ ہو تو لوگ اسے ”کنجوس“ یا ”پینڈو“ کہہ دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ گروپ میں شامل ہونے کے لیے چیزیں اپنی مرضی کے خلاف بھی کرتے ہیں صرف اس لیے کہ الگ نہ لگیں یا گروپ سے الگ نہ ہو جائیں۔

انفرادی پسند کو اکثر خودغرضی کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے اگر کوئی شادی میں شامل نہ ہو سکے یا رش والی جگہوں سے بچنا چاہے تو کہا جاتا ہے ”اسے کسی سے میل جول کا شوق نہیں“ ، ”یہ تو بس اپنے ہی آپ میں رہتا ہے“ ۔ لوگ یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہر فرد کی الگ فطرت، پسند ناپسند، ماحول اور ذہنی کیفیت ہوتی ہے۔

اکثر نوجوان اگر کسی عام پیشے یا نوکری کو چن لیں اور وہ مشہور یا عام طور پر پسند کیے جانے والے شعبے کا انتخاب نہ کریں تو فوراً والدین، رشتہ دار اور آس پاس کے لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ لڑکی اگر سلائی، کڑھائی یا کسی ہنر میں دلچسپی لے تو کہا جاتا ہے ”بس اتنا ہی سوچا ہے اس نے؟“ اور لڑکا اگر کسی ہنر یا چھوٹے کاروبار میں دلچسپی رکھے تو کہا جاتا ہے ”کوئی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کیا؟“

سوشل میڈیا نے بھی یہ دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اب ہر چیز کو دکھاوا بنا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی اپنی ذاتی زندگی یا مہنگی اور برانڈڈ چیزیں سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرتا تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس دکھانے کو کچھ ہے ہی نہیں حالانکہ وہ اپنی پرائیویسی کو ترجیح دیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ اس دوڑ میں شامل نہیں ہوتے وہ پیچھے نہیں رہتے بلکہ پرسکون ہوتے ہیں مگر دنیا انہیں ناکام سمجھتی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کا اپنی زندگی جینے کا الگ انداز ہوتا ہے۔ کسی کا کم بولنا، سادہ کھانا کھانا، عام لباس پہننا یا تنہائی پسند ہونا کوئی خامی نہیں بلکہ یہ اس کی انفرادی شخصیت کا حصہ ہے۔ مگر ہمارا معاشرہ انفرادیت کو قبول کرنے کی بجائے سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم کب یہ سمجھیں گے کہ ہر کسی کی اپنی زندگی، اپنی ترجیحات اور اپنی سوچ ہوتی ہے؟ اور کب ہم لوگوں کو ویسا ہی قبول کرنا سیکھیں گے جیسے وہ ہیں؟

ہمیں بطور معاشرہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کوئی مقابلہ نہیں کہ سب ایک ہی لائن میں دوڑیں، نہ ہی کوئی فارمولا ہے کہ سب ایک جیسا سوچیں، پہنیں یا کھائیں۔ جو اپنی پسند پر قائم رہتا ہے وہ کمزور نہیں بلکہ خود پر یقین رکھنے والا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ سادگی، انفرادیت اور خودداری کوئی کمزوری نہیں بلکہ وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو خاص بناتی ہیں۔ اگر ہم ہر اس شخص کو مسترد کرتے رہے جو ہم سے مختلف ہے تو ہم ایک بانجھ معاشرہ بن جائیں گے جہاں نہ سوچنے کی آزادی ہو گی نہ جینے کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنی سوچ بدلیں کیونکہ معاشرے میں اصل خوبصورتی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب ہر رنگ کو اپنی چمک کے ساتھ جینے دیا جائے۔

Facebook Comments HS