تعلیمی قابلیت پر سیاہ داغ


زندگی گزارنے کے لئے مستقبل کی منصوبہ بندی اور کیرئیر پلاننگ کے متعلق میری سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایف ایس سی کرنے کے بعد مجھے یہ علم نہیں تھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔ روایتی دیہاتیوں کی طرح بس اتنا ہی علم تھا کہ بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ظاہر ہے کہ اب تیرہویں میں ہی داخلہ لینا ہے۔ ویسے ہمارے گاؤں میں تو کچھ لوگوں کو اس سادہ سی بات کا بھی علم نہیں تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ہی بابا مگھر کا خاندان رہائش پذیر تھا جو اس کے چار بیٹوں اور بہت سے پوتوں پوتیوں پر مشتمل تھا۔ اس کے ایک پوتے اسماعیل نے ہمارے گاؤں کے پرائمری سکول سے پانچویں کا امتحان پاس کیا تو خوشی خوشی دوڑا دوڑا بابے مگھر کے پاس آ گیا جو کہ اس مشترکہ خاندانی نظام کا سربراہ تھا۔

اس نے بتایا کہ، میں نے پانچویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا ہے او راب چھٹی جماعت میں داخلے کے لئے میں نے قریبی گاؤں ٹوپیاں والا کے مڈل سکول میں داخل ہونا ہے۔ مجھے چھٹی جماعت کی کتابیں اور وردی وغیرہ خریدنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ بابا اس کی بات بڑی غور سے سن رہا تھا۔ اس نے اسمعٰیل سے دریافت کیا کہ ٹوپیاں والا میں کتنی جماعتیں ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ ٹوپیاں والا میں آٹھویں تک سکول ہے اور اس کے بعد میں دسویں جماعت پاس کرنے کے لیے بورے والا ہائی سکول میں جاؤں گا۔

یہ ساری کہانی بابے نے نہایت دل چسپی سے سنی۔ کچھ دیر تک سر کھجا کر سوچتا رہا۔ پھر اس نے اپنے پوتے کو ایسی شاندار تجویز دی جس میں ہینگ اور پھٹکڑی لگائے بغیر ہی رنگ چوکھا آنے کے روشن امکانات موجود تھے۔ اس نے اسمعٰیل سے دریافت کیا کہ تم نے کتنی جماعتیں پڑھ لی ہیں۔ اس نے جھنجھلا کر کہا کہ بابا میں نے بتایا تو ہے کہ پانچویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ بابے نے نہایت سکون سے اپنے منصوبے کی وضاحت کی کہ کاکا تم نے پانچ جماعتیں تو پڑھ لیں ہیں اور اب مسئلہ باقی پانچ جماعتوں کا ہے۔ جو تم پڑھنے کے لیے ٹوپیاں والا اور بورے والا جانا چاہتے ہو۔ تمہیں اتنا تردد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی سکول میں پہلی جماعت میں ایک بار پھر داخلہ لے لو اور یہاں سے ہی پانچ جماعتیں اور پڑھ لو اس طرح تم ان پانچ جماعتوں کے ساتھ دوسری والی پانچ جماعتیں ملا کر کل دس جماعتیں پاس کر لو گے۔ تمہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسمعیٰل نے بابے کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ بابا اس طرح سے دس جماعتیں نہیں پڑھی جا سکتیں لیکن بابا اُسے بچہ سمجھتے ہوئے اس کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسمعیٰل دوڑا دوڑا اپنے ماسٹر صاحب کو بلا لایا۔ ماسٹر صاحب کے سمجھانے پر بابا خاموش ہو تو گیا لیکن اس کا ذہن یہ بات تسلیم نہیں کر رہا تھا۔

تھرڈ ائر میں داخلے کے لیے مضامین کا انتخاب کرنا تھا۔ ہماری کلاس میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا طالب علم بشیر شاہین بھی اسی سلسلے میں کالج آیا ہوا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ کون سے مضامین رکھ رہے ہو اس نے کہا، کہ میں تو فزکس، کیمسٹری او ریاضی کے مضامین رکھ رہا ہوں۔ ان کا آگے جا کر سکوپ بہت ہے۔ اسی بناء پر بی ایس سی میں میں نے بھی انہیں مضامین کا انتخاب کر لیا۔ ہمارے کالج میں بی ایس سی کی پڑھائی کا معیار وہ نہیں تھا جو ایف ایس سی کی سطح پر تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ٹیچرز کو اپنے مضامین پر وہ دسترس حاصل نہیں ہے جو ایف ایس سی میں ہوا کرتی تھی۔

