صدارتی خطبہ حلقہ ارباب ذوق


 

خواتین و حضرات!

حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے اس پروقار سالانہ اجلاس کے لیے صدارتی کلمات کے طور پر اپنی گزارشات پیش کرنا میرے لیے باعث شرف ہے۔ جو باتیں میں یہاں کرنے جا رہا ہوں لازم نہیں ہے کہ آپ اُن سے اتفاق کریں کہ وہ میرا نقطہ نظر ہیں ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں سے سامنے کا منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کی یہ مستحکم روایت اور اصول رہا ہے کہ اختلاف کا حق دینے پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ اسی روایت کی پاسداری کی عطا ہے کہ اس فورم پر تنقید کے لیے پیش کی جانے والی تخلیقات پر ہر طرح کی آرا کا سامنے آنا معمول کا عمل ہو گیا ہے۔ یہ اصول حلقہ کے تنقیدی جلسوں میں پہلے دن سے ہی رواج نہیں پا گیا تھا ایک زمانے میں اختلاف رکھنے والوں کو حلقے سے بارہ پتھر باہر بھی کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حلقہ ہو یا کوئی اور تنظیم اس طرح کے مشکل مراحل سے گزر کر ہی مثبت روایات کی جانب بڑھ پاتے ہیں۔ مثلاً ً دیکھیے کہ منٹو جیسے تخلیقی ترقی پسند ادیب کو علی سردار جعفری جیسے نظریاتی ترقی پسند نے اپنی کتاب ’ترقی پسند ادب‘ میں ’غلاظت نگار‘ کہہ کر دھتکار دیا تھا۔ اس رویے سے منٹو کے اندر سے ترقی پسندی تو منہا نہیں ہوئی، وہ ترقی پسندوں سے فاصلے پر ہو گئے۔ اچھا، یہی منٹو جب حلقہ ارباب ذوق کے جلسوں میں تنقید کے لیے اپنا افسانہ پیش کرنے آتے تو حاضری غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی تھی۔ جب انہوں نے اپنا افسانہ ’موذیل‘ تنقید کے لیے پیش کیا تھا تو ریکارڈ کے مطابق حاضری 187 تھی؛ کسی تنقیدی اجلاس میں اتنے لوگوں کا موجود ہونا کوئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔ لطف کی بات یہ کہ منٹو کی حلقے کی ممبر شپ کے لیے درخواست ان کی زندگی میں زیر غور نہ لائی گئی تھی ؛یہ درخواست ان کی موت کے بعد حلقے کی اس مجلس میں زیر ِغور آ پائی جس کی صدارت انتظار حسین نے کی تھی۔ یوں بعد از وفات وہ حلقے کے ممبر بنا لیے گئے۔ اچھا، انہی انتظار حسین کا قصہ بھی سن لیجیے جو بعد میں حلقے کے سیکرٹری بنے تو اس کا مزاج بدل کر رکھ دیا تھا۔ یہ ذرا پہلے کا زمانہ تھا جب انتظار حسین کو ’انتشار پسند‘ قرار دے کر ان کی رکنیت ہی منسوخ کر دی گئی تھی؛ نہ صرف انہیں رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے ان جیسی ’انتشار پسندی‘ کے مرتکب عبادت بریلوی، وقار عظیم، مظفر علی سید اور ناصر کاظمی بھی نکالے گئے۔ انتظار حسین کو انتشار پسند قرار دینے کے پیچھے شاید کوئی اور کہانی بھی ہو مگر میرے ہاتھ بس اتنی سی بات آئی ہے کہ انہوں نے حلقے کی ایک گزشتہ نشست میں تنقید کے لیے پیش کیے گئے افسانے پر ذرا سخت تنقید کر دی تھی اور کہا تھا کہ بھلے لوگو! تخلیق پارے میں صرف موضوع ہی نہیں ہوتا زبان و بیان اور اسلوب اور وہ ڈھنگ بھی اہم ہوتا ہے جو لکھتے ہوئے بہ طور تیکنیک اختیار کیا جاتا ہے۔ ’شر پسندی‘ والی یہ بات کچھ تو میں نے حلقہ ارباب ذوق پر لکھی گئی یونس جاوید کی کتاب سے اور کچھ ان گفتگوؤں سے اخذ کی ہے جو انتظار حسین سے مختلف ملاقاتوں میں رہیں۔ اچھا! اب دیکھیں تو یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جس کا یوں ردعمل آتا۔ لگ بھگ ایسی ہی بات تو فیض احمد فیض بھی اپنی کتاب ’میزان‘ میں دہرا چکے ہیں کہ آرٹ کی قطعی اور واحد قدر جمالیاتی ہے۔ تاہم وہ انتظار ہوں یا فیض دونوں بہ اصرار یہ کہتے ملیں گے کہ اس جمالیاتی قدر کو آنکنے کے لیے باقی انسانی قدروں کو بھی دخل ہوتا ہے۔

