رومی اور سلطان باہو کانفرنس
کل سلطان باہو اور رومی کانفرنس انتہا درجے کی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ بلا مبالغہ، ہر سیشن معلوماتی، دلچسپ، قابلِ تحسین اور ذہنی بالیدگی و تازگی کا بہترین ذریعہ تھا۔
سب سے اہم بات یہ تھی کہ نوجوان رضاکاروں کا با ادب انداز، ہر مہمان کے ساتھ احترام، اور ان کی مخصوص وضع قطع۔ رومی کے متوالے اپنے مخصوص چولے اور ٹوپیوں میں، جب کہ سلطان باہو کے فقیر شلوار قمیص اور دستار میں۔ مہمانوں کا خوش دلی سے استقبال کرتے ہوئے قطار میں کھڑے تھے۔ چونکہ میرا آنا جانا مسلسل رہا، اس لیے میں نے کئی بار ان سے پوچھا: ”آپ تھک تو نہیں گئے؟“ لیکن جواباً وہ صرف مسکرا دیتے۔
اس کانفرنس میں پہلی بار یہ منظر دیکھا کہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے یا بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔ نہ کوئی اشرافیہ، نہ کوئی غربت کا امتیاز؛ نہ کسی کے لیے مخصوص نشست، نہ کوئی پروٹوکول۔ اگر کوئی جرنل بھی تھا تو پلیٹ ہاتھ میں لیے کھڑا نظر آیا۔ ہال چاہے کتنا بھی بھر گیا ہو، دیر سے آنے والی کوئی خاتون کبھی کھڑی نظر نہ آئی۔
سچ پوچھیں تو یوں لگا جیسے کوئی خواب دیکھا ہو۔ تمام منتظمین اور رضاکار بشمول آصف تنویر اعوان (پبلک ریلیشن افسر ) اور مدثر ایوب ہشاش بشاش اور ہنستے مسکراتے ہر وقت موجود رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو سلامت رکھے۔
آخری پروگرام ”محفلِ سماع“ تھا۔ حامد راجا کو پہلے بھی کئی بار سن چکی ہوں، لیکن آج کی پرفارمنس نے تو گویا روح تک کو چھو لیا۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے، اور میری آنکھوں سے اشک بے اختیار بہہ نکلے۔ نہ جانے یہ آنسو کس جذبے سے مغلوب ہو کر، بغیر اجازت پلکوں سے چھلک پڑے۔ سچے اور سُریلے سُر دل کو چھو لیتے ہیں، روح پر اثر کرتے ہیں۔ یہ کیفیت صرف میری ہی نہیں تھی، ہر چہرہ مبہوت تھا، ہر آنکھ خاموش گواہ۔
حامد راجا کی موجودگی میں کسی اور حسنِ بے مثال کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔ واقعی، صوفی سنگیت ہی ہمارا ”سافٹ امیج“ ہے۔ البتہ، اس موقع پر اناؤنسر کے انتخاب میں تھوڑی بہتری کی گنجائش ہو سکتی تھی۔
قصہ مختصر یہ سہ روزہ کانفرنس اپنے نقوش دل و دماغ پر یوں چھوڑ گئی ہے کہ اگلے سال کے انتظار تک اس کی خوشبو ہر لمحہ تازہ رہے گی۔


