ڈاکٹر محمد صادق کا علمی و ادبی سفر
بیسویں صدی برِصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہلچل اور تغیرات کی صدی ہے۔ اس میں جس تیزی اور برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اسی صدی کے دوران میں جہاں سائنس، فلسفے اور سیاست کی دنیا میں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا وہیں علم و ادب کی دنیا میں بھی زرخیز دماغ پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، علامہ عنایت اللہ مشرقی، اور مولانا ظفر علی خان جیسی شخصیات موجود تھیں تو تحقیق کے میدان میں ڈاکٹر محمد صادق جیسی شخصیت بھی موجود تھی۔ آپ 14 اگست 1898 ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین تعلیم و تربیت کے معاملے میں زیادہ حساس تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی اولاد تعلیم حاصل کر کے خاندان کا نام روشن کرے۔ انھوں نے اپنے والدین کو مایوس نہیں ہونے دیا اور شروع ہی سے اپنی توجہ تعلیم پہ مرکوز رکھی۔ گورڈن کالج راول پنڈی سے انٹر کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور 1918 ء میں گریجویشن مکمل کر لی۔ 1918 سے 1922 کے عرصے میں وہ آشوبِ چشم کی بیماری کا شکار رہے۔ آخر کار وہ حکیم اجمل خان کے پاس دلی پہنچے اور وہاں نابینا حکیم کی دوائی سے ان کی آنکھوں کی بینائی بہتر ہو گئی۔ 1924 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی کے مضمون میں ایم اے کیا اور 1939 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان ”Maulvi Muhammad Hussain Azad:His life، Works and Influence“ تھا۔ اردو کے محقق اور تاریخ نویس محمد حسین آزاد پر یہ پہلا سندی کام تھا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر محمد صادق نے تدریس کو بطور پیشہ اختیار کیا۔ اسلامیہ کالج لاہور میں انھوں نے عارضی ملازمت اختیار کی اور کچھ ہی عرصے کے بعد مستقل ملازمت میں آ گئے اور 1927 ء میں ان کا تبادلہ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ہو گیا۔ وہاں انھوں نے تین سال تک پڑھایا۔ دو سال گورنمنٹ کالج دھرم شالہ میں گزارے اور پھر 1932 ء سے 1940 تک ڈی مونٹ مورینسی کالج شاہ پور صدر، سرگودھا میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ یہ وہ دور تھا جب وہ پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کر رہے تھے۔ پی ایچ ڈی کی تکمیل کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور آ گئے اور وہاں شعبہ انگریزی کی کمان سنبھالی۔ 1953 ء میں وہ پچپن برس کی عمر میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ اس دوران میں وہ راول پنڈی اور لاہور کے اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1962 میں دیال سنگھ کالج لاہور میں پرنسپل تعینات ہوئے جہاں وہ 1965 ء تک کام کرتے رہے۔
وہ نہ صرف اچھے طالبِ علم تھے بلکہ اچھے منتظم بھی تھے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج کے نظم و ضبط اور علمی ماحول کو مثالی بنایا۔ انھوں نے اعلا علمی و ادبی روایات کو پروان چڑھایا۔ اس کا واضح ثبوت ان کے شاگرد ہیں جنھوں نے آگے چل کر علم و ادب میں نام روشن کیا۔ ان میں ضیا جالندھری، آفتاب احمد خان، مظفر علی سید، ن م راشد، فیض احمد فیض، ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ان ناموں کی فہرست سے ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے تدریس کو زندگی کا اوّلین فرض سمجھ کر ادا کیا۔ تحقیق و تدریس کے ساتھ ساتھ وہ مصوری اور موسیقی سے خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ اچھی تصاویر کو نہ صرف سراہتے تھے بلکہ انھیں خریدنے کا شوق بھی رکھتے تھے۔ اسی طرح کلاسیکی موسیقی وہ شوق و ذوق سے روزانہ کی بنیاد پر سنتے تھے۔
انھوں نے تمام عمر علم و ادب کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ وہ روزانہ گھنٹوں مطالعہ کرتے اور تحقیق پر مواد اکٹھا کرتے رہتے۔ وہ مولانا محمد حسین آزاد پر سندی تحقیق کرنے والے پہلے محقق ہیں۔ جس دور میں انھوں نے مقالہ تحریر کیا اس دور میں تحقیق کی سہولیات بہت کم تھیں اس کے باوجود وہ مقالہ آج بھی محققین کے لیے اعتبار کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹرصاحب نے اس میں نو ضمیمے بھی شامل کیے ہیں جو مولوی محمد حسین آزاد کی زندگی اور ان کی کتابوں پر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کی تحقیق نے، آزاد کے خاندان، قیامِ پنجاب اور سفرِ ایران کے بارے میں اہم حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے ثابت کیا کہ آزاد نے ذوق کے کلام کی تدوین میں اپنی حد سے تجاوز کیا اور اپنے حافظے کی بنیاد پر کافی کلام ذوق کے دیوان میں شامل کر دیا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس نے محققین کو چونکا دیا۔ جیسے جیسے ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں ہم ان کی وسعتِ نظر، بے لاگ رویے اور ان کی تحقیق کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیتوں سے متاثر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد صادق کے علمی سفر کا جائزہ لیں تو ان کی کتاب ”بیسویں صدی کا اردو ادب“ (Twentieth Century Urdu Literature) 1947 میں شائع ہوئی۔ یہ نو ابواب پر مشتمل کتاب ہے جس میں شاعروں، ناول نگاروں، افسانہ نگاروں، مزاح نگاروں اور تنقید و تحقیق سے متعلق لوگوں کے حوالے سے ابواب بنائے گئے ہیں۔ اردو صحافت اور ترقی پسند ادب پر بھی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ 1983 ء میں انھوں نے اس میں اضافے کیے اور دوبارہ اشاعت کے مرحلے سے گزارا۔ نئے ایڈیشن میں نئے ادیبوں کی شمولیت نے اس کی طوالت میں اضافہ کیا۔ یہ کتاب اردو کے جدید ادب کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ لیکن فراق گورکھ پوری، عابد علی عابد اور ڈاکٹر وزیر آغا کا نام اس میں شامل نہیں جس کے باعث اس میں تشنگی کا احساس ملتا ہے۔ شعرا میں قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی اور جاں نثار اختر کو نظر انداز کیا گیا۔
”New Lamps For Olds“ یہ کتاب انھوں نے میٹرک کے طلبا کے لیے ترتیب دی جو 1956 ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے اکیس روزہ اسباق کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس میں انھوں نے جدید ایجادات سے طالبِ علموں کو واقف کرانے کی کوشش کی ہے۔ کتاب میں جدید تہذیب، چھاپہ خانے کی ایجاد، چاند، سورج اور دیگر مظاہرِ فطرت کے حوالے سے اسباق شامل کیے گئے ہیں۔ زمین، جنگلات اور معدنیات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ 1960 ء میں ”ریاضِ ادب“ انھوں نے بی اے کے لازمی نصاب میں اردو کے حصہ نظم کے لیے ترتیب دی تھی۔ اس کتاب کو ترتیب دینے میں ان کے ساتھ سید عابد علی عابد بھی شامل تھے۔ اس کی ضخامت درسی کتب کے لحاظ سے زیادہ تھی جس کی وجہ سے اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1965 ء میں اس کی ضخامت کو کم کر کے پنجاب یونیورسٹی پریس سے شائع کیا گیا۔ ”An Anthology Of English Prose“ اسے ڈاکٹر صاحب نے 1963 ء میں ترتیب دیا جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ کتاب میں قدیم و جدید مصنفین پر بارہ نثری مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد طلبا کو مشکل اور آرائشی نثر سے آزاد کرا کے، آسان اور عام فہم نثر کی طرف راغب کرنا تھا۔ ”A History Of Urdu Literature“ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے 1964 ء میں شائع ہوئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی مصنف نے اردو ادب کو انگریزی میں تحریر کیا۔ اس کتاب کی دوسری اشاعت 1985 ء میں ہوئی۔ اب اس میں دو ضمیمے بھی شامل کیے گئے تھے۔ اس ایڈیشن میں معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ غلط بیانات کی درستی بھی کر دی گئی تھی۔ ”An Anthology Of Modern English Poetry“ یہ کتاب 1965 میں شائع ہوئی۔ جس طرح انھوں نے انگریزی نثر پر مضامین شائع کیے تھے اسی طرح انھوں نے انگریزی شاعری کا بھی انتخاب کیا۔ اس کتاب کا مقصد بھی طلبا کو انگریزی زبان سکھانا ہے۔ اسی سال ان کے انگریزی مقالے کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ اس کی دوسری اشاعت 1974 میں ہوئی۔ کتاب کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو مقالے میں موجود تھی۔ 1969 ء میں انھوں نے انگریزی ناول ”The Yearling“ کا اردو ترجمہ ”بروا“ کے نام سے شائع کیا۔ مذکورہ ناول انگریزی میں 1938 ء میں شائع ہوا جسے اسی سال ”پلٹزر“ پرائز سے بھی نوازا گیا تھا۔ 1973 ء میں انھوں نے محمد حسین آزاد پر لکھے گئے مضامین کو یکجا کر کے کتابی صورت دی اور یہ کتاب مجلسِ ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئی۔ ان کے انگریزی مقالے کا اردو ترجمہ ”محمد حسین آزاد: احوال و آثار“ 1976 ء میں مجلسِ ترقی ادب لاہور سے شائع ہوا۔ یہ ترجمہ انھوں نے خود کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے محمد حسین کی کتاب ”سخن دانِ فارس“ اور ”نیرنگِ خیال“ کی تدوین کا کام بھی کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد صادق بھرپور علمی زندگی بسر کرنے کے بعد 1984 ء میں انتقال فرما گئے۔ ان کی وفات حیرت انگیز طور پر ٹی وی کیمرے کے سامنے ہوئی۔ انھیں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ”چہرے“ میں مہمانِ خصوصی کے طور پر دعوت دی گئی تھی۔ اس پروگرام کے میزبان نعیم بخاری اور سوالات کرنے والے پینل میں سردار علی احمد خان اور پروفیسر منور مرزا تھے۔ ابھی صرف چھ منٹ کی ریکارڈنگ ہوئی تھی کہ انھیں دل کا دورہ پڑا۔ نعیم بخاری نے انھیں سہارا دیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ اگلے دن انھیں نیو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ ان کی وفات پر شاگردوں اور مداحین کی بڑی تعداد اشک بار تھی۔