خواتین و حضرات!

میں نے یہ تمہید یوں باندھی ہے کہ میں حیلے بہانے سے آپ کو ان سوالات کی جانب لے آنا چاہتا ہوں جن سے ہمارے بزرگ ادیب معاملہ کرتے رہے اور نئے زمانے میں پہنچ کر یہ سوالات کچھ زیادہ ہی سنگین ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔ سنگین یوں کہ جب سے ادبی تنقید میں تھیوری کے مباحث گڈمڈائے ہیں ادبی تخلیق اور عام متن کے درمیان موجود لکیر مٹ گئی ہے اور تعیین قدر جیسے مسائل بہت ثانوی ہو گئے ہیں۔ اسی صورت حال کو دیکھ پرکھ کر شمس الرحمٰن فاروقی نے ایک بار سوال اٹھایا تھا کہ مابعد جدیدیت میں ادب کہاں ہے؟ جب ادبی مبادیات اور فن پر مباحث قائم کرنا رجعت پسندانہ اور روایتی سی بات ہو گیا اور سچائیوں کے ساختہ، موضوعی اور اضافی ہونے کی بات ہونے لگی۔ معنیٰ کے بکھراؤ کو تکثیریت کہہ کر خوبی بنا لیا گیا تو تخلیق پارے کو ایک کل میں دیکھنے کا چلن بھی متروک ہوا۔ معنی کی تکثریت ایک ادبی خوبی سہی کہ اس باب میں میر صاحب اپنے دیوان کی تیسری جلد میں کہہ چکے ہیں ’طرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر، مگر اس کثرت کا وحدت میں ڈھلنا بھی تو ایسی خوبی ہے جسے زک پہنچے تو تخلیق کا کُل ٹوٹ جاتا ہے۔ لیجیے یہاں فرانسیسی فلاسفر اور سوشیالوجسٹ لیوتار کے ایک تیکھے جملے کی طرف دھیان جا رہا ہے۔ یہی کہ، خرد افروزی نے پہلی پٹی جو اِنسان کی آنکھوں سے اُتاری تھی، وہ دیو مالائی مہابیانیوں کی تھی جب کہ باندھی جانے والی پٹی بے رحم ترقی کے نام پر سرمایہ دارانہ سائنس کے شکنجے کا مہا بیانیہ ہے۔ مجھے اس پر اضافہ کرنا ہے کہ ادب اور تنقید کے نام پر ادبی تخلیقات سے قدرے فاصلے پر برپا تھیوری کے مباحث دوسری پٹی کے اوپر ہی تیسری پٹی باندھنے کے مترادف ہیں۔ خیر، معاملہ یہاں رکا نہیں کہ اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کا چلن ہو چلا ہے۔ اسی اختراعی ذہانت کو اتنی قدرت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے پاس ذخیرہ شدہ ہر نوع کے تحریری، تقریری اور تصویری مواد اور معلومات سے کشید کر کے مجوزہ موضوع پر شاعری یا فکشن کا متن جھٹ پٹ تیار کر لے۔ ‘ انجنہاری کی گَھریا ’میں افسانہ نگار نے سجھا رکھا ہے کہ تخلیق اپنی سند زندہ مخلوقات سے لیتی ہے۔ اے آئی کا معاملہ ڈیٹا سے ہے، کسی خاص پیٹرن اور اسلوب میں انسانی ذہانت کی پیروی میں متن ڈھالنا اس کا کمال ہے تخلیق کرنا نہیں۔ تخلیق تو زندہ مخلوقات سے نیا پن اور تازگی کشید کرتی ہے۔