رانا رشید اقبال جو ایف ایس سی میں بہترین طریقے سے کیمسٹری پڑھایا کرتے تھے۔ بی ایس سی میں اُن کے پڑھانے کا طریق کار یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ کتاب کھول کر اپنے سامنے پڑے ہوئے ڈائس پر رکھ لیتے اور اوپر سے دیکھ کر اُسے پڑھتے جاتے اور ہم بھی کتابیں سامنے رکھ کر اُسے سنتے اور کتاب سے دیکھتے جاتے۔ کبھی کبھار وہ درمیان میں کسی چیز کی وضاحت کرنے کی کوشش بھی کرتے جو ہمارے سر کے اوپر سے ہی گزر جایا کرتی تھی۔

ان آرگینک (Inorganic) اور فزیکل کیمسٹری کی حد تک تو پھر بھی تھوڑا بہت کام چلتا رہا لیکن آرگینک کیمسٹری کے لمبے لمبے زنجیری فارمولے ہماری سمجھ سے بالاتر تھے۔ میں نے آرگینک کیمسٹری کی دونوں کتابوں کو اکٹھا کر کے ایک ڈور میں باندھ کر پڑچھتی کے اُوپر رکھ دیا اور کلاس میں ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ ان کتابوں کو میں امتحانات کے بعد باقاعدہ سمجھ کر پڑھوں گا۔ کیوں کہ اب میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے۔ میرے ساتھی طلباء میری اس حرکت پر سخت حیران تھے کہ لوگ کورس کی کتابیں امتحان سے پہلے پڑھتے ہیں او ر تمہارے کیسے الٹے کام ہیں کہ تم انہیں امتحان کے بعد پڑھو گے۔

ساجد حمید قاضی ہمارے فزکس کے ٹیچر تھے جو کالج میں ساجد صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔ یہ خوش شکل، خوش لباس اور خوش اخلاق نوجوان بڑی جاذب شخصیت کے مالک تھے۔ نت نئے غیر روایتی قسم کے خوبصورت لباس پہنا کرتے۔ جس کی وجہ سے وہ دوسرے اساتذہ سے منفرد اور ممتاز نظر آیا کرتے تھے۔ جب وہ لیکچر دینے کے لئے سٹیج پر آتے تو طلباء کی پوری توجہ اُن پر مرکوز ہو جاتی۔ اس پر مستنراد یہ کہ اُن کا ہینڈ رائٹنگ انتہائی خوبصورت تھا۔ لکھنے کے لیے وہ مختلف رنگوں کے چاک بیک وقت استعمال کیا کرتے تھے۔ اہم مساواتوں کے اردگرد مختلف رنگ سے اس طرح ڈبے بنایا کرتے کہ وہ پہلی نظر میں ہی نمایاں دکھائی دیا کرتیں۔ جب وہ اپنے لیکچر کا اختتام کرتے تو بلیک بورڈ جیسے رنگ برنگے خوبصورت پھولوں سے کھِل اُٹھتا۔ وہ ٹیوشن بڑی وضع داری کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے جو طلباء اپنے آپ انہیں فیس کی ادائیگی کر دیتے۔ وہ بس اسی پر اکتفا کر لیا کرتے تھے۔ خود کسی بھی طالب علم سے ٹیوشن فیس کی ادائیگی کا مطالبہ کبھی نہیں کرتے تھے۔

کار کی خریداری میں کئی سال اس طرح لگ گئے کہ جب وہ سب سے سستی کار خریدنے کے لیے پیسے جمع کرتے تو اس کی قیمت بڑھ چکی ہوتی۔ پھر وہ بڑھتی ہوئی قیمت کے مطابق پیسے جمع کرتے تو پھر پتہ چلتا کہ قیمت تو اور بڑھ گئی ہے۔ اس طرح ایک چھوٹی سی گاڑی خریدنے میں اُن کے کئی سال صرف ہو گئے۔ پھر جب اسی کالج میں نووارد پروفیسر صاحبان نے ٹیوشن پڑھانے کے فعل کو نہایت چابک دستی اور ہوشیاری کے ساتھ منفعت بخش پیشے کی شکل میں تبدیل کیا تو وہ بڑے دل گرفتہ ہوئے اور اس ماحول سے اُکتا کر تبادلہ کروا کر لاہور چلے گئے۔

ریاضی حسبِ معمول یعقوب صاحب ہی پڑھاتے رہے جب کہ انگریزی ریاض قریشی صاحب پڑھایا کرتے تھے۔ ہفتے میں دو تین دن اُن کا پڑھانے کا موڈ نہ بنتا اور جب کبھی کبھار بادل نخواستہ وہ انگریزی پڑھانے کے لیے کلاس روم میں آ جاتے تو طلباء کا موڈ تبدیل ہوجاتا۔ اس لیے اُن سے کبھی کبھار ہی ملاقات کے مواقع میسر آتے۔ ویسے بھی انگریزی کا ایک پرچہ صرف سو نمبر کا تھا۔ اس لیے اسی مناسبت سے ہی انگلش پڑھائی کو اہمیت دی جاتی۔

