ربڑ بینڈ ٹیکنیک
نعمان ایک خوبرو، محنتی اور ذہین نوجوان تھا مگر اس کے اندر ایک خامی تھی: وہ جلد غصے میں آ جاتا تھا۔
معمولی سی بات پر تپ جاتا، معمولی اختلاف پر بد مزاج ہو جاتا، اور بعض اوقات تو اپنے پیاروں کو بھی تلخ باتیں کہہ دیتا۔ وہ خود بھی اپنے اس رویے پر پشیمان ہوتا، تنہائی میں آنسو بہاتا، مگر اپنے غصے پر قابو پانا گویا اس کے اختیار سے باہر تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی زندگی سے وہ قیمتی لوگ دور ہونے لگے جنہیں وہ بے حد چاہتا تھا۔ رشتے ماند پڑنے لگے، دوست کنارہ کشی کرنے لگے، اور اس کے گھر کا ماحول ایک بوجھل خاموشی میں تبدیل ہوتا گیا۔
ایک دن نعمان گہری اداسی میں ڈوبا ہوا اپنے ہاتھوں میں سر تھامے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ آخر وہ اپنے بے لگام جذبات کا اسیر کیوں بن گیا ہے؟ عین اسی وقت اس کا دیرینہ دوست سلمان اس سے ملنے آ گیا۔ سلمان نے نعمان کو اس حالت میں دیکھا تو بولا، نعمان، اگر تم واقعی اس بری عادت سے اپنی جان چھڑانا اور خود کو بدلنا چاہتے ہو تو میں تمہیں ایک ایسا موثر طریقہ بتا سکتا ہوں جو تمہارا یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دے گا۔ نعمان نے مایوسی سے اپنا سر ہلایا، ”مجھے نہیں لگتا، میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر دیکھی ہے۔ یہ غصہ مجھ پر بری طرح سے مسلط ہے، اور میں خود کو روکنے میں بالکل بے بس ہوں“ ۔ سلمان نے اپنی جیب سے ایک ربڑ بینڈ نکالا اور اسے نعمان کی طرف بڑھاتے ہوئے دوستانہ انداز میں کہا، ”تمہارے لیے یہی کافی ہے، اسے اپنی کلائی میں پہن لو“ ۔ نعمان نے حیرت سے اس معمولی سے ربڑ بینڈ کو دیکھا اور بے یقینی سے ہنس کر بولا، ”کیا یہ چھوٹی سی چیز میرا اتنا بڑا مسئلہ حل کر دے گی؟“ سلمان نے نرم لہجے میں جواب دیا، ”ہاں، اگر تم سچے دل سے چاہو تو۔ دیکھو، جب کبھی تمہیں غصہ آئے، تو اس ربڑ بینڈ کو اپنی کلائی پر کھینچ کر چھوڑ دینا۔ جب یہ تمہاری جلد سے ٹکرائے اور تمہیں درد محسوس ہو، تو عین اسی لمحے اپنے آپ سے کہنا: ’نعمان! بس بہت ہو گیا، اب غصہ نہیں کرنا۔‘ شروع میں کم از کم پانچ بار ایسا کرنا اور اس کا جادو دیکھنا۔ پھر دیکھنا تمہارے دل میں بھڑکتی ہوئی آگ آہستہ آہستہ ٹھنڈی پڑ جائے گی۔“ نعمان نے کسی قدر ہچکچاہٹ سے ربڑ بینڈ لیا اور بادل نخواستہ اپنی کلائی میں ٹھیک وہیں پہن لیا جہاں وہ گھڑی لگایا کرتا تھا۔ ”نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بجھے ہوئے دل کے کسی گوشے میں ایک ننھی سی امید کی کرن چمکی“ ۔
اگلے دن شام کے وقت گھر میں ایک معمولی سی بات پر پھر وہی ناخوشگوار کیفیت پیدا ہونے لگی۔ نعمان کا دل شدت سے چاہا کہ وہ چلا کر سب کو خاموش کرا دے، مگر اچانک اس کی کلائی پر بندھے ہوئے ربڑ بینڈ نے اسے تنبیہ کی۔ اس نے فوراً ربڑ بینڈ کو کھینچا اور چھوڑ دیا۔ ایک ہلکی سی چبھن اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس نے اپنے دل کو دھیمے سے یاد دلایا: ’رک جاؤ، اب غصہ نہیں کرنا۔‘ اس نے اس عمل کو ایک بار پھر دہرایا، پھر تیسری، چوتھی اور بالآخر پانچویں بار۔ حیرت انگیز طور پر اسے بے چینی اور غصے کی شدت میں واضح کمی محسوس ہوئی۔ اس کی آواز دھیمی پڑ گئی، اور وہ جو کچھ غصے میں کہنے والا تھا، کہہ نہ سکا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اندر ایک ٹھنڈی اور نرم روشنی بھر دی ہو۔ نعمان نے اس سادہ مگر موثر عمل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا۔ اب جب بھی اس کے دل میں غصے کا طوفان اٹھنے لگتا، تو یہ ربڑ بینڈ اس کے لیے ایک رہنمائی کرنے والا چراغ بن جاتا۔
چند ہی ہفتوں میں اس کے رویے میں نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے دوبارہ نرمی اور محبت لوٹ آئی۔ اس کے گھر میں ایک بار پھر ہنسی کی دلنشیں آوازیں گونجنے لگیں۔ پرانے دوست دوبارہ اس کے قریب آنے لگے۔ اور نعمان کے دل میں سکون کا ایک ایسا چراغ جل اٹھا جس کی پرنور روشنی اب اس کے چہرے کی چمک اور باتوں سے عیاں ہونے لگی۔ ایک دن نعمان نے خوشی سے سرشار ہو کر سلمان کو فون کیا اور پرجوش لہجے میں کہا، ”میرے عزیز دوست، تم نے اس دن مجھے محض ایک ربڑ بینڈ نہیں دیا، بلکہ تم نے مجھے میری کھوئی ہوئی خوشیاں واپس لوٹا دیں۔“ سلمان دوسری طرف سے مسکرایا اور بولا، حقیقت یہ ہے کہ تم نے خود کو بدلا ہے۔ وہ ربڑ بینڈ تو محض ایک یاد دہانی کا ذریعہ تھا، اصل طاقت تو ہمیشہ سے تمہارے اندر ہی موجود تھی۔
نعمان گہری سوچ میں ڈوب گیا، ’کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اپنی زندگی میں غصے کے بے رحم طوفان میں بے بس بہتے چلے جاتے ہوں گے، جو ایک لمحے کی بے احتیاطی اور نادانی سے اپنے قیمتی خواب، رشتے اور انمول خوشیاں گنوا دیتے ہوں گے۔ ‘ اسی لمحے اس نے ایک پختہ عزم کیا کہ وہ اس سادہ مگر گہرے راز کو دوسرے ضرورت مند لوگوں تک ضرور پہنچائے گا۔ کیونکہ نیکی پھیلانے اور دوسروں کے لیے بھلائی سے بڑھ کر کوئی اور افضل کام نہیں۔ آج نعمان جہاں کہیں بھی جاتا ہے، لوگوں کو اپنی زندگی کی یہ سبق آموز کہانی ضرور سناتا ہے۔ یہ ایک معمولی سے ربڑ بینڈ کی غیر معمولی کہانی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو کبھی اپنے غصے کا بے بس غلام تھا، اور پھر اس قید سے آزاد ہو گیا۔


Good one. Thanks