احباب گرامی!

کلیات میر، جلد دوم میں میر صاحب نے کہا تھا : ’کتنے مرے سوال ہیں جن کے نہیں جواب‘ ۔ نیا پن، تازگی اور توانائی کہاں سے آتی ہے؟ بھی ویسا ہی سوال ہے جس کا جواب ہر سچا تخلیق کار اپنے اپنے ڈھنگ سے دیتا رہا ہے مگر پھر بھی یہ ہر بار سامنے آ موجود رہتا ہے۔ یہ میرے سامنے بھی رہا ہے۔ یہ مان لینے کے بعد کہ ادب کی بنیادی قدر جمالیاتی ہے ؛ مجھے یہ بات پریشان رکھتی ہے کہ اس قدر کو محترم جان کر ہمارا زمانہ ہماری تخلیقات میں کیسے ظاہر ہو گا؛ ہمارا زمانہ جو پہلے سے مختلف ہے۔ مجھے یاد ہے حلقہ کی ایک نشست کے بعد منشا یاد نے کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے ان کا زمانہ گزشتہ صدی کے خاتمے پر تمام ہوا کہ نئے لوگ اور طرح کا مزاج رکھتے ہیں۔ جی، ماننا ہو گا کہ اس نئے زمانے کا انسان پہلے سے مختلف سوچتا ہے، سماجی روایات اپنی اصل صورت پر قائم ہیں نہ اس مد کی وہ حساسیت باقی ہے جو ماضی میں ہمارے ایمان جیسی تھی۔ جب احساس پر نئے پن کا دریچہ کھل گیا ہے تو اظہار و بیان پر بھی تو اس کا اثر پڑے گا۔ ایسے میں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہماری جمالیاتی قدر کے خدو خال عین مین ویسے ہی رہیں جیسے ہماری مستحکم ادبی روایت میں چلے آرہے ہیں۔ مانا کہ ایک تخلیق کار فارم میں تبدیلی ایک حد تک ہی لاتا ہے۔ تاہم آج کا نیا انسان جیسے اپنے بدن اور اپنی کھال کو تبدیل کیے بغیر اندر سے تبدیل ہوا ہے ؛ ایک تخلیق کار بھی اپنی تخلیقات کے اندر سے پرانے آہنگ کو جھاڑ جھٹک کر الگ کرتا اور اس میں نئی حسیت رکھ لینے کی گنجائشیں پیدا کرتا ہے۔ میں اپنی تحریروں میں یہ دہراتا آیا ہوں کہ ہر تخلیق کار اپنے تخلیقی عمل کے دورانئے میں اپنی محبوب صنف کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی اور اپنی محبوب صنف کی تہذیب بھی کر رہا ہوتا ہے۔ گویا ہر عہد کا جینوئن تخلیق کار جس فارم کو اظہار کے لیے چنتا ہے، وہ اس کا ایک حد تک مجتہد بھی ہوتا ہے۔ تخلیقی شریعت یہ تبدیلی مانگتی رہتی ہے مگر صرف اس فن کار سے، جو اپنے فن کے ساتھ کامل خلوص کے جذبے سے وابستہ ہوتا ہے۔

محترم خواتین و حضرات!