مجھے یاد ہے کہ ہم سے اگلی کلاس کے بی ایس سی کے سالانہ امتحان ہو رہے تھے۔ کیمسٹری کا پرچہ دینے کے بعد طالب علم کمرہ امتحان سے باہر آ رہے تھے میں بھی وہیں پر موجود تھا۔ اللہ بخش باہر آیا تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ پرچہ کیسا ہوا۔ اس نے نہایت مایوسی کے ساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا، کہ اچھا نہیں ہوا۔ میں نے کہا، چلو کوئی بات نہیں 33 فیصد پاس مارکس تو آ ہی جائیں گے۔ تو وہ بولا کہ، نہیں یہ بھی بہت مشکل ہے۔ میں نے فوراً کہا، کہ تم لوگ دو سال کیا کرتے رہے ہو۔ بڑی عجیب بات ہے کہ سو میں سے تینتیس نمبر بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ایسے بول زندگی میں مجھے ہمیشہ ہی بہت مہنگے پڑتے رہے ہیں۔ جب کبھی ایسا جملہ منہ سے نکلا وہ فوراً ہی میرے سامنے آ گیا۔ چناں چہ اگلے سال بی ایس سی کے سالانہ امتحان کے موقع پر ہماری حالت اللہ بخش سے بھی بدتر تھی۔

بی ایس سی کے نتیجے کا پتہ کرنے کالج گیا تو وہاں پر حسنین مجمع لگائے کھڑا تھا۔ اس کے اردگرد باقی کلاس فیلوز بھی موجود تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بلند آواز میں چلایا آ جاؤ ادھر تمہیں یہیں پر نتیجہ سنا دیتے ہیں۔ میں جب اس کے قریب گیا تو بولا کہ تم انگلش میں فیل ہو۔ میں نے فوراً کہا، چلو کوئی بات نہیں وہ بولا کہ بات تو ہے کیوں کہ تم ریاضی میں بھی فیل ہو۔ میں نے کہا، کہ چلو پریکٹیکل والے مضمون تو پاس ہو گئے۔ تو بولا، یار مصیبت تو یہ ہے کہ اُن میں سے بھی کیمسٹری رہ گئی ہے۔ اب میں خاموش کھڑا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد بولا کہ زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم فزکس میں بھی فیل ہو۔ قصہ مختصر یہ کہ میں تمام مضامین مین کلین بولڈ ہو گیا تھا۔

میں نے اس ناکامی کو بھی سرسری سا ہی لیا۔ میرا خیال تھا کہ اب سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کرنے کی بجائے سالانہ امتحان میں ہی شرکت کی جائے لیکن اسی دوران میرے سکول ٹیچر خوشی محمد صاحب کے مشورے پر سپلیمنٹری امتحان میں داخلہ بھجوا کر انگریزی اور ریاضی کی تیاری شروع کردی۔ پروگرام تو یہ تھا کہ ان دو مضامین کا امتحان سالانہ امتحان میں دے دوں گا۔ لیکن جب سپلیمنٹری امتحان شروع ہوا تو میں نے باقی دو مضامین کے پرچے بھی دے دیے اور جب نتیجہ آیا تو میں چاروں مضامین میں پاس تھا۔ گو کہ میں نے اس قلیل عرصے میں امتحان تو پاس کر لیا لیکن اس امتحان میں حاصل کردہ تھرڈ ڈویژن کا ایسا سیاہ دھبہ تعلیمی قابلیت کی پیشانی پر لگا جس کو عمر بھر نہ دھویا جا سکے۔

اس امتحان میں فزکس اور کیمسٹری کے پریکٹیکل کا سنٹر بوریوالا کی بجائے علمدار حسین کالج ملتان بنا تھا۔ فزکس کے امتحان میں پوٹینشو میٹر کے ذریعے ایک تار کی مزاحمت معلوم کرنا تھی۔ میں پریکٹیکل ٹیبل پر کھڑا کبھی میز پر پڑے ہوئے سامان کو دیکھتا اور کبھی اِدھر اُدھر دیکھ کر پریکٹیکل کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا۔ ہمارے ساتھ مقامی کالج کے کچھ لڑکے بھی پریکٹیکل دے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ والی میز پر اسی کالج کے ایک ٹیچر اپنے سٹوڈنٹ کی مدد کر رہے تھے۔ میں نے بھی اُن کی طرف دیکھ کر سرکٹ مکمل کرنا شروع کر دیا۔ جب سرکٹ مکمل ہو گیا تو میں نے اس کی درستگی کے لیے پڑتال کی تو سرکٹ کو درست پایا۔ جب کہ پروفیسر ابھی تک وہیں پر ہی الجھے ہوئے تھے۔ میں دوڑا دوڑا گیا اور پریکٹیکل ایگزامینر کو بلا لایا۔ اس نے چیک کرنے پر جب سرکٹ کو درست پایا تو حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگا کیوں کہ میں پہلا سٹوڈنٹ تھا جس نے اُسے پریکٹیکل چیک کروایا تھا۔ اس کے بعد اس نے دریافت کیا کہ اب باقی ٹیبل بنا کر اسے حل کر لو گے میں نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔

اس کے جانے کے بعد میں پھر فارغ کھڑا تھا۔ میں نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اسی لیبارٹری کا اٹنیڈنٹ مقامی کالج کے طلباء سے پیسے وصول کر کے انہیں کاغذ پر بنایا گیا ٹیبل اور فارمولے کی مدد سے نکالی گئی مزاحمت کی قیمت ایک تعویذ کی شکل میں فراہم کر رہا تھا۔ جب وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے اُسے روک کر پچاس روپے کا نوٹ خاموشی سے اس کے ہاتھ میں دے دیا جس کے بدلے میں مطلوبہ تعویذ مجھے بھی وصول ہو گیا اور میں نے مکھی پہ مکھی مارکر اس تعویذ کو پرچے پر منتقل کر کے پریکٹیکل کا کام مکمل کر لیا۔

کیمسٹری کا پریکٹیکل بھی اسی کالج میں تھا۔ کیمسٹری کے پریکٹیکل میں کسی ایسے ٹھوس مرکب کا نقطہ پگھلاؤ معلوم کرنا تھا جو 100 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔ اس کے لیے پانی کی بجائے گندھگ کے تیزاب میں اس مرکب کو ایک نلی میں ڈال کر تیزاب کو اس وقت تک گرم کرنا تھا جب تک یہ پگھل نہ جائے اور پگھلنے پر تھرمامیٹر سے وہ ٹمپریچر نوٹ کر لیتا تھا۔ یہ سب کچھ اس قدر آسان تھا کہ کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے سامان وغیرہ سیٹ کر کے تیزاب والی صراحی کے نیچے سپرٹ لیمپ جلا کر اُسے گرم کرنا شروع کر دیا تھا۔ میرے ساتھ والے میز پر میرا ہی ایک کلاس فیلو کھڑا تھا۔ جس کا نام بشیر احمد تھا۔ حالاں کہ وہ بھی اپنا پریکٹیکل کر رہا تھا پتہ نہیں، کہ اس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے میرے سامنے پڑے ہوئے سٹینڈ کو صراحی سمیت اٹھالیا اور اس میں لگے ہوئے تھرمامیٹر پر ٹمپریچر پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ پتہ نہیں، کہ اچانک اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی صراحی چھلکی اور اس میں سے تیزاب اچھل کر اس کے ہاتھوں پر گر گیا۔ ہاتھ جلنے پر اس نے صراحی کو ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ میں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ صراحی نیچے گرنے کے ساتھ تیزاب میری پتلون پر گرتا رہا۔ صراحی نیچے گر کر ایک دھماکے سے پھٹ گئی اور تیزاب میرے بوٹوں اور پتلون پر گر گیا۔

اس دن میں نے اپنے پاس موجود تین چار جوڑوں میں سے اپنا پسندیدہ ترین خوبصورت جوڑا پہن رکھا تھا۔ آسمانی رنگ کی آدھے بازو والی شرٹ کے ساتھ اس سے میچنگ کرتی ہوئی نیلگوں گرے رنگ کی پتلون پہنی ہوئی تھی۔ جو مکمل طور پر جل چکی تھی لیکن میرا جسم بالکل محفوظ رہا۔ جب کہ بشیر کے دونوں ہاتھ بُری طرح جل چکے تھے۔ میں نے فوراً الکلی کی بوتل اُٹھائی اور بشیر کے ہاتھوں پر انڈیل دی۔ جب تھوڑی دیر کے بعد ہم لوگ اپنے ہوش و حواس میں آئے تو بشیر نے میری پتلون کی طرف اشارہ کر کے کہا، مجھے بڑا افسوس ہے کہ میری غلطی کی وجہ سے تمہاری پتلون جل گئی۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ میرے سامنے کرتے ہوئے بولا دیکھو میرے دونوں ہاتھ بھی جل چکے ہیں۔ میں تو اپنی پسندیدہ پتلون کے خراب ہو جانے پر پہلے ہی جلا بھنا بیٹھا تھا۔ اسے ترنت جواب دیا، تمہارے ہاتھوں کی کھال تو چند دونوں میں مفت میں آ جائے گی۔ جب کہ میری پتلون تو ٹھیک نہیں ہوگی۔ یہ میرا فوری ردِ عمل تھا اس قدر غیر مہذب اور روکھے جواب پر میں آج بھی شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS