خواب، محبت اور زندگی (14)

مجھے اس زمانے کے قتل کے دو مشہور مقدمات اچھی طرح یاد ہیں جن کے بارے میں روز اخبارات میں خبریں شائع ہوتی تھیں اور لوگ بے چینی سے عدالت میں فریقین کی پیشیوں کا انتظار کرتے تھے۔ ایک تو منیرہ استانی کے قتل کا کیس تھا جس میں با اثر پگانوالہ خاندان ملوث تھا۔ اور دوسرا حکیم دلبر قتل کیس تھا جس میں مقتول کے بھائیوں نے سہگل خاندان کے خالد سہگل کو ایف آئی آر میں مرکزی ملزم نامزد کیا تھا۔ ابی کوہ نور مل میں ملازمت کر رہے تھے اور ہم وہیں کوہ نور کالونی میں رہ رہے تھے، اس لئے بڑوں کو تو چھوڑئیے، ہم بچوں کے لئے بھی وہ دن بہت سنسنی خیز تھے۔
اس زمانے کے مشہور وکیل منظور قادر کو سہگلوں نے اپنا وکیل مقرر کیا جو بعد میں ایوب خان کی کابینہ میں اہم وزارت پر بھی فائز ہوئے۔ اس زمانے میں ٹی وی چینلز تو تھے نہیں صرف پرنٹ میڈیا تھا جس نے اس کیس کو بہت زیادہ پبلسٹی دی۔ اس مقدمے کا پس منظر یہ تھا کہ سہگل کوہ نور مل کو توسیع دینے کے لئے ملحقہ قطعہ اراضی خریدنا چاہتے تھے۔ یہ زمین سات بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھی۔ سارے بھائی زمین بیچنے کو تیا ر ہو گئے تھے مگر ایک بھائی یعنی حکیم دلبر مان کر نہیں دے رہا تھا۔
اور پھر ایک رات اسے قتل کر دیا گیا۔ اب جو بات میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، وہ آج بھی میرے لئے ناقابل یقین ہے اور آج بھی اس کے بارے میں سوچ کر مجھے جھرجھری آ جاتی ہے۔ میں نہیں جانتی کہ بچپن میں اتنے زیادہ بڑوں کے ناول پڑھ لینے کی وجہ سے میرے ذہن نے اپنے طور پر یہ سب کچھ تصور کر لیا یا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا جس پر مجھے حقیقت کا گمان گزرا۔ بہر حال جس رات حکیم دلبر کا قتل ہوا۔ اس رات سوتے ہوئے آدھی رات کو اچانک میری نیند کھل گئی اور میں امی ابی کے بیڈ روم کی طرف چل پڑی۔
ابی وہاں نہیں تھے، معلوم نہیں کیا سوچ کر امی کو جگانے کی بجائے میں نے گھر کے باہر والی ڈیوڑھی کا رخ کیا۔ شاید میری چھٹی حس کام دکھا رہی تھی۔ ہمارے ڈائننگ روم کا دروازہ اسی ڈیوڑھی میں کھلتا تھا۔ جسے امی سونے سے پہلے کنڈی لگا دیتی تھیں۔ مگر اس رات وہ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ جب میں دروازے کے پاس پہنچی تو میں نے دیکھا کہ ابی چار پانچ لمبے کڑیل تہبند باندھے اور لمبی کالی قمیضیں پہنے ہوئے مردوں کے ساتھ ڈیوڑھی میں کھڑے ہیں، جو ان سے کچھ کھسر پھسر کرنے کے بعد غائب ہو گئے۔
میں نے کالونی کے اندر اس حلیے کے سیاہ رنگت والے اتنے لمبے تڑنگے اور تہبند باندھے ہوئے مرد پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اگلی صبح میری نیند کھلی تو میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جو میں نے دیکھا، وہ خواب تھا یا حقیقت۔ مگر بعد میں اخبارات کی بدولت پورے شہر میں حکیم دلبر کے قتل کی خبر پھیل گئی تھی۔ اب اس عمر میں پہنچ کر بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ میں نے جو کچھ دیکھا وہ بچوں کے لئے ممنوعہ سمجھے جانے والے ناول پڑھنے والی لڑکی کے تخیل کی کرشمہ سازی تھی یا سچ مچ ایسا ہوا تھا اور پھر میں نے ابی سے اس کے بارے میں کبھی پوچھا کیوں نہیں اور ساری عمر اس واقعہ کو اپنے ذہن کے نہاں خانوں میں دفن کیوں کیے رکھا؟