حلقے کی تنقیدی مجالس میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کوئی تخلیق پارہ کس اعتبار سے اہم قرار پائے گا؟ اتنا اہم کہ اس پر عظمت کی چھوٹ پڑنے لگے۔ میں اس سوال کے مقابل جب جب ہوا ہوں ڈھنگ سے شاید ہی کسی نتیجے پر پہنچ پایا ہوں۔ اپنے ساتھ لڑتے بھڑتے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اصل بات اس سوال کے مقابل ہوتے رہنے میں ہے۔ میرا خیال ہے اس سوال کا جواب ہر بار ایک سا نہیں ہو گا۔ تاہم گماں سا گزرتا ہے کہ بڑا موضوع جس طرح ہمارے ذہن میں اپنے خال و خد کے ساتھ موجود ہوتا ہے زبان میں عین مین منتقل نہیں ہوتا کچھ باہر رہ جاتا ہے یا پھر زبان میں آتے ہی اتنا بڑا نہیں رہتا جتنا ہم اسے بڑا سمجھ کر لکھنے بیٹھے تھے۔ اس میں سے کچھ تحریر ہونے سے باہر رہ جاتا ہے اور کچھ زبان دبا لیتی ہے۔ تخلیق کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ان مشکلوں کا ادراک رکھتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ اس باب میں صرف زبان پر تکیہ کرتی ہے نہ مضامین پر، اس باب میں وہ جانتی ہے کہ اسے کوئی اور وسیلہ بھی تلاشنا ہو گا۔ ایسا وسیلہ کہ لفظ محض اپنے حصے کا مضمون اور اپنے آپ سے چپکا ہوا لغوی معنی ہی منتقل نہ کرے، معنیاتی امکانات کا ایک سلسلہ بھی پیدا کرتا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب ایک تخلیق کار اپنی وجودی سطح پر اظہار کے وسیلے یعنی زبان اور فن کے قرینوں سے لین دین کرتا ہے اور کائنات میں بہ ظاہر متعین مگر فی الاصل اپنے غیر متعین مقام کے حوالے سے اپنے وجود میں رد عمل پاتا ہے، وہیں سے اس کا اسلوب متشکل ہونے لگتا ہے۔ لکھنے والا جتنا اپنے تخلیقی وجود کے آہنگ میں ہو گا اتنا ہی خالص اس کا اسلوب بنتا چلا جائے گا۔ اسی خالص پن سے تخلیق کار کے ہاں تشکیل پانے والا اسلوب اپنی جمالیات مرتب کرتا ہے۔ لیجیے بات ہر پھر کر ایک بار پھر ادب کی جمالیاتی قدر کی جانب مڑ گئی ہے اور یہاں مجھے یہ اضافہ کرنا ہے کہ ادب کی باقی ساری اقدار اسی جمالیاتی قدر کا جزو ہیں۔ موضوع چاہے جتنا بھی بڑا اور اعلیٰ ہو اگر وہ ادب کی جمالیاتی قدر قائم نہیں کر رہا تو وہ تعیین قدر میں مات کھا جائے گا۔

خواتین و حضرات!

