پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 12 )
ہم اپنے بچوں کی پیدائش سے بھی پہلے سے ان کے لئے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جسں میں کوئی برائی نہیں ہے مگر مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے خواب اپنے بچوں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بچوں کو کم عمری میں ان کا بھلا برا سمجھا دینا چاہیے اور ہر معاملے میں ان سے بات چیت کرنی چاہیے۔ بچہ جو دیکھتا ہے وہ وہی سیکھتا ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی شخصیت تشکیل کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو بچہ اپنے بڑوں کو کرتا ہوا دیکھتا ہے وہ اس کا اثر قبول کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم بچے کے لیے اچھی مثال بنیں۔ آج کے بچے ذہین ہیں ہمیں چاہیے کہ ان کی ذہانت اور قابلیت پر یقین کریں اور جہاں انھیں ہماری ضرورت ہو وہاں ان کے لئے موجود رہیں۔ ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہونا چاہیے بچہ غلطی کر کے سیکھے گا اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں اپنے بچوں کو آنے والے وقت کے لئے تیار کرنا چاہیے زندگی صحیح اور غلط فیصلوں سے بنتی ہے اگر ہم اپنے بچے کی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں تو اس کی ناکامی پہ اس کے ساتھ کھڑے رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آج تک کامیاب زندگی گزارنے کا کوئی ایک نسخہ نہیں ہے۔ زندگی میں ہم اگر اپنے بچوں کو ان کے خواب پورا کرنے میں ان کی مدد کر سکیں اور ان کو یہ اعتماد دے سکیں کہ ہم ہر حال میں ان کے ساتھ ہیں اور کچھ بھی ہو جائے ہم ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں ان کی نہ صرف مدد کریں گے بلکہ ہمیں بھروسا ہے کہ وہ یہ خواب ایک دن تعبیر میں بدل دیں گے۔ ہمیں امی نے کبھی مجبور نہیں کیا کہ ہم ڈاکٹر یا انجینئر بنیں اور یہی میں نے اپنے بچوں کے ساتھ کیا۔ میں اور کامران اپنے بچوں پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ وہ زندگی میں اپنے لئے منزل خود تلاش کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں سے اپنی محرومی کا بدلہ نہیں لینا چاہیے جو ہم نہیں کرسکے وہ اکثر ہم اپنے بچوں سے کروانا چاہتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو خود اعتمادی دیں اور یہ یاد رکھیں کہ انھیں اپنی زندگی خود گزارنی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہم ان کی رہنمائی کے لئے موجود نہیں ہوں گے اس لئے بچوں کو اس وقت کے لئے بھی تیار ہونے دیں۔ زندگی ہماری مرضی سے کروٹ نہیں لیتی اگر ہم نے بچے کو اس کی زندگی میں وہ کیا کرنا چاہتا ہے یا وہ کیا کرنا چاہتی ہے یہ فیصلہ کرنے دیا تو وہ زیادہ بہتر کرسکیں گے اور زندگی میں خوش رہیں گے۔ پرما حضرت علی کا قول ہے
”اپنی اولاد کو اپنے طور طریقوں پر مجبور نہ کرو کیونکہ وہ ایک ایسے زمانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں جو تمہارے زمانے سے مختلف ہے“ ۔