میرے پاس آج بھی ان سوالوں کا جواب نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا مقتول کے بھائیوں کی طرف سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آر کے نتیجے میں سعید سہگل کے بیٹے خالد سہگل کو گرفتار کر کے لائلپور کی جیل میں رکھا گیا تھا اور اس وقت کے نامی گرامی وکیل منظور قادر اور ان کی ٹیم ملزم کے کیس کی پیروی کر رہی تھی۔ اس دوران میں جیل میں موجود سارے قیدیوں کا کھانا سہگلوں کی طرف سے جاتا تھا۔ خالد سہگل کی والدہ اپنے بیٹے کی رہائی کی دعا مانگنے کے لئے کالونی کے اندر واقع انڈسٹریل ہوم کی ساری استانیوں کو جن میں میری نانی بھی شامل تھیں، اور دیگر خواتین کو بلوا کر رفیق سہگل کی کوٹھی میں قرآن خوانی اور آیت کریمہ کا ختم کراتی رہتی تھیں۔
شاید ایسے ہی واقعات کو دیکھ کر اقبال نے یہ شعر کہا ہو گا: سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر، جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے بہرحال، اللہ کو راضی کرنے کی یہ ساری اضافی کوششیں اپنی جگہ، بات تو یہ ہے کہ ہماری پیاری پاک سر زمیں میں ”پیسہ بولتا ہے“ ۔ اس لئے ناکافی شواہد کی بنا پر مقدمہ خارج کر دیا گیا اور خالد سہگل رہا ہو گیا۔ شاید اس قتل کیس نے اور جیسے پانی کی طرح پیسا بہا کر خالد سہگل کو رہا کرایا گیا، سہگلوں کی امارت (جس سے ایک حد تک ہمارا خاندان اور دیگر افسران بھی مستفید ہوئے ) اور ان کے پر تعیش طرز زندگی نے میرے دل میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا پہلا بیج بویا ہو۔
سہگل اتنے امیر تھے کہ انہوں نے کالونی کے ساتھ ہی اپنا ائر پورٹ بنا لیا تھا اور ایک چھوٹا ہوائی جہاز بھی خرید لیا تھا۔ ایک پائلٹ کو ملازم رکھا گیا تھا جسے ہمارے گھر کے سامنے والی کوٹھی رہائش کے لئے دی گئی تھی۔ یہ اور بات کہ کچھ عرصہ بعد حکومت نے نجی ائرپورٹ اور جہاز رکھنے کی اجازت واپس لے لی تھی۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ سہگلوں نے اس وقت کے صدر اسکندر مرزا اور ان کی بیگم ناہید کو کوہ نور کالونی میں مدعو کیا تھا۔ اور ناہید مرزا کو ہیروں کا ہار تحفے میں دیا تھا۔
سرمایہ دار اسی طرح اپنی طاقت کو مستحکم کرتے ہیں۔ ان امیر خاندانوں کا باہمی گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور اپنی مراعات اور مفادات کی حفاظت کے لئے یہ آپس میں ہی اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ ہمارے لائلپور چھوڑنے کے بہت عرصہ بعد یوسف سہگل کی سب سے چھوٹی بیٹی ناز سہگل کی شادی پاکستان کے امیر ترین آدمی میاں منشا سے ہوئی اور چھوٹے بیٹے اعظم سہگل کی شادی کراچی کے ڈان گروپ کے مالک ہارون خاندان کی بیٹی سے ہوئی۔
اعظم سہگل بعد میں پی آئی اے کے چیئرمین بھی بنے۔ ان کے بڑے بھائی رفیق سہگل تو بہت پہلے ہی اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ امارت اور اشرافیہ، بد عنوانی اور غربت ایک ناقابل بیان طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ شاید یہی اس نظام سے میری مایوسی اور بد ظنی کا سبب بنا ہو۔ شاید میں بچپن میں ہی سمجھ گئی تھی کہ عیش و آرام صرف ایک چھوٹے سے امیر طبقے کا مقدر ہے۔ کمزور، محروم اور غریب طبقات جو اکثریت میں ہیں، ہمیشہ دکھ اور تکلیف میں مبتلا رہیں گے۔ اور چند خوش حال اور طاقت ور لوگ ان پر حکومت کرتے رہیں گے۔
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
