کتابِ کتاب: سائنس اور تخیل کے اوراق
کائنات ایک لامتناہی کتاب ہے جس کے اوراق پر طبیعیات کے قوانین سچائی کے حروف رقم ہوتے ہیں، تو سائنس فکشن کا تخیل انہیں کہانیوں کے تاروں میں پروتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ جیسے روشنی اور سائے کا رقص، یا سمندر اور لہروں کا ابدی رشتہ۔
انسانی تاریخ کا ہر کارواں اُس سوال کے پیچھے چلا: ”ہم کون ہیں؟“ جب آئن سٹائن نے روشنی کی رفتار سے سفر کا خواب دیکھا، تو جولز ورن نے چاند تک پہنچنے کی داستان لکھ ڈالی۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ خواب اور داستانیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کارل ساگان کی بات یاد کیجیے : ”تخیل ہمیں ان دنیاؤں میں لے جاتا ہے جو کبھی نہیں تھیں، مگر اس کے بغیر ہماری کوئی منزل نہیں۔“ درحقیقت، یہی تخیل وہ پنچھی ہے جس کے پر سائنس فکشن کے آسمان میں لہراتے ہیں، اور طبیعیات کی زمین پر اُتر کر حقیقت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
قدیم یونان میں افلاطون نے ”مثالی دنیا“ کا تصور پیش کیا۔ ایک لافانی حقیقت جہاں ہر شے کا مثالی روپ موجود ہے۔ کیا آج کا ملٹی ورس نظریہ اسی تصور کا جدید علمی اظہار نہیں؟ جہاں ہر ممکنہ کائنات اپنی ”مثالی صورت“ بن کر ابھرتی ہے۔ ہیگل کے جدلیاتی عمل نے بتایا کہ تضادات نئی حقیقتیں جنم دیتے ہیں۔ کیا بگ بینگ کی دھماکا خیز جنبش اور بلیک ہولز کی خاموش کشمکش بھی اسی جدل کی بازگشت نہیں؟ جب سائنس فکشن میں متوازی کائناتوں کے دروازے کھلتے ہیں (جیسے فلم ڈارک) ، تو یہ افلاطون کے سائے اور روشنی کے کھیل کی جدید تفسیر لگتے ہیں۔
اردو ادب میں رفیع زکریا اور ابنِ صفی جیسے قلم کاروں نے سائنس کو کہانی کے پردے میں اس طرح سلایا کہ ان کے افسانے مشینی ایجادات کی بجائے انسان کے اخلاقی آئینے بن گئے۔ جیسے آئزک آسیموف کے روبوٹ تین قوانین کے پابند تھے، ویسے ہی اردو کے کردار معاشرتی اصولوں کو چیلنج کرتے ہوئے انسانی شناخت کے سوال اٹھاتے ہیں۔ یہاں سائنس فکشن محض ٹیکنالوجی کا کھیل نہیں، بلکہ انسان کی اپنی گم شدہ اکائی کی تلاش ہے۔
جدید فلم ”انٹر سٹیلر“ وقت کے تاروں کو جھنجوڑتی ہے تو ایریول زبان اور شعور کے نئے راز افشاں کرتی ہے۔ یہ فلمیں اکیسویں صدی کی دیومالائیں ہیں، جن میں بلیک ہولز کی گھن گرج اور اجنبی تہذیبوں کی خاموشیاں ہمارے وجود کے بنیادی سوالوں کو گونجاتی ہیں۔ ناسا کے الفاظ میں : ”خلا محض سائنس نہیں، بلکہ تخیل اور تجسس کا سفر ہے۔“ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی آنکھیں جب کائنات کے طفیلیے ستاروں کو تاک رہی ہیں، تو ہمارا تخیل مریخ کے ریگستانوں میں شہر آباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔
کائنات کی کتاب کے دو باب ہیں : ایک وہ جو ہم پڑھتے ہیں (سائنس) ، دوسرا وہ جو ہم لکھتے ہیں (تخیل) ۔ اسٹیفن ہاکنگ کی صلاح۔ ”ستاروں کو دیکھو، اپنے قدموں پر نہیں“ ۔ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سائنس اور افسانہ دونوں اسی لامتناہی آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہر ایجاد پہلے خواب دیکھتی ہے، ہر نظریہ پہلے خیال ہوتا ہے۔ جیسے سمندر کی لہریں کنارے سے ٹکراتی ہیں، ویسے ہی سچائی اور تخیل کے تصادم سے نئے جزیرے وجود میں آتے ہیں۔
آج جب ہم مریخ پر اولین کالونی کی تیاری کر رہے ہیں، تو یہ جولز ورن کے کرداروں کا خواب ہے جو حقیقت کے دھانے پر کھڑا ہے۔ شاید کل کوئی ناول نگار ہماری اس کہانی کو قلم بند کرے گا۔ جہاں ہماری ایجادات کو جادوئی کرامات سمجھا جائے گا۔ کیونکہ آرتھر سی کلارک کے الفاظ میں : ”ترقی یافتہ ٹیکنالوجی جادو سے ممتاز نہیں ہوتی۔“ سائنس اور افسانہ، دونوں اسی سحر انگیزی کے جُھرمٹ میں کائنات کے اسرار سمجھنے کی انسانی کوشش ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ سچائی اور تخیل کی یہ دوئی دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جو کائنات کی کتاب کے اوراق پلٹتے ہوئے انسان کے لامتناہی سفر کو روشن کرتے ہیں۔