اس نئے عہد کی ’عطا‘ ایک اور مسئلہ لکھنے والوں کے ہاں ’ہرے بھرے تخیل کی موت‘ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ دل لبھانے اور ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے نت نئے گیجٹس گھر گھر پہنچنے لگے ہیں۔ انٹرنیٹ پر تحریریں پڑھی جانے لگی ہیں۔ اخبارات اور جرائد کی اشاعتیں سکڑ گئی ہیں۔ آن لائن کتابیں دیکھنے کو انٹرنیٹ پر پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ ویب سائٹس پر ہزاروں کتابیں چڑھا لی گئی ہیں اور کتابوں سے بھری لائبریریوں میں دھول اڑنے لگی ہے۔ جب ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، سیل فون یا کنڈل پر کتاب میسر ہے تو کوئی لائبریری میں کیوں جائے یا گھر پر کتابیں کیوں لائے؟ یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ لو جی کتاب تو گئی۔ وہ کتاب جسے ہم چھو سکتے ہیں اسے گود میں رکھ کر یا چھاتی پر ٹکا کر پڑھ سکتے ہیں۔ جسے پڑھتے پڑھتے ہم اپنے تخیل کو ایڑ لگا سکتے ہیں ؛ کہا گیا وہ نہیں رہے گی۔ اسکرین کا پڑھنا نہ پڑھنا ایک برابر ہو گیا ہے۔ کرسر اوپر نیچے کرتے ہوئے کچھ اچٹتی نگاہ ڈالی لی ؛کچھ لفظ لپکتی نظر نے پکڑ لیے، باقی پر سے پھسلتی گزر گئی یوں، جیسے ہم بچپن میں ایک ٹھیکری کسی پوکھر یا تالاب کے کنارے کھڑے ہو کر کچھ یوں ہاتھ گھما کر پھینکتے تھے کہ اس کی چپٹی سطح پانی پر پڑتی تھی اور وہ پانی کے اوپر تیرتی پھسلتی پار نکل جاتی تھی۔ اچھا، بات یہاں رُکی نہیں کہ اب لکھنا جان کا روگ ہو گا نہ پڑھنا۔ آپ موضوع مشین کے حوالے کریں گے ؛ یہ اپنے ذخیرے میں ڈبکی لگائے گی، مواد مرتب کرے گی اور ٹھیک ٹھاک مضمون، شاعری یا کہانی لکھ دے گی۔ پھر اسے ہر زبان آتی ہے، دنیا کی کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنا بھی اسے آ گیا ہے ؛ کچھ خامیاں خرابیاں ضرور ہیں ؛ کس میں نہیں ہیں، اس میں بھی ہیں امید کی جانی چاہے کہ وہ بھی جلد دور ہو جائیں گی۔ بس آپ ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے بیٹھ جائیں اور اس کے کرشمے دیکھتے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سوچنے اور اپنے تخیل کو ایڑ لگانے سے بھی گئے۔ کیا ہم اپنی اس تخلیقی اور ذہنی استعداد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے؟ مجھے یاد ہے 1993 ء تک ہم کسی ویب براؤزر کی بابت نہیں جانتے تھے مگر دو سال بعد ہمارے پاس ایمزون تھا، 1998 ء میں گوگل آیا اور 2001 ء میں وکی پیڈیا نے دھوم مچا دی تھی۔ انٹرنیٹ نے جس سرعت سے ترقی کی اس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب اور اب حال ہی میں اختراعی ذہانت کا غوغا۔ یہ سب اپنی جگہ بہت اہم ہے لیکن میرے لیے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ شاعری، فکشن، تنقید یا دوسری ادبی اصناف سے متعلق کتب تو دھڑا دھڑ آ رہی ہیں مگر ان میں سے بیشتر کو پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ہونے لگتا ہے جیسے لکھنے والوں کے ہاں تخیل کی موت واقع ہو چکی ہے ؛ جی ہرے بھرے تخیل کی موت۔ وہ تخیل جو تخلیقیت کو جگاتا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی یہ چکا چوند اور دوسری طرف تخلیقیت کو جگانے والی متخلیہ سے محرومی کا احساس۔ خمار بارہ بنکوی نے کیا خوب کہا تھا: ’ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے / کیا تصور بھی لٹنے والا ہے۔ ‘ تخیل اور تصور متبادل حقیقتوں کو ترتیب دینے کی صلاحیت کے نام ہیں۔ جس طرح کوئی مغنی گاتے ہوئے تان، پلٹا، مرکی اور زمزمہ سے کام لیتا ہے ہماری یادداشت بھی ایک ایسے پلٹے کا اہتمام کرتی رہتی ہے کہ امکانی مستقبل کی تصویر بنتی چلی جائے۔ یادداشت ہو یا تخیل دونوں فیکلٹیز دماغی علاقے ہی کی مقیم ہیں۔ دماغ میں ایک خاص علاقے کی مقیم ؛ سائنس والے اسے ’ہپپوکیمپس‘ کا نام دیتے ہیں۔ یادداشت کا انجن ہر دم چلتا رہتا ہے۔ ہم جو کچھ پڑھتے ہیں، جو کچھ سنتے ہیں، ہمارے مشاہدات، تجربات، سنی سنائی باتیں، جذبوں کی اتھل پتھل، خواہشیں، تمنائیں، آرزوئیں، نفرتیں، محبتیں، منہ میں پانی آنا یا ابکائیاں ؛ سب کچھ یادداشت کے اس انجن کے لیے توانائی کا ساماں ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تخیل کا زیادہ تر انحصار یادداشت پر ہوتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔ جب تخیل کی بات ہوتو یادداشت بھی حاضر و موجود ملتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ماضی کے بغیر کسی چیز کی بابت نیا تصور قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔ تخیل ہو یا یادداشت، دونوں انسانی جذبات کے ساتھ نتھی ہیں۔ ہمارے باطن میں ہر یاد مختلف ٹکڑوں کی صورت میں موجود ہے۔ یاد کے ٹکڑے ایک خاص ترکیب میں تہ بہ تہ پڑے ہوتے ہیں۔ تخیل میں یوں ہوتا ہے کہ یادداشت میں پڑے یہ ٹکڑے ٹوٹ بکھر کر اور پھر سے انسانی حسیات کے پانیوں میں آٹے کی طرح گندھ کر ایک نئی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ کہہ لیجیے یہ ارتقائی عمل ہے ؛جو ہو چکا اس سے آگے کا اور معلوم کے تختے سے نامعلوم کی وسعتوں میں جست لگانے کا۔ تازہ خیالات، تصویروں اور صورتوں کی تشکیل کا عمل۔ کیا نئے زمانے میں بڑھتی ہوئی مشینی ذہانت کی مداخلت سے دماغ کی یہ فیکلٹی بند ہو جائے گی اور تخلیقیت کا دھارا سوکھ جائے گا؟ یہ وسوسہ ایک سوال کی صورت بار بار سامنے آتا ہے۔ اسے سوال کہیں یا محض ایک خیال اور دھڑکا۔ خدا کرے کہ یہ محض خیال کی حد تک رہے اور ہمیں مصنوعی ذہانت کے منہ زور گھوڑے کی لگامیں تھامنے اور اسے انسانی تخلیقی ذہانت کے آہنگ میں لانے کا حوصلہ اور قرینہ آ جائے۔ تبدیلی اور وقت کے پہیے کو جس نے بھی روکنے کی کوشش کی وہ اس کے نیچے کچلا گیا تاہم بے ہنگم تبدیلی بھی اس وہیکل کی طرح ہے جس کی بریکیں فیل ہو چکی ہوں۔ تبدیلی کی رفتار متعین کرنا اور اسے ایک سمت عطا کرنا کبھی انسانی اختیار سے باہر نہیں رہا۔ یہ کیسے ممکن ہو پائے گا؟ ہمارا تخیل ہی اس باب میں ہماری مدد کو آ سکتا ہے۔ جی، تخیل کی ایسی جہت جو ہمارے حسی ادراک سے جڑی ہوئی ہے۔

پڑھنے، لکھنے، سوچنے اور توجہ کے ارتکاز کے ساتھ اپنے تعلق کو بڑھاتے ہوئے تخیل کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ زندہ تخیل رکھنے والوں کے لیے نئی سہولتیں مددگار ہو کر اس آہنگ کی ذیل میں آ جائیں گی جو کسی جینؤئن فن کار کا تخلیقی آہنگ ہوتا ہے۔ ’تخلیقی آدمی کا تخیل علم سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ‘ یہ آئن سٹائن نے کہا تھا اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’علم محدود ہے جب کہ تخیل دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔ ‘ عین ایسے زمانے میں کہ جب سارے علوم رفتہ رفتہ تصویری ثقافت کا پاورقی حاشیہ ہو رہے ہیں۔ ہمارا تصور، ہماری نفسیات اور ہمارے تخیل کی دنیا بھی تصویری صنعت کی نوآبادی بنتی جا رہی ہے۔ کتاب کی ثقافت کے کامل طور پر تصویری ثقافت میں ڈھلنے سے ہمارے تصور اور تخیل کی فیکلٹی کا دائرہ عمل سکٹر بھی سکتا ہے۔ ہمارے پڑھنے، سوچنے سمجھنے کو کسی اسکرین کی مدد سے پڑھنے یا کسی آلے کی مدد سے سننے میں بدل کر اسے اس عمل کے التباس کی صورت تو دی جا سکتی ہے، کامل فیض نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ التباس کی وہی دنیا ہے جس میں تخلیقی آدمی محض صارف ہو کر رہ جاتا ہے اور فنون بھی تخلیقی سطح سے اتر کر اوسط درجے کی مقبول عام ہو جانے والی پراڈکٹس بن جاتی ہیں۔ اپنے آپ کو محض صارف ہونے اور اپنی تحریروں کو تخلیقات کی بجائے منڈی میں پھینکی جانے والی ’شے‘ ہو جانے سے بچانا ہو گا۔ یوسف کامران کو انٹرویو دیتے ہوئے مجید امجد نے کہا تھا کہ ارتقا میں ایک چیز مستقل رہی ہے اور وہ ہے عمل خیر کا تسلسل۔ مجید امجد اپنی شاعری کو اسی عمل خیر کے تسلسل کے باب میں رکھا کرتے تھے۔ حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی جلسوں میں اگر ہم لکھنے والوں کو ان مسائل کی جانب متوجہ کر پاتے ہیں جو نئے زمانے میں قدرے زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آرہے ہیں تاکہ وہ اِن سے نپٹنے کی اپنے تئیں مگر تخلیقی سطح پر راہ نکالیں تو میری دانست میں یہ عمل بھی اسی کارخیر کے باب میں جائے گا۔

آخر میں ایک بار پھر حلقے کی انتظامیہ، بہ طور خاص خلیق الرحمٰن سیکرٹری، محمد اکبر نیازی جوائنٹ سیکرٹری، انجینئر طارق محمود، انجینئر عامر رضا معاونین اور دیگر مجلس عاملہ کے اراکین ڈاکٹر اقبال آفاقی، ڈاکٹر عبدالوحید رانا، منظر نقوی، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا شکریہ کہ انہوں نے اس اہم ادبی فورم کو متحرک رکھا؛ حتیٰ کہ آج کا مبارک دن آیا ؛ نئی انتظامیہ منیر فیاض کی قیادت میں اپنا منصب سنبھالنے کو ہے اور اس کے کامیاب سالانہ اجلاس میں ہم سب یہاں جمع ہیں۔ بار دگر انتظامیہ کا شکریہ کہ مجھے اس اہم موقع پر اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ محترم افتخار عارف، محترم جلیل عالی اور میرے سامنے بڑی تعداد میں موجود خواتین و حضرات آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے مجھے توجہ سے سنا۔

(حلقہ ارباب ذوق کی روایت رہی ہے کہ اس کے سالانہ اجلاس میں صدارتی خطبے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے 25 اپریل 2025 کو اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں منعقدہ سالانہ اجلاس میں یہ سطور بطور صدارتی خطبہ پڑھی گئیں۔ )

Facebook Comments HS